×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ضربِ عضب اور بگڑے ہوئے بچے!
Dated: 17-Jun-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com میرا آج بھی اس بات پہ قوی یقین ہے کہ دنیا کے آغاز سے لے کر آج تک جتنی بھی جنگیں ہوئیں ان کا انجام بحرصورت مذاکرات کی میز پر اختتام پذیر ہوا تاریخ میں ہمیں ایسی جنگوں کے شواہد بھی ملتے ہیں جو صدیوں پر محیط ہوئیں مگر بالآخر مذاکرات کے ذریعے تاوان کی ادائیگی یا ہرجانے ادا کرکے صلحیں ہوتی رہیں لیکن… ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ ان جنگوں کے دوران مقابلہ دو قوموں کے درمیان ہوتا تھا جہاں کوئی تیسری قوت ضامن کا کردار ادا کرتی تھی یہ کبھی نہیں ہوا کہ ایک قوم کو اپنے ہی باغیوں کے خلاف مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑا ہو اور یہ بات میں پچھلے تقریباً ایک عشرے سے اپنے قارئین کو بتاتا چلا آ رہا ہوں۔ گو کہ میرے نظریئے کے مخالف مائنڈ سیٹ کے لوگ اوریامقبول جان اور انصار عباسی قسم کے لوگوں نے پچھلے 13سال سے ایک مخصوص نظریات کے حامی طبقے کو ذہنی یرغمال بنا رکھا ہے یہ وہ طبقہ ہے جو نعوذباللہ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کا ترجمہ اپنی مرضی کے مطابق اور اپنے نظریے کو سپورٹ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ اس گھنائونے فعل کی تکمیل کے لیے ان لوگوں کو مختلف مذہبی و نیم سیاسی جماعتوں اور گروپس کی درپردہ تائید حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان کی مذہبی سیاسی جماعتیں چونکہ ڈائریکٹ پارلیمانی یا صدارتی سسٹم کی موجودگی میں اقتدار کے ایوان تک پہنچ نہیں پاتیں مگر پاور پلے، سٹریٹ پاور اور مملکت کے اندر لاکھوں مدرسوں کی موجودگی میں اتنی طاقتور ہوتی ہیں کہ وہ مذہب کے نام پر ہزاروں کا مجمع منٹوں میں اکٹھا کر لیتی ہیں۔ 2001ء میں نائن الیون کے سانحہ کے بعد چاروناچار پاکستان کو لکیر کے اس طرف کھڑے ہونا پڑا چونکہ مذہبی شدت پسندوں کو پاکستان کا یہ کردار پسند نہیں آیا تو انہوں نے مختلف حیلے بہانوں اور لال مسجد کے واقع کو بنیاد بنا کر مملکت پاکستان سے انتقام لینے کا بہانہ میسر آ گیا اس سے پہلے چونکہ افغانستان میں دنیا بھر کے مسلمان سرفروشوں نے جمع ہو کر آئی ایس آئی کی قیادت میں اس وقت کی نمبر ایک سپرپاور سوویت یونین (روس) اور اس کے جی بی کو عبرت ناک شکست دی تھی ۔ روس کے زوال کے بعد مجاہدین بے یارومددگار اور بے روزگار ہو گئے لیکن ان کا اسلحہ اور ان کی بندوق ان کے پاس تھی۔ نائن الیون کے بعد دنیا بھر کے مذہبی شدت پسندوں کے پاس پھر ایک نیا موقع آیا کہ وہ مذہب کو استعمال کرتے ہوئے اب کی بار امریکہ اور اس کے یورپی اتحادیوں کے خلاف برسرپیکار ہوں ۔ ان شدت پسندوں کی آبائی مملکتیں جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مڈل ایسٹ کے حکمران خود تو امریکہ اور اتحادیوں کے طفیلی تھے مگر مذکورہ ممالک اور ریاستوں میں ان گنت ایسے سرمایہ کار موجود تھے جو اپنے اپنے ممالک کو میدانِ جنگ بنانے کی بجائے پاکستان، عراق اور افغانستان کو اپنے لیے بہتر کھیل کا میدان تصور کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عراق اور افغانستان کے بعد پاکستان کو گھسیٹ کر اس کھیل میں شامل کیا گیا اور گذشتہ 13سالوں میں ہم نے نہ صرف کھربوں ڈالرز کا انفراسٹرکچر تباہ و بربادکروا لیا بلکہ ہم معاشی طور پر اتنے لاغر ہو گئے کہ ہمیں اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے 70بلین ڈالرز کے مزید قرضہ جات لینا پڑے اور 80ہزار سویلین، 12ہزار عسکری جوانوں نے اس راہ میں جانوں کے نذرانے پیش کیے جبکہ اس غیر اعلانیہ جنگ میں لاکھوں افراد باقی عمر کے لیے معذور ہو چکے ہیں اور آج بھی ہماری حالت یہ ہے کہ ’’سوئے ہوئے بچے کا منہ چومنا نہ بچے پہ احسان نہ بچے کی جاں پہ احسان‘‘ ایک طرف دہشت گرد اور شدت پسند پاکستانی افواج کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں بلکہ اس تکلیف دہ عرصہ کے دوران ہماری اپنی قوم بھی تقسیم ہو کر رہ گئی ہے حتی کہ تحریک انصاف اور عمران خان بھی جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام کے دونوں دھڑوں کے ساتھ مل کر اس مسئلہ پر ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ جب کہ موجودہ حکمران بھی ان ’’بگڑے ہوئے بچوں‘‘ کے لیے نرم ترین گوشہ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سات ماہ پہلے مملکت خدادادِ پاکستان میں ایک ایسے ڈرامے کا آغاز ہوا جس کا کہ انجام 15جون کو وہی ہوا جس کا سب کو انتظار تھا لیکن ا س درمیان اتنا پانی پلوں کے نیچے سے گزر چکا تھا قوم اور رفوج کا مورال انتہائی پست ہو چکا تھا دہشت گردوں کو دہشت گرد کہنا بظاہر پاکستان میں ممکن نہ رہا تھا حتی کہ جماعت اسلامی کی طرف سے مرنے والے دہشت گردوں کواور ان کے ’’کتوں‘‘ تک کو شہداء کا درجہ دیا گیا جبکہ پاک فوج کے شہداء کو حرام موت قرار دیا گیا۔ کچھ ایسی فضا وطن میں بن چکی تھی کہ دہشت گردوں کو بگڑے بچے اور مجاہدین اسلام کا نام دیا گیا۔ سابق چیف جسٹس اور میڈیا کا ایک بڑا ٹائیکون اور بیوروکریسی میں موجود ایک خاص مائنڈ سیٹ دہشت گردوں کو سپورٹ کرکے مجرمانہ کردار ادا کرتے رہے اور پاک فوج کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ جاگتی آنکھوں سے یہ تماشا ہوتے دیکھتے رہیں لیکن جب موجودہ کمانڈران چیف جنرل راحیل شریف، جنرل ظہیر السلام اور پاک فوج کے افسران اور جوانوں کی قوتِ برداشت جواب دے گئی تو آپریشن ’’ضربِ عضب‘‘ کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ قارئین ان ’’بگڑے ہوئے بچوں‘‘ کی وجہ سے میرے بیوی بچے جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ اس دوران ملک کی معاشی حالت نحیف ہو چکی ہے۔ ہمارا سیاسی ڈھانچہ دھاندلیوں کی بدولت تباہ ہو چکا ہے کہیں نظم اور نظام نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے اور چور مچائے شور کے مترادف ڈاکٹر طاہر القادری پر مبنی لانڈرنگ کے انتہائی فضول الزامات لگائے گئے ہیں۔ جبکہ موجودہ حکمران اپنے دوسرے دورِ حکومت میں محترمہ بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور راقم پر بھی لگا چکے ہیں اور سیف الرحمن کے احتساب سیل نے اربوں روپے کے قومی خزانے کا ضیاع کرکے ملک کو نقصان پہنچایا۔ وفاقی وزراء پرویز رشید، سعد رفیق اور عابد شیر علی نے ایک دفعہ پھر ن لیگی خصوصی ہتھکنڈہ استعمال کرتے ہوئے چاند پر تھوکنے کی جسارت کی ہے۔ میری ڈاکٹر صاحب سے اس موضوع پہ بات ہوئی تو انہوں نے مشفقانہ جواب دیا کہ ن لیگ کے شرارتی بچوں کی اٹکھیلیوںکا میں جواب تو دینا مناسب خیال نہیں کرتا لیکن اتنا بتاتا چلوں کہ دنیا کہ چالیس سے زائد ممالک میں منہاج القرآن کے سینٹرز موجود ہیں جہان پر سالانہ آڈیٹ رپورٹ اور ٹیکس ان ممالک کے مروجہ قانون کے مطابق ادا کیا جاتا ہے جبکہ عابد شیر علی اور اس کے باپ شیر علی نے گذشتہ ادوارِ حکومت میں ملکی خزانے کو اربوں کا نقصان پہنچایا جبکہ وزیراعظم نوازشریف کی بھارت، کینیا، سعودی عرب،ملائشیا اور برطانیہ میں شوگر ملیں، سٹیل ملز، سیمنٹ فیکٹریاں اور لندن میں کھربوں ڈالرز کی جائیدادیں اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں کہ وزیراعظم اور ان کا خاندان اس وقت برطانیہ کا ساتواں امیر ترین خاندان بن چکا ہے لیکن انہیں اب لوٹی ہوئی پائی پائی قومی خزانے میں جمع کروانی ہو گی ۔ ہم انقلاب لانے کے بعد اب کی بار پاکستاں کی سرحدین سیل کر دیں گے تاکہ قومی مجرم راہِ فرار اختیار نہ کر سکیں۔ 17جون2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus