×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
دہشتگردوں کا یہی علاج ہے اور کاری ضرب کا بہترین موقع بھی
Dated: 22-Feb-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یہی علاج ہے، یہی علاج ، بالکل یہی علاج۔ فوج نے بمباری کرکے40 دہشتگردوں کو جہنم رسید کر دیا۔ ان میں سے کوئی پاکستانیوں کا خون بہانے کے لیے بم بنا رہا تھا ، کوئی خودکش دھماکوں کی تربیت دے رہا تھا اور کوئی تربیت لے رہا تھا۔ کوئی ازبک تھا، کوئی کرغیز،، دہشتگرد دہشتگرد ہوتا ہے۔ اس کا انسانیت کا خون کرنے کے سوا کوئی مذہب اور مقصد نہیں ہوتا۔ حکمرانوں نے اپنے مفاد کے لیے قومی مفاد ہی کا نہیں بے گناہ اور معصوم پاکستانیوں کے کون کا بھی سودا کر لیا۔ آج کی فوجی لیڈرشپ نے بڑے حوصلے سے سیاسی قیادت کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کیا، دہشتگردوں نے اس قیادت کو بھی سابق کیانی قیادت کی طرح کمزور سمجھا۔ سیاسی قیادت کی بزدلی پر کوئی دوسری رائے ہی نہیں ہو سکتی۔ جنرل کیانی اپنی فوج کے ہاتھ پائوں باندھ کران کو دہشتگردوں کے سامنے پھینکتے رہے۔ جی ایچ کیو حملے کے بعد دہشتگردوں کو منہ توڑ جواب دیا ہوتا تو مہران اور کامرہ ایئر بیس پر دہشتگردوں کو حملوں کی جرأت نہ ہوتی۔کیانی کی ریٹائرمنٹ سے دہشتگردوں کا عذاب ٹلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ سیاسی حکومت نے مصالحانہ پالیسی اختیار کرتے ہوئے دہشتگردوں کو مذاکرات کی پیشکش کرکے ان کے حوصلے نہ بڑھائے ہوتے تو آج پاکستان سے دہشتگردی میں واضح کمی ہو چکی ہوتی۔ وہ ایک طرف مذاکرات اور دوسری طرف بدمعاشی کرتے رہے۔ اب 23فوجیوں کو ذبح کرنے کے جواب میں جو بمباری کی گئی اور مذاکرات سے انکار کیا گیا ہے اس میں حکومت کی بہادری کا قطعاً عمل دخل نہیں ہے۔ اب بھی مذاکرات پر اصرار کیا جاتا تو بہت کچھ بدل سکتا تھا۔ فوج ان دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات کی کبھی حامی نہیں رہی جنہوں نے دس ہزار فوجیوں کو شہید کیا۔ نوازشریف اس کو آخری موقع دینے کی بات کرتے ہیں۔ دراصل حکومتی سیاستدان کی دہشتگردوں کی دھمکیوں پر کانپتی ٹانگیں دیکھ کر فوج نے نئی حکومت کو دہشتگردوں سے مذاکرات کا ’’چائو‘‘ پورا کرنے کا موقع دیا تھا۔ یہ تو کل تک آئیں بائیں شائیں کر رہے تھے۔ اوریہ جو کہہ رہے ہیں وہ ایک بار بات کریں گے تو ہم دو بار بات کریںگے، وہ ایک بار وار کریں گے تو ہم دو بار وارکریں گے اور وزیراعظم نے آرمی چیف کے ساتھ ملاقات میں مذاکرات کے بجائے ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ،وزیر دفاع کہتے ہیں فوج کو کارروائی کا اختیار دیدیا،یہ نعرے، دعوے اور بڑھکیں اس وقت لگائی گئیں جب دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کیے ہوئے 16گھنٹے گزر چکے تھے۔ دہشتگردوں کے خلاف آخری قدم اٹھانے میں حکومت آگے اور فوج اس کے ساتھ ہے والی بات غلط ہے۔ صحیح یہ ہے کہ حکومت اس معاملے میں فوج کے ساتھ ہے اور اس میں حکومت کو شرمندگی نہیں ہونی چاہیے۔ حکومت کے پاس شاید اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔حکومت کے پاس اب بھی کریڈٹ لینے کے لیے بہت کچھ ہے۔ قوم تو دہشتگردی کی آگ میں جل رہی ہے۔ مذاکراتی پیشکشوں اور عمل کے دوران 5سو سویلین اور دو سو فوجی و سکیورٹی افسر اور اہلکار شہید ہو گئے۔ ان کا خون مذاکرات کے حامیوں کے سر ہے۔ دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات چہ معنی داد۔ وہ ہماری سرزمین پر رہیں، ہمارا کھائیں ، ہم پر ہی بندوق چلائیں۔ ہم جیسا کون احمق ہو سکتا ہے جو ان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے منتیں کرے۔ آپ کے گھر میں ڈاکہ ڈالنے والا ایک دو افراد کو قتل بھی کر دے تو کیا اس کے ساتھ آپ بغل گیر ہوں گے؟ دہشتگرد جیسا بزدل اور سفاک انسان کوئی ہو ہی نہیں سکتا۔ اس کا علاج اس کی گردن اڑانا ہے اسے پھول پیش کرنا نہیں۔ جنرل راحیل شریف ایک ماہ، صرف ایک ماہ اسی عزم اور حوصلے کے ساتھ آپریشن جاری رکھیں تو دہشتگردوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ دہشتگردوں کے پشت پناہ بھی کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ آج 40دہشتگرد مرے تو منور حسن کی ہمدردی جاگ گئی۔ ان کو 23اہلکاروں کے کٹے سر نظر نہیں آئے۔ کیا یہ کسی کے بیٹے نہیں ہیں؟ یہ تو قوم کے بیٹے ہیں ان سے زیادہ آپ کو بے گناہوں کو ذبح کرنے والوں سے ہمدردی ہے۔ ہمارے فوجی افغانستان میں ذبح کیے گئے۔ ابھی کل حامد کرزئی اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے کا معاہدہ کر رہے تھے اس کے باوجود وہاں اتنا بھیانک واقعہ ہو گیا۔ یہ کرزئی کی منافقت کی انتہا ہے۔ پاکستان کے مقابلے میں افغان انتظامیہ کی حیثیت ہی کیا ہے۔ کیا پدی کیا پدی کا شوربہ! پاک فضائیہ نے پانچ حملوں میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر درست نشانے لگا کر اپنی مہارت ثابت کر دی۔ افغانستان میں داخل ہو کر پاک فضائیہ اسی طرح دہشتگردوں کے ٹھکانے تباہ کر دے تو قوم مسلح افواج کے ساتھ ہو گی۔سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے دہشتگردوں کو سزا نہ دینے کی جو عدالتی پالیسی اپنا رکھی تھی اس سے بھی یقینا دہشتگردوں کے حوصلے بڑھے۔ قوم اب توقع کرتی ہے کہ نئے قائد اور ان کی ٹیم دہشتگردوں کو قرارِ واقعی سزا دے کر انصاف کا بول بالا کرے گی۔ وزیراعظم نوازشریف تھوڑی سی دلیری کریں۔ جو کریڈٹ لینے والا ہے وہ لیں۔ حکومت دہشتگردوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنا کا تاثر دے رہی ہے۔ ان486 دہشتگردوں کو پھانسی لگا کر پختہ کر دے جن کو عدالتوں سے سزائے موت ہو چکی ہے۔ دہشتگرد آخر کیا کر لیں گے؟ وہی کچھ جو پہلے ہو رہا ہے۔ ان کے سامنے گھٹنے ٹیک کر مرنے سے بہتر ہے کہ مقابلہ کیا جائے جس میں جنرل راحیل جیسا سپہ سالار ہو تو جیتنے کا سو فیصد یقین ہے۔ دہشتگردوں پر کاری ضرب لگانے کا یہی مناسب اور بہترین موقع ہے۔ میاں نوازشریف شیر بنیں۔ آج دہشت گردوں پہ لگنے والی اس کاری ضرب سے منور حسن جیسے نام نہاد لیڈروں کی چیخیں نکل رہی ہیں ان کا ذہنی علاج دیارِ غیر میں کروانے کے لیے میں اپنی خدمات پیش کرتا ہوں کیونکہ انہی ذہنی مریض لیڈروں نے20کروڑ عوام کو پچھلے دس سال سے جس ذہنی کرب اور اذیت کا شکار بنا رکھا ہے شاید اب قوم کی جان ان سے چھوٹ جائے۔ بزرگ سچ ہی کہتے ہیں کہ ’’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے‘‘
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus