×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بیٹا تِیر تے باپ کمان!
Dated: 22-Oct-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سانحہ کارساز کے شہدا کی برسی سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اپنی توپوں کے رُخ چاروں طرف موڑ کر اسے چومکھی لڑائی بنا دیا مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس فنکار کی لکھی ہوئی تقریر تھی لیکن جس کا بھی یہ شاہکار تھا وہ یقینا ہوشیار اور ذہین آدمی نہ تھا کیونکہ پیپلزپارٹی کی گذشتہ 5سال کی پالیسی کو دیکھتے ہوئے ایک کمسن بچہ بھی حساب لگا لیتا ہے کہ اس تقریر کے الفاظ جبراً چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے منہ میں ڈالے گئے۔ ایوان صدر سے رخصتی سے پہلے وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشائیہ اور ریڈکارپٹ گارڈ آف آنر میں شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری جو کہ پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین ہیں نے ارشاد فرمایا تھا کہ ہم نے جمہوریت بہترین انتقام اور مفاہمت کی سیاست کے شہید بی بی کے فلسفے کو بڑی کامیابی سے آگے منتقل کیا ہے۔ منتقلی اقتدار کے اس موقع پر حاضرین مجلس کے ششدر رہ گئے جب صدر صاحب نے یہ کہا کہ ہم پورے 5سال مسلم لیگ کو نہ چھڑیں گے نہ بازپرس کریں گے اور 5سال بعد میں الیکشن سے تھوڑا پہلے ہم سیاست شروع کریں گے اور ہمارا سلوگن یہ ہوگا کہ ’’قدم بڑھائو نواز ہم تمہارے ساتھ ہیں۔‘‘ میرے سمیت ہر ذی ہوش پاکستانی آج یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ وہ کونسی ایسی مافوق الفطرت حرکت ہو گئی ہے جس نے سابق صدر کے فرزند کو سیخ پا کر دیا ہے؟ سابق نیب چیئرمین کی سبکدوشی کے بعد پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے نوراکشتی کے طرزِ عمل کو اپناتے ہوئے ایک لمبے عرصے تک عوام، عدلیہ اور فوج کے ساتھ جو کھیل رچایا ہوا تھا اور جان بوجھ کر نیب کے نئے چیئرمین کی تقریر کو نئے منتخب صدر ممنون حسین کی حلف برداری تک مؤخر کیے رکھا اور پھر بظاہر اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ ایک ڈرامائی سی کیفیت پیدا کر دی گئی اب جب کہ آرمی چیف جنرل پرویز کیانی کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ اپنے انجام کو پہنچا ہے اور جسٹس افتخار کی رخصتی کے لیے الوداعی تقریبات کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے تو حکمرانوں نے عوام کا دھیان کہیں اور لگانے کے لیے سابق صدر کے خلاف سوئس کیسز کو ری اوپن کرنے کا شوشا چھوڑ دیا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ سوئس کیسز کا معاملہ اسی دن ختم ہو گیا تھا جس دن N.R.O پر دستخط ہوئے تھے اور برطانیہ میں پاکستانی ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کالااوورکوٹ پہنے سیاہ چشمہ لگائے سر پہ ہیٹ رکھے اور منہ میں سگار ڈالے ہوئے جینوا سوئٹزرلینڈ میں عدالت سے سوئس کیسوں کا ریکارڈ وصول کرتے جیمز بانڈ 007کا کردار ادا کرتے نظر آئے تھے اور گذشتہ 5سالوں کے دوران جب چیف جسٹس چوہدری افتخار احمد نے NRO کو کالعدم قرار دیا تھا تو اس وقت تک سوئس بینکوں میں بلاک شدہ رقوم جن کی مالیت 60ملین ڈالر سے زیادہ تھی وہ رقوم اپنی اگلی منزل پر منتقل کی جا چکی تھیں اور پاکستان کے اندر ہزاروں چور،لٹیرے، بھتہ خور اور رشوت خور اور قومی مجرم جو رہا کر دیئے گئے تھے ان میں سے کوئی ایک بھی گرفتاری دینے کے لیے تیار نہ تھا۔ باوثوق ذرائع کہتے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کو واپس گھر بھیجنا بھی طاقت کی اس چکور کے پلان کا ایک حصہ تھا۔ عسکری قیادت سیاست دانوں کو، سیاستدان عدلیہ کو اور عدلیہ ان سب کو چور چور کہتے رہے اور پھر ایک نیا انجرڈ الیکشن 80سالہ بابے کی زیر نگرانی کروا کے عوام کی آنکھوں میں دھول ڈالی گئی۔ حتی کہ عمران خان اور اس کی پور ی ٹیم بھی اس ٹریپ میں آ گئے حالانکہ بیچارہ ڈاکٹر قادری شور مچاتا رہ گیا کہ ’’بچ کے رہنا بھائی پھر نہ کہنا بھائی‘‘لیکن اس سیاسی سازش کو پایا تکمیل تک پہنچانے کے لیے عالمی طاقتیں اپنی انویسٹمنٹ مکمل کر چکی تھیں اور وہ صاحبِ اقتدار طبقہ جو گذشتہ ساڑھے5سال سے مملکت اور مملکت کے وسائل سمیت عوام کے حواس پر قابض ہے اس کو بھلا کب یہ گوارہ ہے کہ قومی خزانے سے لوٹی ہوئی ہزاروں ارب روپے کی چوری شدہ رقم عوام کو واپس کرے۔ کیا کوئی ڈاکو مال غنیمت واپس کرنے کے لیے ڈاکہ ڈالتا ہے؟ کیا حدیبہ شوگر مل کیس اور ایئر مارشل ریٹارئرڈ اصغر خاں کیس کے فیصلہ آنے کے باوجود بھی اقتدار سے چمٹے رہنے والا گروہ بلاول بھٹوزرداری کی بھڑکوں سے خوف زدہ ہو گا؟ اور بلاول بھٹو کا یہ کہنا کہ ہم سینہ تان کر دہشت گردوں کے سامنے ڈٹے ہوئے ہیں نہ صرف ایک سفید جھوٹ بلکہ حقیقت کے برعکس بھی ہے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے خون اور اپنے دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے خون سے یہ تاریخ رقم کی قربانی کی۔ اس لازوال داستان کو یقینا بھٹو خاندان کے ماتھے پر جھومر قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اس میں بلاول اور اس کے باپ دادا کا کیا کردار ہے؟ کیا پیپلزپارٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے بلاول بھٹو زرداری مجھے بتانا پسند کریں گے 20فروری2008ء کو الیکشن نتائج آنے کے بعد زرداری ہائوس اسلام آباد میں ہونے والی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل اور فیڈرل کونسل کے مشترکہ اجلاس سے افتتاحی تقریر کرتے ہوئے راقم نے جب یہ مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں اقتدار صرف اس لیے لینا چاہیے کہ ہم محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچا سکیں اور یہ کہ پاکستان کے عوام کے ذہنوں میں چھپے ان گنت سوالات اور خدشات کا ہمیں جواب دینا ہوگا۔ لوگ ہم سے کہتے ہیں کہ بی بی شہید کے خون کے چھینٹے زرداری ہائوس کی دیواروں پر بھی دیکھے جا سکتے ہیں اور پھر یہ کیا یہی وجہ نہ تھی کہ مجھے برسراقتدار پارٹی قیادت نے گذشتہ ساڑھے پانچ سال مجھے اگنور کیے رکھا یعنی بی بی کے لیے انصاف مانگنا میرا جرم قرار پایا اور آج چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مجھے جواب دینا پسند کریں گے کہ جن کی پتنگیں کاٹنے کی بات کرتے ہیں کیا وہ جماعت پچھلے 5سال سے ان کی صوبائی اور وفاقی کابینہ میں حلیف نہیں رہی؟ کیا آج جنرل مشرف پہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا الزام لگانے والوں نے اسی جنرل مشرف کو ایوانِ صدر سے ریڈ کارپٹ بچھا کر گارڈ آف آنر کے ساتھ رخصت نہیں کیا تھا؟ اور کیا جن لوگوں کو بے نظیر بھٹو شہید نے کسی بھی حادثہ کی صورت میں اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا وہ لوگ گذشتہ 5سالہ اقتدار میں ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے کو انجوائے نہیں کرتے رہے؟ اور عمران خان کو بزدل خاں کے لقب سے پکارنے والے پیپلزپارٹی کی قیادت گذشتہ الیکشن میں یکسر غائب تھی اور ساری انتخابی مہم ریڈیو ، ٹی وی اور اخبارات پر چلائی جاتی رہی۔ دوسری پارٹیاں لاکھوں اور ہزاروں کے جلسے اور جلوس کر رہی تھی اور یہ پانچ سو آدمیوں کا اجتماع بھی نہ کر سکی۔ اس کی ایک وجہ تو پنجاب پی پی پی کا صدر اس شخص کو بنا دیا گیا جو قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کو شہید کروانے والوں میں سے تھا اور بعدازاں شہید بی بی کے لیے بھی دردِ سر بنا رہا۔ ایسے شخص کو جیالے بھلا کیسے قبول کرتے؟ اور دوسری وجہ اس کی وہ ’’مُک مکا‘‘ تھا جس کو جمہوریت بہترین انتقام اور مفاہمت کی سیاست کا نام دیا گیا۔ مجھے نہیں پتہ کہ پیپلزپارٹی کے جیالے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو کس حد تک ویلکم بیک کہتے ہیں؟ مگر ابھی ابھی مجھے ایک جیالے نے فون کرکے یہ ضرور کہا: بیٹا تِیر تے باپ کمان۔۔۔ اب نہ کھپے گا پاکستان
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus