×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
وسّے گی اک ہی!
Dated: 08-Mar-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج مجھے بچپن میں سُنا ہوا پنجابی قصہ بہت یاد آ رہا ہے کہ ایک گائوں کا چوہدری گھوڑی پہ بیٹھ کر قریبی گائوں جانے کے لیے گھر سے روانہ ہوا۔ نزدیکی گائوں میں اس نے اپنی بیٹی بیاہی تھی اور چوہدری اُس کی خیرخیریت دریافت کرنے جا رہا تھا ابھی چوہدری گائوں سے باہر نکل ہی رہا تھا کہ اُسے راستے میں گائوں کا کمہار مل گیا اس نے چوہدری سے پوچھا چوہدری کہاں جا رہے ہو؟ چوہدری نے بتایا فلاں گائوں اپنی بیٹی کے سسرال جا رہا ہوں تو کمہار نے کہا چوہدری وہاں تو میری بیٹی بھی بیاہی ہوئی ہے۔ آپ جا تو رہے ہو ذرا پتہ کرتے آنا میری بیٹی کی خیر خیریت کی۔ چوہدری نے کہا کیوں نہیں وہ بھی میری بیٹی ہے، میں اس کا بھی پتہ کرتے آئوں گا۔ خیر چوہدری روانہ ہو گیا سیدھا اپنی بیٹی کے گھر گیا سب گھروالوں کا حال احوال پوچھا تو بیٹی کہنے لگی ابا دعا کرنا اس دفعہ ہم نے کافی چاول کی فصل کاشت کی ہے اگر اللہ نے چاہا اچھی بارشیں ہو گئیں تو میرے گھر کے معاشی حالات بہت ٹھیک ہو جائیں گے۔ چوہدری نے کہا ہاں میں دعا کروں گا اللہ بارشوں کے موسم کو اس دفعہ لمبا کرے اور تمہارے گھر خوشحالی آئے یہ کہہ کر چوہدری وہاں سے رخصت ہوا اور راستے میں کمہار کی بیٹی کے سسرال میں رُکا اور کمہار کی بیٹی سے پوچھا بٹیا کیا حال ہیں وہ بولی چاچا چوہدری اس سیزن میں ہم نے مٹی کے بہت سے برتن تیار کیے ہیں اگر دھوپ کا موسم دفعہ زیادہ ہوا بارشیں نہ ہوئیں تو چاچا میں اپنے گھر میں خوشحال ہو جائوں گی اور چاچا دعا کرنا۔ چوہدری نے اس کو بھی دعائیں دیں اور واپسی کے لیے گھوڑی دوڑا دی۔ گائوں کے باہر ہی کمہار سے پھر ملاقات ہو گئی کمہار نے پوچھاچوہدری کیا حال ہیں ہماری بیٹیوں کے؟ خوش حال ہیں ناں؟ چوہدری نے جواب دیا اللہ رکھیا ہیں تو ٹھیک مگر’’وسیّ گی اک ہی‘‘ اللہ رکھا کمہار پریشان ہوا پوچھا چوہدری کیا بات ہے خیریت ہے ناں؟ چوہدری نے جواب دیا اگر تو بارش ہو گئی تو میری بیٹی وسّے گی اور اگر دھوپ لگ گئی تو تمہاری بیٹی وسّے گی۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں پاکستان کے اقتدار پہ قابض حکمرانوں کو سمجھ نہیں آ رہی کہ وہ کیا فیصلہ کریں؟ عمران خان لاکھوں دلوں کی دھڑکن بن گئے تھے مگر دو کشتیوں میں سوار ہونے کے چکر میں خوار ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ ایم کیو ایم اور اے این پی بھی اپنے اپنے شہروں کے لیے علیحدہ رویہ رکھتے ہیں اور دیگر پاکستان کے لیے ان کی پالیسی مختلف ہوتی ہیں۔ جب کہ جماعت اسلامی قیام پاکستان کے بعد پاکستان بننے کے فلسفے کو اپنی مرضی سے نصاب اور تعلیم میں تبدیل کرنے کی خواہاں ہے جبکہ مذہبی جماعتوں میں جمعیت العلمائے اسلام (ف) بھی ہر سرکاری گاڑی میں سوار ہو کر ریاستی مفاد حاصل کرنے میں مشاق ہے جبکہ پیپلزپارٹی آج وفاق سے ان سب باتوں اور پالیسیوں کی توقع رکھتی ہے جن سب پالیسیوں پر وہ اپنے گذشتہ دور حکومت میں عمل کرنے میں ناکام رہی ۔ اس کے ردعمل کے طو رپر عوام نے اسے ناصرف مسترد کر دیا بلکہ سندھ کے علاوہ پورے ملک سے وائٹ واش ہو گئی ہے۔ آج طالبان کے خلاف بیان دے کر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود کو تیس مار خاں سمجھتے ہیں اور دوسروں کو بزدل خان سمجھتے ہیں مگر الیکشن 2013ء میں موصوف دو بار الیکشن مہم بیچ میں چھوڑ دوبئی اور لندن کو رخصت ہوئے اور پاکستان پیپلزپارٹی کی دو عدد سابق وزرائے اعظموں اور سینکڑوں سابقین وزراء کی ٹیم سیاسی منظر سے اس طرح گُم ہو گئی جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور اس سیاسی مفلوک الحالی میں پیپلزپارٹی پنجاب ،بلوچستان،خیبرپختونخواہ میں ایک بھی سیاسی اجتماع کرنے سے قاصر رہی جبکہ میاں برادران نے تو دوغلی سیاسی پالیسیوں کی انتہا کر دی۔ الیکشن مہم کے لیے ایک منشور اور انتخابات کے لیے دل فریب اور جوشیلے نعرے تو ترتیب دے لیے مگر الیکشن کے بعد کوئی ایک وعدہ بھی ابھی تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوا۔ خود ایک تقریب میں وزیراعظم میاں نوازشریف کو سرزنش نما وضاحت کرنا پڑی کہ چھوٹے میاں شہبازشریف صاحب جذبات میں وہ کچھ کہہ دیتے ہیں کہ جو ہونا ناممکن ہوتا ہے جس پر چھوٹے میاں صاحب کو بیچ تقریب کے خاصی شرمندگی اٹھانا پڑی۔پوری کے پوری وفاقی کابینہ وہ کام کر رہی ہے جو اس کا کام ہے نہیں۔ وزیرداخلہ چوہدری نثار ہیں مگر اس وقت عملاً وہ معطل ہیں اور ان کی جگہ عرفان صدیقی صاحب کمیٹی کی صورت مسلط ہیں یہ کمیٹی اب تحلیل ہوگئی ہے لیکن موصوف کے اختیارات میں کمی نہیں آئی۔ وزیربجلی خواجہ آصف ہیں مگر وزیر مملکت عابد شیر علی بدرجہ اتم موجود ہیں اور رہتی سہتی کسر میاں شہبازشریف دورہ چین اور ترکی کے دوران یادداشتی میمورنڈم پر بجلی کے معاہدوں پر دستخط کرکے پوری کر دیتے ہیں۔ وزیر خارجہ تعینات نہیں ہے مگر سرتاج عزیز وزیراعظم کے منشی کے طور پر بریف کیس اٹھائے پھرتے ہیں۔ وزیر دفاع کا چارج عارضی طو رپر خواجہ آصف کو دے کر صورت احوال مضحکہ خیز بنا دی گئی ہے کیونکہ وزیر دفاع کی پاکستان کی عسکری قوتوں سے شدید اختلافات کی خبریں ہیں۔ حکومت تو حکومت طالبان اور دہشت گردوں کے درمیان کوآرڈینیشن کی کمی ہے اور ایک طرف کی سٹیک ہولڈر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں مگر ہاتھوں پہ دستانے چڑھا کر معصوموں کے خون سے بھی ہاتھ رنگ رہے ہیں۔ طالبان پر یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اپنی مٹھی بھر تعداد اور عددی اقلیت ہونے کی بناء پر وہ جمہوری مذاکرات میں کچھ حاصل نہ کر سکیں گے مگر طالبان کی پالیسی بھی یہی ہے بغل میں چھری منہ میں رام رام۔ پاکستان کے ان اداروں سمیت سیاسی جماعتوں اقتدار کے ایوانوں اپوزیشن کے دھڑوں میں جب تک ہیپوکریسی کی ملاوٹ موجود ہے تب تک نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ ہمارے راہبر تو درکنار ابھی ہمیں یہ پتہ بھی نہیں کہ ہم ایک قوم ہیں ،ہماری منزل کیا ہے ،پاکستان کا مطلب کیا ہے،پاکستان اسی نظریہ کے لیے بنایا گیا تھا یا جاگیرداروں ،سرمایہ داروں اور شرفاء کو نوازنے کے لیے؟ میرے خیال میں ہم کو سب سے پہلے اپنا تعین ،پھر منزل کا تعین پھر سوچ کا تعین نئے سرے سے کرنا ہوگا۔ ہم یہ بھی چاہتے ہیں وہ بھی چاہتے ہیں۔ جس ملک میں 50مختلف نظام تعلیم رائج ہوں وہاں سے فارغ التحصیل یوتھ ذہنی منتشر نہ ہو گی تو کیا ہوگا؟ ہمیں اس قصبہ کے چوہدری کی بات پر دھیان دینا ہوگا کہ ’’وسیّ گی صرف ایک۔ تیری بیٹی یا میری بیٹی‘‘ ہم ایک وقت میں مختلف بستروں پہ سو نہیں سکتے۔ ہمیں بارش یا دھوپ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا ورنہ ہمارا حال دھوبی کے اس کتے جیسا ہوگا جو نہ گھر کا رہتا ہے نہ گھاٹ کا۔ہمیں امن کے لیے جنگ کرنی ہو گی کیوں کہ بچے گا تو کوئی ایک ہی دہشت گرد یا پاکستان۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus