×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
حکیم اللہ محسود امیر المومنین یا دہشتگرد
Dated: 05-Nov-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com حکیم اللہ محسود امریکہ کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی مطلوب تھا۔ پاکستاں میں اس کی اطلاع دینے والے کے لیے 5کروڑ روپے انعام رکھا گیا ۔ امریکنوں نے ا س سے دس گنا زیادہ 50کروڑ روپے اس کے سر کی قیمت لگا رکھی تھی۔ آج پاکستان میں انتہا کو پہنچی ہوئی دہشتگردی اور بدامنی میں جنوبی وزیرستان اورشمالی وزیرستان میں چھپے ہوئے شدت پسند ملوث ہیں۔ان کی کارروائیوں سے پاکستان کہیں بھی محفوظ نہیں۔ دہشتگردوں نے پورے ملک میں بارود کی بو پھیلا رکھی ہے۔ اب تو حالات اس حد تک بگڑ گئے ہیں کہ اپنی دہشتگردی کے زور پر امارات طالبان کی بنیاد رکھنے کی تیار کر رہے ہیں۔ بڑے بڑے سیاسی لیڈروں پر ان کی دہشت کا خوف طاری ہے۔ کچھ مذہبی و سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کی بجا آری کے لیے ان کی حمایت پر کمربستہ ہیں، کچھ بلیک میل ہو کر ان کی حمایت کرتی ہیں اور کچھ مخالفت کے بہروپ میں ان کی سپورٹ کرتی ہیں۔ کھل کر مخالفت کرنے والی پارٹیاں بہت کم ہیں۔ کوئی بھی جنگ وہ کسی ملک کے خلاف ہو یا سرحدوں کے اندر دہشتگردوں کے خلاف پوری قوم کے اتحاد کے بغیر جیتی نہیں جا سکتی۔ پاک فوج کو سیاسی حکومتوں نے ہی دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز کا حکم د ے رکھا ہے اس میں فوج آج دس سال بعد بھی کامیاب نہیں ہو سکی تو اس کی وجہ قوم کی تقسیم ہے اور آج کی حکمران جماعت کی طرف سے دہشتگردوں کے لیے ایک نرم گوشہ بھی پایا جاتا ہے۔ نوازلیگ نے دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے ہاتھ بڑھایاجس کی مخالف فریق نے کوئی پذیرائی نہیں کی۔ ادھر مذاکرات کی پیش کش ہوئی ادھر دہشگردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا۔ مذاکرات کے حامیوں نے اسے مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی سازش قرار دیا جبکہ طالبان ہر کارروائی کے بعد اس کی ذمہ داری بھی قبول کر رہے تھے۔ان کا یہ موقف آج برقرار ہے کہ وہ پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے اور وہ اس آئین کے تحت مذاکرات بھی نہیں کریں گے۔ جبکہ حکومت یکطرفہ طور پر مذاکراتی عمل کی تیاری کا واویلا کیے جا رہی تھی۔ وزیراعظم نوازشریف نے لندن کے سیر سپاٹے کے دوران یہ بھی کہہ دیا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع ہو چکے ہیں۔ وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے امریکی سفیر سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے بند کرنے کی بات کی تو اوسن نے اس سے اتفاق کیا تاہم یہ بھی کہا کہ حکم اللہ محسود نظر آیا تو اسے نہیں چھوڑیں گے۔ چودھری نثار کے بقول انہوں نے امریکہ کو ایسا کرنے سے منع کیا تھا۔ یہ ایسا ہی منع کرنا ہے جیسے امریکہ کوکئی سال سے ڈرون حملوں سے منع کیا جا رہا ہے۔امریکہ کو موقع ملا اسے حکیم اللہ محسود نظر آیا تو اس نے ڈرون حملے میں اسے ہلاک کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس پر حکومت کی طرف سے بڑا شور کیا جا رہا ہے۔ میڈیا میں بھی ایک طوفان برپا ہے۔ سیاسی اور مذہبی لیڈروں کی مذمتی بیان دیتے ہوئے زبانیں سوکھ رہی ہیں۔ ایک ایسا شخص حملے میں مارا گیا جو ریاست کا باغی تھا۔ اس کو ایک ہیرو اور امیرالمومنین کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ دہشتگردی کی وارداتوں میں چالیس ہزار پاکستانی مارے گئے۔ دس ہزار مسلح افواج افسر اور جوان نشانہ بنے۔ پاکستان ایئرفورس اورنیوی کے جاسوس طیاروں کو تباہ کرکے دہشتگردوں نے پاکستان پر کاری ضرب لگائی۔ پاکستان کے ناقابل تسخیر دفاع کے تصور کو سوالیہ نشان بنا دیا ان سب کے پیچھے کل تک حکیم اللہ محسود کا ذہن کام کر رہا تھا۔ اس نے کرنل امام کو اپنے ہاتھوں قتل کیا۔ 26ایف سی اہلکاروں کو اس کی سربراہی میں ذبح کیا گیا۔ پاک فوج کے اڑھائی سو اہلکاروں کو اسی نے یرغمال بنایا۔ حساس تنصیبات اور دفاتر کو نشانہ بنایا گیا۔ جی ایچ کیو، پشاور ایئرپورٹ، کامرہ اور مہران بیسز پر دہشگردی کرا کے ان کی بڑے فکر سے ذمہ د اری قبول کی گئی۔ایسے شخص کی ہلاکت پر ماتم کا مطلب دہشتگردوں کی حمایت اور پشت پناہی ہے ایسا وہی لوگ کر سکتے ہیں جو اب تک دہشتگردی سے محفوظ ہیں۔ جن کے بچے، مائیں باپ اور عزیز رشتہ دار دہشتگردی میں مارے گئے یا اپاہج ہو گئے ان کے جذبات کا احساس کریں۔ ان کی جگہ پر خود کو رکھ کر سوچیں تو زبان حقائق اگلنے پر مجبور ہو جائے گی اگر انسانیت ہو گی تو۔ حکیم اللہ محسود کی حمایت میں بیان بازی تو لگتا ہے کہ وہ نشان حید رکا مستحق ہے۔ مذاکرات کے سبوتاژ ہونے کا شور کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے اس وقت ان کو مذاکرات کی کوشش سبوتاژ ہوتی کیوں نظر نہ آئی جب جنرل نیازی اور ان کے ساتھی افسر اور جوان کو شہید کیا گیا اگر اس وقت مذاکرات کے عمل کو نقصان نہیں پہنچا تو اب طالبان کے ایک لیڈر کے مرنے سے کیوں متاثر ہوں گے؟ آج کل ڈرون حملوں کے خلاف حکومتی سطح پر مسلسل مخالفت سامنے آ رہی ہے حالانکہ یہ کبھی بھی حکومت کی مرضی کے بغیر نہیںہوئے۔ اگر حکومت کو یہ پسند نہیں توڈرونز کو مار گرائے۔ امریکہ کو بتانے اور اس سے مطالبے کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا امریکہ ڈرون حملہ آپ کو پوچھ کے کرتا ہے؟ ویسے امریکی میڈیا نے تو یہ ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کہ ڈرون حملے پاکستان کی مرضی سے ہی ہوتے ہیں۔ ایسا اعتراف جنرل شجاع پاشا نے ڈی جی آئی ایس آئی کی حیثیت سے ایبٹ آباد کمیشن کے روزبیان کیا تھا کہ ڈرون حملے غیرقانونی ہونے کے باوجود پاکستان کے مفاد میں ہیں۔ حکیم اللہ محسود اور اس کے ساتھیوں پر ہونے والا حملہ بھی یقینا پاکستان کے مفاد میں ہے اگر حکمران کہیں کہ یہ ان کی مرضی کے خلاف ہوئے ہیں تو اس سے بڑا جھوٹ نہیں ہو سکتا۔ اس حملے میں 20شدت پسند مارے گئے جو حکومت پاکستان کے جھانسے میں آ کر مذاکرات کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ طالبان کی مشاورت کے مقام کا علم وزیرداخلہ کو ان کی ٹیم اور ان لوگوں کو تھاجو بقول چودھری نثار کے مذاکرات کی دعوت لے کر شمالی وزیرستان جانے والے تھے۔ جنگ میں سب جا ئز ہوتا ہے۔ حکومت نے اگر طالبان کی اس ڈرون حملے میں کمر توڑی دی ہے تو اس کا کریڈٹ لینے سے گریز نہ کرے۔ گذشتہ روز ایک نجی ٹیلی ویژن چینل پر انٹرویو دیتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری نے امریکی وزارت خارجہ کے بریفننگ ڈاکومنٹ دکھاتے ہوئے انکشاف کیا کہ نوازشریف کے گذشتہ دورہ امریکہ کے دوران ڈرون حملوں کے متعلق بالکل کوئی بات ہی نہ کی گئی تھی۔اس راز کے افشاں ہونے کے بعد یقینا حکمران پریشان ہوں گے اور حکیم اللہ محسود کی موت کے بعد قوم جو پہلے ہی منقسم تھی اب مزید تقسیم ہو گئی ہے۔حکیم اللہ محسود کی موت سے ایک چیز تو طالبان کے لیے بھی واضح ہو گئی ہے : دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے سجناں وی مر جانا ہو
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus