×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا جماعت اسلامی سیاسی خودکشی کر چکی؟
Dated: 12-Nov-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یوں کہنا چاہیے کہ ابھی میرے کالم کی سیاہی بھی خشک نہ ہونے پائی تھی کہ وہ سب کچھ ہو گیا جس کا اظہار چند روز قبل نوائے وقت میں شائع ہونے والے اپنے ایک کالم میں کیا تھا۔ میری عموما ً یہ خواہش ہوتی ہے کہ میں کرنٹ افیئرز کو سیاسی اور داخلی، خارجی امور کو موضوع بنائوں لیکن گزشتہ 6سال کی ملکی سیاست کے اندر میں نے یہ کہیں نہیں دیکھا، پڑھا یا سنا کہ جماعت اسلامی نے کوئی کلیدی کردار ادا کیا ہو یا حالتِ حاضرہ کے مسائل کو اپنا موضوع سیاست بنایا ہو اس میں کوئی شک نہیں۔ 1941ء میں اپنے قیام سے لے کر قیامِ پاکستان تک جماعتِ اسلامی مولانا سید ابوالاعلی مودودی کی معیت میں وجودِ پاکستان کی حامی جماعتوں کی حریف رہی۔پھر قیامِ پاکستان کے بعد بمشکل قومی ادارے میں شامل ہو کر قومی سیاست جماعت اسلامی کی ترجیہات میںشامل ہو گئی۔ یہ وہ دور تھا جب مولانا اسرار احمد(مرحوم) اور مولانا اصلاحی(مرحوم) نے جماعت کی بدلتی ہوئی ترجیحات اور پالیسیوں کی وجہ جماعت سے اپنے رستے جدا کر لیے۔ یہی وجہ تھی کہ ڈاکٹر اسرار احمد نے ’’تنظیم اسلامی‘‘ کے نام سے اپنی علیحدہ جماعت کی بنیاد رکھی اور پارلیمنٹری سیاست سے ہٹ کر اصلاحِ عوام کا بیڑا اٹھایا۔ سانحہ مشرقی پاکستان جماعت اسلامی جو پاک فوج کے شانہ بہ شانہ دشمن بھارت، علیحدگی پسند بنگالیوں اور بھارت کی تشکیل دی ہوئی ’’مکتی باہنی ‘‘سے برسر پیکار رہی۔البدر اور الشمس جو کہ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیمیں تھیں دشمنانِ پاکستان کی بربریت کا شکار ہوئیں اور جماعت اسلامی کے ہزاروں کارکنان نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔ 90ہزار پاکستانی افواج ہتھیار ڈال کر قید ہوئی تو جماعت اسلامی کے بھی ہزاروں کارکنان کی شہادت سقوطِ ڈھاکہ کی نذر ہو گئی جبکہ بنگلہ دیش کے قیام سے لے کر اب تک جماعت اسلامی اس سانحہ کے نتائج بھگت رہی ہے۔ تقسیم پاکستان کے بعد جماعت اسلامی کی بوکھلائی ہوئی اور تتر بتر قیادت کو سمجھ نہیںآ رہی تھی کہ وہ اپنی سیاست کہاں سے شروع کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جلد ہی اس پر پروامریکہ کے ہونے کے الزامات شدت اختیار کر گئے اور جماعت اسلامی کے مقامی و قومی رہنمائوں کو سبز امریکی ڈالروں کے طعنے سرعام سنائی دینے لگے اس دوران ملک میں ذوالفقار علی بھٹو کی ایٹمی و نیوکلیئر پالیسی کے باعث عالمی استعماری اور سامراجی قوتوں کو پاکستان میںایک مضبوط اینٹی بھٹو اپوزیشن چاہیے تھی۔ یہی وجہ ہے کہ 1977ء کے الیکشن میں 9جماعتوں کے اشتراک سے قومی اتحاد کے نام سے ایک الائنس تشکیل پایا۔ بلاشبہ اس کی اصل قیادت جماعت اسلامی کے ہاتھ میں تھی پھر الیکشن میں شدید شکست کے بعد دھاندلیوں کے الزام لگا کر احتجاجی تحریک نظامِ مصطفیٰ میں بدل دیا گیا اور پھر اسی وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاء الحق(مرحوم) کے ساتھ مل کر ایک سازش کے ذریعے پاکستان میں مارشل لاء لگا دیا گیا اس مارشل لاء کے ابتدائی سالوں میں جماعت اسلامی مارشل لاء حکومت کی کابینہ میں وزارتیں حاصل کرنے میں بھی کامیاب رہی۔یہاں بھی جماعتِ اسلامی فوج کے ساتھ کھڑی تھی اور اس دوران جماعت کی شناخت پرواسٹیبلشمنٹ پارٹی کی حیثیت سے ہوئی۔ 1990ء میں جب محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کی گئی تو اسٹیبلشمنٹ نے پیپلزپارٹی مخالف قوتوں پر مشتمل ایک اتحاد تشکیل دیا جس کا نام اسلامی جمہوری اتحاد رکھا گیا جس میں مسلم لیگ اور جماعت اسلامی دو بڑی سیاسی جماعتیں ابھر کر سامنے آئیں اس الیکشن میں جماعت اسلامی قومی و صوبائی اسمبلی کی متعدد نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی اور پھر جب 1996ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو دوسری بار برطرف کیا گیا تو اسٹیبلشمنٹ نے جماعت اسلامی اور مسلم لیگ کو اکٹھے الیکشن لڑنے کے لیے تیار کر لیا۔ جماعت اسلامی جو مسلم لیگ ن کی اتحادی تھی۔ 12اکتوبر 1999ء کو جب جنرل مشرف نے نوازشریف کو برطرف کیا تو اس نئی مارشلائی حکومت کو جماعت اسلامی کی یقینا تائید حاصل تھی اور 2002ء کے جنرل الیکشن میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے جماعتِ اسلامی نے حصہ لیا یہ بھی پرواسٹیبلشمنٹ اتحاد تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب مشرف کو پارلیمنٹ میں اپنا وزیراعظم منتخب کرانے کے لیے ووٹوں کی ضرورت پڑی تو جماعت اسلامی سمیت متحدہ مجلس عمل نے جنرل مشرف کے امیدوار کو ووٹ دیا۔ یہی نہیں جب جنرل مشرف نے صدارتی الیکشن لڑا تو جماعت اسلامی اور ساتھیوں کا ووٹ ایک دفعہ پھر جنرل مشرف کو ملا جب کہ اس سے پہلے جہادِ افغانستان اورجہاد کشمیر کے لیے جماعت اسلامی پاک فوج کا ہراول دستہ ثابت ہوئی۔ ہزاروں کی تعداد میں اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنان نے جہادِ افغانستان میں شرکت کی اور سینکڑوں شہادتیں اس کے حصے میں آئیں جب کہ کشمیر کاز کے لیے جماعت اسلامی1947ء سے اب تک پاک مسلح افواج کے شانہ بہ شانہ ساتھ کھڑی ہے۔ اب آتے ہیں اس ایشو کی طرف کہ وہ کیا وجہ ہے کہ جماعت اسلامی جیسی پرواسٹیبلشمنٹ قومی جماعت یکدم یوٹرن لے کر آج پاکستان مخالف قوتوں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ استحکام پاکستان ریلیاں نکالنے والی اور یومِ تکبیر و یومِ کشمیر جوش و خروش سے منانے والی جماعت اسلامی آج دشمنانِ پاکستان کے ہاتھ نہ صرف مضبوط کر رہی ہے بلکہ 50ہزار پاکستانی معصوم شہریوں اور 12ہزار عسکری جوانوں کے قاتلوں کو نہ صرف شہید قرار دے رہی ہے بلکہ ایک قدم اور آگے بڑھ کر پاکستانی فوج کے ہزاروں شہیدوں کی شہادت کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ دراصل قاضی حسین (مرحوم) کے بعد جماعت اسلامی کو جو قیادت ملی ہے وہ ملّی بصیرت سے نہ صرف عاری ہے بلکہ موجودہ دور کے تقاضوں کو سمجھنے سے بھی قاصر ہے۔ آپ ذرا غور کیجئے کہ گذشتہ 5سال میں جماعت اسلامی نے کون کون سے قومی ایشوز پر عوام کے ساتھ آواز ملائی؟ ہندوستان، لبنان، شام، مصر، عراق، افغانستان، ایران، برما کے مسلمانوں کے مسائل ایک حقیقت مگر وطن عزیز میں موجود سیاسی خلا اور مسائل سے پہلوتہی برتنا ہی وجہ ہے اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے جماعت اسلامی کی قیادت کو یہ ادراک نہیں کہ جب ملک کی دوسری تمام سیاسی پارٹیاں ملک کی کل آبادی کا 60فیصد یوتھ کو ہم خیال بنانے کے لیے نوجوان قیادت آگے لا رہی ہیں تو اس دوران جماعت اسلامی بیساکھیوں کے سہارے چلنے والے بزرگوں کے کاندھے پر قیادت کا بوجھ ڈال رہے ہیں۔ کچھ بھی ہو جماعت اسلامی پاکستان کے ننانوے اعشاریہ پانچ فیصد عوام کوناراض کرکے اور ان کی نفرت مول لے کر صرف 2/1فیصد عسکریت پسندوں کے ساتھ کھڑی ہو گئی ہے اور بحیثیت ایک سیاسی تجزیہ نگار میری یہ رائے ہے کہ اس طرح جماعت اسلامی نے سیاسی خودکشی کی جانب چھلانگ لگا دی ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus