×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
شہید محترمہ کے قاتل اب بچ نہ پائیں گے!
Dated: 27-Dec-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com دنیا میں آج تک جو مشہور قتل ہوئے اوران کا مکمل سراغ تک نہ لگایا جا سکا۔ ان میں1865میں ابراہام لنکن ،1948ء میں مہاتما گاندھی ، 1949میں سابق وزیراعظم لیاقت علی خاں ، 1963ء میں جان ایف کینیڈی،1968ء میں مارٹین لوتھرکنگ،1980 ء جان لینن جب کہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید کو 27دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ کے سامنے قتل کر دیا گیا۔ محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت کو آج 6 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ جس میں 5سال ان کی اپنی پارٹی پاکستان پیپلزپارٹی جس کی وہ چیئرپرسن بھی تھی۔ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان رہی۔ 2013ء کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کی شکست کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ گذشتہ 5سال میں محترمہ کے قتل کا سراغ نہ لگا سکی یا جان بوجھ کر انویسٹی گیشن کو معطل کیے رکھا۔ بھٹو کے داماد اور محترمہ بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد ہر سال 27دسمبر کو عام تعطیل کا اعلان کرنے کے سوا کوئی عملاً کچھ نہ کر سکے۔27دسمبر2007ء کے بعد پیپلزپارٹی کی طرف سے سرکاری اداروں پر عدم اطمینان کا اظہار کیا گیا اور محترمہ کی شہادت کے اسباب جاننے کے لیے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی تفتیش کروانے کا اعادہ کیا گیا جبکہ غیرملکی ادارہ پاکستان کے معروضی حالات سے لاعلم تھا۔وہ بس شلجم سے مٹی جھاڑ کر چلتے بنے۔ 20فروری کو اسلام آباد 2008کو پیپلزپارٹی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے افتتاحی تقریر کرتے ہوئے میں نے کہہ دیا تھا کہ اگر ہم نے محترمہ کے قتل کے اسباب جاننے کی بجائے اقتدار کو ترجیح نہ دی تو پاکستان کے غیور جیالے اگلے الیکشن میں ہمیں عبرت کی مثال بنا دیں گے۔ افسوس وہی ہوا جس خدشہ کا میں نے اظہار کیا تھا۔ پیپلزپارٹی آج بھی پاکستان کے تین صوبوں سندھ ، کشمیر و گلگت بلتستان میں صاحب اقتدار ہے مگر امسال بھی ماہ رواں میں شہید محترمہ کے جوان بیٹے نے محترمہ کی شہادت کے متعلق کچھ بھی کہنے کی بجائے سندھی ثقافت کے نام پر بھنگڑے ڈالتے ہوئے نظر آئے اور محترمہ کی شہادت کے مہینے میں سندھ میں بسنت تہوار منانے کی نوید عوام کو سناتے رہے۔ محترمہ کے قتل کی وجوہات جو کچھ بھی ہیں وہ بہت جلد عوام کے سامنے آ جائیں گی کیونکہ اب محترمہ بے نظیر بھٹو کے حقیقی جانشینوں نے فیصلہ کیا ہے کہ محترمہ نے اپنی زندگی میں جس ڈیٹکٹیو ایجنسی سے آصف علی زرداری پر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کروائی تھیں سوئٹزرلینڈ کی اسی ایجنسی کو پارٹی جیالوں نے رابطہ کر لیا ہے اب سوئٹزرلینڈ کی آئی آئی ایس انٹرانوسٹی گیشن سروس نامی ایجنسی محترمہ کے قتل کا سراغ لگائے گی۔ اب قاتل چاہے اپنے ہوں یا بیگانے زیادہ عرصہ تک قانون کی نظروں سے چھپے نہ رہ سکیں گے۔ مجھے پتہ ہے یہ تحریر منظر عام پر آ جانے کے بعد محترمہ کے قاتلوں کے حلقہ میں کھلبلی مچ جائے گی دنیا بھر میں کتنے قتل اندھے قتل بن گئے ان کی فائلیں بھی بند ہو گئی ہیں مگر 27دسمبر2014ء سے پہلے اس قتل کا سراغ لگانے کے لیے جیالے سرگرم عمل ہو گئے ہیں ہم اب محترمہ کی شہادت سے فیض یاب ہونے والوں کو معاف نہیں کریں گے اب قاتلوں کے گریبان ہوں گے اور جیالوں کے ہاتھ۔ بینظیر بھٹو پر ہونے والے قاتلانہ حملے کی تفتیش کے حوالے سے ابھی بہت سے ایسے سوالات ہیں جن کے جواب متعلقہ تفتیشی ٹیموں کو حاصل کرنے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے بہت سے ایسے پہلو بھی اب عوام الناس کے سامنے آرہے ہیں جن کو چھپا کر بعض قوتیں اصل حقائق لوگوں سے عشروں مخفی رکھتی تھیں۔ موبائل فونوں کی ریکارڈنگ اور کئی چینلز کے مووی کیمروں کی وجہ سے عراق‘ افغانستان‘ لبنان اور اب پاکستان میں ہونے والے بعض بم دھماکوں کی براہ راست کوریج نے سکیورٹی کے فرائض سرانجام دینے والے اداروں کی غفلت کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ بینظیر بھٹو پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے موقع پر موبائل فونوں کے ذریعے ہونیوالی ریکارڈنگ نے بھی کئی اہم پہلو عیاں کئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق بینظیر بھٹو کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والوںنے سب سے زیادہ اہمیت ٹائم فریم کو دی۔ اس واقعہ کی منصوبہ بندی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بینظیر بھٹو کو جاں بحق کرنے کیلئے تین مراحل رکھے گئے تھے۔ پہلے ٹائم فریم پر بات ہوجائے۔ بینظیر کو سکیورٹی فراہم کرنے والے ادارے اور اہلکار اس روز صبح سے ہی سکیورٹی کے انتظامات میں مصروف تھے۔ بینظیر نے کس راستے سے جلسہ گاہ میں داخل ہونا ہے۔ انہیں رش سے بچا کر کس طرح سٹیج پر پہنچانا ہے۔ اس طرح کے بنیادی نکات پر سکیورٹی اہلکار توجہ مرکوز کئے ہوئے تھے جبکہ ملزموں نے جلسے کے بعد کا وقت دھماکے کیلئے منتخب کر رکھا تھا۔ جب بینظیر جلسہ گاہ کے مین دروازے سے باہر نکل گئیں تو اپنی منزل کی طرف جانے کیلئے انہیں لیاقت روڈ سے گزرنا تھا۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں ملزموں نے اپنا ٹارگٹ پہلے سے بنا رکھا تھا۔ وہاں سکیورٹی کے انتظامات بھی جلسہ گاہ کی طرح سخت نہیں تھے۔ ملزم اس جگہ کی پہلے سے ریکی کر چکے ہونگے۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ خودکش حملہ آور اور ماہر نشانہ باز اس روڈ پر پہلے سے موجود تھے لیکن انہیں یہ کیسے یقین تھا کہ بے نظیر بھٹو اس روڈ پر آنے کے بعد بلٹ پروف گاڑی سے سر باہر نکالیں گی۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی کرنے والوں کے کسی ساتھی یا ساتھیوں نے مجمع کو پُرجوش کرنے کیلئے بے نظیر بھٹو کے حق میں نعرے لگائے ہوں گے۔ (جئے بھٹو ایک ایسا نعرہ ہے جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے ورکروں میں فوری طور پر کرنٹ کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے) ایک اہم بات یہ ہے کہ بے نظیر جلسہ ختم کرنے کے بعد ہر بار بلٹ پروف گاڑی سے باہر نہیں آتی تھیں۔ بے نظیر بھٹو جب جلسہ گاہ کے گیٹ سے باہر نکلی تھیں تو خلاف معمول ان کی پارٹی کے دوسرے اہم افراد کی گاڑیوں کا قافلہ تھوڑا پیچھے رہ گیا تھا۔ پولیس کی ابھی بہت کم نفری ان کی گاڑی کے ساتھ موجود تھی۔ اب آتے ہیں بے نظیر پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزموں کی طرف‘ یہ بات مختلف ویڈیو ریکارڈنگز سے ثابت ہوچکی ہے کہ بینظیر بھٹو پر فائرنگ کرنے والا چوبیس پچیس سال کا نوجوان تھا۔ ماہرین کے مطابق اس نوجوان کی باڈی لینگوئج بہت سی باتوں کا پتہ دیتی ہے۔ اب ایسے کئی چشم دید افراد کے بیانات سامنے آچکے ہیں جو ماضی میں خودکش حملہ آوروں کو آخری وقت میں کسی ٹارگٹ کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ چکے ہیں۔ خودکش حملہ آور جب چار سے آٹھ کلو بارود اندرونی تہوں میں چھپانے والی جیکٹ پہنتا ہے تو اس کی موومنٹ آزادانہ نہیں ہوتی۔ وہ اپنے جسم کو ایک خاص زاویے میں سیدھا رکھ کر تھوڑا سا اکڑوں چلتا ہے۔ زیادہ تر خودکش حملہ آور اپنی اس موومنٹ کو چھپانے کیلئے کوئی چادر ڈھانپ لیتے ہیں۔ یا پھر بڑے سائز کی جیکٹ زیب تن کر لیتے ہیں۔ بے نظیر پر فائرنگ کرنے والا نوجوان کلین شیو تھا‘ اس نے ڈارک کلر کا پینٹ کوٹ اور ٹائی پہن رکھی تھی اور نیچے سفید شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ اس نے کوٹ کے بٹن کھلے چھوڑے ہوئے تھے۔ موبائل فون کی ویڈیو میں وہ آزادانہ حرکت کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ وہ تھوڑی ہی دیر میں بینظیر بھٹو کی گاڑی کے قریب پہنچ گیا تھا۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اس نے خودکش بم والی جیکٹ پہن رکھی تھی تو اسے کوٹ کے بٹن بند رکھنے چاہئیں تھے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ وہ جب بے نظیر بھٹو پر گولیاں چلا رہا تھا اس نے کالے رنگ کے شیشوں والی عینک پہن رکھی تھی۔ مغرب کی اذان سے تھوڑی دیر قبل ڈارک شیشوں والی عینک پہننے سے اس کی نظر تیز نہیں ہوگی بلکہ یہ عینک کسی خاص شخصیت یا دوسرے ساتھیوں کیلئے علامت تھی کہ اس مجمع میں سے وہ ڈارک پینٹ کوٹ اور کالے شیشوں والے اپنے ساتھی کو آسانی سے پہچان سکیں۔ وہ ایک رہبر شوٹر تھا۔ یہ اس وقت دہشت گردی کے منصوبے کا پہلا حصہ تھا شاید اس شوٹر کو معلوم تھا کہ اس کے پیچھے پیچھے آنے والا ایک شخص جس کی عمر 35 سال سے زائد معلوم ہو رہی تھی وہ اس منصوبے کے دوسرے مرحلے کی تکمیل کرنے والا ہے۔ اس سفید چادر میں چھپے ہوئے شخص کا چہرہ موبائل فون ویڈیو میں تھوڑا سا نظر آتا ہے۔ وہ خودکش حملہ آور کے بھیس پر بھی پورا اترتا تھا۔ اس کی نقل و حرکت بھی سست تھی۔ جب تین فائر ہوگئے تو ایک دم خودکش حملہ آور نے بم دھماکہ کر دیا۔ یہاں ایک اور اہم بات سامنے آئی ہے کہ خودکش حملہ آور کا جو سر میڈیا کے سامنے رکھا گیا ہے جس کی تصویر ایک کروڑ روپے انعام کے ساتھ لگائی گئی ہے وہ اس چادرپوش کا سر نہیں ہے وہ تو فائرنگ کرنے والے نوجوان کا سر ہے پھر اس چادرپوش کا سر کہاں گیا؟ اسے میڈیا کے سامنے کیوں پیش نہیں کیا گیا؟ ان سوالوں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ ان دو مراحل کے بعد دہشت گردوں نے کوئی تیسرا مرحلہ بھی رکھا ہو اگر ان کی پہلی دو کوششوں میں بینظیر بھٹو بچ جاتیں تو وہ بھگدڑ کے دوران کوئی تیسرا حملہ بھی کر دیتے لیکن جب منصوبہ سازوں کو یقین ہوگیا کہ ان کا مقصد پورا ہوگیا ہے تو انہوں نے تیسرے مرحلے پر عملدرآمد کی بجائے فرار کا راستہ اختیار کیا یہ بھی ممکن ہے کہ کسی ماہر شوٹر نے دوربین گن یا لیزر گن سے دور سے فائر کیا ہو اور اس کی تصویر کسی بھی موبائل ویڈیو میں نہ آئی ہو اور ہوسکتا ہے وہ ملزم اب بھی زندہ ہو۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ اس طرح کا حملہ کرنا دو افراد کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ خودکش جیکٹ کو پہنانے کے بعد فیوز اور کنکشن کو جوڑنے کیلئے کسی ماہر کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے ماہر کو دھماکہ خیز مواد اور ضروری لوازمات ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کی مکمل تربیت دی جاتی ہے۔ ان ماہرین کو خودکش حملوں میں ضائع نہیں کیا جاتا بلکہ وہ ’’بکرے‘‘ کوتیار کر کے خود منظر سے غائب ہوجاتے ہیں۔ اب اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ بینظیر بھٹو کے ساتھ ان کے آخری وقت میں ہوا کیا تھا۔ بینظیر جب بم پروف گاڑی کے سن روف سے باہر نکلیں تو ان کا سر اور دونوں ہاتھ کندھوں تک گاڑی سے باہر تھے۔ بینظیر بھٹو گاڑی کی سیٹ پر کھڑی تھیں۔ آخری وقت میں بننے والی ویڈیو سے واضح ہے کہ ان کی گاڑی کے پیچھے دو گارڈز لٹکے ہوئے تھے۔ ان میں جو بائیں طرف والا گارڈ تھا اس سے تھوڑے فاصلے پر بائیں طرف سے ہی ماہر شوٹر اور سفید چادر والا خودکش حملہ آور گاڑی کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں۔ بم پروف گاڑی کی تصاویر سے بھی ثابت ہوگیا ہے کہ اس گاڑی کے بائیں طرف نیچے سے لے کر شیشوں تک سینکڑوں بم کے ٹکڑوں اور خون کے دھبوں کے نشانات ہیں۔ گاڑی کی دائیں طرف ایسا ایک بھی نشان نظر نہیں آیا۔ یہاں ایک اہم نکتے کا ذکر ضروری ہے کہ بینظیر بھٹو کو دفنائے جانے کے فوری بعد وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان دیا کہ بے نظیر بھٹو گولی لگنے سے اور نہ ہی بم کا ٹکڑا لگنے سے جاں بحق ہوئی بلکہ وہ گاڑی کا لیور دائیں کنپٹی پر لگنے کی وجہ سے جاں بحق ہوئی ہیں۔ جب وہ یہ بیان دے رہے تھے اس وقت تک خودکش حملہ آور کے بارے میں موبائل ویڈیو سامنے نہیں آئی تھی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انہوں نے دائیں طرف کے زخم کا ذکر کے اور لیور والی کہانی سنا کر کیا ثابت کرنے کی کوشش کی تھی اگر لیور لگا بھی تھا تو وہ فائرنگ اور بم دھماکہ ہونے کے ری ایکشن میں لگا تھا۔ اس طرح سکیورٹی ایجنسیوں کی غفلت تو عیاں ہے کہ ان کی موجودگی میں فائرنگ اور خودکش حملہ ہوگیا۔ بم دھماکہ کے کرائم سین کو اڑھائی گھنٹے بعد ہی دھلوا دینے کے احکامات دینے والوں کے بارے میں تو صدر مشرف بھی اپنے انٹرویو میں ذکر کر چکے ہیں کہ غلط اقدام تھا۔ بے نظیر بھٹو گاڑی کے سن روف کے درمیان کھڑی تھیں۔ ان کے دائیں طرف سن روف کا گیپ صرف ایک فٹ کے قریب تھا۔ بم دھماکے سے ہوا کا دبائو جس قدر بھی زوردار دھکے سے لگے اس سے اتنا بڑا زخم لگنا ممکن نہیں تھا اگر وہ پندرہ بیس فٹ دور سے آکر لیور سے ٹکراتیں تو پھر ممکن ہوسکتا تھا۔ قانون کے مطابق کسی بھی قتل کے اصل اسباب یعنی Cause of death جاننے کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ لاش کا پوسٹ مارٹم کیا جائے۔ پوسٹ مارٹم دو طرح کے ہوتے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کا صرف بیرونی پوسٹ مارٹم کیا گیا ہے۔ عمومی طور پر پولیس ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کا بیرونی پوسٹ مارٹم کرواتی ہے تاکہ موت کا سبب بننے والی کسی واضح چوٹ کا ذکر کر کے کیس کو داخل دفتر کیا جاسکے۔ تاہم قتل کے مقدمات میں ملزموں تک پہنچنے اور مقتول کے قتل کے اصل اسباب جاننے کیلئے اندرونی پوسٹ مارٹم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اندرونی پوسٹ مارٹم میں کھوپڑی‘ سینے اور پیٹ کو چیرا لگا کر اندرونی اعضاء کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس طرح ظاہری چوٹ کے علاوہ اندرونی اسباب کا بھی پتہ چل جاتا ہے کہ موت کیسے واقع ہوئی۔ جب کسی شخص کی موت کسی آلہ قتل سے ہوئی ہو تو پھر فرینزک سائنس کی مدد سے آلہ قتل کی شناخت کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ آلہ قتل کی تین قسمیں ہیں۔ پہلی قسم شارپ ویپن کی ہے جن میں چاقو‘ خنجر‘ چھری‘ تلوار‘ تیز دھار آلہ اور کلہاڑی کی طرز کے ہتھیار شامل ہیں۔ دوسری قسم بلنٹ و پین کی ہے جن سے ضرب لگائی جاسکے۔ ان میں لکڑی کا ڈنڈا‘ پتھر‘ اینٹ کسی بڑی گن کا دستہ وغیرہ شامل ہیں۔ تیسری قسم Firearms کی ہے۔ فائر آرمز سے لگنے والے زخموں کی بھی مزید دو قسمیں ہیں۔ یعنی شارٹ گن اور پمپ ایکشن کی طرح کی گن جن سے چھرلے نکلتے ہوں۔ ان سے زخمی شخص کو کئی جگہ زخم لگتے ہیں۔ دوسری قسم بلٹ گن یعنی ایسے ہتھیاروں کی ہے جن سے ایک ایک کر کے گولیاں نکلتی ہیں۔ ان میں ریوالور‘ پسٹل‘ موذر‘ کلاشنکوف وغیرہ شامل ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ بے نظیر بھٹو کو میگزین والے موذر سے نشانہ بنایا گیا ہے اس قسم کے موذر عمومی طور پر 30 اور 32 بور کے ہوتے ہیں۔ (بور کا سائز دراصل کسی ہتھیار کی نالی کے سائز کو ظاہر کرتا ہے)۔ 30 اور 32 بور کے موذر سے اگر کسی شخص کو تین سے پانچ میٹر کی قربت سے فائر کیا جائے تو گولی جس طرف سے لگتی ہے۔ (انٹری پوائنٹ) اسی طرف صرف 2 سے اڑھائی سینٹی میٹر یا اس سے بھی چھوٹا سوراخ ہوتا ہے تاہم جس طرف سے گولی باہر نکلتی ہے۔ (ایگزٹ پوانئٹ) اس طرف پانچ سینٹی میٹر یا اس سے بھی بڑا سوراخ ہوتا ہے۔ 32 بور کے موذر سے ایک میٹر کے فاصلے سے فائرنگ کی جائے تو ایگزٹ پوانئٹ پر 5x3 سینٹی میٹر کا زخم ہوسکتا ہے۔اب اس ماہرانہ رائے کا بے نظیر بھٹو کے بیرونی پوسٹ مارٹم کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں سب سے پہلے اس بات کا ذکر ہوجائے کہ بے نظیر بھٹو کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ کی ابتداء میں لکھ دیا گیاکہ 27 دسمبر کی شام پانچ بجکر 35 منٹ پر بے نظیر بھٹو کو زخمی حالت میں راولپنڈی کے جنرل ہسپتال میں لایا گیا تھا اس وقت ایم ایس ڈاکٹر حبیب احمد خان ہسپتال میں تھے۔ بے نظیر بھٹو کی سانس اور دل کی دھڑکن بند تھی۔ دونوں آنکھوں کی پتلیاں مکمل طور پر کھلی (Dialated) تھیں (جو کہ موت کی ایک علامت سمجھی جاتی ہے) اور ٹارچ لائٹ مارنے سے بھی وہ چمک نہیں رہی تھیں۔ ڈاکٹروں نے بیرونی مساج اور ایک انجیکشن لگا کر بھی ان کے دل کی دھڑکن چلانے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ رپورٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ پروفیسر مصدق خان کے آنے پر آپریشن تھیٹر میں بے نظیر بھٹو کے سینے کو کھول کر دل کو ڈاکٹروں نے ہاتھ میں لے کر اس کو مساج کر کے حرکت دینے کی کوشش کی لیکن تمام کوششیں بے سود رہیں۔ اس پوری رپورٹ میں ایک بھی جگہ یہ نہیں لکھا کہ بے نظیر بھٹو ہسپتال پہنچنے کے بعد چند ساعتوں کیلئے بھی حرکت میں آئیں یا ان کے دل نے کام شروع کیا۔اس رپورٹ میں واضح لکھا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے سر کے دائیں طرف 5x3 سینٹی میٹراس زخم کے گرد کوئی سیاہ دھبہ نہیں (ایک میٹر تک کے فاصلے سے فائر لگے تو بارود کی وجہ سے زخم کے اردگرد سیاہ حلقہ پڑ جاتا ہے) اس رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے سر کی ہڈی دو جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی اور دماغ کا کچھ حصہ زخم سے باہر کی جانب نکلا ہوا تھا رپورٹ میں لکھا ہے کہ بے نظیر بھٹو کے سر کے دائیں طرف اور سامنے سے تو ایکسرے کرائے لیکن بائیں طرف سے ایکسرے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اگر بائیں طرف سے بھی ایکسرے کرا لیا جاتا تو شاید گولی کا انٹری پوانئٹ (جو غالباً 2 سینٹی میٹر یا اس سے بھی چھوٹا ہوگا اور بالوں کے اندر گم ہوگا) وہ بھی ایکسرے میں آجاتا اور یوں گولی لگنے کا واضح ثبوت مل جاتا۔ اگلے روز شیری رحمن کا یہ بیان بھی شائع ہوا تھا کہ بے نظیر بھٹو کی گردن پر بھی گولی لگی تھی اور ان کو سانس لینے میں بہت دقت آرہی تھی۔ اس بارے میں ایک پولیس افسر نے بتایا کہ انہوں نے کئی ایسے واقعات دیکھے ہیں جن میں مقتول کو دماغ میں گولی ماری گئی تو ہسپتال لے جاتے ہوئے اس کے گلے سے ایسی آوازیں برآمد ہوئی تھیں جیسے اسے سانس لینے میں بہت زیادہ دشواری ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جب دماغ میں گولی لگتی ہے تو زخمی کے کانوں اور گلے سے خون بہنا شروع ہوجاتا ہے۔موذر کے بارے میں ایک پولیس افسر نے بتایا کہ جو ماہر نشانہ باز ہوتے ہیں وہ دس گولیوں والے میگزین میں نو گولیاں ڈالتے ہیں تاکہ موذر کا سپرنگ خراب نہ ہو۔ بے نظیر بھٹو پر فائرنگ کرنے والے دہشت گرد نے تین فائر کئے تھے۔ ممکن ہے اس موذر میں ابھی باقی گولیاں موجود ہوں۔ بم دھماکے کے باوجود موذر درست حالت میں جائے وقوعہ پر موجود ہوگا۔ اس موذر کا جائزہ لینے سے بھی کئی سوالات کے جواب مل جائیں گے۔ بے نظیر بھٹو کا قاتل کون ہے؟ اس بارے میں کئی بم دھماکوں کے ملزموں کو گرفتار کرنے اور ان کی تفتیش کرنے والے ایک افسر نے بہت دلچسپ معلومات دیں۔ انہوں نے کہا ’’بم دھماکے تو بہت سے افراد دولت کے لالچ میں کرتے ہیں لیکن خودکش بم دھماکوں کے بارے میں‘ میں نے جتنے بھی افراد کی تفتیش کی ہے ان کے پیچھے مجھے ’’جنت فیکٹر‘‘ ہی نظر آیا ہے۔ ملک دشمن عناصر ہوں یا غیرملکی ایجنٹ وہ خاص منصوبہ بندی سے خودکش حملہ آور تک پہنچتے ہیں۔ سب سے پہلے کسی ایجنٹ کو رقم فراہم کی جاتی ہے۔ وہ کسی تاجر کو رقم فراہم کرتا ہے۔ وہ تاجر اپنا حصہ وصول کر کے رقم کسی مذہبی جنونی تک پہنچاتا ہے۔ وہ مذہبی جنونی اپنے پیروکاروں میں سے کسی شدت پسند کا انتخاب کرتا ہے اور پھر اسے جنت کی بشارت دے کر خودکش حملے کیلئے تیار کیا جاتا ہے۔ اب تک جتنے بھی خودکش حملے ہوئے ہیں ان میں سے کسی ایک بھی حملہ آور کے بارے میں ثابت نہیں ہوسکا کہ ان سے رقم کے لالچ نے یہ اقدام کرایا ہے۔ وہ ہمیشہ انتہائی سطح پر برین واشنگ کے بعد جنت کی تلاش میں خودکش حملہ کرنے کیلئے تیار ہوتا ہے اور اسے ہی ہم ’’جنت فیکٹر‘‘ کہتے ہیں۔ بینظیر بھٹو پر خودکش حملہ کرنے والے کے پیچھے بھی یہی کہانی ہوگی‘‘۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus