×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
رمضان المبارک ،آپریشن اور اُمید انقلاب
Dated: 28-Jun-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com دوسرے بیشمار لوگوں کی طرح میں بھی یہ سوچنے پرمجبور ہوں کہ ہر سال آمدِ رمضان مبارک کے ساتھ ہی مہنگائی ذخیرہ اندوزی کا آسیب اپنے بلوں سے نکل آتا ہے یہ مقدس و مبارک مہینہ ہم سے تقاضا کرتا ہے کہ ہم ایثار اور قربانی کا نہ صرف درس دیں بلکہ اس پہ عمل بھی کریں۔ پاکستان میں میں یہ سال ہا سال سے دیکھتا چلا آ رہا ہوں کہ پاکستان کا کاروباری طبقہ اس مقدس مہینے کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر عوام کو ذبح کر دینے کے مترادف اپنی چھریاں تیز کر لیتا ہے۔ اس مہینے سے پیوستہ عیدالفطر کے مبارک دن کو بھی اپنی لوٹ مار کی وجہ بنا لیتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ان لوٹنے والوں کی اکثریت ’’شکل مومناں اور کرتوت …‘‘ ان لوگوں کو گراں رسانی اور لوگوں کی جیبیں کاٹتے ہوئے یہ احساس تک نہیں ہوتا کہ خدا نے جس مہینے میں ابلیس تک کو قید کرنے کی نوید سنائی ہے۔ اس مہینے میں یہ معاشی ڈاکو آزاد ہو کر دونوں ہاتھوں سے لوگوں کے مذہبی جذبات کو بلیک میل کرکے اپنی تجوریاں بھرتے ہیں۔ پاکستان کے مسلمانوں پر ہی کیا موقوف سمندر پار جہاں جہاں پاکستانی اور مسلمان کثیر تعداد میں آباد ہیں ان علاقون میں موجود ڈیپارٹمنٹل و گراسری سٹور جن کے مالکان کہنے کو تو مسلمان ہوتے ہیں مگر آمد رمضان سے قبل وہ ضروریات زندگی اور روزمرہ اشیاء کے نرخ بڑھا دیتے ہیں۔ قارئین! اس دفعہ جھورے جہاز نے میری ایما پر ایک سروے مکمل کیا ہے۔ ہم نے ٹورنٹو انڈرایو صوبے کے بیس ایسے گراسری اور ڈیپارٹمنٹل سٹورز جن کے مالکان مسلمان ہیں انہوں نے خوردونوش کی اشیاء میں 10سے 20فیصد تک اضافہ کیا ہے جبکہ ہم نے 20ایسے ڈیپارٹمنٹل اور گراسری سٹور جن کے مالکان کرسچین،یہودی، سکھ اورغیر مسلم ہیں نے رمضان المبارک سے پہلے اپنے چھپوائے ہوئے خصوصی ’’فلایئر‘‘ میں رمضان المبارک کے حوالے سے خصوصی رعایتی سیل متعارف کروائی ہیںبلکہ اپنے فلایئرز پر مسلمانوں کو رمضان المبارک کے تہنیتی اور مبارک بادی پیغامات بھی شائع کیے ہیں اور یہ سب مسلمان گراں فروشوں کے منہ پر ایک طمانچہ کی طرح ہے۔ آج کا دوسرا موضوع ’’ضربِ عضب‘‘ آپریشن کے اثرات ہیں۔ پاک فوج نے قومی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے معاشرے کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔یہ کام ہمیں آج سے 12سال پہلے شروع کر دینا چاہیے تھا مگر ایک عام پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ وہ کونسی ایسی مجبوریاں ہیں جن کی بنا پر ہمارے سیاست دان ہماری بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ، داخلہ و خارجہ پالیسی اور ہمارے مذہبی رہنما تذبذب کا شکار رہے ۔ ہماری داخلی اور خارجی سلامتی اس قدر لاچار ہو چکی تھی کہ القاعدہ، طالبان، عرب جنگجو اور دنیا بھر کے دہشت گردوں نے ہمارے گھر کے صحن کو اپنا مسکن بنا لیا یقینا ہمار ے ملک کے پالیسی ساز اداروں اور بیوروکریسی میں ایسے عناصر کی موجودگی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا جو اپنے ہم وطنوں اور اپنی قوم اور ملکی سلامتی کا سودا تک کرنے سے نہیں گھبراتے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ مذہبی،مسلکی گروپس عوام کے مذہبی جذبات کو یرغمال بنا کر بلیک میل بھی کرتے رہے ہیں۔ یہ وہی قوتیں ہیں جنہوں نے مرنے والے دہشت گردوں کو شہید اور اسامہ بن لادن کو ’’سیدالشہدا‘‘ کا خطاب دیا۔ اب جب کہ موجودہ حکومت جو کہ دہشت گردوں کے مخصوص گروپس کے لیے نرم گوشہ رکھتی رہی ہے اس کو داخلی اور خارجی دبائو سے مجبور ہو کر بادلِ نخواستہ قوم اور افواج پاکستان کا ساتھ دینا پڑا۔ اس وقت شمالی وزیرستان کے 5لاکھ آئی ڈی پیز 20کروڑ ہم وطنوں سے اس بات کے متقاضی ہیں کہ حکومت نہ صرف آپریشن ضرب عضب کو ترجیحاً مکمل کرے اور ان کی باعزت اپنے گھروں کو واپسی ممکن بنائے اور جب تک یہ آپریشن جاری ہے ان کی مجوزہ ضروریات اور رمضان المبارک میں ایثار کا ثبوت دیتے ہوئے قوم بھی اپنے حصے میں سے خوشیاں آئی ڈی پیز میں بانٹے۔ ہمیں اس موقع پر اس بات کا بھی خاص خیال رکھنا ہوگا کہ یہ جاری آپریشن رمضان المبارک میں بھی بند نہ ہونے پائے رمضان المبارک میں دشمنوں کے ساتھ تو جنگ بندی کی جا سکتی ہے مگرباغیوں، وطن دشمنوں اور دہشت گردوں کے معاملے پر اس کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے۔ دہشت گردوں کو بریک دینے کا مطلب یہ ہے کہ انہیں اپنی قوت پھر سے مجتمع کرنے کا موقع دیا جائے۔عمران خان کا عارضی طور پر اپریشن روکنے کا مطالبہ بچگانہ ہی نہیں احمقانہ بھی ہے ۔فوج کا یہ عزم بھی قابل تحسین ہے کہ اچھے اور بُرے طالبان میں امتیاز کے بغیرسب کا صفایا کیا جائیگا۔ قارئین! پچھلے تقریباً دو ہفتوں سے داخلی سلامتی کو درپیش خطرات اور سانحہ کراچی ایئرپورٹ، سانحہ ماڈل ٹائون لاہور اور پشاور ایئرپورٹ جیسے سانحات نے پوری قوم کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔خاص طور پر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی وطن واپسی کے موقع پر ہونے والی کشیدگی اور جگ ہنسائی نے ملکی داخلی اور خارجی سلامتی کو ایک سوالیہ نشان بنا کر رکھ دیا ہے تدبیر اور فہم سے عاری ملکی موجودہ قیادت اس بات کا ادراک کرنے سے قاصر ہے کہ وطن عزیز اس وقت سقوطِ مشرقی پاکستان کے دہانے پر کھڑا ہے اور عاقبت نااندیش حکمرانوں کی ذرا سی غفلت اور لغزش ملکی سامتی کے لیے زہر قاتل ہو سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ، وزیراعظم اور ان کی مشاورتی ٹیم نے خونی انقلاب کے لیے کوئی کسر نہ رکھ چھوڑی تھی کہ اس نازک وقت میں پاکستان کی عسکری قیادت، گورنر سندھ، گورنر پنجاب اور ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی فہم و فراست نے معاملے کی سنگینی کو جانتے ہوئے عدم تشدد کی راہ کو اپنایا جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ آپریشن ضرب عضب کے مکمل ہونے تک وہ ملکی داخلی صورتِ حال کو موجودہ حالات میں درگزر کریں گے لیکن قارئین کو یاد ہوگا کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی ابتدا میں دہشت گردی کے خلاف 600صفحات پر مشتمل ایک مکمل فتویٰ جاری کیا تھا اور اب بھی ڈاکٹر صاحب نے ضربِ عضب کو ضربِ حق قرار دے کر دہشت گردوں اور ان کے ’’سپوٹران‘‘ کے فرار کے تمام راستے مسدود کر دیئے ہیں۔ پاک فوج کی کامیابی کے بعد سبز انقلاب کی طرف جانے والے تمام راستے انشاء اللہ خود بخود صاف ہو جائیں گے۔ 28جون2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus