×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا صرف اِس لیے…؟
Dated: 24-May-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com وہ میرے پاس آفس میں آیا اور آتے ہی صوفے پر ڈھیر ہو گیا۔ اپنے ہاتھ پیشانی پر رکھ لیے میں نے اس سے پہلے اسے کبھی اتنا پریشان نہ دیکھا تھا۔ ’’جھورا جہاز‘‘ ایک دردِ دل رکھنے والا پاکستانی ہے، وہ پاکستان کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔ میرا صرف یہ پوچھنا ہی تھا کہ کیا ہوا تو وہ پھٹ پڑا اور ہیجانی کیفیت میں بولتا چلا گیا کہ ہم نے یہ پاکستان اس لیے بنایا تھا کہ ان جاگیرداروں، سرمایہ داروں، مخدوموں، چوہدریوں، لغاریوں، مزاریوں، خواجوں اور دولتانوں کی اولادیں اور یہ لوگ ہمیشہ کے لیے ہم پر مسلط کر دیئے جائیں۔ اقتدار اور سیاست کی یہ بھوکی جونکیں نسل در نسل ہمارا اور ہماری آنے والی نسلوں کی رگوں سے خون چوسنے اور ہڈیوں سے آخری ماس بھی نوچنا چاہتے ہیں۔ کیا دو قومی نظریئے کی بنیاد پر وجود میں آنے والے اس ملک میں قیام پاکستان کے مخالفین اور پاکستان کو دل سے تسلیم نہ کرنے والوں کی اولادیں اب اپنا حق جتانا شروع کر دیں اور آج 67سال بعد ہمیں بتایا جا رہاہے کہ ’’پڑھنے لکھنے کے سوا پاکستان کا مطلب کیا‘‘جبکہ ہم تو دو قومی نظریہ اور لا الہ اللہ کو پاکستان کے قیام کی اساس سمجھتے رہے ہیں، کیا صرف اس لیے پاکستان کا وجود عمل میں آیا تھا کہ ہم اپنی ثقافت کو بھلا کر اپنی روایات کو پس پشت ڈال کر انڈین فلموں اور ترکی ڈراموں کو دیکھ کر اپنے سماج کو پراگندہ کر لیں۔ بھارت جو قیامِ پاکستان کا ازل سے مخالف رہاہے، اس کی آنجہانی وزیراعظم نے یہ کہا تھا کہ ہمیں اب پاکستان سے جنگ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہم میڈیا اور ثقافتی وار سے اب یہ جنگ جیت جائیں گے اور کیا ہم نے پاکستان اس لیے حاصل کیا تھا کہ ہمارے حکمران ہمیں گروی رکھ کر اپنی تجوریاں اور غیرملکی بینک اکائونٹ بھریں۔ پاکستان کی خدمت کرنے کا نعرہ لگانے والوں نے صرف لاہور اور لاڑکانہ کو ہی پاکستان سمجھ لیاہے جبکہ بقیہ پاکستان آج بھی چودہویں اور پندرہویں صدی جیسے جہالت سے لبریز مناظر پیش کر رہا ہے۔ کیا صرف اس لیے کہ ہمارے حکمران اپنی تجارت کو وسعت دینے کے لیے اپنے تجارتی معاہدے چین اور ترکی کے ساتھ کریں اور سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مفادات کے لیے اپنے ملک کو میدانِ حشر بنا دیں اور پھر ان ممالک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہماری فوجیں اور جوان اپنی جانیں قربان کریں۔ کیا ہم نے پاکستان صرف اس لیے بنایا تھا کہ چند طالع آزما اس ملک کو مقتل گاہ بنا دیں۔ جہاں آج چہارسو بارود کا دھواں پھیل چکا ہے۔ صرف اس لیے 70ہزار سویلین اور 10 ہزار عسکری جوانوں کو اپنی ہی تیار کردہ مقتل گاہ میں اپنے ہی لوگوں کے ہاتھوں درندگی کا سامنا کرنا پڑے؟ کیا مذہب کے نام پر ریاست کے اندر ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرنا لشکر ترتیب دینا اور جلادوں کو کمانڈرز کہنا اور اپنے رکھوالوں کے سروں سے فٹ بال کھیلنا ہی پاکستان کا مقصد تھا؟کیا صرف اس لیے یہ ملک بنا تھا کہ دہشت گردی میں ملوث 25ہزار مجرموں کو باعزت بری کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے آقائوں کا مشن پورا کر سکیں۔ اس ملک عزیز میں ڈاکٹر اپنی مسیحائی چھوڑ کر، نرسیں اپنی جذبۂ خدمت چھوڑ کر، استاد اپنی ذمہ داری، وکیل اور جج اپنا نصب العین چھوڑ کر ہڑتالوں اور احتجاج کی روش اپنا لیں، حتی کہ کلرک قلم چھوڑ ہڑتال پر یقین رکھیں اور پولیس اپنا فرض چھوڑ کر اپنی جیبیں بھرنے پہ اور عوام کی جیبیں کاٹنے پہ لگ جائے اور اس ملک کی بیوروکریسی ایک بدمست ہاتھ کی طرح اپنے مفادات کے پائوں تلے 20کروڑ عوام کو روندتی چلی جائے جبکہ گذشتہ اور موجودہ حکمران اپنی کھربوں کی جائیدادیںدیارِ غیر میں بنائیں اور غیر ملکی انویسٹرز سے یہ توقع رکھیں کہ وہ ان حکمرانوں کے آبائی ملک میں جا کر سرمایہ کاری کریں، تو بھلا کون ہے جو ان کی معصومیت کے صدقے واری نہ جائے۔ گذشتہ الیکشن مئی2013ء میں ان ہی طبقات نے اس ملک کے عوام کے منہ پر دھاندلی کا ایساطمانچہ رسید کیا کہ یہ قوم پھر بھول کر بھی جمہوریت اور الیکشن کا تقاضا نہ کرے اور اس بین الاقوامی سازش میں بھارت، امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب سمیت خود ہماری افواج کے سپہ سالار، اعلیٰ عدلیہ کے سربراہ، بیوروکریٹس، ٹیکنوکریٹس، ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں، نام نہاد الیکشن کمیشن اور ایک بدمست میڈیا گروپ نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ سابق آرمی چیف، سابق چیف الیکشن کمیشن، سابق چیف جسٹس اپنا حصہ وصول کرکے اب مالِ غنیم ہضم کر نے کا چِلہ کاٹ رہے ہیں، جبکہ پیپلزپارٹی اور آصف علی زرداری، یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور ان کے درجنوں ساتھی اربوں اور کھربوں کا مال ہڑپ کرکے اپنی سیاسی عدت پوری کر رہے ہیں جبکہ ان کو سڑکوں پر گھسیٹ کر لانے اور غیر ملکی بینکوں سے لوٹا ہوا مال واپس لانے کے نعرے لگانے والے آج خود کرپشن کی بھنگ پی کر اس دلدل میں اس حد تک پھنس چکے ہیں کہ جہاں سے اب نکلنا ان کے لیے ممکن نہیں رہا ،جبکہ اس ساری سازش اورواردات کے آخری کردار ’’جنگ جیو گروپ‘‘کو بھی اب اپنا خراج تو وصول کرنا ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کرپشن کی غلاظت میں پھنسے ہوئے موجودہ حکمران او ران کی پوری ٹیم کے نہ جانے ایسے کونسے شواہد اس بلیک میلر مافیا گروپ کے پاس ہیں کہ ایک طرف پوری قوم اور افواج پاکستان آئی ایس آئی پر بہتان اور الزام تراشی کے خلاف سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔ شانِ صحابہؓ اور ناموس اہل بیت پر حملہ کی جسارت اور تحریف قرآن جیسے جرائم کے باوجود حکمرانوں کا کوئی ایکشن نہ لینا اس بات کا غماز ہے کہ دال میں کچھ کالا نہیں بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔ جانثار انِ صحابہ و اہل بیت اور رسالت کے پروانوں نے ملک بھر میں شاتم اہل بیت و صحابہ کے خلاف ہزاروں مقدمات درج کروا کر اولادِ نبیؐ سے جس عقیدت کا اظہار کیا ہے اس پر بھی حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگی بلکہ وہ وزیر اطلاعات پرویز رشید و دیگر وزراء کے ذریعے نہ صرف وہ جیو مالکان کو مل رہے ہیں بلکہ انہیں گارنٹی بھی دے رہے ہیں کہ موجودہ حکومت کے ہوتے ہوئے کوئی جیو کا بال بیکا نہیں کر سکتا۔ قارئین جھورا جہاز حیران و پریشان ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک اعلیٰ جج ایک ہی دن میں دو مختلف فیصلے دے رہے ہیں کہ این اے 118میں وہ حامد زمان کے کیس سے اس لیے دستبردار ہوتے ہیں کہ وہ جج صاحب کا عزیز ہے جبکہ اسی دن جیو کے مالک میر شکیل الرحمن سے وابستہ ایک کیس میں وہ سماعت کرنے والے بنچ سے علیحدہ ہونے سے انکار کر رہے ہیں جبکہ میرشکیل الرحمن کی بہن ان کی سگی بھابھی ہیں اور اوپر سے محترم جج صاحب فرما رہے ہیں کہ میں اپنے ضمیر کے عین مطابق فیصلہ کروں گا۔ جھورا جہاز بڑی حیرت سے مجھے پوچھ رہا تھا کہ چوہدری صاحب یہ ضمیر ہے کیا چیز جو ایک ہی دن میں دو ایک جیسے مقدما ت پر دو مختلف قسم کے فیصلے صادر فرمائے؟ کیا صرف اس لیے ہم نے پاکستان بنایا تھا،لاکھوں جانوں کی قربانی دی تھی تاکہ چور،ڈاکو،لٹیرے اس ملک میں اپنی من موجیاں کر سکیں؟قارئین! میرے پاس جھورے جہاز کی باتوں کا کوئی جواب نہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus