×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا یہ جنگ نہیں۔تو پھر جنگ کیسی ہوتی ہے؟
Dated: 12-Apr-2009
11ستمبر2001ء کو امریکہ میں ہولناک دہشت گردی میں 2993افراد مارے گے۔ یہ دل ہلا دینے والا سانحہ تھا۔ اس کی پاداش میں امریکہ نے افغانستان کی انیٹ سے اینٹ بجا دی۔ اور تورا بورا کارپٹنگ بمبنگ کی نئی اصلاح متعارف کروائی۔ بعد میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق کو نشانہ بنایا اور دونوں ملکوں پر امریکہ کا براہ راست قبضہ ہو گیا۔ گو دونوں ممالک میں جمہوری حکومتیں قائم ہیں لیکن یہ جمہوریت امریکہ کی چھتری تلے ہے۔ دونوں ممالک میں شورش برپا ہے۔ لوگ اپنے ہی ملک سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں کو برداشت کرنے پر تیار نہیں۔ دونوں ممالک میں امن قائم کرنے کے لیے اتحادی فوجیں جمہوری حکومتوں کے شانہ بشانہ ہیں اور بندوق کے زور پر رٹ آف گورنمنٹ قائم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ امریکہ نے افغانستان پر حملہ 7اکتوبر2001ء کو کیا یہ حملہ دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے کیا گیا۔ مشرف حکومت نے اس جنگ میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ پھر یہ جنگ پھیلتے پھیلتے 10مارچ2004ء کو پاکستان کی سرحدوں کے اندر بھی شروع ہو گئی۔ یہ جنگ تو براہِ راست امریکہ کی افغانستان اور عراق کے خلاف ہے جس میں اب تک 4925امریکی فوجی اور دیگر شہری مارے جا چکے ہیں۔ نائن الیون کے دن مرنے والوں کو بھی شامل کر لیا جائے تو مرنے والوں کی تعداد7918بنتی ہے۔ افغانستان کے 12142فوجی مارے گئے عام آدمیوں کی تعداد امریکہ اور اتحادی نیٹو فورسز 49ہزار بتاتے ہیں۔ جب کہ ایک آزاد سروے کے مطابق افغانستان میں دوران جنگ سول شہریوں کے مرنے کی تعداد 5لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ جبکہ عراق میں آزاد یورپین ذرائع کے مطابق گذشتہ آٹھ سالوں میں سول اور ملٹری ہلاکتوں کی تعداد 12لاکھ کے قریب ہے جو کہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کی ہلاکتوں کے برابر ہیں۔ یہ ان ممالک کی ہلاکتیں ہیں جو جنگ میں براہ راست ملوث ہیں۔پاکستان پر یکطرفہ طور پر جنگ مسلط کی گئی۔ جس میں اب تک 2407سیکورٹی اہلکار جن میں فوج، ایف سی اور دیگر فورسز سے تعلق رکھنے والے جوان شامل ہیں۔ جبکہ مقابلے میں مارنے جانے والے افراد کی تعداد5627ہے۔ یو ںاس جنگ میں 8031پاکستانی لقمہ اجل بن گئے۔یوں امریکہ کی جنگ میں پاکستان کا نقصان امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے زیادہ ہوا ہے اور یہ نقصان 65ء اور 71ء کی اندوہ ناک جنگوں سے کہیں زیادہ ہے(یاد رہے 65ء اور71کی جنگیں کشمیر کاز اور پاکستانی مفاد کے لیے لڑی گئیںاور یہ پاکستان پر دشمن کی طرف سے مسلط کی گئی تھیں)اس دہشت گردی کی جنگ جو کہ ہم پر مسلط کی گئی ہے کے اثرات پورے ملک میں پھیل چکے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے جلوس پر18اکتوبر2007ء کو ہونے والے حملے میں 176افراد شہید ہوئے۔ اسلام آباد میں پیپلز پارٹی کے کیمپ پر بم حملہ کے دوران4 2 افراد نے جام شہادت نوش کیا۔27دسمبر2007ء اسلام آباد میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو 28ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا۔ 20ستمبر 2008ء کو میرٹ ہوٹل میں 100افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ ڈیرہ غازی خان،جمرود،بنوں،کوہاٹ،واہ آرڈینس فیکٹری، ایف آئی اے لاہور،مناواں، لبرٹی،چکوال اور ملک بھر میں ہونے والے دہشت گردی کے وہ واقعات جو کہ پاکستان کو 9/11کی جنگ میں ملوث کیے جانے کے بعد رونما ہوئے ان میں ہزاروں پاکستانی معصوم شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان دہشت گردی کے واقعات میں اب تک پاکستان کے 9769 سول شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور اس سے چار گنا زیادہ تعداد یعنی 39ہزار کے قریب لو گ اپاہج بن کر بقیہ زندگی گزاریں گے۔ پچھلے پانچ سال میں امریکہ کے بمبار اور ڈرون طیاروں نے 90حملے کیے جن میں پانچ سو افراد مارے گئے۔ ان میں سے صرف چند لوگوں کا تعلق القاعدہ اور طالبان سے ثابت ہو سکا۔ باقی عام لوگ تھے اور اس طرح گندم کے ساتھ گیؤ ںبھی پسا گیا۔ پاکستا ن میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نتیجے میں مرنے والوں کی تعداد امریکہ سے بھی زیادہ ہے جو براہ راست دو ملکوں کے ساتھ برسرِ پیکار ہے۔ اتنی بڑی ہلاکتوں کے باوجود اگر کوئی یہ کہے کہ پاکستان حالت جنگ میں نہیں تو اس کی عقل پر ماتم کرنے کے سوا کیا کیا جا سکتا ہے۔ اب آتے ہیں اس سوال کی طرف پاکستان کو اس جنگ میں اب تک اقتصادی لحاظ سے جو نقصانات اٹھانے پڑے اور اس کے بدلے میں امریکہ کی طرف سے دی جانے والی امداد کا آپس میں ایک تقابلی جائزہ لیتے ہوئے یہ بات ہماری سمجھ میں آتی ہے کہ صرف 2008ء میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 6ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہوا اور جب سے پاکستان امریکہ کا اس جنگ میں ساتھ دے رہا ہے وہ ایک محتاط اندازے کے (یورپین اور ایشین اکنامک سروے کے مطابق )38ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ لیکن پاکستانی معیشت کو گزشتہ دہشت گردی کے واقعات اور اس کے سلسلے میں ہونے والے نقصانات کسی طرح بھی 50ارب ڈالر سے کم نہیں۔جنرل (ر) مشرف کے دورحکومت میں پاکستان کو 10ارب ڈالر سے زائد کی امداد دی گئی جو کہ حکومت اور اس کے ترقیاتی کاموں اور دہشت گردی میں ناقابل تلافی نقصان اٹھانے والوں کو فائدہ پہنچانے کی بجائے چند سو لوگوں کی جیبوں چلی گئی۔اور اب امریکی صدر بارک حسین اوباما نے کیری، لوگر بِل کے ذریعے پاکستان کو 7.5بلین ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے جو کہ پاکستان کو ایک 1.5بلین ڈالر سالانہ دی جائے گی اور امداد کاطریقہ کار اور اس کا استعمال امریکہ کی حکومت طے کرے گی۔اس طرح نہ صرف امریکن مفادات کو پاکستان کے اندر کھل کھیل کر کھیلنے کا موقع ملے گا بلکہ وہ پاکستان کے سیاسی ڈھانچے کو بھی حتی الامکان اپنے زیر اثر کرنے کے حربے کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔امریکہ نے پاکستان کو صاف بتا دیا ہے کہ وہ اس دفعہ پاکستان کو بلینک چیک نہیں دے گا۔اگر یہ بات اس طرح بھی مان لی جائے تو پاکستان کو اگلے پانچ سال کے بعد ملنے والی امداد 17.5بلین ڈالر ہو گی جو کہ پاکستان کے ہونے والے نقصان سے آدھے سے بھی کم ہے۔ابھی آنے والے دنوں میں صدر مملکت جناب آصف علی زرداری جاپان میں ہونے والی فرینڈز آف پاکستان کی میٹنگ میں شرکت کریں گے لیکن یہ طے نہیں کہ پاکستان کو وہاں سے کچھ ملتا یا صرف ’’لالی پاپ‘‘ دے کر ٹرخا دیا جاتا ہے۔امریکہ کو چاہیے کہ وہ پاکستان کا خسارہ پورے کرے اس کے بعد جو امداد دینی ہے وہ دے۔ اس طرح امریکہ کی نومنتخب ڈیموکریٹک پارٹی کی انتظامیہ اگر پاکستان میں جمہوری نظام کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتی ہے اور پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی انعام دینا چاہتی ہے تو وہ پاکستان کو اقتصادی طور پر اتنا مضبوط کر دے کہ پاکستان اپنے پائوں پر کھڑے ہو کر اپنے جمہوری نظام اور بقا کی جنگ میں فتح یاب ہو۔ پاکستان کی معیشت دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے ڈوبی۔ اور یہ دہشت گردی پاکستان کو امریکہ سے دوستی کے صلے میں ملی۔ یہ جنگ اب پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ لوگ بھوکوں مر رہے ہیں، ادارے کمزور ہو رہے ہیں، گورنمنٹ کی رٹ ختم ہو تی جا رہی ہے اور پاکستان کے لیے اس جنگ سے نبردآزما ہونا ممکن نہیں رہا۔ ایسے حالات میں امریکی تھینک ٹینکس اور منتخب اداروں بشمول کانگرس اور سینٹ اور نئی امریکی انتظامیہ کو اس بات کا ادراک کر لینا چاہیے کہ اگر پاکستان دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ ہار گیا تو اس کے اثرات یورپ اور امریکہ تک نہ صرف پہنچیں گے بلکہ یہ ایک ایسا ’’ڈیزاسٹر‘‘ ہو گا جس سے بچ نکلنا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی ممکن نہیں رہے گا۔ پاکستان میں فوج کے ساتھ برسرپیکار شرپسندوں کو پاکستان کے کچھ نادان دوستوں کا تعاون بھی حاصل ہے اور اس کے علاوہ افغانستان میں بھارت اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے جو وار پلان تیار کیے جاتے ہیں ان سے آنکھیں چرانا کسی بھی طریقے سے ممکن نہیں۔ اس سلسلے میں ہمارے میڈیا کو بھی ایک مثبت کردار ادا کرنا ہوگا یہ میڈیا حکومت وقت پرتنقید چاہیے جتنی مرضی کرے یہ آزادی صحافت کا حق ہے مگر دہشت گردوں کو عسکریت پسند لکھنا،پڑھنا اور بولنا اور وہ بھی اوپر دیئے گئے تناظر میں کس طرح جائز ہے؟ کیا آپ تصور کریں کہ بھارت کے ساتھ ہماری جنگ ہو رہی ہو اور ہمارے ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینلز سے انڈیا کے جنگی ترانے نشر کیے جائیں؟اور اسی طرح دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں مرنے والے شہریوں کو جاں بحق کہنا اور مارنے والے کو بھی جاں بحق لکھنا کہاں کا انصاف ہے۔جب تک ہم بُرے کو بُرا نہیں کہیں گے اس وقت تک یہ جنگ ہم جیت نہیں پائیں گے کیونکہ جنگیں افراد نہیں قومیں لڑتی ہیںاور ہمارے ملک میں موجود وہ لوگ جو ان دہشت گردوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا مذہبی یا معاشرتی تعلق رکھتے ہیں ان سے التماس ہے کہ خدارا بس اتنا جان لیں کہ یہ پاکستان ہے تو ہم سب ہیں۔ اگر نصیب دشمناں پاکستان کو کچھ ہوا تو ’’نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری‘‘۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus