×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
قوم، مملکت، ذمہ داریاں اور کوتاہیاں
Dated: 01-Oct-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بزرگوں سے یہ کہاوت سنتے آئے ہیں کہ ’’چڑیاں دی موت تے گنواراں دا ہاسا‘‘ لیکن اس کا مفہوم پاکستان کے موجودہ حالات اور تقسیم ہوئی اپنی قوم کو دیکھ کر سمجھ میں آیا ہے۔ مملکت عزیز پاکستان شاید اس خطہ ارض پر وہ واحد ملک ہے جس کے سیاست دان کنفیوزڈ اور عسکری قیادت جرأت سے عاری اور عوام تقسیم شدہ نظریات کے حامل ہیں۔ پاکستان شاید وہ واحد سرزمین ہے جہاں آئین تو موجود مگر اس کی تعظیم نہیں، یہاں قانون تو ہے مگر اس پر عمل نہیں کیاجاتا، جہاں ایک ہی مذہب کے درجنوں مسلک آپس میں دست و گریباں ہیں، جہاں سیاست دانوں کے عوام سے جھوٹ بولنے، فراڈ کرنے اور لوٹنے کے عوض تمغۂ جمہوریت سے نوازا جاتا ہے ۔ جہاں ڈاکو پانچ سال لوٹ مار کرنے کے بعد جشن مناتے ہیں، جہاں کے حکمران حکومتی خرچے پر سیر سپاٹے کرتے ہیں اور تعلقات دنیا بھر کے تاجران و مالکان خاندانوں سے استوار کرتے ہیں۔ جہاں کے سیاسی خاندان سعودی عرب، دوبئی، ایران، چین، ترکی، امریکہ اور برطانیہ کے امراء سے تعلقات بنانے پر فخر محسوس کرتے ہیں مگر اپنے عوام سے تعلق بنانے پر ان کو شرم محسوس ہوتی ہے۔ گذشتہ 66سال سے جو قوم اپنی سمت تک کا تعین نہیں کر سکی جس قوم کو اپنے برے بھلے کی خبر نہیں جس قوم کو یہ ادراک نہیں کہ اس کا بھلا اور بُرا کیا ہے جس قوم کو اپنے دوست دشمن کی تمیز نہیں جس قوم کے پاس کوئی ٹارگٹ کوئی مشن نہیں، جس قوم کے پاس کوئی ازم کوئی ویژن نہیں ،جس ملک کا بجٹ قرضوں اور سود کی بنیاد پر ترتیب دیا جائے جس ملک میں لوٹنے والے کبھی پیپلز ورکس پروگرام ،کبھی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، کبھی سستی روٹی سکیم، کبھی دانش سکول پروگرام، پیلی ٹیکسی اور لیپ ٹاپ بانٹنے کی سکیمیں بنا کر غریب عوام کو لوٹیں اور جہاں اب پھر نوجوانوں کو قرضوں کی عادت اور دلدل میں پھانسنے کے پروگرام تشکیل دیئے جائیں اس قوم سے روشن مستقبل کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ میری زندگی کا ایک بڑا حصہ یورپ میں گزرا ہے اور میں نے اپنی تعلیم وہیں مکمل کی اس لیے مجھے یورپ اور امریکہ کے ایجوکیشن سسٹم کا پتہ ہے یہاں پر طالب علموں کو OSAPکی سکیم کے ذریعے تعلیم کے لیے قرضوں کی سہولت میسر ہے لیکن سسٹم کو اس قدر شفاف آسان اور غیر جانبدار بنا دیا گیا ہے کہ طالب علم چاہے بھی تو وہ قرضے کی رقم ضائع یا خورد برد نہیں کر سکتا اور عملی زندگی شروع کرتے ہی طالب علم کو بذریعہ آسان اقساط قرضہ واپس کرنا ہوتا ہے۔ یہاں لیپ ٹاپ تو درکنار طالب علموں کونوٹ بُک یا پنسل بھی فری میں نہیں دی جاتی یہ حال ان ملکوں کا ہے جو عالمی دنیا کو لیڈ کرتے ہیں۔جبکہ تیسری دنیا کا رکن ملک ہونے کے ناطے پاکستان ایسی عیاشیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ تعلیم کی مجموعی ابتر صورت حال کے بعد صنعت و تجارت کا یہ عالم ہے کہ پی آئی اے، سٹیل مل، ریلوے، او جی ڈی سی تقریباً دیوالیہ ہو چکے ہیں۔ بس دیوالیہ ہونے کا رسماً اعلان ہونا باقی ہے۔ سمال انڈسٹریز اور درمیانے درجے کے کارخانے دار اور مالکان کا حال یہ ہے کہ وہ بجلی اور گیس کی عدم دستیابی اور بیوروکریسی کے عدم تعاون کی وجہ سے ملک چھوڑ کر بنگلہ دیش، ملائیشیا، دوبئی، کینیڈا اور امریکہ بھاگ رہے ہیں۔ کراچی بارود کے دھوئیں میں اٹا پڑا ہے۔ رہی سہی کسر بھتہ خوری نے پوری کر دی ہے۔ گجرات ،گوجرانوالہ سمیت پاکستان کے مانچسٹر فیصل آباد کی تقریباً ساری انڈسٹری بند ہو چکی ہے جس سے لاکھوں گھروں کے چولہے بھی بجھ چکے ہیں اوران علاقوں کے عوام کسی اجتماعی خودکشی پیکج اسکیم کے انتظار میں ہیں۔ مخلص سیاسی کارکن تقریباً ناپید ہیں۔ خود میرے بے شمار ساتھی اور دوست مجھے اس لیے احمق سمجھتے ہیں کہ میں پیپلزپارٹی کا فیڈرل کونسل کا ممبر ہونے کے ناطے گذشتہ پانچ سال میں مواقع میسر ہونے کے باوجود اپنے اکائونٹس میں کم از کم پانچ ارب کا اضافہ کیوں نہ کر سکا؟ میرے وہ تمام احباب میری گذشتہ 5سالوں کی مثبت تنقید اور پارٹی قیادت کو بھٹوازم سے پہلوتہی پر صحیح سمت رہنمائی کرنے کو میری غلطی اور بے وقوفی سمجھتے ہیں۔ لیکن میرا ایمان ہے کہ آج میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور راجہ پرویز اشرف سے زیادہ سکھی اور مطمئن ہوں۔ آج میرے دامن پر کوئی داغ اور ضمیر پر کوئی بوجھ نہیں جبکہ اربوں لوٹنے والے منہ چھپائے پھرتے ہیں۔ ملک و قوم کی گرتی ہوئی ساکھ کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ڈالر کو اوپر جانے اور روپے کے گرنے کو ہم کیوں نہیں روک پا رہے ۔ ایک دفعہ ایک دوست نے کیا خوب کہا تھا کہ ڈالر کے ایک اور ساٹھ کا فرق اس لیے ہے کہ ایک امریکن اپنے ملک سے اتنا پیار کرتا ہے۔60پاکستانی مل کر اپنے ملک سے اتنا پیار نہیں کر پاتے اور وطن سے مخلص ہونے کا یہ فرق اب ایک اور 110سے تجاوز کر گیا ہے اور جب پاکستان کے عوام کو باریاں بانٹنے والے حکمرانوں کی چالیں سمجھ میں نہ آئیں گی اور جب تک خاندان اور اقرباء پروری کا بھوت سر پہ سوار رہے گا اور جب تک شہنشاہوں کی طرح جانشینوں کی تمنا دل میں موجود رہے گی جب چور کو حاجی صاحب اور دہشت گرد کو عسکریت پسند کہا جاتا رہے گا۔ ڈالر یونہی اوپر پرواز کرتا رہے گا اور ہماری کرنسی یونہی بے قدرہوتی رہے گی۔ ہمارے معاشرے اور کلچر کا یہ حصہ ہے کہ یہاں پر چوری اور بے ایمانی کی تہمت تک لگنے پر خودکشی کر لیا کرتے تھے مگر آج ڈار صاحب کو ڈالر صاحب کہلوانے پر ذرا بھی شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔ مجھے اس ملک کے عوام کی سوچ اور عقل پر شبہ ہے کہ وہ یہ کیسے انداز ہ کر لیتے ہیں کہ شریف فیملی 200ایکڑ کے محلات میں رہنے بلاول ہائوس کے مکین200کنال کے قلعہ نما گھر اور عمران خان 200کنال کے گھر میں رہ کر غریبوں کی احساس محرومی اور ضروریات کو کس طرح سمجھ پائیں گے۔ پاکستان کے 66سالہ ماضی میں ہر حکمران نے خود کو امیرالمومنین کہلوانے کی حتی الوسع کاوشیں کیں مگر عملاً انہوں نے خلفائے راشدین میں سے کسی ایک کو بھی اپنا آئیڈیل نہ بنایا۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والے سیاست دان یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ یورپین ممالک کے سابق وزرائے اعظم سابق صدور اور سابق کابینہ و ممبران پارلیمنٹ مہینے کی آخری تاریخوں کو پنشن وصول کرنے کے لیے ایک عام انسان کی طرح قطاروں میں لگے ہوتے ہیں جبکہ وطن عزیز میں ایک دفعہ وزیر کا لقب لگ جانے کا مطلب ساری عمر کے لیے ایلیٹ کلاس میں شامل ہو جانا ہے یاد رکھیے جب تک ہم اپنے اندر اور اپنی سوچوں کو نہ بدلیں گے جب تک سسٹم اور نظام کو نہ بدلیں گے تب تک ہم انہی چوروں اور لٹیروں کے ہاتھوں لٹتے اور لٹاتے رہیں گے۔ جب تک مملکت کو اپنی ذمہ داریوں اور قوم کو اپنی کوتاہیوں کا احساس نہیں ہوگا ہم تبدیلی کی خواہش کو بھی ذہن سے نکال دیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus