×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
صدر کا دورہ امریکہ اور ناگزیر قومی اتحاد
Dated: 10-May-2009
سوات میں ہونے والے امن معاہدے کو حکومت رول ماڈل بنانا چاہتی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے طالبان کی طرف سے معاہدے کا احترام کرنے میں سنجیدگی سے کام نہیں لیا گیااور معاہدے کے ضامن بھی اپنا اثرو رسوخ استعمال کرنے میں ناکام رہے۔سوات میں امن کے قیام میں سرحد حکومت نے احسن کردار ادا کیا۔ لیکن امن ایک خواب اور سراب ثابت ہوا۔سکول بدستور گرائے جاتے رہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کو ذبح کیا جاتا رہا۔ بالآخر معاہدے کے اہم فریق سرحد حکومت کو بھی کہنا پڑا کہ عسکریت پسندوں کا ایجنڈاصرف اور صرف وقت کا زیاں اور معاملے کو لٹکانا ہے۔چونکہ حالات و واقعات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ طالبان کی صفوں میں گھسے ہوئے غیرملکی جن کاکہ ایجنڈا ہی صرف یہ ہے کہ پاکستان کو اندرونی طور پر اتنا کمزور کر دیا جائے کہ دنیا کی یہ ساتویں بڑی نیوکلیئر پاور طالبان کے کنٹرول میں آ کر ان کے ہاتھوں کھلونا بن جائے اور اس طرح وہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جائیں۔ جبکہ دوسری طرف حکومت پاکستان نے امریکہ سمیت ہر بیرونی اور اندرونی دبائو کو مسترد کرتے ہوئے سوات امن معاہدے اور نظامِ عدل ریگولیشن کی منظوری پارلیمنٹ سے حاصل کی اور صدر نے اس پر دستخط کر دیئے۔ دستخطوں میں صرف چند دنوں کی تاخیر بھی اس لیے ہوئی کہ بل پارلیمنٹ میں تھا اس پر اے این پی ناراض ہوئی۔ بل پاس ہوا تو ایم کیو ایم نے تحفظات کا اظہار کیا۔ مغرب اور امریکہ نے نہ جانے کیاکیا کہہ دیا۔لیکن صدرمملکت جناب آصف علی زرداری اور ان کی پوری ٹیم یہ سمجھتی تھی کہ اگر طالبان یا ان کے داعیوں کو یہ موقع نہ دیا گیا تو اخلاقی طور پر وہ اپنے آپ کو گلٹی محسوس کریں گے۔جبکہ عسکریت پسندوں کا معاہدوں کے احترام کا ریکارڈ کبھی بھی قابل تحسین نہیں رہا۔عسکریت پسندوں کو حکومت کے جرأت مندانہ سٹینڈ پر فخر ہونا چاہیے تھا اور معاہدے کے بدخواہوں کا منہ بند کرنے کے لیے معاہدے کی ایک ایک شق پر دل و جان سے عمل کرنا چاہیے تھا۔ لیکن افسوس ایسا نہ ہوسکا اور عسکریت پسندوں کے ترجمان مولانا صوفی محمد ملک کے اندر ایک نئی بحث چھیڑ دی جس سے آئین پاکستان کو جس پر کہ پاکستان کی سبھی سیاسی و مذہبی جماعتیں پوری طرح متفق ہیں کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی اور اس کے علاوہ ملک کے اندر فرقہ وارانہ فسادا ت کی شدید آگ بھڑکنے کا خدشہ تھا اور دوسری طرف طالبان ہتھیار پھینک کر ڈسپلن میں بھی آنے کو تیار نہیں تھے۔ مجبوراً حکومت کو سخت اقدامات کا فیصلہ کرنا پڑا اور اپنی تمام اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے بعد گذشتہ روز قوم سے اپنے خطاب کے دوران وزیراعظم جناب یوسف رضا گیلانی صاحب نے پوری قوم کی عکاسی کرتے ہوئے فوج کو شدت پسندوں کے مکمل خاتمے کا حکم دے دیا جس پر عمل درآمد ہو رہا ہے۔ یہی علمائے مملکت اور علمائے اہلسنت کا بھی مطالبہ تھا۔ اسلامی نقطہ نظر سے جہاد کا اعلان صرف ریاست کر سکتی ہے۔ جو ریاست نے شرپسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وادی میں صرف 4ہزار امن دشمن عناصر ہیں۔ جو پاکستان کی کروڑوں عوام اورعلاقے کے لاکھوں افراد کی زندگیوں کو اجیرن بنائے ہوئے ہیں۔ 12لاکھ سے زائد انسان ان کی وجہ سے اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ اسلام اقلیتوں کے تحفظ کا حکم دیتا جہاں اقلیتوں کے ساتھ بھی ظلم روا رکھا گیااور پاکستان جو مختلف مذاہب کے رہنے والوں کے لیے ایک خوبصورت گلدستے کی حیثیت رکھتا ہے اور پاکستان کے 63سالہ قیام کے بعد سے لے کر اب تک کہیں بھی اقلیتوں کے ساتھ زیادتی کا کوئی ایک بھی نمونہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اب طالبان نے سکھوں کو جزیہ کے نام پر جو تنگ کرنا شروع کیا ہے اس سے پاکستان کی نہ صرف عالمی برادری میں سبکی ہوئی ہے بلکہ عالمی برادری میں بھی اسلام کے متعلق پائے جانے والی سوچ کو دھچکا لگا ہے اور اس کے ساتھ ہی ہمارے بارڈر کے ساتھ انڈین پنجاب کا ایک بہت بڑا صوبہ ہے جہاںپر سکھوں کے ساتھ ہماری ثقافتی اور سماجی سوچ ہم آہنگ ہے۔ایسے میں امن دشمن عناصر کے خاتمے کے لیے فوج اور حکومت کی طرح پوری قوم کو بھی متحد ہونا پڑے گا۔ اگر علماء، مزدور، کسان، وکیل، اساتذہ،ڈاکٹرز اور ہر طبقہ ہائے فکر کے لوگ دہشت گردوں اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوج کا ساتھ دیں تو چار ہزار افراد کا خاتمہ مہینوں نہیں دنوں میں ہو سکتا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کو پاکستان نے بُرے وقت میں پناہ دی آج یہ اپنے میزبان ملک کو تباہی کے دہانے پر لے آئے ہیں۔ یقینا ان میں دشمن کے ایجنٹ بھی شامل ہیں۔ کوئی بھی پاکستانی اور مسلمان اپنے وطن کی املاک کو نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس وقت پوری دنیا میں تعلیم کے بغیر جینا ایک لامحال تصور نظر آتا ہے ایسے میں مملکت کے سکولوں کو تباہ کرنا یہ کس سوچ کی عکاسی کرتا ہے؟دراصل عسکریت پسند پاکستان کو یرغمال بنا کر مفلوج بنا دینا چاہتے ہیں۔ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کے امریکہ دورے سے قبل اعلیٰ امریکی انتظامیہ نے بڑے غیر ذمہ دارانہ بیانات دیئے۔ رچرڈ ہالبروک نے خود ہی اپنی انتظامیہ کو جواب بھی دے دیئے۔ تاہم صدر صاحب امریکہ گئے تو صدر اوباما اور وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن نے صدر زرداری کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔ سب سے بڑی کامیابی امریکہ کی طرف سے پانی کا تنازع حل کرانے کا وعدہ ہے۔ صدر کا ہر حوالے سے امریکی دورہ کامیاب رہا۔ جمہوری حکومت کے خلاف اعلیٰ امریکی انتظامیہ بیان دے کر صدر آصف علی زرداری کو دبائو میں لانا چاہتی تھی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکی۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے پچھلے کالم میں صدر صاحب کو امریکہ کا دورہ منسوخ کرنے کی تجویز دی تھی۔ مگر موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو امریکہ نے پاکستان کو اب تک دی جانے والی امداد جو کہ ساڑھے سات ارب ڈالر اور اس کے علاوہ فرینڈ آف پاکستان سے پانچ ارب اٹھائیس کروڑاور جاپان سے بھی ایک ارب ڈالر کی امداد دلوانے میں کردار ادا کیا۔ اب امریکہ نے تقریباً دو ارب ڈالر کی نئی امداد کا پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد اعلان کیا ہے۔ اور اس کے علاوہ سہ افریقی میٹنگز کا اہتمام کیا گیا اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے کہ خطے میں پُرامن حالات کے لیے ہمیں افغانستان کو بھی اس میں شامل کرنا ہوگا۔میں یہاں پر یہ کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر ترکی اور ایران کو بھی ان مذاکرات میں شامل کر لیا جاتا تو یہ ایک انتہائی احسن اقدام ہوتا۔اس سے خطے کے اندر امن کی گارنٹی کو یقینی بنایا جا سکتا تھا۔ بہرحال صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے پاکستان کا مقدمہ بڑی بے باکی سے پیش کیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے ملک و قوم کو سیاسی اور پے در پے بحرانوں سے تو نجات دلا دی ہے مگر آج سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بلوچستان میں لگی آگ پر قابو پانا ہے۔ دونوں محاذوں پر کامیابی سیاسی جماعتوں کے اتحاد سے حاصل کی جا سکتی ہے۔ خصوصی طور پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین مفاہمت ہے۔ گو آج پھر دونوں جماعتوں میں مفاہمت تو موجود ہے لیکن یہ ایسے نازک دوراہے پر ہے کہ ایک چھوٹی سی غلطی بھی کسی بڑے اپ سیٹ کا موجب بن سکتی ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ مسلم لیگ(ن) بھی پنجاب حکومت میں پیپلز پارٹی کی شمولیت کی طرح مرکز میں حکومت میں شامل ہو جائے۔ گو میاں نواز شریف نے کئی بار کہا ہے کہ وہ حکومت سے باہر رہ کر بھی مرکزی حکومت کو سپورٹ کریں گے لیکن ایسا یوں ممکن نہیں میاں نوازشریف نے کابینہ سے اپنے وزیر واپس بلائے تو ایسے ہی عزم کا اظہار کیا تھا لیکن پارلیمنٹ سے باہر بیٹھے کچھ کھلاڑیوں نے یہ معاملات چلنے نہ دیئے۔اگر دونوں پارٹیاںساتھ نہ چلیں تو بوٹوں کی دھمک دونوں کے لیے یکساں نقصان دہ ہو گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جری اور بہادر فوج ملک میں جمہوریت کی کامیابی کے لیے اتنی ہی متمنی ہے جتنی کہ پاکستان کی جمہوریت پسند عوام۔ لیکن اگر ہم نے آپس میں لڑ کر افواج پاکستان کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ہم ہی دراصل نااہل ہیںتو پھر فوج کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہ جائے گا کہ وہ اس ملک اور اس اساس کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔اس لیے موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی،مسلم لیگ (ن)، ایم کیو ایم، اے این پی اور جمعیت علماء اسلام (ف)کے درمیان ایک ایسا اتحاد اور اعتماد کی فضا بنانا ضروری ہو گیا ہے اور اتحاد کی اس چھتری تلے جمہوریت کی گھنی چھائوں سے سب سیاسی پارٹیاں اور پاکستان کے قریباً18کروڑ عوام اس سے مستفید ہو سکیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus