×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نہ جانے ہمارے سیاسی لیڈرزکب بالغ ہوں گے؟
Dated: 18-Mar-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com وطن عزیز قیام پاکستان سے لے کر 67بہاریں دیکھ چکا ہے ابتدا میں ہمیں جو قیادت میسر آئی وہ نہ صرف بالغ النظر تھے بلکہ ان کو سیاسی ادراک بھی تھا۔ حضرت قائداعظم سمیت ان کی پوری ٹیم نہ صرف دیانتدار تھے بلکہ قول و فعل کے بھی بلند ترین مقام پر فائزتھے۔ قائداعظم محمد علی جناح اور قائد ملت لیاقت علی خاں کے بعد ملنے والی قیادت دراصل ڈنگ ٹپائو بنیادوں پر کام کرتی رہی۔ ایوب خان کے مارشل لاء نے سیاسی نرسری مستقبل کے لیے ناپید کر دی اور ایوب خان یک دور کے بعد اس دور کے اثرات ہمارے معاشرے پر انمٹ نقوش چھوڑ گئے۔ مرحوم ایوب خان نے محض ذاتی و اولاد کی خاطر جو کچھ کیا اور محترمہ فاطمہ جناح کو شکست دینے کے لیے جو حربے استعمال کیے وہ ملکی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ ایبڈو کا قانون آج بھی اس دور کے ماتھے پر سیاہ داغ کا نشآن چھوڑ گیا۔ پھر ایوب خان کے جانشین آغا محمد یحییٰ خان نے ہزاروں سال کھیتوں اور بازاروں میں جنگ لڑنے کی بھڑک شیراب کے نشے میں لگائی جس کے نتیجے میں ہماری 90ہزار فوج نے ڈھاکہ کے پلٹن گرائونڈ میں ہتھیار پھینک کر امتِ مسلمہ کی تاریخ داغ دار کر دی۔ 71ء میں بچے کھچے پاکستان کی بھاگ دوڑ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اپنے ہاتھ میں لی۔ ان کے دور میں پاکستان نے یقینا ترقی کی اور ہم ہمیشہ کے لیے خطرات سے بچ گئے کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اپنی اور اپنی اولاد کی بقا کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ملک کو نیوکلیئر سٹیٹ بنا دیا مگر ابتدائی دنوں میں ان سے منسوب الفاظ مثلاً ’’ادھر تم ادھر ہم‘‘ یا پھر ایک پبلک جلسے میں ’’ہاں میں پیتا ہوں‘‘ کو اپوزیشن نے پکڑ لیا او رآج ان فقرات کی زد سے پیپلزپارٹی باہر نہیں آ کسی۔ اور آج بھی محافل می ہم سے ان الفاظ کی تشریح مانگی جاتی ہے۔ بھٹو کو معزول کرکے بھٹو کے نامزد کردہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاء الہق مرحوم آئے جنہوں نے جمہوریت کو اپنی پسند ناپسند کے مطابق چلانے کی کوشش شروع کی مختلف سیاسی تجربات غیر سیاسی بنیادوں پر کیے گئے۔ عدالت کا مذاق اڑایا گیا اور آئین کی تضحیک کی گئی اور ضیاء الحق کے یہ الفاظ ہماری سیاہ تاریخ کا حصہ بن گئے کہ ’’یہ آئین کیا ہے چند صفحات جن کو میں جب چاہوں پھاڑ کر ردی کی ٹوکری می پھینک سکتا ہوں‘‘ پھر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے پہلے دور حکومت میں اس وقت کے وزیرداخلہ اعتزاز احسن کی طرف سے سکھوں کی فائلیں بھارتی حکمرانوں کو پیش کرنے سمیت راجیو گاندھی کی اسلام آباد آمد کے موقع پر کشمیر ہائوس کے بورڈ ہٹائے جانے کے متعلق جیالوں سے آج تک نجی و سیاسی محافل میں پوچھی جاتی ہے۔ اسی طرح نوازشریف کے متوالوں سے چھانگا مانگا کی کہانیوں کا پوچھا جاتا ہے اور مسلم کمرشل بینک سمیت نج کاری کی داستانیں اب تک کسی آسیب کی طرح مسلم لیگ ن کی قیادت کس پیچھا کرتی ہیں۔ پھر آصف علی زرداری صاحب سے منسوب مسٹر10پرسنٹ کا لقب پیپلزپارٹی کے کھاتے میں ایسا پڑآ ہے کہ آج تک پیپلزپارٹی وضساحتیں دینے میں مصروف ہے۔ پھر نوازشریف اور محترمہ کے دوسرے دور حکومت میں پہلے کی گئی غلطیوں سے روگردانی کرنے کی بجائے ان غلطیوں کو دہرایا گیا جس کا خمیازہ شہید بے نظیر بھٹو کی جلاوطنی اور شہادت کی صورت نکلا اور میاں نوازشریف کو بھی 9سالہ جبری جلاوطنی اور ڈی پورٹ ہونے کی صورت دیا گیا۔ اب موصوف وزیراعظم تیسری باری لے رہے ہیں مگر قیاس یہی بتاتے ہیں کہ اس دفعہ بھی وہ اپنی مدت قدرتی طور پر پوری کرتے ہوئے نظر نہیں آتے۔ نوازشریف کے بعد مشرف آئے مگر اپنی پالیسیوں کی وجہ سے اپنے پیش روئوں سے بہتر پرفارمنس نہ دے سکے ۔اور میں ڈرتا ورتا نہیں کے خالق سابق فوجی آمر کو ایک ایسی صورت احوال کا سامنا ہے کہ بظاہر اسے مکافاتِ عمل کا نام دیا جا سکتا ہے۔ موصوف سابق صدر نے پچھلی تاریخ سے کچھ نہ سیکھا اور وہی غلطیاں دہرائیں جن کی وجہ سے ان سے پہلے ڈکٹیٹر کر چکے تھے۔ اسی طرح پاکستان کی مذہبی و نیم مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین بھی ایسی غلطیاں کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ جماعت اسلامی پاکستان کو جو قیام پاکستان سے پہلے وجود میں آ چکی تھی نے قائداعظم اور پاکستان کی بھرپور مخالفت کی تھی ان کا حساب انہیں اب سیاسی پلیٹ فارمز پر دینا پڑتا ہے جبکہ مولانا مفتی محمود کے صاحب زادے مولانا فضل الرحمن بھی کتے کو شہید قرار دے کر کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ جبکہ مولانا منور حسن نے حد ہی کر دی اور پاکستان افواج کے نظریہ شہادت ہی کو متنازعہ بنانے کا جو شوشہ چھوڑا اس سے قوم ایک دفعہ ہل کر رہ گئی اور مملکت کی اساس اور سرحدوں کی محافظ فوج کا مورال زیرو کی سطح پر آ گیا جبکہ عمران خان اس دوران ایک بھی سنجیدہ فیصلہ دینے میں ناکام رہے اور بظاہر اپنی خیبرپختونخواہ کی حکومت کے کولیشن پارٹنر جماعت اسلامی کے ہاتھوں یرغمال ہوئے نظر آئے۔ بات کرنے سے پہلے سوچ لینے کی زحمت جناب عمران خان بھی گوارہ نہیں کرتے بعد میں ان کی پارٹی دیگر قائدین قومی میڈیا پر وضاحتیں کرتے نظر آتے ہیں۔ خاص طور پر اسد عمر اور شاہ محمود قریشی ٹی وی چینلز پر بیٹھے بے بس نظر آتے ہیں۔ انہی حالات میں اور منور حسن نے یزید اور حضرت امام حسین کے متعلق متنازعہ بیان دے کر جماعت اسلامی کو پھر ایک ایسی جگہ لا کھڑا کیا ہے کہ بے چارے فرید پراچہ اور لیاقت بلوچ بے بس اور پریشان دکھائی دیتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی قیادت اور مذہبی قیادت میں بالغ النظری کا فقدان ہے یا پھر پے در پے حملوں کی وجہ ہے جو اس ملک کی نوزائیدہ جمہوریت پر کیے گئے ہیں۔ نوابزادہ نصراللہ مرحوم فرماتے تھے کہ ’’کہتے ہیں جمہوریت پروان کیوں نہیں چڑھتی جمہوریت کا پودا پھلتا پھولتا کیوں نہیں؟ تو وجہ اس کی یہ ہے کہ گملے میں لگے اس پودے کو ہمیشہ کھینچ کر اوپر اٹھا لیا جاتا ہے‘‘دراصل اس سیاسی غیر سنجیدگی کی وجہ یہ ہے کہ ملک میں کوئی ایک انسٹیٹیوٹ ایسا موجود نہیں کوئی نرسری ہی موجود نہیںجو پھر سیاست دان تربیت کہاں سے حاصل کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ الطاف حسین بھائی جیسے لوگ بھی وہی کر رہے ہیں جو فضل الرحمن، نوازشریف ، منور حسن ،شجاعت حسین، بلاول بھٹو زرداری کر رہا ہے اور عمران بھی ان کی تقلید کر رہا ہے۔ کبھی کوئی روٹی کپڑا اور مکان یا قرض اتارو ملک سنوارو یا سب سے پہلے پاکستان کے نعروں سے قوم کو بے وقوف بنا رہا ہے۔ کبھی کہیں نظریہ پاکستان پاکستان کا مطلب کیا اور شریعت کے نعرے کو اپنا سلوگن بنا کر عوام کے جذبات مجروح کر رہا ہے۔ یہ سب لوگ پروفیشنل ازم سے محروم ہیں انہیں سیاسی یا مذہبی مداری تو کہا جا سکتا ہے مگر ان کو سیاسی ڈاکٹر نہیں کہا جا سکتا۔ ان لوٹوں نے برادری ازم کے نام پر قوم کو تقسیم کیا ہوا ہے خاص طور پر ضیاء کے دور میں ارائیں برادری ،بھٹوز کے ادوار میں سید اور مخدوم ،نوازشریف کے دور میں ہر قسم کی کوالیفکیشن کشمیری ہونا قرار پاتا ہے جبکہ چوہدری برادران جٹ ازم کو فروغ دیتے ہیں جبکہ پاکستان کے عوام پوچھتے ہیں یا خدا کبھی وہ وقت آئے گا جب کوئی محب وطن پاکستانی سیاست دان پاکستانیت کے لیے آگے بڑھے گا؟ کیا ہماری سیاسی قیادت کبھی بالغ ہو گی؟ کیا کبھی ہمارے لیڈر ان کو اپنی زبان اور دماغ و دل پہ قابو ہوگا؟کہتے ہیں کہ خدا ویسے ہی حکمران مسلط کرتا ہے جیسی وہ قوم ہوتی ہے۔ یا اللہ میری قوم کی مدد فرما(آمین)
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus