×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
فتح مقدر ہے۔قوم فوج کو اپنے اعتماد سے نوازے کیا سری لنکن آپریشن ایک رول ماڈل ہے؟
Dated: 17-May-2009
فتح ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔ انگریز اور ہندو قیامِ پاکستان کے مخالف تھے حضرت قائداعظم اور ان کے ساتھیوں نے حق اور سچ کا علم تھامے رکھا بالآخر سچ غالب آیا باطل قوتوں کو شکست ہوئی۔ آج ہماری فوج دہشت گردی کے ساتھ نبرد آزما ہے کیا ہماری فوج حکومت اور قوم حق پر نہیں؟ اگر حق پر ہے تو ان کی فتح بھی روزِ روشن کی طرح عیاں اور یقینی ہے۔ قوموں کی زندگی میں دنوں، ہفتوں اور مہینوں کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، بعض معاملات کئی سال چلتے اور طے ہوتے ہیں۔ اس کی موجودہ دور میں سب سے بڑی مثال سری لنکن حکومت کی تامل ٹائیگرز پر قابو پانا ہے۔ سری لنکن حکومت کے خلاف آج سے 26سال قبل 1983 ء میں باغیوں نے الگ ملک کے قیام کی جدوجہد کے لیے ہتھیار اٹھائے تھے۔ حکومت نے ان کی جدوجہد کو قبول کرنے سے انکار کیا تو یہ پرتشدد کاروائیوں پر اتر آئے۔ دہشت اور بربریت کا بازار گرم کر دیا۔ اس دہشت گردی میں ان کا ایک صدر اور ایک وزیر اعظم مارا گیا۔ پارلیمنٹ کو اڑا دیا گیا تو 70کے قریب پارلیمنٹیرین زندگی کی بازی ہار گئے۔ ہوائی اڈے کو تباہ کیا گیا تو 7کمرشل جہاز بھی دوسرے جنگی جہازوں کے ساتھ جل کر راکھ ہو گئے لیکن باغیوں کے سامنے حکومت جھکی نہ اس کی فوج نے لڑنے سے انکار کیا۔ سری لنکن کے موجودہ صدر مہندرا راج پاکسے کی ایک آنکھ بھی دہشت گردی کے ایک حملے میں ضائع ہو چکی ہے۔ سری لنکا 16.5ملین (ایک کروڑ پینسٹھ لاکھ)آبادی کا ملک ہے اکثریتی آبادی سنگلس بدھسٹ پر مشتمل ہے تامل ہندوئوں کی تعداد32لاکھ،مسلمان25لاکھ کے قریب ہیں جبکہ تامل اور سنگلس بولنے والے 10لاکھ کے قریب عیسائی بھی اس جزیرہ نما سری لنکا کا حصہ ہیں۔ تامل باغیوں کے پاس نہ صرف یونیفام میں تربیت یافتہ بری گوریلوں کے علاوہ ایک مکمل بحری اور فضائی ونگز بھی موجود ہیں۔ باغیوں کے اپنے ہیلی کاپٹر اور جنگی کشتیاں موجود تھیں۔ ان کے پاس روپے پیسے کی کمی تھی نہ اسلحہ کی۔بھارت کھل کر سری لنکن حکومت کے مقابلے میں باغیوں ی حمایت کرتا تھا۔ ان کو اسلحہ فراہم کرتا اور ضرورت پڑنے پر پناہ بھی دیتارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ راجیو گاندھی جب وزیراعظم تھے تو انہوں نے ایک لاکھ انڈین فوج کو سری لنکا میں اتار دیا بعدازاں بین الاقوامی پریشر پر اپنی فوج کو واپس بلوایا اس دوران وہ سری لنکا کے سرکاری دورے پر تھے کہ گارڈ آف آنر کے دوران ان کو بندوق کا بٹ مار کر زخمی کیا گیااور بعدازاں سری لنکا سے انڈین فوج کی واپسی کے بعد ناراض تامل باغیوں نے ایک خودکش حملہ میں راجیو گاندھی کام تمام کر دیا۔ (یاد رہے کہ خود انڈیا کے اندر تامل زبان بولنے والے ہندوئوں کا ایک صوبہ تامل ناڈو کے نام سے موجود ہے جن کی تعدادڈیڑھ کروڑ کے قریب ہے)بھارت اپنے ڈیڑھ کروڑ تاملوں کو تو علیحدہ ملک دینے کے لیے تیار نہیں لیکن سری لنکا میں بسنے والے صرف 32لاکھ تاملوں کے لیے اس کے دل میں ہر وقت مروڑ اٹھتے ہیں۔ تامل روزگار اور پناہ گزینوں کی صورت میں پوری دنیا میں موجود ہیں۔ یورپ میں خصوصی طور پر جرمن،انگلینڈ، سوئٹزرلینڈ،ناروے،اٹلی اور سکینڈے نیویا میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 8لاکھ کے قریب تامل سیاسی پناہ گزین موجو د ہیں جبکہ کینیڈا اور امریکہ میں ان کی تعداد 5لاکھ سے زائد بنتی ہے۔ اس طرح اپنی کل آبادی کا تیسرا حصہ تامل دیارے غیر میں سیاسی پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور اخلاقی ہی نہیں جبری طور پر پابند ہیں کہ وہ اپنی تنخواہ یا جو بھی کاروبار کریں اس کا دسواں حصہ ان کو Ellm کو دینا پڑتا ہے یہ تامل باغیوں کا عسکری ونگ ہے۔جب کہ یورپ میں بھتہ نہ دینے والوں سے زبردستی وصول کیا جاتا ہے اس سلسلے میں یورپ بھر میں تامل آرگنائزیشن کے خلاف سینکڑوں کیسز درج ہیں۔اور یورپ جس نے تاملوں کی ایک بڑی تعداد کو سیاسی پناہ دی آج ان کی مجرمانہ عزائم سے خائف ہے۔یوں تامل ٹائیگرز کے اثاثے اربوں ڈالرز میں تھے۔ ان تاملوں نے سری لنکا کے اندر مسلمانوں کا عرصہ حیات بھی اس لیے تنگ کر رکھا تھا کہ مسلمان بڑی اقلیت ہونے کی وجہ سے ہمیشہ حکمران پارٹی اور سنگلس کے اتحادی رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں پر حملوں کے ساتھ ساتھ سری لنکا میں مسلمانوں کی مساجد کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔بھارت چونکہ تامل باغیوں کو پناہ دیتا تھا اس لیے بھارت اپنے مذموم ایجنڈے کی تکمیل کے لیے تامل باغیوں کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے بھی استعمال کرتا تھا۔ لبرٹی چوک میں سری لنکن ٹیم پر حملے کی واردات میں تامل باغیوں کے شامل ہونے کے بھی ثبوت ملے ہیں اورسری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملہ بھی تامل باغیوں کے گوریلہ انداز جیسا تھا۔پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق بھارت نے جن تخریب کاروں کو تربیت دے کر افغانستان کے راستے طالبان کے بھیس میں ہمارے قبائلی علاقوں میں بھجوایا ان میں تامل ٹائیگرز بھی شامل ہیں۔ آبادی کے لحاظ سے سری لنکا کوئی بڑا ملک نہیں،جبکہ بھارت آبادی کے لحاظ سے دوسرا بڑا ملک ہے۔ اس مکمل پشت پناہی کے باوجود چھوٹے سے ملک کی معمولی سی فوج نے اپنی قوم کے اتحاد اورآشیرباد کے باعث اسلحہ اور روپے سے لدے پھدے مضبوط باغیوں کو بالآخر ہتھیار پھینکنے پر مجبور کر دیا۔ گو ان کو اس عمل کو پائے تکمیل تک پہنچانے میں 26سال لگ گئے تاہم جہد مسلسل اور عمل پیہم سے وہ اپنے ملک کو باغیوں کے شکنجے سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ 17مئی کو باغیوں کے سرغنہ پربھاکرن اپنے 71ساتھیوں سمیت مارا گیا۔اس کی بیوی اور بیٹی بھی اس میں شامل ہیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق ا س نے خودکشی کی تاہم اس کے باقی ساتھیوں نے فوج کے سامنے ہتھیار پھینک دیئے۔ باغیو ں کے اس گروہ نے 2لاکھ 10ہزار افراد کو یرغمال بنایا ہوا تھا جن کو فوج بحفاظت نکال لے گئی۔ آج پاکستان کو بھی سفاکیت کی علامت دہشت گردوں کا سامنا ہے۔ ان کو کچھ لوگ طالبان کہتے ہیں حالانکہ یہ طالبان ہیں نہ ان کا طالبان سے کوئی تعلق یہ انسانیت سوز کاروائیوں کا نشان ہیں۔ یہ غیرملکی ایجنٹ اور وطن پاک کے امن کے دشمن ہیں۔ یہ تامل ٹائیگرز کی طرح طاقتور نہیں ہیں۔ پاکستان اور پاکستانی فوج سری لنکا اور اس کی فوج کی طرح کمزور بھی نہیں، سری لنکا کی آبادی ڈیڑھ کروڑ سے کچھ زیادہ ہے جبکہ پاکستان کی آبادی اس وقت 18 کروڑ سے بھی زیادہ ہے اور اس کے ساتھ پاکستان دنیا کی ساتویں بڑی نیوکلیئر پاور ہے۔ شمالی علاقوں اور سوات میں فوج کے ساتھ لڑنے والے دہشت گردوں کو بھارت جیسے کسی ملک کی سرعام امداد بھی حاصل نہیں۔ ایسے میں ان دہشت گردوں کو ہوا بنا کر پیش کرنا دانشمندی نہیں۔ قوم کو خوفزدہ کرنے کی یہ ایک دانستہ کوشش ہے۔ سری لنکا فوج کی کامیابی سنگلس قوم کا اتحاد اور اپنے سیسہ پلائی دیار بن کر اپنی فوج کے پیچھے کھڑا ہو جانا تھا۔ آج ہماری فوج کو بھی ضرورت ہے کہ قوم اس کی پشت پر متحد ہو کر کھڑی ہو جائے۔ ہمیں سیاست کرنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا پھر وقت مل جائے گا اس وقت ضرورت اتحاد، یکجہتی اور یگانگت کی ہے، جس کا مظاہرہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجود سیاسی جماعتوں نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس میں کیا بھی ہے۔ یہ اتحاد یونہی برقرار رہا تو ہماری جری اور بہادر فوج دہشت گردوں کا قلع قمع کر دے گی۔ تامل باغیوں کو شکست سے دوچا ر کرنے میں پاکستانی افواج اور پاک فضایہ کا اہم کردار ہے۔ سری لنکن فوج تربیت کے لیے پاکستان آتی رہتی ہے اور سری لنکا کی جو مختصر ترین فوج ہے اس کی تربیت پاکستان کی ملٹری اکیڈمی کے ذریعے ہوتی رہی ہے اور پاک فضائیہ نے تامل ٹائیگرزکے ٹھکانے تباہ کرنے میں اہم آپریشنز کیے ہیں۔ اگر ہماری فوج اور فضائیہ ہزاروں میل دور اجنبی دیس میں کاروائیاں کرکے اور کاروائیوں میں مدد کرکے طاقتور تامل ٹائیگرز کا صفایا کر سکتی ہے تو سوات، بونیر اور شانگلہ وغیرہ میں مٹھی بھر دہشت گردوں کو انجام تک پہنچانا مشکل نہیں۔ آپریشن جلدی ختم کرو، جلدی ختم کرو کی رٹ لگانے والوں کو سری لنکن فوج کی 26سالہ جدوجہد پر نظر ڈالنی چاہیے، سری لنکا فوج نے جو کام 26سال قبل شروع کیا تھا وہ پاک فوج نے آج شروع کیا ہے۔ صرف جولائی2006سے لے کر اب تک 6200سری لنکن فوجی ان کاروائیوں میں جاں بحق ہوئے اور بیس ہزار کے قریب فوجی زخمی ہوئے۔اس کے علاوہ ایک لاکھ کے قریب سویلین آبادی تامل اور خودکش حملوں کا نشانہ بنی ہے۔ یقین ہے کہ پاک فوج آپریشن سالوں تک نہیں لے جائے گی تاہم اسے مناسب وقت ملنا چاہیے۔ وہ اپنی مرضی سے آپریشن کریں۔ ان پر کسی قسم کا دبائو نہیں ہونا چاہیے، ان کے ساتھ قوم کا اعتماد ہونا چاہیے۔ دہشت گرد کسی صورت نہیں جیت سکتے۔بس قوم کو 65ء والا جذبہ دکھانا ہوگا اور پھر اس بہادر فوج کے کارنامے آئندہ صدیوں تک تاریخ کا حصہ بنیں گے۔ ہماری خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے میجر عابد اور کیپٹن بلال یقینا ہماری دھرتی کے ہیرو ہیں اور جب تک قوم ان کے ساتھ ہے دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی طرف میلی آنکھ کرکے دیکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔ کچھ لوگوں کی طرف سے ’’پاکستان ٹوٹ جائے گا، بلوچستان الگ ہو جائے گا‘‘ کا راگ الاپناشرمناک ہے۔ پاکستان تمام تر سیاسی و معاشی بحرانوں کے باوجود ایک مضبوط ملک ہے۔ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے اسے سیاسی بحرانوں سے نکال لیا ہے۔ معاشی بحران بھی دم توڑتے نظر آ رہے ہیں۔ صدر پاکستان 20روزہ دورے سے واپس آئے تو امداد کے ایک ارب 90کروڑ ڈالر ساتھ لائے۔ ان کی واپسی کے بعد بھی امدادی رقوم کی ترسیل جاری ہے۔ پاکستان ہمیشہ قائم رہنے کے لیے بنا تھا اور انشاء اللہ قائم رہے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus