×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کنفیوژڈ سیاستدان دہشتگردوں کی بے جا حمایت پر کمر بستہ
Dated: 28-Sep-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یہ سوال کچھ پرانا ہو گیا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج جیت رہی ہے یا دوسرا فریق؟ پاک فوج اپنی حکومت کی ہدایت پر آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ریاست کی رٹ قائم کرنے کے لیے دہشتگردوں کے خلاف نبردآزما ہے۔ فریق مخالف پاکستان کے آئین اور قانون کو نہیں مانتا۔ وہ اپنی مرضی کا قانون نافذ کرنا چاہتا ہے۔ اس کے لیے جمہوری طریقہ موجود ہے۔ جس سے ان کا اقتدار میں آنا ممکن نہیں۔ جو کچھ وہ آئینی اور قانونی طریقے سے نہیں کر سکتے یہ مٹھی بھر عناصر وہ بندوق کے زور پر کرنا چاہتے ہیں۔ جس سے ملکی حالات خراب ہوئے، بدامنی میں اضافہ ہوا،دہشتگردی نے پورے ملک میں بارود کی بو پھیلا دی ۔ پاک فوج نے سری لنکا کی مدد کی اور تامل باغیوں کو جھکنے اور بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ تامل طالبان کے مقابلے میں کہیں زیادہ تربیت یافتہ اور مضبوط تھے۔ ان کو غیر ملکی امداد بھی حاصل تھی۔ سری لنکا کی نسبتاً کمزور فوج نے پاک فوج کے تعاون سے ان کو شکست دی۔ہمارے ہاں شدت پسندوں کا کب سے خاتمہ ہو چکا ہوتا کیوں کہ ان کے لیے مضبوط، جری اور اعلیٰ تربیت یافتہ فوج کے سامنے ٹھہرنا ممکن نہیں تھا۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سری لنکن قوم متحد جبکہ پاکستانی قوم تقسیم اور بٹی ہوئی ہے۔ پاک فوج کی مکمل کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ چند مذہبی اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے شدت پسندوں کی پشت پناہی ہے ۔ بعض جماعتیں ان کی حمایت کے باعث انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہی ہیں۔ ان میں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف اہم ہیں۔ جو مذہبی جماعتیں طالبان کی حمایت کرتی ہیں ان سے پوری قوم آگاہ ہے۔ ریاست سے باغیوں سے مذاکرات نہیں ہوتے ان کا سر کچلا جاتا ہے۔ جندل اللہ نے ایران میں دہشت پھیلا رکی تھی۔ ایرانی حکومت کے ہتھے جندل اللہ کا سربراہ ریگی چڑھ گیا چند ہفتوں کے ٹرائل کے بعد اس کو سرِ عام پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔ ہمارے ہاں یہ ہواکہ جن دہشتگردوں کو سزائے موت سنائی گئی تھی جس پر مسلم لیگ ن کی حکومت نے عمل کا اعلان توکیا لیکن ایک معمولی دھمکی پر ان کی ٹانگیں کانپنے لگیں اور پھانسی کا فیصلہ معطل کر دیا۔ اسی پر اکتفا نہیں کیا، فوج کو بھی اپنا مضبوط موقف بدلنے پرمجبور کر دیا۔ فوج نے ہمیشہ کہا ہے کہ دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات اسی صورت ہو سکتے ہیں کہ وہ آئین کو تسلیم کرنے کا اعلان کریں اور ہتھیار پھینک دیں۔ 9ستمبر کی آل پارٹیز کانفرنس میں فوج کو ساتھ بٹھا کر آئین کے باغیوں کو غیر مشروط مذاکرات کی دعوت دے دی گئی۔ گویا ان سیاسی پارٹیوں نے حکومت سمیت دہشتگردوں کی جیت کو تسلیم کر لیا۔ ان کی طرف سے خیر سگالی کے پیغام کے بجائے 15ستمبر کو سینئر فوجی افسروں کوبارودی سرنگ دھماکے میں شہید کیا گیا۔22ستمبر کو پشاور میں چرچ پرسفاکیت کی گئی ا ور 23ستمبر کو پشین میں پولیس وین کو اڑا دیا گیا جس میں 7پولیس اہلکار جاں بحق ہوئے ۔ تینوں واقعات کی ذمہ داری طالبان نے قبول کر لی۔ اس کے بعد کیا طالبان کے ساتھ مذاکرات کا جواز باقی رہ جاتا ہے؟۔ سندھ اسمبلی نے متفقہ قرارداد منظور کی جس میں مذاکرات کا آپشن ختم کرکے دہشتگردوں کے خلاف سخت ایکشن کا مطالبہ کیا گای ہے لیکن مرکزی اورخیبرپی کے حکومتیں بدستور مذاکرات کی بساط بچھائے رکھنا چاہتی ہیں۔ فوج کیا چاہتی ہے یہ کسی نے جاننے کی کوشش نہیں کی۔ عمران خان کا بیان انتہائی شرمناک ہے جس میں فوج سے سیز فائر کرنے کا مطالبہ اور قطر کی طرز پر پاکستان میں طالبان کا دفتر کھولنے پر اصرار کر رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن طالبان کے حامی ہیں۔ ان کا بیان عمران کی مخالفت برائے مخالفت کے مصداق ہی سہی تاہم درست ہے کہ جس کا مطالبہ خود طالبان نہیں کر رہے عمران کیوں کر رہے ہیں؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان کا دفتر پشاور میں وزیراعلیٰ ہائوس میں کھول دیا جائے۔۔ ویسے بھی یہ عجب منطق ہے کہ دہشتگرد پاک فوج پر حملے کرتے رہیں اور فوج سیز فائر کر دے۔ عمران کا یہ کنفیوژڈرویہ ہے۔ عمران کو یہ مطالبہ اے پی سی میں کرنا چاہیئے تھا۔ مزید براں وہ جنرل کیانی کو بھی قائل کرنے کی کوشش کرتے جن سے اے پی سی سے قبل الگ سے ملاقات بھی کی تھی ۔ خیبرپی کے طالبان کا گڑھ ہے جہاں عمران کی حکومت بنی ہے۔ ان کی حالت’’کھاواں تے کوڑھا ہوندا، نہ کھاواں تے لج لگ دی‘‘ جیسی ہو گئی ہے۔ان کی اپنی پارٹی نے کہہ دیا ہے کہ یہ عمران کا ذاتی بیان ہے۔ آج ضرورت جرأت و دلیری کے ساتھ ساتھ اپنے حواس اور اوسان بحال رکھنے کی ہے۔ مرکزی اور کے پی کے حکومت ان سے عاری نظر آتی ہیں۔ دہشتگردوں نے مذاکرات کا موقع خود گنوا دیا ہے اب بلاتامل ان کے خلاف کڑا آپریشن کیا جائے۔ جو آپریشن کی راہ میں مزاحمت کریں قوم اورفوج ان کو بھی دہشتگردوں کی طرح ٹریٹ کرے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus