×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عید،ٹیسٹ میچ میں فقیدالمثال کامیابی اور ہمارے مسائل
Dated: 19-Oct-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ماضی کی طرح گزشتہ روز بھی دنیا کے کونے کونے میں موجود اہل اسلام نے دس ذوالحج کو سنتِ ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہوئے عیدالاضحی کا تہوار بڑے تزک و احتشام سے منایا۔ فرزندِ توحید نے اس روز کروڑوں جانوروں کو ذبح کیا ان کا گوشت خود کھایا اور عزیزوں و رشتہ داروں اورپڑوسیوں اورمستحق افراد میں تقسیم کیا۔ خدا کے ہاں ہماری دی ہوئی قربانیوں کا گوشت پہنچتا ہے نہ قربانی کے جانوروں کی خریداری کی قیمت اور دیگر اخراجات پہنچتے ہیں۔ اللہ کے حضور تو قربانی کرنے والے کے خلوصِ نیت کا حساب ہوتا ہے۔ قربانی کا فلسفہ ہی ایثار اور دوسروں کے لیے خود کو وقف کر دینا ہے۔اس سے ہم بطور معاشرہ تہی دامن نظر آتے ہیں۔ یوں تو ہم بطور معاشرہ اخوت و بھائی چارے کے شدید فقدان سے دوچار ہیں۔ ہر طرف ایک افراتفری اور انارکی کی کیفیت ہے ۔ ہم جمہوریت کو بہترین سسٹم گردانتے ہیں۔ اس حوالے سے ہم جن کی نقالی کرتے ہیں ان کی دیگر اقدار کو فالو نہیں کرتے۔وہاں جمہوریت کے نام پر انسانی رائے کا اس طرح قتل نہیں ہوتا جس طرح ہمارے ہاں انتخابات کے نام پر ہوتا ہے ۔ایسا ہی مئی 2013ء کے انتخابات میں بھی ہوا۔اسی وجہ سے ہم خوشیوں سے دور جبکہ مسائل اور مصائب کے گرداب میں پھنسے رہتے ہیں۔ انہی مشکلات میں گھرے ہوئے تھے کہ کرکٹ ٹیم نے عید کی خوشیوں میں اضافہ کردیا۔پاکستان نے ٹیسٹ رینکنگ میں دنیا کی نمبر ون ٹیم جنوبی افریقہ کو سات وکٹوں سے شکست دیدی۔جہاں میرے سامنے بی بی سی کی دلچسپ رپورٹ ہے؛پاکستانی کرکٹ ٹیم کا انداز سب سے منفرد ہے کہ نہ کھیلنے پہ آئے تو عالمی رینکنگ کی سب سے نچلی ٹیم زمبابوے سے بھی ہار جائے اور جب اپنے موڈ میں ہو تو عالمی نمبر ایک ٹیم بھی اس سے نہ بچ پائے۔گزشتہ سال اسی ابوظہبی میں اسوقت کی عالمی نمبر ایک انگلینڈ کی ٹیم پر بھی حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے اور آج کی عالمی نمبر ایک جنوبی افریقی ٹیم بھی حیران ہے کہ کیا یہ وہی پاکستانی ٹیم ہے جسے اس نے صرف دس ماہ پہلے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا لیکن ابوظہبی میں سب کچھ بدل گیا۔ ایک کے بعد ایک گرنے والی تین وکٹوں نے جوہانسبرگ ٹیسٹ یاد دلادیا جب پاکستانی ٹیم اپنی تاریخ کے سب سے کم اسکور49 پر ڈھیر ہوئی تھی لیکن اس بار ذہنوں میں آنے والے وسوسے کپتان مصباح الحق نے دور کردئیے۔پہلی اننگز میں بہتر پوزیشن میں بیٹنگ کرکے سنچری بنانے والے مصباح الحق نے دوسری اننگز میں خود کو اسی پوزیشن میں پایا جس میں وہ ابتدائی وکٹیں جلد گرنے کے بعد عام طور پر بیٹنگ کرتے ہیں لیکن پرسکون اور اعتماد سے وہ ٹیم کو ایک یادگار جیت سے ہمکنار کرگئے۔ تیسرے دن چار اہم وکٹیں حاصل کرلینے کے باوجود مصباح کو بخوبی اندازہ تھا کہ جنوبی افریقی ٹیم آسانی سے قابو نہیں آئے گی اسی لئے انہوں نے تمام وقت اپنے چاروں بولروں کوعمدگی سے استعمال کرتے ہوئے دباؤ برقرار رکھا۔نائٹ واچ مین ڈیل اسٹین اور جے پی ڈومینی کی وکٹیں پاکستان کو جلد مل گئیں۔ لیکن اصل خطرہ اے بی ڈی ولیئرز سے تھا جو اسی گراؤنڈ پر تین سال پہلے پاکستانی بولنگ پر ڈبل سنچری بناچکے تھے ان کی مزاحمت سنچری سے دس رنز کی کمی پر ختم ہوئی تو گریم اسمتھ نوشتہ دیوار پڑھ چکے تھے۔ رابن پیٹرسن نے پاکستان کے خلاف کیپ ٹاؤن کی بیٹنگ کی یاد تازہ کرنے کی کوشش کی لیکن سعید اجمل کے مہلک وار نے ڈوپلیسس، فلینڈر اور مورکل کو شکار کرلیا اور پیٹرسن کے ہاتھ کچھ بھی نہ بچا۔ سعید اجمل کا غصہ اسوقت فطری تھا جب عدنان اکمل نے پیٹرسن کا کیچ ڈراپ کیا۔ فلینڈر کا کیچ بھی وہ دوسری کوشش میں لے پائے۔سعید اجمل کے بارے میں مصباح الحق زیادہ فکر مند تھے کہ جنوبی افریقی بیٹسمینوں کو ان کی بولنگ کے بارے میں کافی پتہ چل چکا ہے لیکن اجمل نے اس چیلنج کو قبول کیا اور ثابت کردیا کہ پاکستانی بولنگ انہی کے گرد گھومتی ہے۔پہلا ٹیسٹ کھیلنے والے ذوالفقار بابر نے خوب بولنگ کی۔محمد عرفان اور جنید خان نے بھی اپنے کپتان کو مایوس نہیں کیا۔جبکہ سرپرائز پیکج ذوالفقار بابر نے کسی بھی موقع پر یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ وہ اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیل رہے ہیں جو اعتماد ان میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی ٹوئنٹی کھیلتے ہوئے تھا وہ ابوظہبی میں بھی واضح طور پر موجود تھا۔بابر ذوالفقار نے پہلی اننگز میں تین وکٹیں حاصل کرنے کے بعد وہ دوسری اننگز میں بھی دو کھلاڑی آؤٹ کرنے میں کامیاب رہے جن میں ہاشم آملا کی قیمتی وکٹ بھی شامل ہے۔ کل کی ماٹھی ٹیم جب متحد اور یکجان ہو کر کھیلی تو دنیا کی بہترین ٹیم کو بھی ڈھیر کردیا۔ مصباح کو کامیاب کپتان نہیں سمجھا جاتا جب اس نے محنت کی توکھوٹے سکے اور نئے کھلاڑی بھی چل پڑے اور ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ہمیں قومی سیاست میں بھی ایسے ہی جذبے کی ضرورت ہے ۔میاں نواز شریف اتنے بھی گئے گزرے نہیں کہ ان کو مصباح کی طرح کا ناکام کپتان کہا جائے۔وہ پاکستان اور پاکستانیوں کو بہت سی خوشیاں دے سکتے ہیں۔ ان کے پاس اچھے لوگ ہیں لیکن ان سے آگے نہیں لایا جاتا ۔آگے وہی ہیں جو کل مشرف اور زرداری کے مہرے تھے اور انہوں نے ہی زرداری اور مشرف کو ڈبویا تھا ۔ نواز شریف نے جو اپنی پارٹی سے لوگ لئے ہیںان میں اکثریت انہی کی ہے جو پہلے دوبار ان کو ڈبو چکے ہیں۔اب یہ سب مل کر نواز لیگ کا سفینہ جلد ڈبودیں گے۔ قوم و ملک کو بحرونوں نے نکالنے کے لئے کسی راکٹ سائینس کی ضرورت نہیں ۔آپ کو سب کچھ جمہوری اصولوں کے مطابق کرنا ہوگا۔صرف ذاتی مفادات کی سیاست سے بالا تر ہو جائیں تو کامیابیاں قدم چومتی نظر آئیں گی۔عوام آپ کے شانہ بشانہ ہونگے ۔دوسری صورت میں روسیاہی کے سوا آپ کو کچھ ملے گا نہ ملک وقوم کے حصے میں کوئی بہتری آئے گی ۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نواز لیگ کی قیادت نے تاریخ سے کوئی سبق سیکھا نہ اپنے ماضی سے اور نہ ہی اپنی پیشرو زرداری حکومت سے ،جس کو عام انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔آج کی حکومت گزشتہ حکومت کی لوٹ مار نکلوا لیتی تو اسے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑتا نہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھانا پڑتے جس سے عام آدمی کی زندگی اجیرن بن کر رہ گئی ہے۔دوسروں کی کرپشن اگلوانے کے لئے خود کا پارسا ہونا بھی ضروری ہے ۔اس طرف نواز لیگ کی قیادت آنے پر تیار نظر نہیں آتی ۔ اپنی چوری چھپانے کے لئے حریفوں کی ڈکیتیوں کو تحفظ فراہم کیا جارہا ہے۔ چئیر مین نیب کی تقرری یقینا ملی بھگت سے کی گئی ہے ۔ زرداری صاحب کے کیس ان کو ملک سے بحفاظت روانہ کرنے کے بعد کھولے گئے۔لگتا ہے کہ مک مکا کے نتیجے میں بننے والے چئیر مین کی ذمہداری شریف خاندان اور زرداری کے مقدامات کھول کر ان کو ہمیشہ کے لئے بند کر دینا ہوگا۔ایسا ہوا تو نواز لیگ کو بھی پیپلز پارٹی جیسی بربادی کا سامنا کرنا پڑے گا جس کی ایک جھلک فیصل آباد میں اپنے گھڑھ میں صوبائی سیٹ پر شکست کی صورت میں دیکھ لی ہے ۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus