×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
شہید بی بی کی سالگرہ پر جیالوں کے لیے خصوصی پیغام!
Dated: 21-Jun-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com شہادت سے تین روز قبل رحیم یار خان اور بہاولپور کے جلسوں کے دوران مجھے سکیورٹی انتظامات کرتے دیکھ کر شہید بی بی کہنے لگی ’’کیا اس طرح تم مجھے بچا لو گے‘‘ میں نے جواب دیا بی بی زندگی موت تو اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے مگر ہم اپنی قائد کو آنکھیں بند کرکے خطرات میں کیسے جھونک سکتے ہیں؟ دراصل یہ میری تربیت کا حصہ تھا، میں نے ایک عالمی ادارے میں خدمات سرانجام دی تھیں اور میری چھٹی حس کہہ رہی تھی کہ سب ٹھیک نہیں ہے۔ میری انہی باتوں کی وجہ سے اس سے پہلے بھی شہید بی بی پاکستان پیپلزپارٹی کے لندن میں ہونے والے فیڈرل کونسل اور سی ای سی کے اجلاس میں اعتراز احسن کو مخاطب کرکے کہہ چکی تھیں کہ ’’مطلوب وڑائچ کسی بھی آنکھ سے سرمہ نکال لاتا ہے اور کسی کو خبر بھی نہیں ہونے دیتا۔‘‘کبھی خوشگوار موڈ میں بی بی شہید مجھے سراغ رساں سیاست دان بھی کہتی تھیں یہی وجہ تھی کہ اپنے خلاف قائم کئے گئے سوئس عدالتوں میں مقدمات کا بھی مجھے نگراں مقرر کیا اور اس فرض کو میں آج تک نبھا رہا ہوں۔ پھر آصف علی زرداری کی رہائی کے لیے مجھے بلوایا گیا اور مجھے یہ ڈیوٹی سونپی گئی کہ میں عالمی رائے عامہ کو یورپین پارلیمنٹ اور امریکن نمائندگان کو متوجہ کروں کہ پاکستان میں بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر کے خلاف انتقامی کاروائیاں ہو رہی ہیں پھر جلاوطنی کے دوران میں شہید بی بی کو امریکن پینٹاگون، امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری سے ملاقاتوں کے لیے لے کر بھی گیا اور شہید بی بی کی خواہش پر سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور مخدوم امین فہیم کو بھی انہی جگہوں پر وزٹ اور ملاقاتیں کروائیں۔ یہی وجہ تھی کہ اس وقت کے وزیراعظم محترم نوازشریف نے خود مدعی بن کر میرے خلاف مقدمات قائم کیے اور مجھے بھی آصف علی زرداری صاحب کے ساتھ پابند سلاسل کر دیا۔ میری عالمی کاوشوں کی ہی وجہ تھی کہ آصف علی زرداری نے مجھے جپھی ڈال کر درجنوں لوگوں کے سامنے کہا تھاکہ مطلوب وڑائچ تجھے خدا نے میرے لیے فرشتہ بنا کر بھیجا ہے اب میری رہائی آپ کے ذریعے ممکن ہو گئی۔ آصف علی زرداری کے ساتھ جیل میں رہتے ہوئے بے شمار واقعات اور یادیں ہیں جو پھر کبھی تحریر میں لائوں گا مگر رہائی کے بعد آصف علی زرداری نے جو رویہ شہید بی بی کے ساتھ اختیار کیا اس کی وجہ سے میں کافی مایوس بھی ہوا دوران سفر بی بی شہید اکثر آنکھیں بند کرکے سوچوں میں کھو جاتی تھیں، وہ پریشان تھیں کہ آصف صاحب مسلسل پارٹی اور آئندہ ڈیل میں اپنا کردار مانگ رہے تھے جبکہ بی بی شہیدکا موقف تھا کہ آصف صاحب کو ان پر لگنے والے الزامات کی وجہ سے اب سیاست سے کنارہ کش ہو جانا چاہیے۔ ایک دفعہ نیویارک میں بھی اس سلسلہ میں میں بحث کے بعد کافی چپقلش ہو گئی۔ دراصل آصف صاحب پر غنویٰ بھٹواور فاطمہ بھٹو کی طرف سے میر مرتضیٰ بھٹو شہید کی شہادت سے متعلق کچھ خدشات تھے جن کا بی بی شہید کو بہت ملال تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بی بی شہید نے 18اکتوبر 2007ء کو وطن واپسی کا اعلان کیا تو انہی دنوں میں ایجوئے روڈ پر رحمان ملک کے گھر پر ہونے والے سی ای سی فیڈرل کونسل کے اجلاس سے آصف علی زرداری اور رحمان ملک کو اٹھ کر جانے کا کہہ دیا اور 30،35اراکین کے اجلاس سے آصف زرداری اور رحمان ملک کو بادلِ نخواستہ اٹھنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ 18فروری 2008 ء کے الیکشن کے بعد 20فروری کو اسلام آباد زرداری ہائوس میں الیکشن کے بعد پہلے اجلاس میں ،میں نے اپنی افتتاحی تقریر میں جب یہ مطالبہ کیا کہ ہمیں اقتدار سنبھالنے کی بجائے محترمہ شہید رانی کے قاتلوں کا تعاقب کرکے انہیں کیفرکردار تک پہنچانا ہوگا میری تقریر کے دوران آصف زرداری صاحب تلملاتے رہے اور پھر جھنجلا کر کہہ ہی دیا کہ وہ اور اس کا بیٹا بی بی کے حقیقی وارثان ہیں لہٰذا کسی کو تشویش کی ضرورت نہیں۔میرا اور میرے دوستوں کا خیال ہے غالباً یہی تقریر بعد میں ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس سے میری دوری کا باعث بنی۔ مگر میں نے ہمت نہیں ہاری اور پچھلے 6سال سے پاکستان کے سب سے بڑے کو اپنے اور لاکھوں جیالوں کی پکار بنا لیا۔ گذشتہ ڈیڑھ سال سے برین ہیمرج ہونے کی بناء پر پہلے سوئٹزرلینڈ میں تھا اور اب کینیڈا میں علاج کروا رہا ہوں۔ گذشتہ سال علامہ طاہر القادری کے دھرنے اور بعدازاں الیکشن اور پھر بعدازلیکشن ساری صورت احوال کا جائزہ لیتا رہا۔ اسی دوران ڈاکٹر طاہر القادری خصوصی شفقت فرماتے ہوئے میرے ساتھ ملکی حالات اور موجودہ بحران پر تبادلہ خیال کرتے رہے اور گذشتہ روز ڈاکٹر صاحب مجھے پوچھنے لگے کہ مطلوب کیا آپ کے ساتھی لاکھوں جیالے لبرل پروگریسو کارکن متوقع انقلاب کا حصہ بنیں گے؟ تو میں نے جواب دیا علامہ صاحب ایک شرط ہے وہ بولے وہ شرط کونسی ہے؟ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب پاکستان کے لاکھوں جیالوں ،بی بی شہید اور بھٹو شہید کے پروانوں سے ایک وعدہ کریںکہ انقلاب کے بعد اقتدار میں آ کر آپ بی بی شہید کے حقیقی قاتلوں کو کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔ کیا بی بی کے جیالوں کو انصاف ملے گا؟ ڈاکٹر صاحب یہ سن کر اٹھے اور مجھے بھی اٹھنے کا اشارہ کیا اور بازو آگے پھیلا کر مجھے اپنے گلے سے لگا لیا اور بھنچ کر بولے کیا آپ جیالے لوگ مجھے بھی اتنا ہی پیار اور وفا کرو گے جتنا آپ بھٹو شہید اور بے نظیر بھٹو شہید سے کرتے ہیں؟ میں نے جواب دیا ڈاکٹر صاحب ہاں کریں گے تو ڈاکٹر صاحب فرمانے لگے ناں تھوڑا زیادہ نہ تھوڑا کم۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے گلے لگے ہوئے کہا ڈاکٹر صاحب پاکستان کے لاکھوں جیالے صرف شہیدوں کے ساتھ انصاف چاہتے ہیں، جیالوں کی تسکین تب ہو گی جب بی بی شہید کو انصاف ملے گا۔ تو ڈاکٹر صاحب آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگے مطلوب وڑائچ جائو اور جیالوں کو جا کر یہ خوش خبری سنا دو کہ انشاء اللہ انقلاب کے بعد بی بی شہید کے قاتلوں کو میں خود تختہ دار تک پہنچائوں گا۔ یہ زرداری کا نہیں نوازشریف کا نہیں یہ قائدانقلاب کا وعدہ ہے اور پھر مجھ سے کہا کہ بی بی شہید کے جیالوں کی طرف سے آپ بھی مجھے حلف دو کہ جیالے اس راہ انقلاب میں غیر متذلذل ہو کر ہمارا ساتھ دیں گے۔ اس موقع پر علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے مجھے اپنا پولیٹیکل سپیشل انوائے مقرر کیا اور یہ ذمہ داری دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح آپ نے شہید بے نظیر بھٹو کے لیے یہ خدمات انجام دیں تھیں اسی طرح سبز انقلاب کے لیے خود کو وقف کرنا ہوگا ۔میں علامہ ڈاکٹر طاہر القادری کے سینے سے لگا یہ سوچ رہا تھاکہ انصاف ہم سے اب چند قدموں کے فاصلے پر ہے ۔ بی بی رانی بے نظیر بھٹو کے جیالو! میں نے آپ کے ایماء پر حصول انصاف کے لیے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کو حلف دے دیا ہے کہ جیالے اس سبز انقلاب کے ہراول دستوں میں شامل ہوں گے۔ ذرا دیکھنا اب کی بار کوئی جدہ،دوبئی، لندن، امریکہ بھاگنے نہ پائے محترمہ کی سالگرہ پر جیالوں کے لیے اس سے بڑا تحفہ کیا ہوگا؟ 21جون2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus