×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے
Dated: 25-Feb-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com میرا ماتھا اتنی شدت سے کیوں ٹھنکا یہ مجھے تب محسوس ہوا جب گذشتہ الیکشن سے پہلے اتحاد گروپس ٹوٹ رہے تھے اور نئے اتحاد ترتیب و تشکیل پا رہے تھے۔ ایم کیو ایم سندھ میں اور اے این پی خیبرپختونخواہ میں پی پی پی کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ متحدہ مجلس عمل عرصہ سے عضوئے معطل کی طرح ہوا میں معلق تھی اور سیاسی تاریخ کی سب سے بڑی انہونی یہ ہونے چلی تھی کہ مسلم لیگ ن کی فطری اتحادی جماعت اسلامی کو مسلم لیگی قیادت کی طرف سے کوئی لفٹ نہیں تھی۔ بظاہر ایسا ہی تاثر دیا جا رہا تھا لیکن کہتے ہیں سیاست میں جو کچھ نظر آتا ہے وہ ہوتا نہیں۔ ایک ایسا ہی بھیانک کھیل کھیلنے کے لیے بساط بچھائی جا رہی تھی جس کے نتائج آج پوری قوم کے سامنے ہیں۔ پنجاب کے علاوہ باقی پاکستان میں پیپلزپارٹی 5سال پورے کر چکی تھی لیکن پھر بھی پیپلزپارٹی سیاسی تنہائی کا شکار تھی اور مسلم لیگ کا سیاسی اسٹاک ایکسچینج میں ریٹ اتنا بڑھ گیا تھا کہ اسے کسی پارٹی گروپ یا اتحاد سے کوالیشن کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ متحدہ مجلس عمل سے اتحاد ٹوٹنے کے بعد جماعت اسلامی سیاسی اور مذہبی محاذ پر تنہائی کا شکار ہو چکی تھی اور بظاہر ایسا نظر آ رہا تھا کہ ان الیکشن کے رزلٹ آنے کے بعد جماعت اسلامی تحریک اسلامی جیسی جماعت بن جائے گی مگر الیکشن نتائج اور الیکشن سے پہلے میاں نوازشریف کا امریکن اسٹیبلشمنٹ سے مُک مکا ہو چکا تھا۔ پی ٹی آئی کے حامی جرنیل جنرل پاشا کو رخصت کیا جا چکا تھا اور جنرل ریٹائرڈ کیانی بھی اپنے بھائیوں کے بزنس اور ایک دفعہ اور ٹرن لے کر اب پُرامن رخصی کے متمنی تھے۔ دوسری طرف پاکستان کی عدلیہ نے سابق چیف جسٹس کے زیر سایہ پانچ سال تک پیپلزپارٹی کو ٹف ٹائم دیا تھا اور پاکستان پیپلزپارٹی کی ناکامیوں کی طویل داستان کے پیچھے اسی عدلیہ کا خفیہ ہاتھ پنہاں تھا اور اس عدلیہ کے ڈھانڈے کہیں نہ کہیں موجودہ حکمرانوں سے جا کر ملتے تھے ڈائریکٹ یا ان ڈائریکٹ ۔یہی وجہ تھی کہ گذشتہ پانچ سال میں ہونے والی ہر تقرری اور ٹینڈر کی منظوری علداتوں میں چیلنج ہوئی۔ ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس میں عجب سراسیمگی تھی۔ حتی کہ وزیراعظم اور صدر مملکت رابطے کے لیے فون کی بجائے فیکس استعمال کرتے تھے۔ تیسری طرف پی ٹی آئی کی قیادت کو بھی یہ پیغام پہنچا دیا گیا تھا۔ پاکستان کی سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ انہیں پیپلزپارٹی کے متبادل کے طور پر قبول کرنے کو تیار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے الیکشن سے پہلے فائول کھیلنا شروع کر دیا۔ ایک تو لوٹے لٹیروں کو بے دریغ شامل کیا گیا پھر پارٹی قیادت کو یہ باور کرایا گیا کہ پارٹی الیکشن کروا دیئے جائیں۔ یہ مشورہ بالکل ایسے ہی تھا جیسے فوج کو عین جنگ سے پہلے مشقوں پر بھیج دیا جائے؟ خود مجھے یہ گماں بھی نہیں تھا کہ عمران خان صاحب اسی عالمی سازش کا شکار ہو جائیں گے۔ جس تیزی سے پی ٹی آئی نے ق لیگ کے لوٹوں کو سمیٹا اور دوسری طرف وائرکیے گئے کچھ کنگ میکرز صحافیوں نے پی ٹی آئی کی قیادت کو بظاہر اپاہج بنا دیا۔ کم از کم ذہنی طور پر پی ٹی آئی کی قیادت ٹریپ ہو چکی تھی۔ الیکشن سے صرف 72گھنٹے پہلے عمران خان کے ساتھ پیش آنے والا حادثہ بھی اسی سازش کی کڑی معلوم ہوتی ہے اور جب رزلٹ آئے تو تب میرا نہیں پی ٹی آئی کی قیادت کا ماتھا ٹھنکا کہ ان کے ساتھ ہاتھ ہو گیا ہے۔ عمران خان الیکشن سے پہلے ایک نجی محفل میں خود ہی کہہ چکے تھے کہ ان کو پنجاب سے 70سے50 سیٹیں ملنے کی توقع ہے جب کہ سندھ سے بھی حوصلہ افزا اطلاعات آ رہی تھیں جب کہ خیبرپختونخواہ سے کلین سویپ کا اشارہ مل رہا تھا مگر پنجاب میں 35پنکچر اور نجانے کتنے دیگر پنکچر مختلف اداروں کی جانب سے لگائے گئے ۔ یہی حال سندھ کے رزلٹ کا تھا جبکہ خیبرپختونخواہ میں پی ٹی آئی کو ایک خاص مقصد کے لیے ٹریپ کرکے اسی جماعت اسلامی کے ساتھ کوالیشن پارٹرنر بنا دیا گیا جس جماعت اسلامی کے طالب علم ونگ اسلامی جمعیت طلباء نے کچھ عرصہ قبل عمران خان کو یرغمال بنا کر موصوف کی ایسی دُرگت بنائی تھی جسے پورے ملک کے عوام نے میڈیا پر واچ کیا۔ پھر اسی جماعت اسلامی سے حکومتی اتحاد تشکیل دے کر عمران خان پہلی نفسیاتی جنگ بُری طرح ہار چکے تھے اور دوسرا خیبرپختونخواہ صوبہ کا محدود بجٹ اور زمینی حالات اور انوائرمنٹ بھی پُرامن نہ تھا۔ اس شورش زدہ علاقے کو تختہ مشق کے طور پر عمران خان صاحب کو پیش کیا گیا۔ میں اپنے دیگر ساتھیوں سمیت آج بھی اس فلسفے پر قائم ہو ں کہ عمران خان کو خیبرپختونخواہ میں حکومت نہیں لینی چاہیے تھی اور خاص طور پر جماعت اسلامی کے ساتھ کوالیشن تو بالکل سیاسی خودکشی کے مترادف تھا۔ ابھی حکومت تشکیل پائے جمعہ جمعہ 8دن نہ ہوئے تھے کہ ڈارون حملوں کو بنیاد بنا کر اس عمران خان کو جس کے ساتھ 90فیصد یوتھ تھی اور تبدیلی کا سلوگن لے کر ساتھ آئے تھے اسی یوتھ اور پاکستان لے لبرل طبقوں کو عمران خان اور پی ٹی آئی کی طرف سے پہلا دھچکا لگا۔ نظام میں تبدیلی لانے کی داعی جماعت کو ڈارون ،نیٹو کنٹینر بندش اور شہید یا ہلاک کی بحثوں میں الجھا دیا گیا ہے اس طرح عمران خان کو ڈی ٹریک کر دیا گیا ہے۔پاکستان کی یوتھ اور لبرل طبقات سمجھتے تھے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی ملک میں دو آزمائے ہوئے پہلوانوں میں سے بہتر چوائس ہیں اور لبرل اور پروگیسوسوچ ہی تبدیلی لا سکتی ہے مگر ڈیفنس کینٹ اور شہری علاقوں کے مکین اس وقت حیران رہ گئے جب عمران خان اور پی ٹی آئی کو جماعت اسلامی کے چنگل میں پھنسا ہوا دیکھا۔ اوپر سے امیر جماعت اسلامی مولانا منور حسن نے آ بیل مجھے مار کے مترادف ایک کڑے وقت میں شہادت پر متنازعہ بیان داغ دیا جس سے ملک کی 99.9 فیصد عوام اتفاق نہیں کرتی ہیں۔ مولانا منور حسن کا بیان فلسفہ طالبان کو سپورٹ کرتا ہوا مملکت کی بنیادیں ہلانے کا سبب بنا۔ مگر اس موقع پر بھی عمران خان صاحب اپنی گذشتہ غلطیوں کا ادراک نہ کرتے ہوئے صورت احوال کو سنبھالنے میں ناکام ثابت ہوئے۔ ابھی اس بیان کی شدت کی حرارت کم نہ ہوئی تھی کہ مولانا منور حسن نے یزید اور صحابہ اکرام کو ایک صف میں کھڑا کرکے تاریخ اور مسلم قوم کے منہ پر ایسا طمانچہ رسید کیا ہے کہ اب قوم کو لگنے والے اس زخم کو رفو کرنا ممکن نہیں رہا۔ میں نے اپنے گزشتہ کئی کالموںمیں جماعت اسلامی کی قیادت کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اب منور حسن صاحب سے جان چھڑا لیں مگر جماعت کی نجانے کیا مجبوریاں ہیں؟ تاریخ اور سیاست کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے سے میرا تجزیہ ہے کہ منور حسن کے ان اقدامات اور بیانات سے جماعت اسلامی بہت جلد تاریخ کے صفحات پر سے غائب ہو جائے گی۔ جماعت کی حالیہ پالیسیوں کی وجہ سے پاکستان کے 20کروڑ عوام سمجھنے لگ گئے ہیں کہ جماعت اسلامی نے خود کو دھکیل کر دہشت گردوں کی صف میں شامل کر لیا ہے۔ محبتوں کی ترجمان اس جماعت نے نفرتوں کا سودا اپنے گلے میں ڈال لیا ہے اور اپنے ساتھ عمران خان اور پی ٹی آئی کی سیاست کو بھی سپرد سمندر کر دیا ہے ۔ بڑی مشکلوں کے بعد قوم کو نوید ملی تھی اور عمران خان ایک متبادل قیادت کے طور پر ابھرے تھے مگر حسرت ان غنچوں پہ جوبِن کھلے مرجھا گئے اور جماعت اسلامی کی قیادت نے خود تو ڈوبنا ہی تھا مگر بقول شاعر: ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus