×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بُزدلو چوڑیاں پہن لو
Dated: 14-Jun-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com گذشتہ دنوں میں رونما ہونے والے سانحات و حادثات دہشت گردی کے آسیب نے پوری قوم کو ایک ہیجانی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہے۔ ڈرے ڈرے سے بیس کروڑ عوام ایک دوسرے کو بس ایک ہی سوال کرتے نظر آتے ہیں ’’کہ اب کیا ہوگا؟‘‘اورمدمقابل خاموش لبوں سے سر اٹھا کر نظریں آسمان کی طرف کرکے صرف سوالیہ جواب دیتا ہے کہ ’’اللہ ہی ہے جو ہمارے پیارے وطن کو بچائے‘‘ پچھلے چند دنوں میں اپنے احباب دوستوں اور جاننے والوں سے رابطہ ہوا ہر کوئی پریشان ہے خصوصاً گھریلو خواتین بہت پریشان ہیں ٹی وی چینلز والے حالات حاضرہ کے پروگرام ،خبروں نے عوام کو نفسیاتی مریض بنا کر رکھ دیا ہے۔ جھورا جہاز میرے پاس آیا ہوا ہے اور مجھے سوشل میڈیا پر لگی ایک تصویر دیکھنے کو کہہ رہا ہے یہ تصویر لاہور کے کسی علاقے میں لگے ایک جہازی سائز سائن بورڈ کی ہے جس پر اورنج ٹرین کے ساتھ میاں برادران کی تصویریں چسپاں ہیں۔ جس کے سامنے ایک عورت ہیجانی کیفیت میں اپنی ’’چوڑیاں‘‘ اتار کر اس سائن بورڈ کی طرف اچھال رہی ہے اور تصویر کے نیچے کندہ ہے ’’بزدلو چوڑیاں پہن لو‘‘ اس تصویر اور اس کے نیچے تحریر پڑھ کر ہر پاکستان کی قوم کی جذبات کی عکاسی بخوبی لگائی جا سکتی ہے۔ وہ الفاظ اس عورت کے ہی نہیں وہ پورے سماج پوری قوم کی ترجمانی کر رہے تھے کہ بزدلو ملک سنبھال نہیں سکتے تو ملک کی بھاگ دوڑ کیوں سنبھالی؟ بندوق اٹھا کر چلا نہیں سکتے تو قوم کو بھوکا رکھ کر ایٹم بم کیوں بنایا؟ ہم سمندر پار پاکستانیوں کو غیرملکی عجیب نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور پوچھتے ہیںکہ کیا آپ کے پاس اس دہشت گردی کا حل مذاکرات کے علاوہ کچھ اور بھی ہے؟ میں خود بھی مجسمہ حیرت بنا پوچھتا ہوں کہ دنیا کی ساتویں بڑی نیوکلیئر طاقت لاکھوں افراد پر مشتمل بحری، بری اور فضائی افواج، اربوں روپوں کے اسلحہ کے ذخائر سینکڑوں جرنیل اور دفاعی ٹینک قوم گھاس کھانے پر مجبور مگر حکمرانوں کے جگمگاتے محالات اور پوری قوم اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہے، یہ اندھیرا جہالت کا بھی ہے، کنزرویٹو سوچ کا بھی ہے ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ سے تو شاید کبھی ہم باہر نکل آئیں گے مگر جہالت کے اندھیرے سے اس وقت تک نہ نکل سکیں گے جس وقت تک ہم علم اور قلم کی طاقت سے ہم رجعت پسند سوچ پر غالب نہ آجائیں۔ حکمران سیاست دان ،جاگیردار،سرمایہ دار، تاجران ،دوکاندار، کسان، ڈاکٹر، انجینئر سب ہی اپنے اپنے پروفیشن سے مخلص نہیں۔ حکمران باریاں لے کر اپنے خزانے بھر رہے ہیں اور قوم کا حال بھی کچھ اس طرح ہے۔ ایک طرف پورا ملک سکتے میں تھے، ایئرپورٹ پر آگ لگی ہوئی تھی، دھوئیں کے بادل آسمان کو چھو رہے تھے، پاک فوج ،رینجر، اے ایس ایف کے جوان اپنی زندگیوں کے نذرانے دے رہے تھے مگر تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ دوسری طرف کچھ لوگ ایئرپورٹ کارگو کے اندر سے قیمتی سامان، موبائل فون اور دیگر اشیاء لوٹنے میں مصروف تھے ۔ایک نجی ٹی وی چینل پر اس رپورٹ کو دیکھ کر میں ہکا بکا رہ گیا اور کچھ چینلز غیرذمہ دارانہ لائیو کوریج کرکے ملکی سلامتی کا مذاق بھی اڑا رہے تھے۔ اس وقت ایئرپورٹ پر آگ نہ لگی ہوئی تھی بلکہ ہر پاکستانی کے دل اور وجود کو آگ لگی ہوئی تھی اور اپنے ہی بھائی بند اس مردے کے جسم سے ماس نوچ رہے تھے۔ بچپن کے ایام میں ایک عہد پر گکھڑ کے الحمرا سینما میں دوستوں کے ساتھ ایک فلم دیکھ رہا تھا کہ جی ٹی روڈ پر ایک ویگن اور بس کے ٹکرائو کے نتیجے میں متعدد لوگ زخمی اور جاں بحق ہو چکے تھے۔ ہم بھی بھاگتے بھاگتے سینما سے باہر نکل آئے ہم متاثرین کی مدد کرنا چاہتے تھے مگر یہ دیکھ کر دم بخود رہ گئے کہ کچھ لوگ راہ گیر موقع سے فائدہ اٹھا کر ہلاک اور زخمیوں کی گھڑیاں اتار رہے تھے اور جبیں خالی کر رہے تھے۔ بچپن کا یہ واقع آج تک میرے ذہن پر نقش ہو کر رہ گیا ہے اور میں سوچنے پر مجبور ہوں کہ ہم بحیثیت قوم کہاں کھڑے ہیں؟ ذمہ داران کا حال یہ ہے کہ ہم اپنے قاتلوں کو مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں۔ مجرموں کو بری کر دینے میں عسکری قیادت و سابق عدلیہ کی قیادت سیاست دان بیوروکریٹ سب آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے یعنی چور اور کھوجی آپس میں مل گئے ہیں۔ گذشتہ کالم میں بھی ذکر کیا تھا کہ کراچی حملہ کے بعد اب غیر ملکی ٹیمیں پاکستان آنے سے انکار کر دیں گی اور غیر ملکی فضائی کمپنیاں پاکستان میں اپنے آپریشن بند کر دیں گے۔اور اب ایسا ہی ہورہا ہے اب لوگ سوچ رہے ہیں اس ساری بیماریوں کا علاج اب ہومیوپیتھک طریقے سے ممکن نہیں رہا اور اب دعا کا وقت گزر چکا اب دوا کرنی ہو گی ۔ اس لیے حکمران وقت اور ان کی پوری کابینہ بوکھلا چکی ہے۔ کابینہ کی بھی حالت یہ ہے کہ آدھے محکمے تو وزراء کے ہیں۔ بے شمار سرکاری اداروں کے سربراہان کی تقرری نہیں کی جا سکی۔ جھورا جہاز کہہ رہا تھا کہ وڑائچ صاحب نہ اتنے خواجے اور ڈار ، بٹ صاحبان ملیں گے نہ یہ تقرریاں ہو سکیں گی اور اب ڈاکٹر طاہر القادری نے وطن واپسی کا علان کیا ہے تو سرکاری تنخواہ دار شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بننے کی کوششوں میں مصروف ہیں کوئی وزیر ڈاکٹر طاہر القادری کو اندر کرنے اور ڈیپورٹ کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے، کوئی کردار کشی کی جنگ میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے ان دھمکیوں اور ان کے ممکنہ نتائج کے بارے میں پوچھا تو ڈاکٹر صاحب خوشگوار موڈ میں بولے وڑائچ صاحب یہ حکمران کیا سمجھتے ہیں میں ڈر جائوں گا، میں گھبرا کر اپنے وطن جانے کا اعلان موخر کر دوں گا۔ نہیں ایسا کبھی نہیں ہوگا اگر حکمرانوں نے ایسی کوئی حرکت کی تو میرا کام میرا مشن اسی دن مکمل ہو جائے گا۔ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ایوان حکومت اور رائے ونڈ کے محالت کو اسی دن گھیر لے گا۔ ہم پُرامن تبدیلی ،پُرامن انقلاب چاہتے ہیں ہم بزدلوں کی نہیں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں۔ ڈرانے والے بھول رہے ہیں کہ اب کوئی پاکستان سے بھاگ کر جدہ و استنبول یا لندن دوبئی نہ جا سکے گا۔ ڈاکٹر صاحب کہہ رہے تھے اب تمام ڈاکوئوں ،لٹیروں، بھگوڑوں کو حساب دینا ہوگا ہم پائی پائی وصول کریں گے اور ہم ملک سے لوٹی گئی کھربوں ڈالر کی رقوم واپس لائیں گے۔ ہم عوام کو جہالت کے اندھیرے سے باہر نکالیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے کیا خوب کہا کہ ہم علمی و معاشی ،معاشرتی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کریں گے۔ ہمارے ذہن روشن ہوں گے تو یہ دنیاوی اندھیرا ختم ہو جائے گا۔ میں سوچ رہا تھا کہ قوم کو اب ان بزدل حکمرانوں، ان نااہل حکمران ،ان لٹیروں کی نہیں بلکہ ایک بہادر لیڈر ایک ویژن رکھنے والے لیڈر کی ضرورت ہے اور قوم کو مبارک ہو ایسا مردِ مجاہد ہم کو مل گیا ہے۔ اب قوم طاہر القادری کے قدم سے قدم ملا کر اپنے حقوق چھین لے۔ڈاکٹر صاحب نے کیا خوب کہا ہے موت کا ایک دن متعین ہے، موت حکمرانوں اور رعایا دونوں کو آنی ہے مگر بے حسی سے گھر بیٹھے موت کا سامنا کرنے سے بہتر ہے کہ اپنی قوم اپنی ملت کے لیے کچھ کر گزرنے کا جنون اور اس راہ میں موت، موت نہیں شہادت ہے۔ 14جون2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus