×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اندھا قانون، بہرہ انصاف اور گونگے عوام
Dated: 24-Aug-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سابق چیئرمین شیخ زید ہسپتال پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید سے میری پہلی ملاقات اوائل مارچ 2007ء کوہوئی جب ججوں کی بحالی کی تحریک کے ابتدائی ایام تھے ۔ہمیں محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کی طرف سے ہدایات ملی تھیں کہ معزول چیف جسٹس کی متوقع لاہور آمد پرنہ صرف وکلا کا بھرپور ساتھ دیا جائے بلکہ لاہور اور ہائی کورٹ بار کے شانہ بشانہ اس کی کامیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ادھر چیف جسٹس کا قافلہ اسلام آباد سے چل نکلا تھا۔ ادھر ہم نے مال روڈ پر ایک بڑا کنٹینر لگا کر سٹیج تیار کیا ہوا تھا۔ ہر لمحہ چیف جسٹس کے کارواں کا انتظار تھا۔ میں پیپلزپارٹی کی دیگر قیادت کے ساتھ سٹیج پر موجودتھا جوش اور ولولے کا یہ عالم تھاکہ حبیب جالب کے نغموں پر پورا لاہور ’’میں نہیں مانتا‘‘ پر دم مست قلندر کر رہا تھا۔ کارکنان دیوانہ وار بھنگڑے ڈالتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے ۔ اس دوران میری نظر سٹیج کے پاس ہی کھڑے ایک ڈیسنٹ، بارعب شخص پر پڑی، پینٹ شرٹ میں ملبوس یہ شخص ہر نعرہ کا جواب جھوم جھوم کے دے رہا تھا۔ میرا اشتیاق بڑھا تو میں مانی پہلوان کو بھیجا کہ اس شخص کو سٹیج پر لے آئو۔ یہ پروفیسر محمد سعید تھے جو دوسری دوپہر چیف جسٹس کی لاہو رآمد تک سٹیج پر ہمارے ساتھ موجود رہے۔ بعدازاں ہمارے تعلقات ایک بہت اچھی دوستی میں تبدیل ہو گئے۔پروفیسر سعید صاحب نے مجھے بتایا کہ انہوں نے پاکستان سے ایم بی بی ایس کرکے گائنالوجی کے شعبے میں سپیشلائیز کرنے کے لیے انگلینڈ سے تعلیم حاصل کی اور ان کی زوجہ پروفیسر روحی نے محسوس کیا کہ انگلینڈ کی بجائے پاکستان کو ان کی زیادہ ضرورت ہے ۔ لاکھوں پائونڈز کی سالانہ تنخواہ کو ٹھکرا کر پاکستان کے ماحول میں کام کرنا کوئی آسان مشن نہیں تھا مگر اس جوڑے نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ ہر قیمت پر وطن کی خدمت کریں گے ۔ اپنی صلاحیتوں اور میرٹ کی بنا پر شیخ زید ہسپتال کے چیئرمین اور میڈیکل کالج کے ڈین بنا دیئے گئے۔ چیئرمین کا عہدہ سنبھالتے ہی انہوں نے اس مقدس لیکن تباہ حال ادارہ کو چند ہی ماہ میں دوبارہ پائوں پر لاکھڑا کیا۔صدر جنرل مشرف کی ایک عزیزہ اسی ادارے میں تعینات تھی اور بیگم پرویز مشرف کی ذاتی خواہش تھی کہ اس عزیزہ کو ترقی دے کر اگلے گریڈ میں تعینات کیا جائے۔ پروفیسر ڈاکٹر سعید نے میرٹ کے بغیر کوئی بھی فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا جس کا خمیازہ انہیں اس صورت میں بھگتنا پڑا کہ ان کودونوں عہدوں سے معزول کر دیا گیا۔ پروفیسر سعید صاحب جو ذات اور انا کے گجر ہیںنے اس فیصلے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کو ترجیح دی۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے وہ سال کی محنت کے بعد فیصلہ ان کے حق میں تو ہوا مگر اس دوران انہیں عدلیہ کا حقیقی چہرہ دیکھنے کا جو تجربہ ہوا وہ ناقابل بیان ہے۔ اسی دوران پیپلزپارٹی کی حکومت یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں اقتدار میں آ گئی۔ سال ہا سال کا عدالتوں سے تھکا ہوا شخص اب بیوروکریسی اور سیاستدانوں کے رحم و کرم پہ تھا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی اس وقت کی سیکرٹری نرگس سیٹھی اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی اہلیہ نے عہدے پر بحالی کے لیے ایک بھاری بھر کم نذرانہ کا مطالبہ کر دیا۔اس دوران ادارے کے چیئرمین ریٹائرڈ ہو گئے اور پروفیسر صاحب کو دوبارہ چیئرمین بنا دیا گیا۔ ایک دن میں او ر دوسرے چند دوست چیئرمین صاحب کے آفس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ چیئرمینی کے امیدوار ایک دوسرے ڈاکٹر صاحب جنہوں نے نرگس سیٹھی اور خاتون اول کو راضی کر لیا ہوا تھا کچھ غنڈے ساتھیوں سمیت پروفیسر سعید صاحب کے آفس میں آ گھسے اور اسلحہ کے زور پر چارج لے لیا جس کے خلاف پروفیسر صاحب نے مقامی ایس پی اور آئی جی کو بروقت اطلاع بھی کی مگر قانون اور عدلیہ وزیراعظم گیلانی کے خاندان کے آگے بے بس دکھائی دیئے۔یہ شخص عدالتوں کے دروازے مسلسل کھٹکھٹائے جا رہا تھا ۔اس دوران اٹھارویں اور انیسویں ترمیم آ گئی جس کے تحت شیخ زید مرکز سے پنجاب حکومت کو منتقل ہو گیا جس پر میاں نوازشریف اورمیاں شہبازشریف نے پروفیسر سعید کو اپنے پاس بلوا کر ایک غیر تحریری معاہدہ کیا اور یقین دہانی کروائی کہ چونکہ آپ سے بہتر شیخ زید کے معاملات کوئی نہیں چلا سکتا ہمیں آپ کی ضرورت ہے۔ اس واقعہ کو بھی 15ماہ سے زیادہ ہو گئے اور وہ ہاتھ جنہوں نے نرگس سیٹھی اور سابقہ خاتون اول کو رام کر لیا تھاان ہاتھوں کی اپروچ شاید اب بھی اپنا کام دکھا گئی تھی اور اب جبکہ عدالتوں میں کیس اسی طرح پڑے ہوئے ہیں جس طرح ایک دہائی پہلے تھے ۔اس سال 16جولائی کو پروفیسر سعید صاحب ریٹائرڈ ہو گئے مگر اپنے پیچھے بے شمار حل طلب سوالات چھوڑ گئے ہیں کہ وہ عدلیہ جس کی بحالی کی تحریک میں انہوں نے مردانہ وار حصہ لیا اس کے نتائج کیا نکلے اور پاکستان کے 20کروڑ عوام جنہوں نے 11مئی 2013ء کے الیکشن سے پہلے نئی قیادت سے توقعات وابستہ کی ہوئی تھیں وہ اپنے ارمانوں کا خون ہوتے ہوئے دیکھ کر کیا محسوس کرتے ہوں گے؟ پروفیسر سعید صاحب کے مسئلے پر عدلیہ کی بے حسی، لاپرواہی، غفلت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ میں شاید ڈاکٹر طاہر القادری کے افکار و خیالات روزدہرانے کی منطق سے متفق نہیں تھا مگر حالات نے یہ ثابت کیا ہے کہ واقعی اب پاکستان کا کرپٹ سیاسی ڈھانچہ، عدالتی نظام، بیورکریسی سسٹم غرضیکہ پورے نظام کی اوورہالنگ وقت کی ا شد ضرورت ہے۔ بے شک میں اسلام آبادفیم سکندر کے عمل سے اتفاق نہیں کرتا مگر جس روز پروفیسر سعید جیسے انصاف کے دھتکارے ہوئے لوگ ہاتھوں میں مشین گنیں پکڑ کر انصاف لینے نہیں چھیننے آگے بڑھیں گے تو یہ نظام پلک جھپکنے میں زمین بوس ہو جائے گا۔ خدارا ڈریئے اس وقت سے جس وقت ہمارے گریبان ہوں گے اور 20کروڑ عوام کے ہاتھ۔ گونگے عوام کو بس اندھے قانون اور بہرے انصاف کو جھنجھوڑنے کی ضرورت ہے اور لکشمی چوک کو تحریر اسکوائر میں بدلنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus