×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بھارت کی جارحیت غزوہ ہند اور جنگی ترانے
Dated: 20-Aug-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بہت ہوگئی ، بھارت نے بہت کرلیا ۔ اب مزید کی گنجائش نہیں ہے۔۔۔بھارت نے پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا۔ اس نے تقسیم ہند کو دل پر پتھر رکھ کے قبول کیا۔ اس کی قیادت یہ امید لگا کے بیٹھی تھی کہ پاکستان کو چلانا مسلمانوں کے بس کی بات نہیں ہے،یہ جلد ناکام ہو کر ہندوستان میں شمولیت کے لئے دست بستہ عرض گزار ہونگے ۔گوقائد اعظم کی رحلت کے بعد گو نااہل حکمران ہی آئے ،لیکن انہوں نے بھارت کے آگے جھکنے سے ہمیشہ انکار کیا۔جو بھارت کے لئے قابل برداشت نہ تھا۔اس نے پاکستان کو شروع دن سے غیر مستحکم کی سازشیں کیںاور ان پر عمل بھی کیا،اس نے پاکستان توڑا،دہشتگردی کی ، جھوٹے الزامات لگا کر پاکستان کو دنیا میں بدنام کیا۔ کشمیر پر قبضہ کر کے پاکستان کے ساتھ ایک مستقل تنازعہ کھڑا کردیا۔وہ نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریے کو سرے سے تسلیم ہی نہیں کرتا۔1947 ء سے لے کر اب تک پانچ جنگیں مسلط کر چکا ہے ۔اس نے ایٹمی دھماکہ کر کے علاقے کی سپر پاور بننے کی کوشش کی ۔پاکستان کو مجبورایہی عمل دہراناپڑااور آج پاکستان ایٹمی میدان میں بھارت کے مقابلے میں کہیں آگے ہے۔ پاکستان کی طرف آنے والے دریائوں پر بھارت درجنوں ڈیم بنا چکا ہے اور اب رہتی سہتی کسر نکالنا چاہتا ہے جب کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت راوی ،ستلج، بیاس وہ پہلے ہی پاکستان سے لے کر خشک کر چکا ہے۔ ہمارے ہی حصے کے پانی پر ڈیم بنا کر ہمیں بجلی بیچنا چاہتا ہے اور اس بجلی بیجنے سے اسے جو پیسہ حاصل ہوگا اس سے اسلحہ تیار کرکے پاکستان ہی پر چلانے کا منصوبہ ہے۔ بلوچستان میں مداخلت بی این پی سمیت نیشنلسٹ جماعتوں کی پہلے درپردہ اور اب کھلم کھلا بھارت مدد کر رہا ہے جبکہ خطے کے لیے موجودہ امریکی ایلچی کچھ دن پہلے یہ تسلیم کر چکا ہے کہ قندھار ،بلگرام اور جلالہ آباد میں بھارتی کونسلر جنرل کے قیام کا کوئی جواز نہیں اور پاکستان میں دہشت گردوں کی کاروائیوں میں بھارت کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ بمبئی حملے پارلیمنٹ پر اٹیک اور سمجھوتہ ایکسپریس پر حملے کرنل ستیش اور اجمل قصاب دونوں ہی بھارتی شہری ثابت ہو چکے ہیں اور بھارت اپنی خفت مٹانے کے لیے ایک دفعہ پر پاکستان کی فوج کو ٹارگٹ کرنے کا پروگرام بنا رہا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ پاکستان میں ایک مضبوط میڈیا گروپ کو مکمل طور پر خرید چکے ہیں اور چند بکائو اینکرز، صحافی ،دانشور اور نام نہاد تجزیہ نگاروں کو بھی خریدا جا چکا ہے۔ بھارت میں جب بھی الیکشن ہوتے ہیں ،ہر بھارتی پارٹی یہ الیکشن پاکستان سے نفرت کی بنیاد پر جیتنا چاہتی ہے۔ 2009کے انتخابات سے قبل بھارت نے ممبئی حملوں کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کو پوری دنیا میں بدنام کیا اور مقامی سطح پر پاکستان سے نفرت پیدا کر کے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ وہاں وہی پارٹی انتخابات میں سکندر بنتی ہے جو خود کو پاکستان کا سب سے بڑا دشمن ثابت کر دے۔ اب اگلے سال اپریل میں پھر الیکشن ہونے والے ہیں تو بھارت نے چھے جولائی کو پانچ فوجیوں کی ہلاکت کا پاکستان پر الزام لگا کر سفارتی محاذ اور لائن آف کنٹرول کو گرم کردیا۔ اس نے پاکستانیوں کی عید اور آزادی کی خوشیاں برباد کر دیں۔لائن آف کنٹرول کی دن میں تین تین بارخلاف ورزیاں کرتے ہوئے پاک فوج کے جوانوں کو شہید اور زخمی کر رہا ہے ادھر دلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن پر حملہ کیا گیا ۔لاہور آنے والی دوستی بس اور مسافروں کو یرغمال بنا کر غنڈہ گردی کی گئی۔یہ سب کچھ بھارت کا الیکشن سٹنٹ ہی سہی لیکن پاکستان کے خلاف اس کی شدید نفرت کا اظہار اور پاکستان کو بے وقعت سمجھ کر کچھ بھی کر گزرنے زعم اور تکبر بھی ہے۔کشمیر پر قبضہ اور پاکستان کے حصے کا پانی روکنا اور سیلاب کے پانی کا رخ پاکستان کی طرف کر دینا اسی کا شاخسانہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کیا بھارت پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے یا نہیں بلکہ زندہ قوموں کی طرح ہمیں تیاری میں رہنا چاہیے۔باہمی اتحاد ،یگانگیت اور حب الوطنی سے ہم بھارت کو منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں۔میں ڈاکٹر مجید نظامی صاحب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ ٹینک پہ بیٹھ کر بھارت جانے کا عزم رکھتے ہیں اور اب یہ موقع شاید آ گیا ہے وہ تیاری پکڑیں یقینا ان کے ساتھ پوری قوم اور میں موجود ہوں گے۔اور ہمارے حکمرانوں کو بھی اس بات کو ذہن میں رکھنا چاہیے کہ مکار دشمن کبھی دوست نہیں ہو سکتا۔اب شاید غزوہ ہند کا بھی وقت آچکا ہے اس کی اس کا مختصر احوال یوں ہے ’’ صدیوں پہلے احادیث مبارکہ میں خراسان اور غزوہ ہند کے بارے پیش گوئیاں کی گئی ہیں۔ افغانستان کی سرزمین کو قدیم زمانے میں خراسان کہا جاتا تھا۔ اس میں پہلے وہ تمام علاقہ شامل تھا جو اب افغانستان ہے جبکہ یہ ملک مشرق میں بدخشاں تک پھیلا ہوا تھا اور اس کی شمالی سرحد دریائے جیحوں اور خوارزم تھے۔ نیشاپور، مرو، ہرات اور بلخ اس کے دارالحکومت رہے ہیں۔ قدیم زمانہ کے خراسان کا جو حصہ ایران میں شامل ہے وہ اب بھی اپنے اصل نام کے ساتھ موجود ہے لیکن اسے تین صوبوں جنوبی خراسان، شمالی خراسان اور رضاوی خراسان میں تقسیم کر دیا گیا ہے جبکہ مالاکنڈ ڈویڑن سمیت شمالی پاکستان کے مختلف حصے بھی خراسان کا حصہ رہے ہیں۔ اس وقت پوری دْنیا میں خراسان نام کے کسی ملک کا وجود نہیں ملتا لیکن صدیوں پہلے یہ ملک افغانستان، ایران، پاکستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک پھیلا ہوا تھا۔ یہ تمام وہ علاقہ ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ امام مہدی علیہ السلام کی مدد کے لیے یہاں سے کالے جھنڈے لے کر مسلمان فوجیں چلیں گی اور اْن کا راستہ کوئی نہیں روک سکے گا ایک اور حدیث کے مطابق غزوہ ہند کا آغاز بھی خراسان سے ہی ہو گا‘‘۔ یقینا اج کا پاکستان ہی خراسان ہے جو پاکستان اور اسلام کے بدترین دشمن کی موت بن سکتاہے ۔اب ترانے بجنے لگے ہیں ،بنئے پر ایک شدید اور پوری قوت سے یلغار کی ضروت ہے۔ہمیں بھارت کی کل ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ہوگی اس نے پاکستان کی طرف سے بڑھائے ہوئے دوستی کے ہاتھ کو ہمیشہ بری طرح جھٹکا ہے۔ آخر ہمارے حکمران بھارت سے کب تک امن کی بھیک مانگتے رہیں گے،اپنے پانی کی واگزاری اور کشمیر کی آزادی کا مطالبہ کرتے رہیں گے؟ قارئین کرام ! میری پہچان ایک لبرل بُک رائٹر اور کالم نگار کی حیثیت سے ہے اور میں ایک لبرل اور ڈیموکریٹک سیاسی پارٹی کی فیڈرل کونسل کا ممبر ہوںاور میں امن اور بھائی چارے کا داعی بھی ہوں ۔ اگر بھارتی جارحیت کے جواب میں خاموشی اختیار کرنا ہی لبرل ازم کی پہچان ہے تو مجھے یہ لیبل قبول نہیں۔ یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus