×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
داورِ حشر میرا نامۂ اعمال نہ دیکھ
Dated: 01-Feb-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یہ اوائل 1979ء کی بات ہے میں اپنے ایک دوست ،کلاس فیلو کے ساتھ ڈسکہ کے افشاں سنیمامیں فلم دیکھنے چلا گیا۔ ہاف ٹائم بریک ہوئی تو میں نے دیکھا کہ ہماری ساتھ والی قطار میں ہمارے بہت ہی محترم سکول ٹیچر بھی اپنے ایک عزیز کے ساتھ براجمان تھے۔ انہوں نے ہمیں اور ہم نے ان کو دیکھا۔ انہوں نے چہرے کے آگے اخبار کر لی اور ہم نے ٹیسٹ پیپروں سے اپنے چہرے ڈھانپ لیے۔ دوسرے دن کلاس روم میں آئے ہم دونوں دوستوں نے سرجھکائے ہوئے تھے۔ مجید صاحب مرحوم کلاس میں داخل ہوئے اور بیٹھتے ہی کہا مطلوب کل والی بات دوستوں کو بتائو گے تو میں بھی باقی اساتذہ اور تمہارے دوستوں کو بتائوں گا۔ میری خاموشی ایک طرح سے کمپرومائز تھا۔ مجھے یہ واقعہ آج شدت سے یاد اس لیے آ رہا ہے کہ چند دن پہلے میرے اکرم شیخ ایڈووکیٹ کے متعلق لکھے گئے کالم کے ردعمل میں میرے سیاسی استاد جہانگیر بدر نے (جو اب ڈاکٹر جہانگیر بدر ہیں) نے لکھ ڈالا۔ میں جہانگیر بدر کو ترکی بہ ترکی جواب دینا نہیں چاہتا کیوں کہ ایک تو میں جواب آں غزل کے طور پر ایک لاحاصل بحث میں نہیں پڑتا چاہتا کہ میں گزرے ہوئے سالوں کا آداب ملحوظ خاطر رکھنا چاہتا ہوں۔ بس ایک چھوٹا سا سوال ہے کہ آخر اکرم شیخ صاحب کے بارے میں نے اگر کچھ غلط لکھا تھا تو موصوف مجھے پوچھ سکتے تھے یا مجھے کورٹ طلب کروا سکتے تھے ۔جہاں تک میرا تعلق ہے تو قارئین نوائے وقت اور لکھنے پڑھنے کے شعبے سے وابستہ لوگ جانتے ہیں کہ میں کم از کم پچھلے ایک عشرے میں ڈیڑھ درجن سے زائد کتب تصانیف کر چکا ہوں اور نوائے وقت میں ایک کریڈیبل کالمسٹ کی حیثیت سے ڈاکٹر مجیدنظامی صاحب کے زیر شفقت لکھ رہا ہوں اور مجید نظامی صاحب کی خصوصی توجہ سے آج میرے کالم پڑھنے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے۔ خود ڈاکٹر جہانگیر بدر کے کالموں پر مشتمل ’’گرینڈ ایجنڈ اور پاکستان‘‘ میرے ہاتھوں تالیف ہوئی، جس کو میں نے بدر صاحب کی بیگم رخشندہ جہانگیر بدر کے نام منسوب کیا۔ یہ کتاب 2007ء میں شائع ہوئی۔ بُک ہوم پبلشر اس کو شائع کرنے والا ادارہ ہے۔ اس کتاب کے پیش لفظ میں صفحہ15پر جہانگیر بدر صاحب رقم طراز ہیں: ’’میری دیرینہ خواہش تھی کہ کوئی شخص میری زمانہ طالب علمی کے زمانے کے کالم یونیورسٹی رائونڈ اپ جو روزنامہ مشرق میں 72ء سے77ء تک کے دوران میں نے تسلسل کے ساتھ ہر ہفتہ لکھے، ان کو اکٹھا کرے اور چھپائے۔ تاہم میں اپنے ساتھی پیپلزپارٹی کے راہنما اور بھائیوں جیسے شاگرد مطلوب احمد وڑائچ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جس نے میرے 1998ء اور بعدازاں کے کالم اکٹھے کیے اور ان کو کتابی شکل دی۔‘‘ تو میرا خیال ہے کہ اب قارئین نوائے وقت کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ سچ کو چھیڑنے سے چیخیں تو نکل ہی جاتی ہیں۔ اپنے منہ میاں مٹھو بننا پسند نہیں او رنہ ہی میری طبیعت ہے کہ کوئی میری خوشامد کرے مگر کچھ باتیں اپنے قارئین کی نذر کرنا چاہتا ہوں کہ میں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا ساتھ دینے کا فیصلہ اس وقت کیا جب پوری دنیا میں لوگ کترا رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ شہید بی بی نے مجھے جلد ہی پارٹی کی فیڈرل کونسل کا ممبر نامزد کر دیا اور خود سینیٹر ڈاکٹر جہانگیر بدر اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے محترمہ کی ہدایات کے باوجود کافی دن میرا نوٹیفکیشن روکے رکھا اور آخر ایک دن شہید بی بی نے ٹیلی فون پر بدر صاحب کو کہا آپ مطلوب کا نوٹیفکیشن کیوں نہیں کرتے تو بحیثیت پارٹی سیکرٹری جنرل یہ نوٹیفکیشن کرنا پڑا۔ جہانگیر بدر صاحب کی ضمانت ہونے کے بعد پاکستان کی سیاسی برادری نے دیکھا کہ میں اور جہانگیر بدر صاحب ہر میٹنگ میں، تقریب میںیا نجی محلوں میں اکٹھے دکھائی دیئے۔ کم از کم اس وقت تک جب جہانگیر بدر صاحب دوبارہ سینیٹر نہ بنا دیئے گئے۔ جدوجہد کے ان دنوں میں بہت سی اہم باتیں یادداشتیں ہم دونوں سے وابستہ ہیں اسی لیے میں کہتا ہوں کہ: داورِ حشر میرا نامۂ اعمال نہ دیکھ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں اور میں نے سینیٹر ڈاکٹر جہانگیر بدر کا ساتھ دینا بھی پسند اس وقت کیا جب سینیٹر صاحب مشکلات میں تھے۔ یقینا اچھے دنوں ،اقتدار کے دنوں میں تو بے شمار برساتی مینڈک آپ کے گرد اکٹھے ہو جاتے ہیں مگر مشکل حالات میں سایہ دیوار بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔مجھے فخر ہے میرا نام پاکستانی سیاست میں اس ریفرنس کے ساتھ لیا جاتا ہے کہ مطلوب وڑائچ پیپلزپارٹی کی قیادت کا سخت اور مشکل دنوں میں نہ صرف ساتھ دیتا رہا بلکہ جمہوریت کی بحالی کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔ میں اگر ڈاکٹر جہانگیر بدر صاحب کے لیے عالمی عدالت انصاف جینوا گیا تو شہید بی بی اور سابق صدر مملکت کے لیے سوئٹزرلینڈ کی عدالتوں سمیت یورپ بھر میں ان کا دفاع کیا، ان کے کیسوں کی پیروی کی۔ سینیٹر ڈاکٹر جہانگیر بدر کے ہاتھ سے لکھے ہوئے مختار نامے ابھی تک میرے پاس اور سوئس عدالتوں میں محفوظ ہیں جن میں مجھے شہید بی بی اور آصف علی زرداری کے کیسوں کی نگہداشت کا اختیار دیا گیا۔ پھر دنیا جانتی ہے کہ میں نے امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون اور امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے بند دروازے محترمہ شہید کے لیے کھول دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ ہاں میں مانتا ہوں میں نالائق ہوں میں آصف علی زرداری کی لوٹ مار سکیم کا حصہ نہیں بنا۔ وگرنہ تو انڈرمیٹرک نوجوان نے گذشتہ دوڑ میں 120ارب روپے قومی خزانے سے لوٹ لیے۔ میں مانتا ہوں کہ میں موجودہ سسٹم میں فٹ نہیں ہوا کہ میں شہید بی بی کی قیمت وصول کرنے والی ٹیم کا حصہ نہیں بنا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جوہر ٹائون والے میرے گھر میں کس کس کی کس کس سے میٹنگز ہوئیں۔ میں ڈاکٹر جہانگیر بدر کے ساتھ 2004ء میں بھی تھا جب میرے گھر ’’جی ایٹG8 کی بنیاد رکھی گئی اور اس کے اجلاس بھی ہوئے اور یہی اجلاس جمیل بدر صاحب کے گھر بھی ہوتے رہے۔ میرے ذہن میں سب یادیں آج بھی تازہ ہیں کہ کون انٹیلی جنس ادارے سے ملتا رہا ہے مگر میں ڈاکٹر جہانگیر بدر کی سیاسی جمہوری خدمات کا اعتراف کرتا ہوں اور یہی وجہ تھی کہ وہ مجھے اپنا خصوصی شاگرد اور چھوٹا بھائی مانتے ہیں۔ میں اپنی انا کا مسئلہ بنا کر اپنے اچھے دنوں کی یادوں کو پامال نہیں کرنا چاہتا یقینا کچھ عاقبت نااندیش دوست یہ چاہتے ہیں کہ اس نامعلوم اختلاف کو ہوا دے کر اس کو اچھالا جائے مگر دونوں صورتوں میں نقصان جمہور پسند قوتوں کا ہوگا۔ میں 27دسمبر2007ء سے پیپلزپارٹی کے اندر رہ کر جدوجہد کر رہا ہوں پارٹی کے ہونے والے سبھی فیڈرل کونسل اور سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اراکین کے اجلاسوں میں غلط پالیسیوں کی ہمیشہ مخالفت کی ۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی قیادت کے عتاب اور ناراضگی بھی مول لے لی۔ مگر پاکستان پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت جانتی ہے کہ اربوں روپے کے فراڈ کرنے والے مختلف محکموں کے چیئرمین اور وفاقی صوبائی وزراء کی وہ فوج ظفر موج آج کہاںہے؟ وہ فرزانہ راجہ، رخسانہ بنگش، آصف ہاشمی اور دوسرے مفادات حاصل کرنے والی فوج آج کدھر ہے؟ اربوں کا ٹیکہ لگانے والے پارٹی کو بھی ٹیکہ لگا گئے۔ مگر ہم کل بھی پارٹی تھے آج بھی ہیں اور کوشش ہو گی کہ پارٹی میں رہ کر اصلاح کے عمل کو جاری رکھیں۔ محترم استاد ڈاکٹر جہانگیر بدر نے 2004ء میں میری شہرئہ آفاق کتاب ’’صدیوں کا بیٹا، ذوالفقار علی بھٹو شہید‘‘ کے اندرونی سرورق پر اپنے تاثرات میں لکھا ہے:’’مطلوب احمد وڑائچ جدوجہد کی بھٹی سے کندن بن کر نکلا ہے اس نے ضیاء الحق کے مارشل لاء کا سینہ وار مقابلہ کیا اور پھر اسے وطن بدری کی سزا ملی۔ یوں وہ دامے درمے سخنے پیپلزپارٹی کی خدمت کرنے میں مصروف رہے۔ سیاسی جدوجہد کے ساتھ اب انہوں نے قلمی جدوجہد کا آغاز کر دیا ہے اور اسے بھی پارٹی کے اصولوں کے لیے وقف کرنے کی ٹھانی ہے اور ہر طرح سے پاکستان پیپلزپارٹی اور محترمہ بینظیر بھٹو کے آدرشوں کا ہو کر رہ گیا۔ زیر نظر کتاب اس کی ایک بہترین کاوش ہے اس میں بھٹو صاحب کی زندگی کے مختلف گوشوں کو نہ صرف اجاگر کرنے اور قارئین تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ ان کی شہادت کے بعد جو کچھ گڑھی خدا بخش میں ہوا اس کی لمحہ لمحہ رپورٹ بھی ہے۔ مجھے توقع ہے کہ پارٹی کے اس نوجوان لیڈر کی کاوش کو لوگ پسند کریں گے اور حوصلہ افزائی کرتے رہیں گے تاکہ ان کا زور قلم اور زیادہ ہو۔ جہانگیر بدر سیکرٹری جنرل پی پی پی‘‘صرف اکرم شیخ کے متعلق میری تحریر سے جہانگیر بدر صاحب نے میری برسوں کی دوستی اور فیملی تعلقات کو جو یکمشت نظرانداز کیا ہے وہ حیران کن ہے۔مجھے بس اور کچھ نہیں کہنا بقول شاعر: اک ذرا سی بات پہ برسوں کے یارانے گئے چلو اچھا ہوا کہ کچھ لوگ تو پہچانے گئے بدر صاحب جہاں تک قلم بیچنے کی بات ہے تو میں اگر دولت کا پجاری ہوتا تو میرے پاس بحیثیت ممبر فیڈرل کونسل پیپلزپارٹی زیادہ چانس تھے کہ لوٹ مار گروپ میں شامل ہو کر مال بناتا۔ اگر ایک انڈرمیٹرک شخص 120ارب روپے بنا سکتاہے تو آگے آپ بہتر جانتے ہیں؟آخر میں میرا ایک سوال ہے کہ میں پچھلے 6سال سے پاکستان پیپلزپارٹی کی پالیسیوں اور قیادت پر اصلاح کے لیے مسلسل تنقید کرتا رہا ہوں مگر بحیثیت جنرل سیکرٹری پاکستان پیپلزپارٹی ڈاکٹر جہانگیر بدر (جس سے میرا روزانہ کی بنیاد پر ملاقات اور رابطہ ہے)نے ایک بار بھی مجھے نہ تو پوچھا ہے کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہو اور نہ ہی میرے کسی کالم کا جواب دینے کی زحمت گوارہ کی ہے۔ میرا گذشتہ کالم اکرم شیخ کے متعلق تھا جو کہ ایک دوسری سیاسی جماعت کا رکن ہے اور بڑے نقادوں میں اس کا شمار ہوتا ہے اور اس وقت بھی نوازشریف حکومت کا پراسیکیوٹر ہے۔ اکرم شیخ کے متعلق لکھنے پر ڈاکٹر جہانگیر بدر کی ناراضگی اور غصہ میری سمجھ سے بالاتر ہے؟ اور کئی اشارے مختلف سمتوں کو مل رہے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus