×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
زرداری صاحب اور سیاسی طوطا چشمی
Dated: 14-Sep-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ایک پرانا قصہ ہے کہ دو خاندانوں میں باہمی رضامندی سے شادی طے پائی لیکن لڑکی والوں کی طرف سے ایک انوکھی شرط رکھی گئی کہ شادی والے دن لڑکے والے بارات میں کوئی بزرگ باراتی ساتھ نہیں لائیں گے۔ لڑکے والوں نے حامی بھر لی لیکن انہیں تجسس ہوا کہ اس شرط کے پیچھے ضرور کوئی چال ہے۔ خاندان کے بزرگوں نے مشاورت کی اور اپنے خاندان کے ایک سیانے بزرگ کو صندوق میں ڈال کر ساتھ لے گئے۔ جب بارات پہنچی تو لڑکی والوں نے کہا نکاح سے پہلے آپ لوگ کھانا کھائیں گے اور آپ کو ہماری ایک شرط پوری کرنی ہو گی، ہر باراتی ایک ایک دنبہ کھائے گا یہ بظاہر ایک مشکل شرط تھی مگر لڑکے والوں نے اپنے ساتھ لائے ہوئے بزرگ سے اس شرط کے بابت مشورہ مانگا۔ بزرگ نے کہا یہ تو کوئی بات نہیں۔ آپ ان سے کہیں ہماری یہ شرط ہے کہ آپ باراتیوں کی تعداد کے مطابق دنبے ایک ایک کرکے پوری بارات کے آگے رکھتے جائیں اور جتنے باراتی ہیں اتنے دنبے پیش کریں۔ قصہ مختصر ایک ایک دنبہ آتا تو باراتیوں کے حصے میں اس کی ایک ایک بوٹی آتی۔ یوں بارات نے باری باری سارے دنبے ختم کر دیئے۔ اس طرح لڑکی والوں کی چال ناکام ہو گئی اور دلہا اپنی دلہن کو لے کر خوشی خوشی رخصت ہوا۔ مجھے یہ واقعہ خاص طور پر اس موقع پر کیوں یاد آیا؟ دراصل گذشتہ روز سابق صدر آصف علی زرداری نے اسلام آباد سے لاہور پہنچنے پر بلاول ہائوس میں جیالوں اور پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ پارٹی کی تنظیم نو کے سلسلے میں میں پارٹی کی سینئر لیڈرشپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ رضاکارانہ طور پر پارٹی سے علیحدگی اختیار کرکے اب پُرسکون زندگی گزاریںکیونکہ موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق شکست خوردہ پیپلزپارٹی کی رگوں میں نئے اور تروتازہ خون کی ضرورت ہے۔ دراصل کوچیئرمین آصف علی زرداری کو ادراک ہے کہ ان کے نوعمر بیٹے اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری جو کہ اگلے کسی ضمنی الیکشن میں اپنی عمر پوری ہو جانے کے بعد پارلیمانی سیاست میں قدم رکھیں گے وہ شاید ’’انکلز‘‘ کے ہجوم میں گھبرا نہ جائیں اس میں کوئی شک نہیں کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد ان کی جانشیں بیٹی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو 1986ء میں جلاوطنی سے واپسی کے بعد پارٹی کے اندر ’’انکلز‘‘ معراج خالد،ڈاکٹر مبشر حسن، غلام مصطفی جتوئی، غلام مصطفی کھر اور بہت سوں کو زبردستی سیاسی رخصت پر بھیج دیا تھا۔لیکن محترمہ کی شہادت کے بعد جبکہ پارٹی اور ملکی حالات دگرگوں تھے تو محترم آصف علی زرداری کو پارٹی کی سی ای سی اور فیڈرل کونسل سے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی وصیت کی توثیق کی ضرورت محسوس ہوئی اور انہی سینئر اراکین نے بادل نخواستہ حکم حاکم مرگِ مفاجات کے مصداق وہی کیا جو اس وقت کی ضرورت تھی لیکن پارٹی پر گرفت مضبوط کرنے اور اقتدار میں آنے کے بعد زرداری فیملی نے اپنی نئی ٹیم کے ساتھ جانثاروں، وفاداروں، جیالوں کو آہستہ آہستہ پارٹی سے نکالنا شروع کر دیا اور جو عزت سادات محفوظ رکھ کر پارٹی سے چمٹے رہے انہیں اب پارٹی کی ملک گیر شکست کی وجہ گردان کر فارغ کرنے کی سازش تیار کر لی گئی ہے۔ یہ نہ صرف سیاسی طوطا چشمی کی انتہا ہے بلکہ سیاست کے بین اصولوں کے خلاف بھی ہے۔ دنیا بھر میں معمر اور سینئر سیاست دانوں کو نہ صرف پارٹی کا اثاثہ سمجھا جاتا ہے بلکہ ان کو سیاسی جماعت کے اندر تھنک ٹینک کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور ویسے بھی یہ بین الاقوامی اصطلاح ہے کہ سیاستدان کبھی ریٹائر نہیں ہوتا مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پیپلزپارٹی کی نوے فیصد سینئر قیادت جو گذشتہ پانچ سالوں میں مراعات یافتہ کہلوائی نے اپنے پیچھے کرپشن کے وہ تعفن زدہ نقوش چھوڑے ہیں جنہیں اب کسی عام ڈٹرجنٹ پائوڈر سے نہیں دھویا جا سکتا۔ اگر پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت محسوس کرتی ہے کہ تبدیلی کے لیے صفائی ضروری ہے تو سب سے پہلے اپنی چارپائی کے نیچے ڈانگ پھیریں۔ سابق صدر کا یہ کہنا کہ اب میں کبھی صدارت یا وزارت عظمیٰ کا امیدوار نہیں بنوں گا، کا سیاسی نقاد چیخ چیخ کر مذاق اڑا رہا ہے ۔کوئی بھی عہدہ قبول نہ کرنے کا فقرہ الیکشن 2008ء کے نتائج آنے کے بعد بھی فرمایا تھا۔ ایک سیاسی پنڈت سے بات ہوئی تو وہ فرما رہے تھے کہ صدر کے سابق صدر ہو جانے کے بعدانتقال اقتدار کا مسئلہ بخوبی سرانجام پا گیا ہے اور اب پیپلزپارٹی کے اندر دھڑے بندی اور گروپنگ چونکہ شروع ہونے والی ہے اور کئی تیتر اور بٹیر پیپلزپارٹی کے شجرِ اقتدار پر خزاں آ جانے کے بعد پھدک کر اڑان بھرنا ہی چاہتے ہیں اس لیے جناب آصف علی زرداری صاحب نے متوقع ہوا کا رخ دیکھ کر’’جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئی‘‘ کے مصداق خود ہی باہر جانے کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا ہے تاکہ متوقع ندامت سے محفوظ رہ سکیں۔ کچھ بھی ہو پیپلزپارٹی کی قیادت کو چاہیے کہ پارٹی کو متحد اور مستحکم رکھنے کے لیے پارٹی کے اندر بچی کھچی یوتھ اور سینئر جیالوں کا احترام نہ صرف ملحوظِ خاطر رکھے بلکہ ان کو ان کی خدمات اور دیرینہ وابستگی اور وفاداری کے عوض عزت و احترام سے نوازا جائے۔ شاید پیپلزپارٹی کی قیادت اس زعم میں مبتلا ہے کہ بارہ کروڑ یوتھ آصفہ بھٹو اور بلاول بھٹوز رداری کی راہ دیکھ رہی ہے ۔ دراصل پیپلزپارٹی کی بے خبر قیادت یہ نہیں جانتی کہ یوتھ مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ تحریکِ انصاف اپنے دامن میں سمو چکی ہے باقی کو شہباز شریف لیپ ٹاپ،سولر لیمپ،سکوٹیز اور انعام وکرام دے کر اپنا ہمنوا بنا لیا ہے۔ پیپلزپارٹی کو ووٹرز مارکیٹ میں اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے اپنے پرانے اور سینئر اور وفادار اور آزمائے ہوئے ناراض دوستوں کو منانے کی اشد ضرور ت ہے مگر قیادت کو چمٹی ہوئی بچی کھچی سیاسی جونکوں کو بھلا یہ کب گوارہ ہے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus