×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
روندے وڈھی جمہوریت نوں!
Dated: 26-Nov-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com گذشتہ روز ایک تقریب میں پاکستان کے موجودہ حالات پر گفتگو ہو رہی تھی اور اس دفعہ موضوعِ سخن مجھے کچھ عجیب سا لگا کہ عام پاکستانی کی سوچ بھی اب اس طرف منتقل ہو گئی ہے کہ جمہوریت ہمارے جغرافیائی، علاقائی اور مذہبی رحجان سے مطابقت رکھتی ہے کہ نہیں؟ میں قریباً30سال سنٹرل یورپ میں نہ صرف مقیم رہا بلکہ ان کے پولیٹکل سسٹم کے اندر داخل ہو کر اس کو قریب سے جانچنے کا موقع ملا۔ دوسری طرف 12اکتوبر1999ء کو جب پرویز مشرف نے نوازشریف کی حکومت کو برطرف کیا تو ماضی کے دونوں حریف جو کہ دو دو دفعہ آمریت سے زخم خوردہ تھے اس یک نکاتی نقطہ پر اکٹھے ہو گئے کہ ہمیں جمہوریت کی خاطر پرانی دشمنوں کو بھلا کر اکٹھے جدوجہد کرنی ہو گی۔ یہی وجہ تھی کہ نواب زادہ نصراللہ خاں کی سربراہی میں جمہوریت پسند سیاسی جماعتوں کا اتحاد ARD کے نام سے قائم ہوا اور مجھے اس کا اوورسیز انچارج بنایا گیا۔ اس فورم نے مشرف رجیم کو کافی ٹف ٹائم دیا مگر نواب زادہ نصراللہ خاں کی اچانک رحلت کے باعث پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت میں سٹیم میں آ گئی یہیں معاملات اور اس تحریک کے محرکات ایک نئی ڈگر پر چل نکلے۔ کازاور مشن کی جگہ سیاست دانوں کے ذاتی مفادات کو ترجیح دی جانے لگی مقصد تو اے آر ڈی کا جمہوریت کی بحالی تھا مگر نواب زادہ کی وفات کے بعد پاکستان پیپلزپارٹی کی طرف سے یہ شق اس میں شامل کی گئی کہ نہ صرف جمہوریت بحال کی جائے بلکہ سیاست دانوں کے خلاف ماضی میں قائم کیے گئے جھوٹے سچے سبھی مقدمات یک مشت ختم کیے جائیں جس سے اس دوران جلاوطن رہنمائوں کو وطن واپسی میں آسانی رہے۔ جبکہ مسلم لیگ ن کی قیادت یہ چاہتی تھی کہ تیسری دفعہ وزیراعظم بننے پر جو پابندی ہے اسے بھی ختم کیا جائے اور ن لیگ کی قیادت کو واپس آنے کی اجازت دی جائے۔ میں اس تمام عرصہ میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے خصوصی ایلچی برائے انٹرنیشنل افیئرز ان کے ساتھ رہا بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ میں میثاق جمہوریت کے بانیان میں سے ہوں اس لیے آج یہ تجزیاتی کالم لکھنے میں مجھے کافی آسانی ہے کہ میں بہت سے واقعات کا شاہد بھی ہوں۔ پھر امریکہ اور ایک خلیجی ملک کی ذاتی کوششوں سے این آر او کا معاہدہ مشرف سے طے پایا جس کے تحت پاکستان کو لوٹنے والے 12ہزار مجرموں کو بہ یک قلم جنبش معاف کر دیا گیا بلکہ لوٹے ہوئے سرمائے سے 2008ء کا الیکشن جیت کر وہ نہ صرف اسمبلیوں میں دوبارہ پہنچ گئے بلکہ اقتدار کے سنگھاسن پر قابض ہونے میں کامیاب ہو گئے اور اسی دوران ایک دوسرا این آر او جو پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کے درمیان ہوا تھا وہ یہ تھا کہ باری کی حکومت ملنے کے بعد پیپلزپارٹی اسمبلی سے تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کی پابنی شق کو پارلیمنٹ سے منسوخ کرائے گی حدیبہ شوگر مل اور شریف برادران کی نااہلی سے متعلق مقدمات کی پیپلزپارٹی پیروی نہیں کرے گی یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے سندھ، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت مرکز میں اقتدار حاصل کر لیا۔خیبرپختونخواہ میں اپنے کولیشن پارٹنر اے این پی کو جبکہ پنجاب میں کولیشن پارٹنر مسلم لیگ ن کو اقتدار دے دیا اور پھر گذشتہ 5سالوں میں جمہوریت کی دھجیاں اس طریقے سے اڑائیں کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے تمام جمہوریت پسند عوام ششدر رہ گئے۔ جمہوریت کا یہ بھیانک چہرہ دیکھ کر میرے جیسا کارکن جس نے پچھلے 30سال میں 2دفعہ خود اور ایک دفعہ بیوی اور بچوں کے ساتھ جلاوطنی کی اذیت سہی ہے نہ صرف پریشان ہوا بلکہ یہ سوچنے پر مجبور ہواکہ کتنے بڑے فنکار ہیں وہ لوگ جنہوں نے پچھلے 3عشروں سے نہ صرف مجھے جمہوریت کے نام پر بے وقوف بنائے رکھا بلکہ اپنی کرپشن اور لوٹ مار کو چھپانے کے لیے میری صلاحیتوں کا مکارانہ استعمال کیا۔ یورپ کے بیشتر ممالک میں 2سیاسی پارٹیاں یا کہیں کہیں 4سیاسی پارٹیاں بھی موجود ہیں۔80فیصد لوگوں کو بیلٹ پیپر گھر پر موصول ہو جاتا ہے جنہیں وہ اپنے مروجہ ملکی قانون کے مطابق پُر کرکے واپسی لفافے میں ڈال کر الیکشن کمیشن کو بھجوا دیتے ہیں۔ 20فیصد ووٹر پولنگ اسٹیشن جا کر اپنا ووٹ کاسٹ کرتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں ووٹرز کو بے شمار مراحل طے کرنا پڑے ہیں۔ ذات برادری کے ہتھکنڈوں ، علاقے کے جاگیردار چوہدری اور سرمایہ دار کی خباثت سے بچ کر جب ووٹر پولنگ اسٹیشن پہنچتا ہے تو وہ جعلی بیلٹ پیپر، نقلی مقناطیسی سیاہی یا پھر ووٹ کے غلط اندراج کا شکار ہو جاتا ہے۔ جمہوریت کی جو درگت گذشتہ 67سال میں بھی پاکستان میں بنتے دیکھی ہے اس سے یہ تاثر تقویت پکڑتا ہے کہ تیسری دنیا کی اقوام اور عوام خصوصاً سائوتھ ایشیا کے مزاج سے جمہوریت مطابقت نہیں رکھتی۔ آپ دیسی کُھسے کے اوپر لنگوٹی باندھ کر اور پھر شرٹ اور ٹائی نہیں لگا سکتے۔ جس ملک کے گذشتہ 3 جنرل الیکشنز میں آدھی سے زیادہ اسمبلی جعلی ڈگری ہونے پر نااہل قرار پائے جس ملک کا لٹریسی ریٹ27فیصد سرکاری طور پر مانا گیا ہو۔ اس ملک کے عوام کو جمہوریت کے سرساز اور نغمے سنانا ایسے ہی ہے جیسے بھینس کے آگے بین بجانا۔ میثاقِ جمہوریت اور این آر او سے فیض یاب ہونے والے سبھی کردار ماسوائے بے نظیر بھٹو کے زندہ ہیں۔ مشرف کو ریڈ کارپٹ گارڈ آف آنر پیش کرکے ملک سے رخصت کیا گیا۔ پیپلزپارٹی نے بلاشرکت غیرے اقتدار انجوائے کیا اور کھربوں روپے کے ملکی اثاثوں کی بندربانٹ لوٹ مار اور کرپشن کرکے چلتے بنے۔ این آر او کے تیسرے کردار مسلم لیگ ن اپنے حصے اور باری کا قتدار حاصل کرکے اور تجارت کے نام پر اربوں روپے کی کرپشن کا داغ اپنے ماتھے پر سجائے بیٹھے ہیں۔ این آر او کے چوتھے کردار جنرل کیانی جو این آر او پر دستخط ہونے کے وقت ISIکے سربراہ تھے۔ گذشتہ 6سال سے نہ صرف ملٹری چیف کے سٹیٹس کو انجوائے کیا بلکہ ان کے برادران پر سرکاری ٹھیکوں میں اربوں روپے بنانا کے الزام ہے اور جمہوریت سے ثمر آور ہونے والے پانچویں کردار عدلیہ کے سربراہ افتخارچوہدری ہیں جن کے بیٹے پر کرپشن اور بددیانتی کے کھربوں روپے کے الزام ہیں جنہوں نے گذشتہ 5سالوں کے دوران جمہوریت کے پودے کو پنپنے ہی نہیں دیااور پاکستان کے 20کروڑ عوام کو کیا ملا بھوک ،افلاس، غربت ،بیماریاں،دھوکے فراڈ تو پاکستانی عوام جمہوریت سے خوفزدہ ہو گئی ہے یہی وجہ ہے کہ اب ایک عام آدمی کو جمہوریت سے کوئی غرض نہیں ہے وہ دو وقت کی روٹی چاہتا ہے ملک میں آمریت ہو ملوکیت یا پھر جمہوریت؟جمہوریت کے ساتھ یہ طوائف الملوکی جیسا حشر دیکھنے اور سننے کے بعد تقریب میں بیٹھی ایک عمر رسیدہ خاتون سلمیٰ بی بی نے کیا خوب جملہ کسا’’روندے وڈھی جمہوریت نوں‘‘۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus