×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی ہائی جیکنگ
Dated: 24-Jun-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com قارئین میرا آج کا موضوع تو گلو بٹ تھا مگر میں اپنے کالم کے آخری الفاظ ضابطہ تحریر میں لا رہا تھا کہ ملکی تاریخ کا سیاسی ہائی جیکنگ کا دوسرا بڑا واقع رونما ہو گیا۔ اس سے پہلے 12اکتوبر1999ء کے دن آج کے وزیراعظم جو اس وقت بھی وزیراعظم تھے کولمبوسری لنکا سے اڑنے والے پی آئی اے کے طیارے جس میں اس وقت کے پاک فوج کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف سوار تھے کو سبکدوش کرکے اس کے طیارے کو کراچی لینڈنگ کی اجازت نہ دی جس کو پاک فوج کے افسران نے اس سازش کو ناکام بنا دیا ۔ آج پھر اسی وزیراعظم نے جس نے 9سال جلاوطنی کاٹی پھر ویسی ہی حرکت کر دی اور ڈاکٹر طاہر القادری کے دبئی سے آنے والے طیارے کو جس نے اسلام آباد لینڈ کرنا تھا اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زبردستی لاہور لینڈنگ پر مجبور کر دیا ۔اُس وقت بھی ردعمل کے طور پر میاں نوازشریف کی حکومت برطرف کی گئی اور آج بھی ڈاکٹر طاہر القادری اور انقلاب پسندوں کی درخواست پر حکمرانوں کے خلاف ایف آئی آر کاٹی جا سکتی ہے ۔ ایک طرف تو حکومت وقت اور ان کے حواری واویلا کرتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہمیں طاہر القادری کے پاکستان آنے پر کوئی اعتراض نہیں اور ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں لیکن دوسری طرف گذشتہ ایک ہفتے کے دوران لاہور میں کم از کم 30انسانی لاشیں گرائی گئیں۔ بہیمانہ تشدد انقلاب پسندوں کے جسموں پہ چسپاں کر دیا گیا اور حکومت نے ایک نجی ٹیلی ویژن کے لاہور بیوروچیف کے ذریعے اربوں روپے چھوٹے بڑے اخبارات اور رسائل کے ایڈیٹر کو پہنچائے جب کہ بڑے بڑے بریف کیس ایک صحافتی گلو کے ذریعے نجی ٹیلی ویژن چینلوں کو پہنچائے گئے اور گذشتہ دو دنوں سے پاکستان کے ہر شہر اور قصبے کے ہزاروں کارکنان کو چھاپے مار کر گرفتار کیا گیا اور گذشتہ دو دن سے موٹرویز ،جی ٹی روڈاور قومی شاہراہیں بند کرکے ریاستی جبر کا ثبوت دیا ۔ صرف راولپنڈی شہر اور اس کے اطراف میں سینکڑوں ٹن سوئی گیس کے شیل انقلاب پسندوں پر برسائے گئے ۔پاکستان کے بیس کروڑ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ ریاستی وسائل کو ذاتی اقتدار بچانے کے لیے بے دریغ استعمال کرنا کہاں کی جمہوریت ہے ؟قارئین اب تک کی اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر طاہر القادری نے لاہور ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے بعد طیارے سے باہر آنے پر انکار کر دیا ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ پاک فوج کے مقامی کورکمانڈر ان کی اور سینکڑوں جانوں کی حفاظت کے لیے میدان میں آئیں ۔ اتنے میں جھورا جہاز جو میں پاس بیٹھ تھا بولا وڑائچ صاحب ’’بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی‘‘آخر ایک دن انقلاب پسند کامیاب ہوں گے اور جبر کی یہ سیاہ تاریک رات ختم ہو ہی جائے گی۔ اب تھوڑا گلو بٹ کے حوالے سے بات ہو جائے ۔ گلو بٹ کردار بیک وقت وفا اور بدمعاشی کا استعارہ ہے ۔ یہ اپنے سرپرستوں کے حکم پر کسی کی جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتے اور کبھی تو اپنے آقا کی آن پر زد پڑتے دیکھ کر انتہائی قدم اُٹھا لیتے ہیں۔ زمانہ قدیم سے امراء اور حکمران وقت سمیت جاگیردار، سرمایہ دار، چوہدری اور وڈیرے اپنے پاس کن ٹٹے رکھنے کے عادی ہیں، ہر سر اٹھانے والے کی ٹھکائی کرنا اور اس کی زبان بند کروانے کے لیے ان پالتو بدمعاشوں کا بڑاکردار رہا ہے۔ پیپلزپارٹی کے گذشتہ دور حکومت میں ایسے ہی کچھ کرداروں کے لیے ایک نئی اصطلاح استعمال کی گئی اور انہیں ’’نان اسٹیٹ ایکٹر‘‘ کہہ کر پکارا گیا۔موجودہ دور میں سیاسی جماعتوںو قائدین نے اپنی سیکیورٹی کے نام پر ایسے کرداروں کی فوج بنائی ہوتی ہے اور جن دنوں ’’صاحب‘‘ اسلام گئے ہوتے ہیں تو یہی کردار اپنے سپوٹروں کے چھوٹے موٹے کام لوکل لیول پر کرواتے ہیں۔گذشتہ دنوں سانحہ ماڈل ٹائون لاہور میں درجنوں کارکنان کو شہید کر دیا گیا اور نجی ٹی وی چینلز پر مسلسل دکھایا گیا کہ لاہور کا ایک بدمعاش جسے پولیس کی مکمل سرپرستی حاصل ہے بلکہ ایک ’’فوٹیج‘‘ میں دکھایا گیا ہے کہ گلوبٹ پولیس کے لائو لشکر کے آگے قائدانہ انداز میں چل رہا ہے اور پھر نعرہ تکبیر بلند کرکے معصوم کارکنان پر دھاوا بولتا ہے۔بعدازاں شواہد ملے ہیں کہ گلوبٹ نہ صرف بھتہ خور ہے بلکہ خادم اعلی کا خادم لاہور ہے او رمغلیہ شاہی دربار سے ’’شیر لاہور‘‘ کا خطاب یافتہ ہے۔یہ گلوبٹ صوبائی اسمبلی اور وزیر اعلیٰ و گورنر ہائوس کا باقاعدہ وزیٹر ہے اور اعلیٰ سِول و انتظامیہ کا منظور نظر ہے۔ ایک نجی ٹیلی ویژن چینل پر اینکر شاہد مسعود نے انکشاف کیا کہ گلوبٹ کو ڈاکٹر طاہر القادری کے صاحبزادے کو ’’ٹھکانے‘‘ لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جو ایئر پورٹ پر اس کو موقع نہ مل سکا جس کا غصہ گلو بٹ نے دوسرے دن درجنوں گاڑیوں اور دکانوں کی توڑ پھوڑ کرکے نکالا۔اس دن کئی گلو بٹ نمک حلالی کرتے رہے جن کی ایک ایک کرکے فوٹیج سامنے آرہی ہیں۔انہی نان اسٹیٹ ایکٹروں کی بدولت لگتا ہے الیکشن 2013ء کے نتائج کو پنکچرز لگائے گئے۔ایسے متعدد کریکٹر آپ کو روزمرہ کی زندگی میں نظر آئیں گے۔ اکثر گلو تو صرف روٹی کپڑا اور جام کی بوتل کے عوض اپنے آقائوں کے پھنسے ہوئے کام خوبصورتی سے سرانجام دیتے ہیں۔سانحہ لاہور کے پیچھے حقائق کیا ہیں؟ یہ تو وقت آنے پر پتہ چل جائے گا۔ مگر معاشرے کو ان گلوئوں سے غلو خلاصی کرانا ہو گی اور ایسا تب تک ممکن نہیں جب تک نظام نہ بدلا جائے ۔ چہرے بدلنے سے گلوبٹ سے گلو ڈالہ یا گلو خواجہ گلو میاں یا گلو رانا ہو جائے گا۔اگر ایسا سانحہ کسی مہذب معاشرے میں ہوتا تو پورے معاشرے کو سکستہ ہو جاتا۔ ملک کا سربراہ مستعفی ہو جاتا۔ مگر جس معاشرے میں گلو جیسے بدمعاش گل کھلاتے رہیں گے اس معاشرہ میں جمہوریت کا ڈھنڈورا پیٹنا ایک فیشن سے زیادہ کچھ نہیں۔مجھے یقین ہے کہ حکمران اپنی گردن بچانے کے لیے پھندے سے اپنا سر نکال کر گلوبٹ کا سر پھنسا دیں گے یا چند پولیس والوں کو معطل کرکے معالے پر مٹی پائو کا کھیل کھیلیں گے۔سانحہ لاہور اور گلوبٹ کی کارروائی سے ایک بات تو کلیئر ہو گئی ہے کہ جمہوریت کا واویلا کرنے والے صرف ہوس اقتدار میں مبتلا ہیں۔ شہدائے انقلاب کے خون بہا کا تقاضہ ہے کہ معاشرے کو گلو بٹوں سے پاک کیا جائے اور ملک میں مصطفی انقلاب لایا جائے جہاں ہر شخص کو انصاف اور روزگار ملے۔ 24جون2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus