×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہاکی بائی چالاکی
Dated: 10-Sep-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یہ اوائل 80کے عشرے کی بات ہے پاکستان میں ہر طرف مارشل لاء کا دور دورہ تھا۔ انہی دنوں سٹوڈنش یونین پر بھی پابندی لا دی گئی۔ میں ان دنوں کالج میں یونین کا صدر تھا۔ مارشلائی حکم کے خلاف ہم نے مزاحمتی تحریک چلائی جس کی پاداش میں جلاوطنی کا کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔ میری اگلی منزل سوئٹزرلینڈ تھی جہاں مجھے تعلیم جاری رکھنے کے مواقع میسر آئے۔ سوئٹزرلینڈ جو کہ یورپ کا دل ہے وہاں زبان کے علاوہ کلچرل، سماج، روایات یکسر مختلف تھیں۔ ہم پاکستان میں رہتے ہوئے ایسا محسوس کرتے تھے جیسے پوری دنیا کی توجہ پاکستان پر ہے اور ہم کوئی سپیشل چیز ہیں مگر اپنی آمدکے چند ہی دنوں بعد ہمیں یہ اندازہ ہو گیا کہ یہاں پر خصوصی حیثیت تو کیا ہماری پہچان بھی بڑی مشکل تھی۔ ہماری رنگت کو دیکھ کر اکثر لوگ یہ سوال کرتے ’’آریوانڈین؟‘‘ تو میرا ہمیشہ یہ جواب ہوتا ’’نو آئی ایم ویری مچ پاکستانی‘‘ لیکن یہ جواب دینے کے بعد ان کو یہ سمجھانا بڑا مشکل عمل تھا کہ ہم پاکستانی انڈیا سے علیحدہ ایک مملکت ہیں پھر آہستہ آہستہ مھجے اندازہ ہوا کہ ان گوروں کو کوئی ایسی نشانی بتائی جائے جن سے ان کو پاکستان کی پہچان کرنے میں آسانی رہے تو یقین جانیے میرے مشاہدہ میں یہ بات آئی کہ ہاتھ سے بنائے ہوئے قالین ذوالفقار علی بھٹو اور ہاکی کے کھیل کو یہ پاکستان کے حوالے سے جانتے ہیں۔ اب ہمیں اپنی پہچان کرانے میں آسانی ہو گئی اور ہم قالینوں، ذوالقفار علی بھٹو اور ہاکی کا ریفرنس دے کر اپنے ملک کی شناخت کراتے۔ میں چونکہ دوران سکول ہاکی کھیلتا رہا تھا اس لیے جلد ہی وہاں کے مقامی قصبے اولئن ہاکی کلب جوائن کر لیا جس سے مجھے دیارِ غیر میں ہونے کے باوجود اپنا سا ماحول اور اپنائیت مل گئی ہم بڑے فخر سے دوستوں کو بتاتے کہ ہم اس ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس کا قومی کھیل ہاکی ہے اور پاکستان متعدد بار ایشین کپ، ورلڈ کپ اور المپک کا فاتح قرار پا چکا ہے۔ پھر نہ جانے کیا ہوا کس دشمن کی حسد بھری نظریں ہمارے قومی کھیل اور ہماری شناخت کو لگ گئیں۔ اس تنزلی میں دیگر محرکات کے علاوہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے اس وقت کے عہدیداران بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر بریگیڈیئر ریٹائرڈ عاطف نے ایشیائی ہاکی کو نقصان پہنچانے میں کلیدی کردارادا کیا جو کہ ان دنوں عالمی ہاکی فیڈریشن کے بھی اہم ذمہ دار تھے۔ یورپ اور آسٹریلیا جو کہ شروع ہی سے بھارت اور پاکستان کے روایتی حریف تھے نے فیلڈ ہاکی میں آسٹروٹف متعارف کروایا جو یورپ اور امریکہ جیسے امیر ممالک تو نہ صرف افورڈ کر سکتے تھے بلکہ تھوڑے ہی عرصے میں ان ممالک میں ہزاروں آسٹروٹف بچھا دی گئیں جبکہ بھارت اور پاکستان میں جہاں ہاکی کی نرسری دیہات اور قصبوں مین تیار ہوتی تھی اور جہاں تک ابھی سڑکیں نہ پہنچی تھیں وہاں پر اس وقت دو کروڑکی آسٹروٹف بچھانا ناممکن تھا اور یوں پاکستانی نوجوان کھلاڑی پورا سال قدرتی گھاس کی گرائونڈ پر ہاکی سیکھتے پریکٹس کرتے اور میچ کھیلتے مگر جب ہاکی ٹیم کی سلیکشن کی باری آتی تو ان کھلاڑیوں کو لاہور اور کراچی میں آسٹروٹف گرائونڈ پر ٹرائل دینا پڑتے جس کا کہ گیند تک پلاسٹک کا ہوتا اور آج 2013ء میں بھی ایک عام گھر کا لڑکا آسٹروٹف پر کھیلنے کے لیے درکار جوتے خریدنے سے قاصر ہے۔ آج ایک گول کیپر کی مکمل کِٹ50سے 80ہزار روپے تک کی آتی ہے جبکہ آسٹروٹف شوز 15سے 20 تک کے آتے ہیں لیکن یورپ نے اسی پر اکتفا نہ کیا انہوں نے عالمی ہاکی میں نئی سٹک لازمی قرار دے دی جو کہ آسٹریلیا اور جرمنی خود تیار کرنے لگے مگر بھارت اور پاکستان میں اس صنعت سے وابسطہ لاکھوں لوگ بے روزگار ہو گئے۔ کل کے ہاکی بنانے والے مشہور ادارے آج ان کا نام و نشان بھی باقی نہیں اور طرفہ تماشہ یہ کہ ایشیائی کھلاڑیوں کے مقابلے میں فٹنس کے مقابلے میں یورپین کھلاڑی ہزار درجہ بہتر ہوتے ہیں جبکہ ہمارے نوعمر کھلاڑیوں کو تو مکمل خوراک بھی دستیاب نہیں ہوتی۔ ایک دفعہ ایک یورپین ہاکی کوچ نے طنزاً کہا تھا کہ پاکستانی کھلاڑی کھیلتے ہوئے ایسے نظر آٹے ہیں جیسے تین ہاکیاں میدان میں دوڑ رہی ہیں۔ دو ہاکیاں نیکر میں اور ایک ہاکی ہاتھ میں۔ اب تو فیلڈ ہاکی پر یورپ کی مکمل گرفت ہے اور انہوں نے ایسے قوانین رائج کروا دیئے ہیں جس سے پاکستان سمیت ایشیائی ہاکی ٹیموں کے لیے ہاکی ٹورنامنٹ جیتنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں اور خاص طور پر گذشتہ دس سالوں میں پاکستانی ہاکی جو زوال پذیر ہوئی ہے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ قاسم ضیاء کی صورت میں پاکستان ہاکی فیڈریشن نے صدر بنا دیا اور ایک سابقہ سازشی کھلاڑی آصف باجوہ کو سیکرٹری ہاکی فیڈریشن لگا دیا جنہوں نے ہاکی کو اور بھی بے آبرو کر دیا۔ جب کھیلوں کی فیڈریشن کے عہدیدران سیاسی لوگ لگا دیئے جائیں تو وہ ملک کی طرح کھیل کا بھی وہی حشر ہوگا جو ملک کا ہوا۔ خاص طور پر قاسم ضیاء سے تو بے شمار توقعات وابسطہ تھیں۔ گذشتہ دنوں جب پاکستانی ٹیم پہلی دفعہ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی نہیں کیا ۔ایشیا کپ سے پہلے بھی کوالیفائی کرنے کا ایک موقع ضائع کر دیا اس طرح میرے جیسے کروڑوں پاکستانیوں کے دل ٹوت گئے اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ہم بحیثیت قوم اپنی ہر خوبی کو گنواہ دینے کے درپے ہیں۔ دوسری اقوام کروڑوں ڈالر خرچ کرکے اپنے اتھلیٹ تیار کرتی ہیں جس سے ان کا قومی وقار بڑھتا ہے جبکہ گذشتہ 3دہائیوں سے کھیل کے ہر میدان میں پسپائی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ہمارے قومی کھیل ہاکی کی بجائے کلاشنکوف ،بم دھماکے اور دہشت گردی اور مسلکی لڑائیاں بن کر رہ گئی ہیں۔ یاد رکھیے زندہ اور صحت مند قومیں کھیلوں کے ذریعے اپنے وطن کے جھنڈے گاڑتی ہیں۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکرٹری آصف باجوہ نے شکست کے بعد یہ بیان داغ دیا ہے کہ میں استعفیٰ دوں گا۔ تو یہ بزدلی ہو گی اس سے زیادہ شرمناک بات اور کیا ہو سکتی ہے ۔ وزیراعظم میاں نوازشریف ہاکی کے اس بحران پر ایک ہنگامی اجلاس بلائیں اور قوامی کھیل کی ڈوبی ہوئی کشتی کو کنارے پر پہنچانے کا اپنا کردار ادا کریں۔مجھے آج بھی یہ کہاوت یاد ہے کہ ’’ کرکٹ بائی چانس اور ہاکی بائی چالاکی‘‘ کیا ہماری قوم میں ہاکی اور چالاکی دونوں ختم ہو گئی ہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus