×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
باوقار قوم بننے کیلئے اقبال کے فلسفہ خودی کو اپنانے کی ضرورت
Dated: 09-Nov-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com خودی فارسی زبان کا لفظ ہے جو لغوی اعتبار سے انانیت، خود پرستی ، خود مختاری ، خود سری ، خود رائی، خود غرضی، غرور ، نخوت ، تکبر کے معانی رکھتا ہے۔’’خودی‘‘ کا لفظ اقبال کے پیغا م یا فلسفہ حیات میں تکبر و غروریا اردو فارسی کے مروجہ معنوں میں استعمال نہیں ہوا۔ خودی اقبال کے نزدیک نا م ہے احساسِ غیرت مندی کا ،جذبہ خوداری کا اپنی ذات و صفات کا پاس و احساس کا، اپنی انا کو جراحت و شکست سے محفوظ رکھنے کا، حرکت و توانائی کو زندگی کا ضامن سمجھنے کا، مظاہراتِ فطرت سے برسر پیکار رہنے کا اور دوسروں کا سہارا تلاش کرنے کے بجائے اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ اقبال کے نقطہ نظر سے ’’خودی‘‘ زندگی کا آغاز ، وسط اور انجام سبھی کچھ ہے فرد وملت کی ترقی و تنزل ، خود ی کی ترقی و زوال پر منحصر ہے۔ خودی کا تحفظ ، زندگی کا تحفظ اور خودی کا استحکام ، زندگی کا استحکام ہے۔ ازل سے ابد تک خودی ہی کی کارفرمائی ہے۔ اس کی کامرانیاں اور کار کشائیاں بے شمار اور اس کی وسعتیں اور بلندیاں بے کنار ہیں۔اقبال نے ان کا ذکر اپنے کلام میں جگہ جگہ نئے انداز میں کیا ہے۔ خودی کیا ہے راز دورنِ حیات خودی کیا ہے بیدارئی کائنات ازل اس کے پیچھے ابد سامنے نہ حداس کے پیچھے نہ حد سامنے زمانے کی دھارے میں بہتی ہوئی ستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی ازل سے ہے یہ کشمکش میں اسیر ہوئی خاک ِ آدم میں صورت پذیر خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے کہیں یہ ظاہر کیا ہے کہ لاالہ الا اللہ کا اصل راز خودی ہے توحید ، خودی کی تلوارکو آب دار بناتی ہے اور خودی ، توحید کی محافظ ہے۔ خودی کا سرِ نہاں لاالہ الا اللہ خودی ہے تیغ فساں لاالہ الا اللہ کہیں یہ بتایا ہے کہ انسان کی ساری کامیابیوں کا انحصار خودی کی پرورش و تربیت پر ہے۔ قوت اور تربیت یافتہ خودی ہی کی بدولت انسان نے حق و باطل کی جنگ میں فتح پائی ہے۔ خودی زندہ اور پائندہ ہو تو فقر میں شہنشائی کی شان پیدا ہو جاتی ہے۔ اور کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی تصرف میں آجاتا ہے۔ خودی ہے زندہ تو ہے فقر میں شہنشاہی ہے سنجرل و طغرل سے کم شکوہِ فقیر خودی ہو زندہ تو دریائے بیکراں پایاب خودی ہو زندہ تو کہسار پر نیاں و حریر اقبال کے تصور خودی کا ماخذ ڈھونڈنے کے لئے نقادوں نے طرح طرح کی قیاس آرائیاں کیں۔ اس سلسلے میں نطشے، برگساں ، ہیگل، اور لائڈ ماتھر وغیر ہ کا نام لیا گیا۔ جبکہ خود اقبال نے اس قسم کے استفادے سے انکار کیا۔ خلیفہ عبد الحکیم کے خیال میں اقبال نطشے سے نہیں فشٹے سے متاثر تھے۔ کیونکہ نطشے تو منکر خدا ہے۔ اقبال کو نطشے کی تعلیم کا وہی پہلو پسند ہے جو اسلام کی تعلیم کا ایک امتیازی عنصر ہے۔ اگرچہ ’’اسرار خودی‘‘ کے اکثر اجزاء فلسفہ مغرب سے ماخوذ ہیں اور یہاں مسلمان فلسفیوں کے خیالات بہت کم ہیں لیکن اسلامی تصوف میں عشق کا نظریہ اقبال نے مولانا روم سے لیا ہے۔ اور اقبال کی شاعری کا انقلاب انگیز پیغام دراصل رومی کے فیض کا نتیجہ ہے۔ اس بارے میں عبدا لسلام ندوی لکھتے ہیں کہ’’ خودی کا تصور ڈاکٹر صاحب کے فلسفہ کی اساس ہے اور اسی پر ان تما م فلسفیانہ خیالات کی بنیاد ہے بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ یورپین فلسفہ بالخصوص نطشے سے ماخوذ ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ اس تخیل کو ڈاکٹر صاحب نے مولانا روم سے اخذ کیا ہے۔‘‘ بقول خلیفہ عبدالحکیم : ’’رومی انفرادی بقا ء کا قائل ہے اور کہتا ہے کہ خدا میں انسان اس طرح محو نہیں ہو جاتا جس طرح کہ قطرہ سمندر میں محو ہو جاتا ہے۔ بلکہ ایسا ہوتا ہے جیسے کہ سورج کی روشنی میں چراغ جل رہا ہے جیسے لوہا آگ میں پڑ کر آگ ہو جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کی انفرادیت باقی رہتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے فلسفہ خودی کے لئے بھی یہی نظریہ مناسب تھا اس لئے انہوں نے اس کو مولانا روم سے اخذ کیا ہے۔‘‘ اس سے یہ مطلب نہیں سمجھنا چاہیے کہ ڈاکٹر صاحب کے فلسفے کی اپنی کوئی حیثیت نہیں بلکہ اْن کے فلسفہ خودی کے تمام اساسی مضامین درحقیقت قرآن سے ماخوذ ہیں۔ اقبال کے نزدیک خودی اپنی تکمیل اور استحکام کے لئے غیر خودی سے ٹکراتی ہے جس نسبت سے کوئی شے خودی میں مستحکم اور غیر خو د پر غالب ہے اْسی نسبت سے اْس کا درجہ مدارج حیات میں نفیس ہوتا ہے۔مخلوقات میں انسان اس لئے برتر ہے کہ اس کی ذات میں خودی ہے اور اس خودی سے فطرت ِ انسانی مشاہدہ کی پابند ہے۔ اقبال کہتا ہے کہ خودی کی منزل زمان و مکاں کی تسخیر پر ختم نہیں ہوتی شاعر کا چشمِ تخیل انسان کی جدوجہد و عمل کے لئے نئے نئے میدان دکھاتا ہے۔اقبال کے فلسفہ خودی کی تفصیلات اور جزئیات کے مطالعہ سے اس قانون کا علم ہوتا ہے جس پر عمل کرکے انسان اس درجہ کو پالینے کے قابل ہو جاتا ہے جو اسے حقیقتاً خلیفتہ اللہ کے منصب کا اہل بنا دیتا ہے۔ اس قانون کی پابندی خودی کی تکمیل کے لئے لازمی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ انسان تنہائی کی زندگی نہیں گزارتا وہ لازماً کسی معاشرہ ، کسی قوم اور کسی ملت کا فرد ہوتا ہے۔ فرد اور ملت کے درمیان رابطہ کے بھی کچھ اصول اور قوانین ہوتے ہیں اسی رابطے اور قوانین و اصولوں کواقبال نے بے خودی سے تعبیر کیا ہے۔اس رابطہ کو واضح کرنے کے لئے اقبال نے تصوف کی ایک مشہور اصطلاح استعمال کی ہے۔ فارسی اور اردو کے صوفی شعرا نفس انسانی کو قطرے سے اور ذات ایزدی کو دریا سے تشبیہ دیتے آئے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ ’’ عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا‘‘ لیکن اقبال نے اس تمثیل کو فرد اور ملت کے درمیان ربط و تعلق ظاہر کرنے کے لئے استعما ل کیا ہے۔ فرد کی مثال ایک قطرہ کی ہے اور ملت دریا کی طرح ہے۔ مگر اقبال کی نظر میں یہ قطرہ ، دریا میں مل جانے کے بعد اپنی ہستی کو فنا نہیں کر ڈالتا بلکہ اس طریقہ سے اس کی ہستی مزید استحکام حاصل کر لیتی ہے۔ وہ بلند اور دائمی مقاصد سے آشنا ہو جاتا ہے۔ اس کی قوتیں منظم اور منضبط ہو جاتی ہیں اور اس کی خودی پائیدار اور لازوال بن جاتی ہے۔ فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں موج ہے دریا میں اور بیرونِ دریا کچھ نہیں دراصل ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بے خودی سے اقبال کی مراد اجتماعی خودی ہے۔ مصورِ پاکستان نے خودی کو جس مفہوم اورمعنی میں لیا ہے اس کو مشعلِ راہ بناکر ہی ہم نہ صرف خوشحال اور ترقی یافتہ قوموں کی صف میں شامل ہو سکتے بلکہ اقوامِ کی رہبری و رہنمائی بھی کرنے بلند درجہ پر بھی فائز ہو سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج ہم خودی جس کو دوسرے لفظوں میں خودداری کہا جا سکتا ہے تہی دست ہیں۔ خودی و خودداری کے جذبے سے عاری ہو کر ہماری حالت بھکاریوں کی سی ہو گئی۔ ڈرون حملے ہمارا وقار خاک میں ملا رہے ہیں۔ ہم اپنی پالیسیاں تک بنانے میں خودمختار نہیں۔ اپنی نااہلی کے باعث گیس و تیل کے وسائل سے استفادہ نہیں کر رہے۔ اگر ایران اس ضرورت کو پورا کرنے پر تیار ہوا تو امریکہ کے خوف سے ہم ایران سے منہ موڑ رہے ہیں۔ امریکہ کی حمایت کرنے پر ہم دہشتگردی کا نشانہ بنے۔ آج دہشتگردوں اور امریکہ کے درمیان ہم پس کر رہ گئے ہیں۔اُدھر ہندوستان پاکستان کو نہ صرف دھمکیاں دیتا ہے بلکہ اس نے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ اور گولہ باری کو معمول بنا لیا ہے۔ ہم دفاع کرنے سے بھی قاصر ہیں۔ کشمیر لیتے لیتے مشرقی پاکستان گنوا لیا۔ سیاچن کا بڑا حصہ دشمن کے قبضے میں چلا گیا۔ خودداری کا یونہی سودا ہوتا رہا تو خدانخواستہ دشمن تو پاکستان کو مزید بکھیرنے پر تلا ہوا ہے۔ لعنت ہے چند لوگوں کی عیاشی پر جو اپنے ضمیر بیچ چکے ہیں۔ خودی اور خودداری کا تقاضا ہے کہ غیروں کی کاسہ لیسی اور حاشیہ برداری کے بجائے اپنے پائوں پر گھڑا ہونے کی کوشش کریں۔ قوم اس کے لیے تیار ہے اشرافیہ کو اپنا ضمیر چکانا ہوگا۔ ایسا ہو جائے تو تھوڑی سی مشکلات کے بعد پاکستانی دنیا کی طاقتور قوم بن کر ابھر سکتی ہے۔ اقبال کے فلسفہ خودی کو اپنا کر ہم اپنا کھویا ہوا مقام اور چھینا ہوا وقار پھر سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اسی دن کی مماثلت سے پہلے سال کی طرح آج بھی کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں اقبال اکیڈمی کینیڈا کی طرف سے خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا ہے ۔مقامی ٹائون سنٹر کے بینکویٹ ہال میں سید سجاد حیدر شاہ اور ملک آفتاب اعوان کی زیرنگرانی ایک پروقار تقریب 9نومبر دن 12بجے منعقد ہو گی اور مفکرین اور دانشوروں کی طرف سے حضرت اقبالؒ کی خدمت میں خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus