×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پردے کے پیچھے کیا ہے…؟
Dated: 27-May-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پچھلے کچھ ہفتوں سے پاکستان کے اندر جو کھیل کھیلے جا رہے ہیں اور جس انداز سے ہر فنکار اپنی فنکاری کر رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ اس ڈرامے کا ہدایتکاراور سکرپٹ رائٹر عالمی اپروچ رکھتے ہیں۔ لندن اور کراچی کی فضائوں میں جو کچھ ہو رہا ہے الطاف حسین کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے متعلق جو کچھ کہا جا رہا ہے کیا وہ حقیقت ہے؟ میرے ایک انتہائی قریبی دوست جو میٹروپولیٹن پولیس لندن اور سکاٹ لینڈ یارڈ میں اعلیٰ خدمات سرانجام دے چکے ہیں اور آج کل بھی ایک خصوصی ٹاسک پر کام کر رہے ہیں، نے بتایا کہ دراصل برطانوی خفیہ ادارے اور انوسٹی گیشن ایجنسیاں اب اس سارے ڈرامے کے ڈراپ سین کے لیے تیار ہیں جس کی کہ خبر محترم الطاف بھائی کو بھی ہو چکی ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے چند عزیز اور رفقاء کے اکائونٹ نہ صرف بند کر دیئے گئے ہیں بلکہ ان میں موجود رقوم اور ٹرانزکشن جو اب تک ہوئی ہے اس کا ریکارڈ بھی حاصل کر لیا گیا ہے۔ گذشتہ روز 25مئی کو اسی لیے ایم کیو ایم کی پاکستان میں قیادت نے الطاف بھائی سے اظہار یک جہتی کے لیے اجتماع کیا مگر متحدہ کی قیادت یہ بھول رہی ہے کہ دنیا بھرمیں جب بھی کسی ملزم کے خلاف تحقیقات ہوتی ہیے تو سب سے پہلے اس کے اکائونٹ سیل کر دیئے جاتے ہیں۔ جیسے فلپائن کے مارکوس و عراق کے صدام حسین ، ایران کے رضا شاہ پہلوی، لیبیا کے معمر قذافی اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور سابق صدر آصف علی زرداری کے غیر ملکی اکائونٹس بھی سیل کیے گئے۔ برطانوی حکومت کے پاس اب دو آپشن ہیں کہ یا تو وہ باقاعدہ تحقیقات کی شروعات کرکے الطاف بھائی کو گرفتار کر لیں جس کے لیے انہوں نے حکومت پاکستان اور وزیراعظم نوازشریف سے بالمشافہ ملاقات میں برطانوی وزیراعظم ڈیوڈکیمرون نے مطالبہ کیا کہ اس کیس کے حوالے سے گرفتار دو مرکزی مجرموں کو جو پاکستان کی تحویل میں ہیں، کو برطانیہ کے حوالے کر دیا جائے۔ لیکن اس صورت میں برطانوی حکومت ہچکچاہٹ کا شکا رہے کہ لندن اور کراچی میں ایم کیو ایم کے کارکنان ہنگامہ و بلوہ کردیں گے اور اس احتجاج اور ہنگاموں کے درمیان برطانوی معیشت اور سیاسی ساکھ کو ٹھیس پہنچنے کا احتمال ہے اور اس کیس میں ملزم اور مقتول چونکہ آبائی طور پر پاکستانی نژاد ہیں تو کیوں نہ الطاف بھائی جن کا برطانوی پاسپورٹ پولیس کے قبضے میں ہے اور وہ بغیر پاسپورٹ سفر نہیں کر سکتے۔ کیوں نہ اپنے پرانے پاکستانی پاسپورٹ کی ازسرنو تجدید کروائیں اور لندن سے دوبئی یا سائوتھ افریقہ چلے جائیں پھر برطانوی پولیس کے پاس بہانہ ہو گا کہ وہ ملزم کو واپس لانے سے قاصر ہیں۔ اس طرح وہ الطاف حسین جو کہ شدید علیل بھی ہیں نہ صرف چھٹکارا پا لیں گے بلکہ وہ دوبئی یا سائوتھ افریقہ کی حکومتوں کو سچے جھوٹے الطاف بھائی کے واپسی کے لیے پیغامات جاری کرتے رہیں گے۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے حصول کے بعد الطاف بھائی پاکستان واپس آئیں گے تو نہ صرف خام خیالی یہ بلکہ اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں کیونکہ الطاف بھائی کے لیے لندن چھوڑ کر پاکستان آنا ایسے بھی ہے کہ جیسے آسمان سے گِرا کھجور میں اٹکا۔ پاکستان کی موجودہ حکومت پر زور ڈالنا کہ وہ پاکستانی پاسپورٹ ایشو کریں دراصل اسی سلسلے کی کڑی ہے جبکہ الطاف بھائی سے ایک سوال ہے کہ کیا برطانوی حکومت نے انہیں دعوت نامہ بھیجا تھا کہ وہ ان کا پاسپورٹ حاصل کریں اور ملکہ برطانیہ کا حلف وفاداری اٹھائیں۔ دراصل پاکستان سے ہجرت کرکے امریکہ یورپ اور دیگرممالک میں چلے جانے والے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ کبھی وہ انڈرانوسٹی گیشن آئے تو ان کا چوائس کیا ہوگا۔ ملک ان کو کوئی فیور نہیں دے گا بلکہ ان کو وہاں پاسپورٹ حاصل کرکے وہ مکمل شہری حقوق نہیں ملے جو ایک پیدائشی شہری کو ہوتے ہیں۔ دراصل الطاف بھائی کے معاملے میں برطانوی پولیس اور حکومت کی حالت کچھ اس طرح ہے جیسے چھپکلی کھائیں تو کوڑھے ہونے کا خطرہ چھوڑ دیں تو لاج لگنے کا خطرہ،ساکھ متاثر ہونے کا خطرہ جبکہ پاکستان کے موجودہ حکمران بھی نہیں چاہتے کہ وہ شخص جس کو انہوں نے خود ملک چھوڑنے میں مدد دی تھی اب وہی پھر مصیبت گلے ڈال لیں۔ چونکہ پاکستان ان دنوں اندر ونی بہت سی دیگر مشکلات میں پھنسا ہوا ہے ۔خاص طور پر ’’جیو جنگ‘‘ کے مسئلے پر خاص طور پر جیو کی طرف سے آئی ایس آئی اور فوج کو ہدف بنانے کی وجہ سے ملک اس وقت دو واضح حصوں میں بٹ گیا ہے ایک طرف حکومت اور جیو اور دوسری طرف افواج پاکستان اور پوری عوام اور دنیائے عوام کا غصہ اور ردعمل بھی دیکھ لیا۔ اب جیو گروپ نے باقائدہ معافی مانگ لی ہے ۔یہ فوج کی قیادت کا امتحان ہے اگر وہ عوامی غضب اور ردعمل کو پس پشت ڈال کر جیو کے پریشر اور دبائو میں اگر وقتی معافی دیں گے تو عسکری قیادت یاد رکھے آئندہ فوج کو ضرورت پڑی تواس کی حمایت میں کوئی آواز اُٹھے کی اور نہ کوئی پتہ ہلے گا۔جبکہ جیو نے جو شاتم صحابہ اور اہل بیت کا کردار ادا کیا ہے جس کی کوئی ڈپلومیسی اور معافی دینا کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ اگر کسی نے ایسا کیا تو پھر عوام پوچھے گی کہ 295-Cکے زمرے میں صرف شہباز بھٹی، سلمان تاثیر اور سینکڑوں غیر مسلم ہی کیوں ہیں؟ جیو نے اب تک حکومت کی مدد سے پیمرا اور 195-Cکی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جیو بذات خود اتنا مضبوط ہے؟ کہ وہ پاکستانی قوانین کو بائی پاس کرے یا افواج پاکستان کو بدنام کرے۔ ضرور کوئی ایسی قوت اس سے پیچھے ہے جیسے بھارت ،اسرائیل، امریکہ کسی کی پشت پناہی جیو اور موجودہ حکمرانوں کو حاصل ہے کیا جیو کو معاف کرنے کے بعد لااینڈ آرڈر کا کیا بنے گا۔ کیا معافیاں دے کر پاکستان کی جیلیں ختم کر دینی چاہیے تمام قیدیوں کو معافی نامہ داخل کروا کر معاف کر دینا چاہیے؟ مجھے مکمل یقین ہے عوام اب انقلاب کا راستہ اپنائیں گے ۔ علامہ طاہر القادری صاحب نے جولائی میں وطن واپسی کا عندیہ دے دیا ہے۔ شیخ رشید بھی کہتے ہیں اب عید قربان سے پہلے قربانی ہو گی اور پردوں کے پیچھے جو ہے وہ اب آشکار ہونے کو ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus