×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مجوزہ گرینڈ الائنس کو درپیش چیلنجز
Dated: 01-Jul-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ڈاکٹر طاہر القادری کی آمد کو تقریباً ایک ہفتہ گزر چکا ہے مگر بوکھلائی ہوئی صوبائی اور وفاقی حکومت ابھی تک سانحہ ماڈل ٹائون اور ڈاکٹر صاحب کے استقبال جیسے آفٹر شاک سے پوری طرح باہر نہیں نکل سکی۔ وزیر داخلہ و وزیراعظم کی پراسرار خاموشی، وزیر اعلیٰ کی لاعلمی اور صوبائی و وفاقی وزیر قانون کی حواس باختگیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکمران ذہنی طور پر پسپائی اختیار کر چکے ہیں اور رمضان المبارک کے بعد کوئی ایک آدھ غیر متوقع ناخوشگوار واقع دھاندلی زدہ اقتدار کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ خاص طور پر 27جون کے جلسہ میں عمران خان کی طرف سے لانگ مارچ کال اور 29جون کو ہونے والی اے پی سی میٹنگ نے جمہوری اور انقلابی قوتوں کو ایک جگہ اکٹھا کر دیا ہے اور بادیٔ النظر میں یہ حکمرانوں کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں ہے مگر 29جون کے اعلامیہ کی شک نمبر3کافی مضحکہ خیز ہے کہ آپ ایک کٹھ پتلی صدر سے اور بِکی ہوئی عدلیہ سے انصاف کا تقاضا کر رہے ہیں۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے ’’پانی میں مدھانی‘‘ صدرِ مملکت تو بے چار اے پی سی کی کسی میٹنگ کے لیے دھی بھلے بنا کر بھیج سکتے ہیں ان سے استعفیٰ لینے یا دینے کی بات عجیب منطق ہے۔ اے پی سی میں پاکستان کی سیاسی قوتوں کا ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہونا خوش آئندہ ہے مگر پیپلزپارٹی کی عدم شرکت کئی سوالیہ نشان اپنے پیچھے چھوڑ گئی ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 9اپریل 1977ء کے دن ڈسکہ میں پیپلزپارٹی کے 8جیالوں کو زندہ جلا دیا گیا تھا پھر شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے اعلان کے بعد درجن بھر جیالوںکی خودسوزیاں ہزاروں کوڑے اور مجموعی طور پر کارکنوں کو ہزاروں سال کی سزائیں سنائی گئیں پھر 18اکتوبر2007ء کو عدلیہ بحالی تحریک اور شہید بے نظیر بھٹو کی پاکستان واپسی کے موقع پر پیپلزپارٹی کے سینکڑوں جیالے خون میں نہا گئے اور 27دسمبر2007ء کو بے نظیر بھٹو کے ساتھ راہِ جمہوریت میں درجنوں جیالوں نے جامِ شہادت نوش کیا مگر آج پیپلزپارٹی جس کی سربراہی آصف زرداری کر رہے ہیں وہ پیپلزپارٹی ایک مظلوم سیاسی پارٹی اور اس کے کارکنان کے ساتھ نہیں بلکہ ظلم اور ظالم کے ساتھ کھڑی ہے۔ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ پیپلزپارٹی کا ایسا گھنائونا کردار بھی تاریخ اپنی آنکھوں سے دیکھے گی۔ 23جون سے کچھ یوم قبل ہی سے اس روز کے ایونٹ اور اس کے اثرات کو زائل کرنے کے لیے حکمرانوں نے سرکاری خزانے کے منہ کھول دیئے۔ نام نہاد دانشوروں، کالم نگاروں، ٹی وی اینکرز اور زرد صحافت کے علم بردار میڈیا مالکان کو ہر قیمت پر خریدنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ قارئین! آپ روزانہ ٹی وی ٹاک شوز دیکھنے کے عادی ہیں تو آپ کو یاد ہوگا 23جون سے دو دن پہلے ایک نجی میڈیا گروپ کو نہ صرف بند کر دیا گیا بلکہ اس کے اینکرز پر بھی پابندی لگا دی گئی اور آپ نے دیکھا ہوگا 23جون کے دن سے دیگر نجی چینلز کے رویوں میں ’’خاص‘‘ قسم کی تبدیلی آئی ہے، لگ رہا تھا حکمرانوں نے میڈیا کے ایک بڑے حصے کو ’’جیو‘‘ بنا دیا ہے اور پاکستان کے انہی نام نہاد صحافتی علمبرداروں نے انقلاب دوست قوتوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کا سا کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔ حتیٰ کہ ڈاکٹر طاہر القادری، چوہدری صاحبان، شیخ رشیداور عمران خان کے درمیان غلط فہمیان پیدا کرنے کی کوششیں کی گئیں۔انقلاب اور تبدیلی کی قیادت کو حواس قائم رکھ کر کھلی آنکھوں سے اپنے قریب میڈیا سے تعلق رکھنے والے دوستوں پر نظر رکھنا ہو گی کہ کوئی دوست بن کر کہیں لارنس آف عریبیا کا کردار تو نہیں اد اکر رہا اور اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان عوامی تحریک کی تنظیم پہ یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف نئے آنے والے سیاسی لیڈروں اور کارکنوں کو کھلے دل سے قبول کریں بلکہ وہ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ انقلاب کی صفوں میں کہیں برساتی سیاسی مینڈک نہ گھس آئیں۔ انقلابی دوست، شیخ رشید، چوہدری برادران اور عمران خان کی ٹیم کو مکمل عزت اور جگہ دیں۔ یاد رکھیے حکمرانوں کی یہ حتی الوسع کوشش ہو گی کہ وہ انقلابی دوستوں کے درمیان کمیونیکیشن گیپ کے ذریعے غلط فہمیاں پیدا کر دیں اور قائدین کو بھی ’’ایگو(Ego) ‘‘ کی سیاست کو چھوڑ کر ٹولرینس کی حکمت عملی اپنانا ہو گی دنیا کی تاریخ میں تحریکوں، انقلابات اور تبدیلیوں کے عمل کے دوران کسی بھی ناخوشگوار حادثے کی صورت میں اس کا فائدہ ہمیشہ انقلاب دشمنوں کو پہنچتا ہے۔ ابھی حال ہی میں ڈاکٹر طاہر القادری اور چوہدری برادران اور عمران خان اور شیخ رشید کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی مگر یہ سیاسی قوتوں اور قیادت کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ اس جال سے بچ کر آگے بڑھیں۔ ایک مشہور یورپی مفکر نے کیا خوب کہا ہے کہ آپ پارٹنر شپ یا دوستی کرنے سے پہلے دونوں فریق ایک ایک کلو ’’نمک‘‘ کھا لیں تاکہ آپ اتنے کڑوے ہو جائیں کہ آپ کو اپنے دوست کی بات کڑوی نہ لگے۔ سبز انقلاب کے قائدین اور کارکنوں کو ایک بات یاد رکھنا ہو گی کہ موجودہ حکمران طبقہ اکیلے نہیں بلکہ ان کے ساتھ ہزاروں لوگوں اور خاندانوں کے مفادات وابستہ ہیں اور اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے متعلقہ افراد اقتدار کو گرنے سے بچانے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھیں گے بھی اور حتمی حربہ، آخری گولی اور تاش کا آخری پتا استعمال کریں گے کیونکہ وہ یقینا جانتے ہیں کہ سبز انقلاب میں اب سرخ خون کی آمیزش شامل ہو چکی ہے اور مفادات کا حامل یہ طبقہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے تجوریوں میں بند ناجائز دولت کا بے دریغ استعمال کرکے بھی اقتدار کو بچانے کی کوشش کرے گا مگر ڈاکٹر طاہر القادری کی فہم و فراست کی حامل انقلابی قیادت کارکنوں اور گرینڈ الائنس کی قائدانہ رہنمائیں کریں گے۔ یکم جولائی2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus