×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اکرم شیخ اور بے چارہ انصاف!
Dated: 21-Jan-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com جہان میں جو چیز ممکن نہ ہو وہ اپنے وطن عزیز میں نہ صرف ممکن ہے بلکہ یہاں کسی بھی وقت کچھ بھی رونما ہو سکتا ہے۔ سچے کو جھوٹا، جھوٹے کو سچا ،چور کوہیرو اور ہیرو کو زیرو ثابت کرنا الٹے ہاتھ کا کام ہے۔ تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ یہاں راہزنوں ،ڈاکوئوں کو مسیحا کے نام سے یاد کیا گیا اور مسیحائوں کو چوروں اور غداروں کے روپ میں پیش کیا جاتا رہا۔ یہاں خدمت کے نام پر لوٹا جاتا رہا اور بے شمار سورمائوں جیسے دُلا بھٹی، نظام لوہار، بھگت سنگھ کو سولیوں پہ چڑھایا جاتا رہا۔ سوچا تھا قیام پاکستان کے بعدکم از کم ہماری ایک نئی تاریخ رقم ہوگی لیکن بدقسمتی سے 67سال ہو گئے ہم اپنی ترجیحات تک طے نہیں کر سکے ۔ایک نظام ایک متفقہ قانون تو ہم تشکیل نہیں دے سکے۔ نظامِ تعلیم کو ہی لے لیں ملک میں اس وقت سینکڑوں تعلیمی نظام بیک وقت رائج ہیں۔ سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخواہ، پنجاب کے ہر پرائیویٹ سکول سسٹم اور ادارہ میں نظام تعلیم ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتا۔جس ملک میں میٹرک تک مفت تعلیم کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے اسی کے اندر تعلیمی اداروں میں فیسیں تک ڈالروں میں وصول کی جاتی ہیں کیا یہ حقیقت نہیں؟ آج پھر عدالتیں سجی ہیں سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے۔ جس شخص نے 40سال تک ملک کی خدمت کی ، پاک فوج اور غیور عوام کی سروس کی دو جنگیں لڑیں ملک کو بلدیاتی نظام دیا ،ملک ڈوب رہا تھا کہ جھپٹ کر سارے الزام اپنے سر لے کر وطن کی لاج رکھی۔ 12اکتوبر1999ء کو جس اقدام کو پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں نے جائز قرار دیا ،پارلیمنٹ نے جس کی توثیق کی آج اس شخص کو عدالتوں کے کٹہرے میں پیش کیا جا رہا ہے اور جن لٹیروں نے ملک کو لوٹا، ملک کو کنگال کیا متعدد دفعہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تک پہنچ گیا تھا اور سر پھرے فوجیوں نے جان پہ کھیل کر ہم سیاست دانوں کی غلطیوں کی پردہ پوشی کی۔ میں جمہوریت کا خود بڑا چیمپئن رہا ہوں اور ہوں، میثاق جمہوریت کے بانیوں میں میرانام بھی ہے ۔ اے آر ڈی کے پلیٹ فارم سے جدوجہد کی ، نوابزادہ نصراللہ صاحب مرحوم کے ساتھ مل کر شہید بی بی کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر اس وقت جدوجہد شروع کی جب شہید محترمہ کو ہر پلیٹ فارم پر ان کے شوہر نامدار کی وجہ سے شرمندگی اٹھانا پڑتی تھی جب شہید بی بی کے تمام راستے مسدود تھے نوازشریف کی اس وقت کی حکومت اور سیف الرحمن نے پوری دنیا میں محترمہ کا جینا دوبھر کر دیا تھا۔ محترمہ کو اس دوران ایئر پورٹس پر لوگوں کے چبھتے جملے سننا پڑتے تھے کہ دیکھو کرپٹ لیڈی جا رہی ہے کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ 70 ء کے بعد آنے والی سیاسی کھیپ نے جس طرح وطن عزیز کو لوٹ کر کھوکھلا کر دیا اس کی نظیر نہیں ملتی۔ 22 کرپٹ خاندان اس وقت 2200خاندانوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ضیاء الحق دور میں سیاست دانوں کی صف میں ایک ایسا نیا حلقہ شامل کیا گیا جس کی سیاسی تربیت نہ تھی جو خالصتاً مال لگا کر مال بنانے کے چکر میں میدان سیاست میں کود پڑا تھا یہ تجارتی سیاست کرنے والا طبقہ 1985ء کے غیر جماعتی سیاسی نظام کے نہ صرف تب حصہ بنا بلکہ آج تک ہم 85ء کے الیکشن کے بعد آنے والی تجارتی سیاسی قیادت کے نتائج بھگت رہے ہیں کیونکہ جو الیکشن میں تجارت کرتے ہیں ان سے ڈلیو ر کرنے کی توقع رکھنا دیوانے کا خوب ہو سکتا ہے۔ مجھے مشرف دور کا ایک واقعہ یاد آ رہا ہے جسے میں قارئین نوائے وقت سے شیئر ضرور کرنا چاہوں گا یہ اوائل 2000ء کی بات ہے میں ان دنوں سوئٹزرلینڈ میں مقیم تھا اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے سوئس کیسوں کی پیروی کے سلسلہ میں سرگرم تھا اور ذمہ داریاں تھیں۔ اس دوران مجھے سینیٹر جہانگیر بدر کی کال موصول ہوئی جو ان دنوں مشرف کے آنے کے بعد کچھ الزامات کی زد میں تھے اور پابند سلاسل تھے اور بدر صاحب پی پی پی اوورسیز کے انچارج بھی تھے۔ مجھے کہا گیا کہ ان کے خلاف پاکستان میں جھوٹے کیس چلائے جا رہے ہیں لہٰذا میں عالمی عدالت میں ان کے وکیل کو لے جا کر انصاف دلوا سکوں۔ کچھ دنوں بعد اکرم شیخ جنیوا سوئٹزرلینڈ پہنچے۔ میں ایئرپورٹ پر انہیں لینے کے لیے گیا۔ ہوٹل ٹھہرایا اور خود بھی جنیوا میں ہی ٹھہر گیا کیونکہ دوسرے دن مجھے اکرم شیخ کو عدالت پہنچانا تھا۔دوسرے دن عالمی عدالت انصاف پہنچ کر اکرم شیخ کچھ خاص جوہر نہ دکھا سکے۔ دراصل موصوف عالمی عدالت انصاف کے ججوں کو بھی پاکستانی جج سمجھ رہے تھے۔ بہرحال میں بھی اس ساری کارروائی میں موجود تھا اور اکرم شیخ کی معاونت کر رہا تھا۔ میں ججز کو یہ قائل کرنے میں کامیاب ہوا کہ وہ کم از کم حکومت پاکستان سے اس کیس کی وضاحت تو مانگیں؟ عدالت یہ مان گئی اور بعدازاں اس کے دوسرے روز اکرم شیخ کے اعزاز میں چند دوستوں کو شریک کرکے عشائیہ دیا۔ جس میں جنیوا میں پاکستانی مشن کے فرسٹ سیکرٹری بھی موجود تھے جس پر موصوف ناراض ہوئے کہ یہاں فرسٹ سیکرٹری کیوں موجود ہیں۔ خیر بڑی مشکل سے موصوف کو سنبھالا اور شاپنگ کے بہانے موصوف کا رویہ درست ہوا۔ اکرم شیخ نے کچھ جوتے بالی شوز کی دکان سے پسند کیے لیکن موصوف کا سائز نہ ملنے کی وجہ سے طے ہوا کہ کچھ دن بعد جو کہ میں خود پاکستان جا رہا ہوں تو ان نمبرز کے جوتے اکرم شیخ کے لیے لیتا آئوں گا۔ بہرحال کچھ دن بعد میں لاہور پہنچا، احتساب عدالت میں جہانگیر بدر صاحب سے ملاقات ہوئی سارے حالات سے ان کو آگاہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ اکرم شیخ صاحب کے لیے کچھ چیزیں ہیں جو ان کو پہنچانی ہیں۔ اس کے اگلے روز میں لارنس روڈ لاہور ان کو فون کرکے پہنچ گیا ان کے لیے لائے ہوئے جوتوں کے جوڑے اور دیگر سامان ان کے حوالے کیا اس ملاقات کے دوران اکرم شیخ صاحب مجھے مرعوب کرنے کی حتی الوسع کوشش کرتے رہے مگر اپنی یورپی تربیت کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں نے کہہ ہی دیا کہ شیخ صاحب میں آپ کی شخصیت سے متاثر نہیں ہوا جس سے موصوف غصہ کھا گئے اور پاس کھڑے اپنے چپڑاسی کو ایک تھپڑ جڑ دیا جس پر وہ غریب آدمی روتابددعائیں دیتا وہاں سے نکل گیا۔ میں غصے میں تلملاتے اکرم شیخ کو جلنے کڑھنے کے لیے چھوڑ کر ان کے دفتر سے باہر آ گیا۔ دوسرے دن اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر لگی تھی کہ اکرم شیخ کی والدہ صاحبہ وفات پا گئی ہیں۔ میں نے اکرم شیخ صاحب کو فون کرکے تعزیت کی اور آخر میں کہہ دیا کہ یہ جو کل آپ نے ایک غریب چپڑاسی کو تھپڑ مارے ہیں یہ اللہ نے آپ کو سزا دی ہے اور آپ سے آپ کی سب سے عزیز چیز چھین لی ہے جس پر اکرم شیخ خاموش رہے مگر بعدازاں شہید بی بی کو میرے متعلق غلط اطلاعات فراہم کرکے میرے خلاف کرنے کی بھونڈی کوشش کرتے رہے۔ شہید محترمہ بڑی زیرک انسان تھیں انہوں نے اکرم شیخ کی باتوں پر اعتبار نہ کیا اور بغض سے زیادہ اہمیت نہ دی۔ آج پاکستان کی ایک عدالت میں اکرم شیخ کو سرکاری پراسیکیوٹر بنا کر پیش کیا جا رہا ہے اور عین قیاس ہے کہ ان کو بہت جلد اٹارنی جنرل پاکستان نامزد کر دیا جائے گا اور مشرف کے خلاف حکومت جو اقدامات کرنا چاہتی ہے ان کو اکرم شیخ کے ذریعے سرانجام دیا جائے گا۔ اور میرے سمیت پاکستان کے بیس کروڑ عوام یہ سوچ رہے ہیں کہ آج حکومت وقت نے پھر ایک جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لیے ایک ایسے پراسیکیوٹر کا سہارا لیا ہے جس کی پچھلی زندگی گواہ ہے۔ اس شخص کے ہوتے ہوئے انصاف کا حصول مشکل ترین عمل ہے۔ ایک شخص جو ذاتی پسند ناپسند کی بنیاد پر میرے خلاف جھوٹی کمپین چلاتا رہا ہے وہ شخص کیا خاک انصاف کا بول بالا کرے گا؟ اب مجھے یقین ہو چلا ہے کہ پاکستان کے سیاسی حالات مستقبل قریب میں بہتر نہیں ہو سکتے اور میاں نوازشریف جس کے اکرم شیخ کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں ایک دفعہ پھر 12اکتوبر1999ء کی طرف جا رہے ہیں۔ مشرف بغرض علاج شاید بیرون ملک نہ جا سکے مگر حالات اس نہج کی طرف جا رہے ہیں کہ اب کی دفعہ کوئی اور بھی جدہ یا برطانیہ نہ جا سکے گا کیونکہ ہمارے پیارے پیغمبرؐ کا فرمان ہے کہ ’’مومن کبھی ایک سوراخ سے دو دفعہ ڈسا نہیں جا سکتا‘‘کیا انصاف کی اکرم شیخ کے ہاتھوں دُرگت بنے گی یہ دیکھنے کے لیے محترم قارئین دیکھتے رہیے عدالتی کارروائی جو شروع کی جا چکی ہے۔ 3نومبر کے اقدام سے موجودہ خصوصی عدالت کے تینوں ججز متاثر ہوئے تھے دیکھتے ہیں انصاف ہو پاتا ہے یا نہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus