×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
انقلاب کا پہلا رائونڈ اور بوسیدہ جمہوریت کی آخری ہچکی!
Dated: 10-May-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ڈی چوک سمیت ملک بھر کے ضلعی ہیڈ کوارٹرز پہ جلسے جلوس اور ریلیاں نکال کر عوامی تحریک اور تحریک انصاف نے اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈکروایا ہے۔ 11مئی دراصل وطن عزیز میں دھاندلی کی سالگرہ کے طور پر منایا گیا۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والے نام نہاد جمہوری مفاد پرستوں نے آج سے ایک سال پہلے ایک بین الاقوامی سازش کرکے پاکستان کے 20کروڑ عوام کو اپنی منزل سے دور کر دیا تھا۔ غیروں کے علاوہ اس سازش میں ملک کی عدلیہ ،عسکری قیادت، بیوروکریسی، میڈیا گروپ اور یقیناً ان کرپٹ سیاست دانوں نے بھی حصہ لیا جن کا ہر پانچ دس سال بعد تُکا لگ جاتا ہے اور وہ جمہوریت جمہوریت کھیل کر عوام کو اگلے پانچ سال کے لیے بے وقوف بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری نے جنوری 2013ء میں جو کہا تھا وہ لفظ بہ لفظ سچ نکلا۔ طاہر القادری صاحب نے کہا تھا چہرے نہیں نظام بدلو۔ کیونکہ ان لٹیروں کے پاس کئی خوبصورت نقاب، مختلف اور خوبصورت جمہوری ناموں کے ساتھ موجود ہیں۔ یہ ہر دفعہ ایک نیا نقاب اوڑھ کر عوام کو پھر ایک چکمہ دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ جبری جمہوری اور مذہبی تسلط پر یقین رکھتے ہیں۔ جنوری2013ء میں اور اب پھر 11مئی 2014ء کو سٹریٹ پاور شو ثابت کرکے یہ بتا دیا ہے ان کا فلسفہ ایک قوت ہے اور اب سبز انقلاب کی سوچ اور عزم کو شکست دینا مشکل ہے۔ 11مئی کے احتجاج سے پہلے ہر کوئی علامہ طاہر القادری کی کریڈیبلٹی کی بات کرتا تھا تو کیا اس شخص کی کریڈیبلٹی پر اعتبار کرنا چھوڑ دینا چاہیے جو قوم کے منتخب نمائندوں کو مذاکرات کے بعد ایک موقع دینا چاہتا ہو۔ اور ایسا اب عمران خان کے ساتھ بھی ہوا ہے اور لگتا یہی ہے کہ عمران اور طاہر القادری ایک ہی کشتی کے سوار ہیں مگر ان دونوں کی کشتی میں سوراخ کرنے والے بھی تو ہم جیسے لوگ ہیں۔ عوام کو ترقی کے دوام پر پہنچانے لوڈشیڈنگ ختم کرکے پاکستان کی معیشت کو ٹاپ پر لے جانے کے دعوے اور لوٹی ہوئی دولت باہر سے لانے کا وعدہ کرنے والوں کی کریڈیبلٹی کیا ہے؟ کیا خود نوازشریف صاحب اور ان کی کابینہ کے درجنوں وزراء نے سیاست میں قدم رکھنے کے لیے مارشلائی قوتوں کا سہارا نہیں لیا تھا؟ جمہوریت کے ان چمپئن کا ماضی اور کردار کیا رہا۔ اسحاق ڈار کے بقول سوئس بنکوں میں 200ارب ڈالرز آج ہماری قومی عزت کا منہ چڑا رہے ہیں۔ عمران خان کے بقول اگر یہ رقم واپس پاکستان کے خزانے میں آ جائے تو پاکستان کی 200ملین آبادی آئندہ کم از کم دس سال ٹیکس فری ہو جائے۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ملک کے موجودہ اور گذشتہ حکمرانوں کے دور میں جمہوریت کے نام پر تجارت کی گئی اور لوٹ مار کا ایسا بازار گرم کیا گیا کہ الحفیظ الامان۔ کیا ان دونوں بڑی پارٹیوں کو دو دو دفعہ اقتدار سے ہٹانا کیا ان خاندانوں کی کریڈیبلٹی ہے؟ پاکستان کے عوام ذرا حقیقت پسندی سے کام لیں تو سارا نقشہ آپ کے سامنے کھل جائے گا۔ میں پچھلے کچھ روز سے سوشل میڈیا کو فالو(Follow)کر رہا تھا میرے کمنٹس پر ہزاروں دوستوں کو اعتراض اور شکایات تھیں مگر کیا ان دوستوں کو میری محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں نوازشریف کے درمیان جاری سیاسی چپقلش کو جمہوری دوستی میں بدلنے کا کارنامہ یاد نہیں؟ کیا میرے دوست نہیں جانتے کہ 2002ء میں مجھے نوابزادہ نصر اللہ خاں مرحوم نے محترمہ نظیر بھٹو کی خواہش پر اے آر ڈی کا اوورسیز اور عالمی امور کا انچارج مقرر کیا تھا اور پھر میری خدمات کے ہی صلے میں 2005ء کے بدلیاتی الیکشن میں مجھے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی ضلعی قیادتوں نے مشترکہ امیدوار برائے ڈسٹرکٹ ناظم سیالکوٹ نامزد کیا۔ آج مجھے جمہوریت کے نام پر طعنے دینے والے میرے میثاق جمہوریت میں کردار کو بھول گئے کیا؟ کیا جمہوریت صرف اسی بات کا نام ہے کہ ہم اب بھٹو کے بعد زرداری خاندان اور شریف خاندان کے قانونی وارثانوں کو اپنا قائد تسلیم کرتے رہیں؟ کیا ان جمہوریت پسندوں کی اربوں ڈالرز کا غیر ملکی سرمایہ کاری ان کی پاکستانیت کے منہ پر طمانچہ نہیں ہے؟ بقول عمران خان صاحب ہمارے لیڈرز دیارِ غیر جا کر لوگوں کو ترغیب دے رہے ہوتے ہیں کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کریں تو ان کے کھوکھلے الفاظ ان دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ جاتے ہیں۔ اگر کچھ لوگوں کی نظر میں ملک کو لوٹنے کا نام جمہور ہے تو اللہ کا شکر ہے کہ میں جمہور نہیں۔ اگر چند مفاد پرستوں کے ٹولے میں شامل نہ ہونا جمہور نہیں تو ایسی جمہوریت سے ہم باز آئے۔ یقین کیجیے دنیا چاند سے مریخ پر پہنچ گئی ہے مگر سادہ لوح عوام کو کبھی مذہب کے نام پر، کبھی جغرافیائی لکیروں کے نام پر، کبھی لسانی اور مسلکی بنیاد پر، کبھی کلچرل اور سماج کا واسطہ دے کر غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے کا نام جمہوریت ہے؟ اور جب کوئی حدود و قیود کی خلاف ورزی کرنے کی جرأت کرتا ہے ، علم بغاوت بلند کرتا ہے تو یہی جمہوری ڈاکو اکٹھے ہو جاتے ہیں، اپنے اپنے مفادات کی خاطر۔ جب ان کے معاشی مفادات کو زک لگنے کا خدشہ ہوتا ہے تو یہ ملک کی 70فیصد آبادی کو جو کہ شعور سے نابلد ہیں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ ایک فیصد ان جمہوری ڈاکوئوں کے مفادات دراصل 20کروڑ عوام کے مفادات ہیں۔ جب کہ باقی 25فیصد آبادی مختلف الخیال لوگوں گروہوں اور طبقات میں بٹی ہوئی ہے اور وہ پڑھا لکھا ہونے کے باوجود پاور پالیٹکس میں اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر رہتے ہیں اور یہ سب جمہوری ڈاکوئوں کی عین منشا ہے۔ قارئین یقین جانیے جو قومیں اپنے حقوق اپنے سامنے سلب ہوتے دیکھتی رہیں اور احتجاج تک نہ کریں تو خدا تعالیٰ بھی ان کی مدد کو نہیں آتے۔ کیا ہم چند خاندانوں اور چند غیر ملکی آقائوں کی خواہشوں پر لبیک کہنے کے لیے زندہ ہیں؟ کیا ہم ایک معذور قوم بننا چاہیں گے یا ایک پرعزم، پروقار، باہمت قوم بننا پسند کریں گے؟ یقین کیجئے فیصلہ کی گھڑی آہستہ آہستہ سِرک رہی ہے اگر ہم اب بھی خوابِ غفلت سے نہ جاگے تو اب کی بار کوئی بھٹو ہماری خاطر شہید ہونے نہیں آئے گا ،کوئی لیاقت علی خاں اور بے نظیر بھٹو ہماری خاطر سڑکوں پر لہولہان ہونے نہیں آئیں گے۔ عمران اور طاہر القادری آہستہ آہستہ بڑھاپے کی طرف رواں دواں ہیں ہمیں ان کے اِزم اور عزم سے فائدہ لینا ہوگا ان کی راہنمائی سے استفادہ کرنا ہوگا، وگرنہ موجودہ حکمران خاندانوں کے پاس ہمارا خون نچوڑنے اور ماس کھانے کے لیے جواں ہمت شیر اور جوان تیر سجائے صیاد تیار بیٹھے ہیں۔ آگے بڑھیے ایک قوم کی طرح اپنا حق چھینئے اس سے پہلے کہ آپ میں سکت نہ رہے؟ جھورا جہاز کہہ رہا تھا کہ انقلاب کا پہلا رائونڈ جمہوریت کی آخری ہچکی ثابت نہ ہو؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus