×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مرسُوں مرسُوںپر کوئی چنگا کم نہ کرسُوں
Dated: 28-Jan-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com جس طرح ملٹی نیشنل کمپنیاں ہر تھوڑے عرصے کے بعد اپنی نئی پراڈکٹ مارکیٹ میں متعارف کرواتی رہتی ہیں جیسے آئی فون سے اب سمارٹ فون آئی فائیو مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اسی طرح سیاست میں بھی چند خاندانوں کی اجارہ داری ہے اور اپنی اس مناپلی کو براقرار رکھنے کے لیے تجارتی سیاسی خانوادے مختلف ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں ۔اس مافیا نے نظام کو اپنے کرپٹ شکنجوں میں اس طرح جکڑرکھا ہے کہ شاید ہی ہماری آنے والی نسلیں غلامی کی اس جنگ سے نجات پا سکیں؟ اس سسٹم میں دادا اقتدار کے سسٹم کے اندر ہوتا ہے، بیٹا بزنس اور سیاست کر رہا ہوتا ہے مگر اس وقت پوتا دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں مہنگی ترین تعلیم حاصل کرکے وطن واپس پہنچ کر اپنی باری لینے کا انتظار کر رہا ہوتا ہے۔ شریف برادران میں نوازشریف،شہبازشریف کے بعد اب حمزہ شہباز اور مریم نواز نئی پراڈکٹ کے طور پر متعارف کروا کر مارکیٹ میں چھوڑ دیئے گئے ۔ اسی طرح بھٹو خاندان میں سرشاہنواز بھٹو کے بعد ذوالفقار علی بھٹو وارد ہوئے اور ان کی شہادت کے بعد ان کی بیٹی بے نظیر بھٹو اور ان کی بیگم نصرت بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو نے سیاست میں طبع آزمائی کی اور ایک اندوہناک انجام کو پہنچے۔جب کہ چوہدری برادران نے بھی چوہدری ظہور الٰہی کے بعد شجاعت حسین، پرویز الٰہی کے بعد وجاہت حسین اور مونس الٰہی کو میدان میں اتارا گیا ہے جو سیاست میں اپنی جگہ بنانے میں کوشاں ہیں۔ اسی طرح مولانا مفتی محمود کے بیٹے مولانا فضل الرحمن نے سیاست کے سینے پردھاک بٹھائی۔ اب مولانا کا بیٹا عطاء الرحمن سیاست میں وارد ہو چکا ہے اگر گذشتہ ضمنی الیکشن میں جیت جاتا تو شاید کشمیر کمیٹی کا چیئرمین وہی مقرر ہوتا۔ جب گذشتہ 67سال کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم پڑتا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کے اور لیاقت علی خان کی اولادوں کے علاوہ ہر اس شخص کی اولاد کسی نہ کسی طرح سیاست میں ہاتھ پائوں مار رہی ہے جس نے کبھی ایک دفعہ اقتدار کا مزہ چکھ لیا ہے۔ آپ کو بے شمار ایسے خاندان مل جائیں گے جو ضلعی ڈویژن اور صوبے کی سطح پر سیاست میں کسی اور کو آگے آنے کا موقع دینے کو تیار نہیں۔ نورانی، کھر، دریشک، مخدوم، قریشی، تالپور، عباسی، جام، چوہدری، آرائیں، گجر، ملک، اعوان، وٹو، ہراج،راجہ، کیانی، لالیکا اور ایسے چند خاندان جنہوں نے سیاست پر اپنی گرفت اتنی مضبوط کر رکھی ہے کہ کسی موچی، لوہار، ترکھان، حجام اور دوسرے خاندانوں کے لیے سیاست میں آنے کے تمام راستے مسدود کر دیئے ہیں۔ دراصل ہمارا حال بھارت میں ہندوئوں جیسا ہے۔ ہندوئوں میں چار قومیں ہوتی ہیں یا یوں کہنا چاہیے کہ ہندو معاشرے کو چار درجوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ شودر، برہمن، کھتری اور وید۔ ان طبقات میں وید اور کھتری دنیاداری کے کام کرتے ہیں جبکہ برہمن عوام کے مذہبی روایات کے مالک اور اقتدار کے لیے پیدا کیے گئے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے جبکہ شودر برہمن کو چھو بھی لے تو قابل گردن زنی تصور ہوتا ہے۔ اس طرح پاکستان میں بھی اس اقتدار زدہ طبقے نے اقتدار کے ایوانوں میں پاکستان کے غریب عوام کو شودر سمجھ کر روک رکھا ہے۔ اگر غلطی سے کوئی غریب کا بیٹا بیٹی اقتدار کو چھو بھی لے تو قابل گردن زنی متصور ہوتا ہے۔ پاکستان کے اس ہوس اقتدار زدہ طبقے نے قیام پاکستان سے لے کر اب تک کھربوں روپیہ لوٹا ہے۔ شریف برادران سمیت کئی خاندان ایسے بھی ہیں جب سیاست میں وارد ہوئے تو ان کا سفید پوشی سے کاروبار تھا ایک آدھی فیکٹر ی یا ’’بھٹی‘‘ تھی۔ اب وہ لوگ اربوں ڈالر کے اثاثے بنا کر دنیا کے امیر ترین خاندانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس طبقے کی حالت یوں ہے کہ ان کو اقتدار سے چند دن دور رہنا پڑے تو یہ ماہی بے آب کی طرح تڑپنے لگتے ہیں۔ ان کو اور ان کی اولادوں کو 40/50گاڑیوں کے پروٹوکول کے بغیر شاپنگ کے لیے جانا بھی ناگوار گزرتا ہے۔ اسی طبقے کے بینک اکائونٹ اور سرمایہ ، کارخانے، فیکٹریاں ملک میں کم اور غیر ممالک میں زیادہ ہیں۔ یہ ڈاکو لٹیرے ہر وقت کسی بھی وقت بھاگنے کے لیے تیار رہے ہیں۔ اب بھی موجودہ دور حکومت میں اپنے اقرباء سمدھیوں، رشتے داروں کو نوازنے کاعمل جاری ہے یہ عوام کے خون نچوڑنے والے وہ سفاک لوگ ہیں جو اپنے مفادات کے لیے مادرِ وطن کے مفادات کو بیچنے تک سے باز نہیں آتے۔ان کے انتقام بھی ان کی طرح سفاک ہوتا ہے۔ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں پر ہاتھ ڈالنے کا سبق ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر چڑھا کر دیا گیا۔ ان کے منہ کو خون اس حد تک لگ چکا ہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کو نشان عبرت بنانے کے لیے قانون اور آئین کی دھجیاں بکھیری جا رہی ہیں۔ مشرف کا واحد جرم صرف یہ تھا کہ اس نے دہشت گردوں جنونی مذہبیوں کو لگام ڈالنے کی کوشش کی اور ان خون چوسنے والے طبقے کے منہ سے ماس چھیننے کی کوشش کی۔ عدلیہ اور جوڈیشری کا کردار سب کے سامنے ہے۔ پچھلے 6سال میں 22ہزار گرفتار دہشت گردوں میں سے کسی ایک کو بھی سزائے موت یا عمر قید کی سزا نہیں دی گئی۔ اس ملک دشمن دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں ہر طرف موت کا بھیانک رقص جاری ہے۔ فضا بارود کے دھوئیں سے آلود ہ ہے۔ میڈیا کا کردار بھی مجموعی طورپرکچھ تابناک نہیں رہا۔ اکثر قابل فروخت نام نہاد صحافی اور نشریاتی ادارے غیر ممالک سے فنڈز وصول کرکے ملکی سالمیت سے کھیل رہے ہیں۔ ڈاکٹر مجید نظامی اور ان کے ادارے کو تحفظ نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ کا محافظ ہونے کا سر عام طعنہ دیا جاتا ہے اور بھارت سے دوستی بڑھانے اور کشمیر ایشوز کو پس پشت ڈال کر واہگہ بارڈر سمیت سرحدیں کھولی جا رہی ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے موقع پر ’’پاکستان کھپے‘‘ کا نعرہ لگایا یہ نعرہ اب لگتاہے کہ کھپے پنجابی والا لگایا تھا جس کے معنی ’’تباہ برباد‘‘ ہونا ہے ورنہ وہ اپنے پانچ سالہ دور اقتدار میں اپنے دوستوں اور کرپشن میں مہارت رکھنے والی ٹیم کے ساتھ قوم کو 100ارب ڈالر کا ٹیکہ لگا کر پاکستان کو کھپا چکے ہیں۔ اب انہی سابق صدر کا بیٹا سندھ ثقافت کے نام پر ڈرامے بازی کر رہا ہے اور ایک میڈیا کمرشل میں چیخ چیخ کر ’’مرسُوں مرسُوں سندھ نہ ڈیسوں مرسُوں مرسُوں پاکستان نہ ڈیسوں‘‘ کے نعرے لگا رہے ہیں۔ موصوف سے کوئی پوچھے جب تقسیم پنجاب کی بات ہو رہی تھی تو پیپلزپارٹی نے پیپلزپارٹی کے اندر جنوبی پنجاب کی تنظیم کابھی اعلان کر دیا اور مخدوم شہاب الدین کو جنوبی پنجاب بہاولپور صوبہ کانگران بھی مقرر کر دیا۔ اس طرح تمام سٹیک ہولڈر کو اعتماد میں لیے بغیر صوبہ سرحد کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا۔اب سندھ کی بات ہوئی تو موصوف اور ان کے ساتھیوں کی چیخیں نکل گئی۔ ہماری چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے درخواست ہے کہ آپ کو یہ نعرہ مستانہ لگانا چاہیے کہ مرسُوں مرسُوں کچھ واپس نہ کرسُوں‘‘ یعنی جو موصوف کے باپ نے لوٹا ہے اس میں سے آدھا ہی واپس کردیں تو پاکستان کے عوام پر مجموعی قرضہ جو 60ارب ڈالر ہے وہ ادا ہو سکتا ہے۔ میر ے ساتھ بیٹھے میرے دوست ملک آفتاب اور سجاد حسین گجر نے ٹی وی پر یہ کمرشل دیکھ کر یوں کہا کہ ’’مرسُوں مرسُوں پر کوئی چنگا کم نہ کر سُوں‘‘ یہ لوگ بے شک مر جائیں گے مگر یہ غریب عوام کو خوشحال نہ ہونے دیں گے کیونکہ یہ سب پاکستان کی سیاست کے برہمن ہیں۔ ان کی دولت غیرممالک کے بینک بے شک کھا جائیں مگر غریب کے منہ میں نوالہ نہ جائے یہ ہے ان کی خدمت کی سیاست کا معیار۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus