×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عمران خان کی ریلی اور اس کے اثرات
Dated: 24-Dec-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com عمران خان سولہ سترہ سال سے سیاست میں ہیں۔ رواں سال 11مئی کے انتخابات سے قبل انہوں نے دوانتخابات میں بھرپور اور مکمل تیاری کے ساتھ حصہ لیا۔اور دو انتخابات میں صرف ایک سیٹ جیت سکے۔ وہ بھی کہا جاتا ہے کہ 2002ء کے انتخابات میں جنرل مشرف نے عمران خان پر ایک سیٹ کی نوازش کی تھی۔ ایسی نوازش جنرل مشرف نے ڈاکٹر طاہر القادری پر بھی کی تھی۔ 2008ء کے انتخابات میں تحریک انصاف نے حصہ لینے سے انکار کر دیا جسے بائیکاٹ کا نام دیا گیا۔ ان انتخابات میں حصہ نہ لینا عمران خان کا مستقبل شناسی کے حوالے سے اچھا فیصلہ تھا۔ اگر انتخابات کا بائیکاٹ نہ کیا جاتا تو زیادہ سے زیادہ ان کے حصے میں ایک سیٹ آ سکتی تھی شاید اس سے تہی دست رہتے۔میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کو پاکستان کی سیاست کی سمجھ ساٹھ سال کی عمر کی دہلیز پر پہنچنے پر آئی۔ انہوں نے 2008ء کے بعد حکومت کی کارکردگی پر کڑی نظر رکھی وہ تیل اور تیل کی دھار دیکھتے رہے۔ مرکز میں پیپلزپارٹی کی حکومت کرپشن کی آماجگاہ بنی تو عمران خان نے میدان میں نکلنے کا فیصلہ کیا۔ یہ موقع تھا جب پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی۔ مسلم لیگ ن کے قائد اس حکومت کی حمایت میں کہا کرتے تھے کہ ہم اس کو گرنے نہیں دیں گے۔ جنرل کیانی اور جسٹس افتخار بھی زرداری جمہوریت کی حمایت میںبیان اور ریمارکس دیا کرتے تھے۔ اس پر یوسف رضا گیلانی کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران کرپشن نے عروج حاصل کیا اور بجلی کے بحران نے لوگوں کا جینا حرام کر دیا۔ ایسے میں عمران خان میدان میں آئے۔ انہوں نے پیپلزپارٹی اور ن لیگ دونوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ور اکتوبر2011ء کو دس لاکھ افراد کو لاہور میں اکٹھا کرکے دنیا کوحیران کر دیا۔ یہ عوام میں عمران خان کی مقبولیت نہیں بلکہ حکمرانوں سے نفرت کا اظہار تھا۔ اس موقع پر کوئی بھی سیاستدان حکمرانوں کی نفرت کو اپنی حمایت اور مقبولیت میں تبدیل کر سکتا تھا۔ بہرحال یہ اعزاز اور کریڈٹ عمران خان کے حصے میں آنا تھا جو آیا اور انتخابات میں وہ سویپ کرنے کی پوزیشن میں تھے کہ عوامی مینڈیٹ چوری کر لیا گیا۔ اس پر عمران تلملائے ضرور تاہم اس موقف کے ساتھ انتخابی نتائج کو تسلیم کر لیا کہ جمہوریت ڈیل ریل نہ ہو اور یہ بھی وہ کہتے ہیں کہ انتخابات کو تسلیم کیا ہے دھاندلی کو نہیں۔ اگرمبینہ دھاندلی نہ ہوتی تو بھی عمران خان کے سویپ کرنے کا کوئی چانس نہیں تھا البتہ ان کی سیٹوں میں 20پچیس کا اضافہ ہوسکتا تھا۔ جن لوگوں نے مسلم لیگ ن کی قیادت کو نجات دہندہ سمجھ کر ووٹ دیا اور اقتدار میں لے آئے وہ آسمان کو چھوتی مہنگائی سے نالاں ہیں۔ عوام کے دلوںمیں اپنے خلاف نفرت جتنی پیپلزپارٹی نے پانچ سال میں پیدا کی وہ ن لیگ نے محض 6ماہ میں اپنے دامن میں بھر لی ہے۔عوام کی آمدنی میں ایک روپے کا اضافہ نہیں ہوا جبکہ بجلی و پٹرول کی قیمتوں میں اندھا دھنداضافے سے ہر چیز کی قیمت کو آگ لگی اور عام آدمی کے لیے جسم اور سانس کا رابطہ بحال رکھنا مشکل ہو گیا۔ ایسے لوگوں کو سڑکوں پر آنے کے لیے رہنمائی کی ضرورت تھی جو عمران خان نے ایک بار پھر پوری کر دی۔ ان کی مہنگائی کے خلاف ریلی موسم میں سختی کے باوجود کامیاب رہی۔ عوام عمران خان سے محبت سے زیادہ حکمرانوں کی نفرت میں اس کے شانہ بشانہ ہو گئے۔ اگر آج الیکشن ہو جائیں تو مسلم لیگ ن اپنی پیشرو حکمران پارٹی پیپلزپارٹی کی طرح ہی پٹ جائے گی۔ عمران خان کی کامیاب ریلی پر حکمران بوکھلا گئے ہیں۔ وزیر اطلاعات پرویز رشید بہکی بہکی باتیں کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مہنگائی تو خیبرپختونخواہ میں بھی ہے عمران وہاں ریلی نکالیں۔ پرویز رشید خود احمق ہیں یا عوام کو بے وقوف بنانا چاہتے ہیں۔ چاروں صوبوں میں مہنگائی کا طوفان مرکز کی پالیسیوں کے باعث آیا جس نے IMF کی عوام کش سفارشات مان لیں۔ بجلی اور تیل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کیا اور 6ماہ میں 850ارب کے نوٹ چھاپ لیے۔ عمران خان کی ریلی کو کامیاب کرانے میں شیخ رشید کی گرما گرم تقریر نے بھی ایک مثبت کردار ادا کیا۔عمران خان کو چاہیے کہ وہ ایک کامیاب تحریک چلانے کے لیے شیخ رشید جیسے شعلہ بیاں مقرر کو زیادہ سے زیادہ استعمال کرکے سوئی ہوئی قوم کو جگانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔عمران خان کی ریلی اور ڈرون حملوں کے خلاف دھرنے سے ایک بات تو واضح ہو گئی ہے کہ عمران خان اور اس کی پوری ٹیم کسی بہت بڑے کنفیوژن کا شکار ہیں۔تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو ہمیں یہ پڑھنے کو ملتا ہے کہ جن رہنمائوںنے ایک ہی وقت میں ایک زائد مختلف ایشوزپر سیاست کی اور انہیں اپنی تحریکوں کا محور بنایا تو کسی ایک ایشو کو صحیح طریقے سے فوکس نہیں کر سکے۔دراصل عمران خان شروع ہی سے کنفیوژ سیاست اور فیصلوں کا شکار چلے آ رہے ہیں۔عمران خان ووٹ توڈیفنس ،کینٹ ،گلبرک اور لبرٹی کے علاقوں سے لیتے ہیںلیکن سیاست ان کی طالبان کے ایشوز پر ختم ہوتی ہے جبکہ پچھلے کچھ عرصہ سے اپنی انقلابی سیاست اور تبدیلی کی تحریک کو جماعت اسلامی کا تڑکا بھی لگا لیتے ہیں۔بہرحال میرا یہ تجزیہ ہے کہ جس دن عمران خان نے اپنا مائل سٹون اور ہدف مقرر کر لیا اس دن سنجیدہ عمران خان اپنی منزل کے بہت قریب پہنچ جائیں گے۔ گذشتہ سے پیوستہ حالات نے ثابت کر دیا کہ نواز شریف اتنے دن ہی اقتدار میں ہیں جتنے دن عمران خان غیرسنجیدہ رویہ اپنائے رکھیں گے ۔ عمران خان کی کنفیوژن کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کے عوام بلکہ کروڑوں یوتھ ووٹرزبھی اس کشمکش میں ہیں اور اگر عمران خان اور اس کی ٹیم کے رویے میں خاطر خواہ اور سنجیدگی رونما نہ ہوئی تو ہو سکتا ہے کہ یہ بھریا میلہ کوئی اورکیش کرانے میں کامیاب ہو جائے۔پاکستانی سیاست میں 2014ء کے پہلے تین ماہ بہت اہم ہیں ۔ دیکھنا یہ ہے کہ کون سا سیاسی، انقلابی ،مذہبی گروپ پاکستانی یوتھ کی نبض کو پہچانتے ہوئے صحیح اور بروقت فیصلہ کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus