×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بابا۔ انکل نوازشریف ڈاکٹر ہیںکیا؟
Dated: 18-Jan-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com میں اپنے گھر کینیڈا میں بچوں کے ساتھ ایک نیوز چینل پر ایک ٹاک شو واچ کر رہا تھا۔ ایک نجی ٹی وی پر اینکر صاحب نے ایک معروف سیاست دان کو تبصرے اور تجزیئے کے لیے مدعو کیا ہوا تھا(ویسے تو پاکستان دنیا کے 216ممالک کی فہرست میں اس لحاظ سے نمبر ون ہے کہ یہاں انٹرٹیمنٹ چینلز کی تعداد نیوز چینلز کے مقابلے میں آٹے میں نمک کے برابر ہے) ٹاک شو میں تجزیہ نگار بتا رہے تھے کہ 1978ء میں جب سابق صدر ضیاء الحق نے اتفاق فونڈری شریف برادران کو واپس کی تو انہیں بغیر کسی ٹینڈر کے یہ انڈسٹری دے دی گئی جبکہ ہزاروں اور بھی مالکان تھے جن کو پرائیوٹائزیشن کے بعد ضیاء دور یا اب تک اصل ادارے واپس نہ کیے گئے جیسے حبیب بینک لمیٹڈ وغیرہ وہ صاحب فرما رہے تھے کہ کس طرح شریف برادران نے مسلم کمرشل بینک جس کی نجکاری میں بولی 69ارب روپے کی لگی اس کو صرف 11ارب روپے میں ایک سرمایہ دار کو فروخت کر دیا گیا اس طرح نوازشریف صاحب نے 1990ء میں اپنے اقتدار میں آنے کے صرف ایک مہینے بعد 60ارب کا ٹیکہ حکومت کو لگا دیا ۔ خیر حکومتوں کو ٹیکے لگانے کی روایت بہت پرانی ہے مگر میرے کم سن بیٹے جو میرے ساتھ ٹی وی واچ کر رہے تھے میں سے چھوٹا جلال بولا بابا کیا انکل نوازشریف ڈاکٹر ہیں؟ ذرا سمجھ آئی تو میں نے کہا نہیں بیٹے وہ ڈاکٹر نہیں ہیں تو بیٹا بولا وہ پھر ٹیکے کیوں لگاتے ہیں اب میں جواں عمر بیٹے کو کیا بتاتا مگر آج کل کی نسل کو مطمئن کرنا بھی بہت ضروری ہے میں نے اسے سمجھایا کہ بیٹا جس طرح ڈاکٹرز کے لیے پریکٹس سے پہلے ایم بی بی ایس کا لائسنس لینا ضروری ہے اس طرح ملک کی 20کروڑ عوام کو ٹیکہ لگانے کے لائسنس اس ملک پاکستان کے 22سرمایہ دار خاندانوں نے حاصل کر رکھے ہیں۔ ان لائسنس ہولڈروں کی تعداد قیام پاکستان سے مسلسل بڑھ رہی ہے شاید آج ان کی تعداد 500سے بھی زیادہ ہو گئی ہے مگر غربت کی حالت یہ ہے کہ آج پاکستان کی 70فیصد آبادی سطح غربت کی انتہائی لکیر سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ جبکہ تعلیم جس کے بغیر آج کے آئی ٹی کے دور میں زندگی گزارنے کا تصور بھی محال ہے اس دور میں ہماری گذشتہ قومی و صوبائی اسمبلیوں میں 11سو ممبران میں سے 800سے زیادہ نے جعلی ڈگریوں پر بی اے کی سند حاصل کی تھی۔ یعنی پورے پاکستان میں گریجوایٹس مرد و خواتین کی تعداد ایک پرسنٹ بھی نہیں ہے جبکہ سرکاری طور پر بھی تعلیم یافتہ افراد کی شرح 23پرسنٹ سے زیادہ ہے یعنی یہ وہ تعداد ہے جس کی تعلیم میٹرک یا اس سے کم ہے۔ میں اپنے بچوں کو کیا بتائوں اگر ٹیکے لگانے والے انکل نہ ہوتے تو آج آپ سب بہن بھائی وطن میں تعلیم حاصل کر رہے ہوتے۔ آج اوورسیز پاکستانی دیارغیر میں امیگرینٹس کی زندگی نہ گزار رہے ہوتے۔ آج ہمیں مشرق وسطی و عرب میں عجمی اور رفیق کے گھٹیا لقب سے نہ پکارا جا رہا ہوتا۔ آج ہمیں برطانیہ ،امریکہ، کینیڈ اور یورپ میں بلیڈی فارنر اور ’’پاکی‘‘ کے القابوں کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ آج میرے وطن کے ہزاروں کوالیفائیڈ ڈاکٹرز یورپ میں ٹیکسیاں نہ چلا رہے ہوتے اور آج میرے وطن کے انجینئرز اور سکیلڈ(Skilled) لیبر عربوں کی گالیاں سن کر بھی مسکرانے پر مجبور ہیں۔ آج میرے ملک کے نوجوانوں کو غیرملکی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے باپ دادا کی زمینیں نہ بیچنا پڑتی۔ اور آج میرے وطن عزیز کی حوا کی بیٹیوں کو دوبئی اور یورپ کے کلبوں اور نائٹ کلبوں کی زینت نہ بننا پڑتا۔ آج میرے وطن کے کم سن پھول نما بچوں کو عرب شیوخ اونٹ دور کے لیے استعمال نہ کرتے۔ آج پاکستان کے ہر گائوں ہر شہر میں ان نوجوانوں کی لاشیں ہر روز آنا کا معمول نہ بنیں جو روز یورپ کا بارڈر کراس کرتے ہوئے اپنی جانوں تک کی بازی لگا دیتے ہیں اور بہت سے تو کنٹینروں میں سانس گھٹ کر مر جاتے ہیں۔ میرے بچو! آج میرا ملک جو 1947ء کو حاصل کیا گیا تھا ہم سے آدھا حصہ جدا نہ کر دیا گیا ہوتا۔ آج ہمار ے ملک کے بادشاہ کو آدھی رات کو اٹھا کر فون پر دھمکیاں نہ دی جاتیں کہ لائن کے اس طرف یا ہماری طرف فیصلہ کرو۔ آج ملک کی فضا بارود سے بھری پڑی ہے اس نوزائیدہ مملکت پر آج تک پانچ جنگیں تھوپی گئی پھر بھی بین الاقوامی برادری ہم کو ہی جارح قرار دیتی ہے۔ ہمارا پڑوسی سیاچن، کارگل،کشمیر ،حیدرآباددکن پر غاصبانہ قبضہ کرے مگر عالمی برادری کی نظر میں جارحیت کا الزام ہم پر ہی لگے۔ ہمارے ملک کے سرمایہ داروں نے ملک سے انڈسٹری اٹھا کر اپنے پسند اور فیورٹ ملکوں میں لے گئے ہیں۔ دوبئی کوالالمپور، سنگاپور اور یورپ کے بیشتر ممالک ہمارے بھگوڑے سرمایہ د اروں کے دم سے آباد ہیں۔ 90ارب ڈالر سوئس بینکوں میں پڑے ہیں جبکہ دنیا بھر کے مالیاتی اداروں اور بینکوں میں پاکستانی سرمایہ داروں کا سرمائے کا حجم ایک ہزار ارب ڈالر سے زیادہ ہے مگر میرے بچے اس کے باوجود تم سمیت ہر پیدا ہونے والا بچہ پیدا ہوتے ہی اوسطاً ایک لاکھ روپے کا مقروض کیوں ہو جاتا ہے؟ میرے ملک کے طول و عرض میں ایک لاکھ سے زیادہ گھوسٹ سکول اور 50ہزار سے زیادہ گھوسٹ ہسپتال ،لاکھوں کلومیٹر سڑکیں جو صرف کاغذات پر موجود ہیں۔ ہزاروں کھیل کے میدان اور سٹیڈیم گھوسٹ طریقے سے تو کاغذات میں موجود ہیں۔ لاکھوں لوگوں کو فرضی روزگار اور جاب فراہم کرکے ان کی تنخواہیں اس ملک کے بیوروکریٹس ہڑپ کر رہے ہیں۔ جس ملک کا ایک ایڈمرل اور کئی جنرلز کرپشن کی لت میں مبتلا ہوں، جس ملک کا ہر سیاست دان کمیشن لینا اپنا حق سمجھتا ہو اور باقاعدہ سسٹم کے تحت ایس ڈی او سے لے کر چیف سیکرٹری ،وزیراعلیٰ ،وزیراعظم اور صدر مملکت کا ریٹ مقرر ہو اور کمیشن مقرر ہو ۔ملک کے ایک سابقہ صدر نے صرف پانچ سال کے قلیل عرصہ میں ملک کے خزانے کو 60ارب ڈالر کا ٹیکہ لگایا ۔2 وزرائے اعظم اور سینکڑوں وفاقی اور صوبائی وزیروں کے طرف سے لگائے جانے والے ٹیکوں کا حساب اس کے علاوہ ہے جبکہ موجودہ حکومت کے سبھی سمدھی، عزیز ،اقرباء ، وزراء اور تجارتی برادری بھی اس کا رِ خیر میں اپنے پیش روئوں سے مختلف نہیں ہیں۔ آج اس ملک کے 63بڑے اداروں کی نجکاری کرکے قوم کو ایسا ٹیکہ لگانے کا پروگرام ترتیب دے دیا گیا ہے کہ اس ٹیکے کے اثر سے مدتوں تک یہ قوم ہوش میں نہ آئے گی اور اگر کبھی اردگرد کے شورشرابے کی وجہ سے ہوش میں آ بھی گئے تو بقول شاعر ’’سب کچھ لٹا کر ہوش میں آئے تو کیا ہوا‘‘ میں اپنے بچوں کو سب کچھ بتانا چاہتا ہوں وہ سب کچھ بھی جو ٹی وی اینکرز نہیں جانتے جو میرے ملک کے کالم نگاربھی نہیں جانتے ،وہ سب کچھ جو میرے سینے میں دفن ہے کہ اس ملک کے خیرخواہوں نے اس ملک کو کس طرح لوٹا، کس منظم آرگنائزڈ طریقے سے ان پاسبانوں نے آنے والی نسلوں تک کا خون بیچ دیا ہے ، کس طرح اس ملک کا ہر بچہ پیدا ہونے سے پہلے ہی مقروض پیدا ہوگا۔ یہ خون پینے والا مافیا پاکستان تو بس اپنی باری لینے آتا ہے ٹیکہ لگانے کی۔ 95فیصد سیاست دانوں، بیوروکریٹس، اسٹیبلشمنٹ ،سرمایہ د اروں، جاگیرداروں، وڈیروں، مخدوموں، نوابوں، پیروں، چوہدریوں ،بٹوں کی اولادیں یورپ امریکہ کی یونیورسٹیوں میں لوٹنے اور خون چوسنے کا علم حاصل کرکے اس ملک کے عوام کو ٹیکہ لگانے آ جاتے ہیں۔ میں اپنے بچوں کو انکل نوازشریف کے علاوہ بہت سے دوسرے ڈاکٹروں کا بھی بتانا چاہتا ہوں پھر سوچتا ہوں یہ سب سن کر میرے بچے کہیں پاکستان سے نفرت نہ شروع کر دیں کہ یہ کیسا ملک ہے جہاں کے راہبر اور راہزن میں کوئی فرق نہیں ؟یہ میری وطن سے محبت ہے یا کہ میری ہیپوکریسی کہ میں بچوں کے سامنے بیان کرنے سے کترا رہا ہوں مگر ایک بات طے ہے کہ میرا ذکر آج پاکستان کے لوگ ٹیکہ نہ لگانے والوں میں کرتے ہیں اور یہی میری کمائی ہے اور یہی میرا غرور اور یہی میرا سرمایہ۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus