×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
قومی افق سے جماعت اسلامی غائب کیوں
Dated: 02-Nov-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com وطن عزیز میں تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کو ایک مسلمہ حیثیت حاصل ہے میری مراد لیفٹ ونگ کی پیپلزپارٹی جو کہ گذشتہ 44سال سے پاکستان کے چاروں صوبوں میں وفاق کی علامت سمجھی جاتی ہے اور نیشنلسٹ خیال طبقے کو پاکستان کی بانی سیاسی جماعت مسلم لیگ اور رائٹ ونگ کی ترجمان جماعتِ اسلامی سے ہے جو قیام پاکستان سے پہلے 26اگست 1941ء کو مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی قیادت میں وجود میں آئی۔ جماعت اسلامی جو کہ مختلف تلخ اور شیریں تجربات کے بعد قومی دھارے میں شامل ہوئی تو وہ مغربی پاکستان کے جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام کی موجودگی میں مضبوط جگہ تو نہ بنا سکی مگر مشرقی پاکستان میں اس کی جڑیں بڑی مضبوط تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں جماعت اسلامی ایک سٹیک ہولڈر کے طور پر سامنے آئی۔ خاص طور پر سانحہ مشرقی پاکستان کے دوران جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیموں الشمس اور البدر کے تاریخی کردار کو فراموش کر دینا ممکن نہیں۔ الشمس اور البدر نے مکتی باہنی کے مسلح غنڈوں کا مقابلہ جان کے نذرانے دے کر کیا اور آج بھی وہاں جماعت اسلامی حسینہ واجد اور بھارت نواز سیاسی قوتوں کی چیرہ دستیوں کا مقابلہ کر رہی ہے۔ 1971ء کے بعد پیپلزپارٹی کے پہلے دورِ حکومت میںجماعت اسلامی نے احمدیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی تحریک میں نہ صرف کلیدی کردار ادا کیا بلکہ پیپلزپارٹی کی لبرل حکومت کو مذہبی قوتوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا ۔ جبکہ مولانا نذیر احمد کی شہادت بھی اسی دوران ہوئی اور ایک مقدمے کی بنیاد بنا کر سید ابوالاعلی مودودی کو پھانسی کی سزا بھی سنائی گئی۔ بعدازاں جب بھٹو کی گرفت عنانِ اقتدار پر کمزور پڑی اور 1977ء کے الیکشن میں دھاندلی کے واقعات کو بنیاد بنا کر جماعت اسلامی جو کہ 9مذہبی جماعتوں کے اتحاد میں لیڈنگ پوزیشن میں تھی تحریکِ نظام مصطفی چلانے کا اعلان کیا اور انہی فسادات کو کچلنے کے دوران جماعتِ اسلامی کے بے شمار افراد نے جانیں دیں۔ پھر ملک میں مارشل لاء ضیاء الحق کی قیادت میں مسلط کر دیا گیا۔ بھٹو کو گرفتار کرکے پھانسی دے دی گئی یہ وہ دور تھا جب میاں محمد طفیل جماعت اسلامی کے امیر تھے اور ضیا الحق کے عزیز اور ہم برادری بھی بتائے جاتے تھے اور مارشل لاء کے ابتدائی سالوں میں جماعت اسلامی نے نہ صرف مارشل لاء کو سپورٹ کیا بلکہ وزارتیں حاصل کرکے پاکستان کے جمہوریت پسند عوام کی نظروں میں ہمیشہ کے لیے اپنا مقام کھو دیا ، خود جماعت کے اکابرین اس بات پر متفق ہیں کہ جتنا سیاسی نقصان میاں محمد طفیل کی امارت میں ہوا اس نقصان کی تلافی آج تک نہ ہو سکی۔ جماعت اسلامی جو کہ آرگنائزیشن کے حساب سے پاکستان کی سب سے مضبوط جماعت تھی اور جس نے ان طبقات کو اپنی مضبوط فیڈریشن اور تنظیموں میں آرگنائز کیا ہوا تھا جن میں ڈاکٹرز، لائرز، ٹیچرز، فارمرز، لیبر ،حقوقِ خواتین،پی آئی اے، ریلوے اور سٹیل ملز شامل ہیں۔جبکہ اسلامی جمعیت طلبا پاکستان کے تعلیمی اداروں میں موجود سٹوڈنٹس یونین میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج ملک کے طو ل و ارض میں جمعیت کی نرسری سے فارغ التحصیل سیاست دان اور دانش ور موجود ہیں۔ 1992ء میں جماعت کی امارت سنبھالنے کے بعد قاضی حسین احمد نے شباب ملی جیسی ذیلی تنظیم تیار کرکے جماعت کی رگوں میں نیا اور گرم خون شامل کرنے کی کوشش کی۔ یہی وجہ تھی کہ 1997ء کے الیکشن میں جماعت اسلامی مسلم لیگ ن سے اتحاد کرکے قومی اسمبلی کی متعدد نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی مگر یہاں بھی قیادت سے ایک بنیادی غلطی یہ ہوئی کہ اپنے اراکین قومی اسمبلی کو کابینہ میں ایڈجسٹ نہ کروا سکے جس کی وجہ سے جماعت کے کارکنان کے مورال پر کافی منفی اثر پڑا۔ 12اکتوبر1999ء کو جب جنرل مشرف نے جمہوریت پر شب خون مارا اور 2000ء کے صدارتی ریفرنڈم میں ایک بار پھر جماعت اسلامی نے جنرل مشرف کو سپورٹ کیا اور 2002ء کے الیکشن میں جماعت اسلامی دینی پارٹیوں کو ساتھ ملا کر متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے الیکشن میں شامل ہو گئی یہ وہ دور تھا جب نوازشریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی پر تھے اور ان کی غیر موجودگی میں متحدہ مجلس عمل 372کے ایوان میں 53سیٹیں لینے میں کامیاب ہوئے جبکہ خیبرپختونخواہ میں جمعیت علماء اسلام کے ساتھ مل کر صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے۔ جس میں جماعت اسلامی کو سینئر وزیر کی وزارت ملی لیکن اس کولیشن میں بھی جماعت اسلامی کی ذاتی حیثیت دب کر رہ گئی اور بعدازاں سینیئر وزیر سراج الحق نے ڈرون حملوں کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا اور بعدازاں قاضی حسین نے احمد مرحوم نے لال مسجد کے واقع پر قومی اسمبلی احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ 2008ء کے الیکشن سے پہلے ہی مولانا فضل الرحمن کی سیاسی چالاکیوں کی وجہ سے متحدہ مجلس عمل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو چکی تھی اور بڑی حد تک سیاسی گیم سے باہر ہو چکی تھی۔ جماعت اسلامی جس نے ڈاکٹر اسرار احمد، جاوید احمد غامدی، سید احمد خاں، امین احسن اصلاحی، جاوید ہاشمی جیسے لیڈر پیدا کیے ہیں اور جس کے پاس اب بھی لیاقت بلوچ، سینیٹر خورشید احمد، ڈاکٹر محمد کمال، سراج الحق، امیرالعظیم حافظ سلمان بٹ اور فرید پراچہ جیسی قیادت موجود ہے اور جو عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ کی قیادت میں کراچی کی میئر شپ حاصل کرنے میں دو دفعہ کامیاب ہوئی۔وہ جماعت اسلامی جو کہ سٹریٹ پاور کی چیمپئن سمجھی جاتی تھی اور جس کی ذیلی تنظیم اسلامی جمعیت طلبا پاکستان کی سیاسی قیادت کو سیاسی نرسری مہیا کرتی تھی وہ 2008ء کے الیکشن میں اندرونی اختلافات اور خلفشار کی وجہ سے اور غلط سیاسی فیصلوں او رنام نہاد اور نان ایشوز کو خود پرمسلط کرنے کی وجہ سے چاروں شانے چت پڑی تھی اور مجبوراً جماعت اسلامی کو الیکشن 2008ء کا بائیکاٹ کرنا پڑا۔ جبکہ 2013ء کے الیکشن سے پہلے جماعت اسلامی اپنے سابقہ فطری اتحادی مسلم لیگ ن سے الیکشن کولیشن کی بھیک مانگتی نظر آئی اور ایسا اس نے تحریک انصاف کے ساتھ بھی کیا جبکہ آج جماعت اسلامی قومی اسمبلی میں 4نشستوں اور خیبرپختونخواہ میں 8نشستیں حامل کرنے کے بعد سیاست میں کہیں نظر نہیں آتی ۔ دراصل جماعت اسلامی نے عموماً ضروریات جیسے بجلی، گیس، پانی، ادویات ، کھاد اور مہنگائی کے ایشوز کو چھوڑ کر ہمیشہ اخوان المسلمون بننے کی کوشش کی۔ جب تک جماعت اسلامی پاکستانی عوام کی ضرورتوں اور مجبوریوں کو اپنا سیاسی اوڑھنا بچھونا نہیں بنائے گی اس وقت تک جماعت اسلامی کا قومی سیاسی دھارے میں شامل ہونے کا خواب ادھورا رہے گا۔ اپنی وفات سے چند روز قبل قاضی حسین احمد نے راقم سے ایک ملاقات کے دوران کہا تھا کہ جماعت کی رگوں میں نیا خون اور پرانے بچھڑے ہوئے ساتھی شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ مجاہدین نے افغانستان کو سپورٹ کرنا ،کشمیر کاز اور یوم القدس منانا ،ڈاکٹر عافیہ صدیقی جیسے معاملات پر سال ہا سال تک احتجاج کرنے کی روایت اچھی صحیح اور عالم اسلام سے بھی جماعت اسلامی کی محبت اور وابستگی مزید کسی تعارف کی محتاج نہیں۔لیکن کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ ملک کے اندر کے معاملات کو اپنا ایشو بنا کر ایک قومی ،مذہبی و سیاسی جماعت کا کردار ادا کیا جائے ؟کیونکہ جب تک جماعت پاکستانیوں کے معاملات اور ان کی ضرورتوں کے لیے میدان میں نہیں آئے گی وہ اسی طرح اپنی افادیت کھوتی رہے گی ۔شاید جماعت کی موجودہ قیادت کو اس کا ادراک نہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus