×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اگرحکومت سنجیدہ ہوتی تو دہشتگردی کو پھانسی لگا دیتی
Dated: 08-Jul-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com تحریک انصاف کے چیئرمین عمران ایک جینوئن ریزن لے کر لانگ مارچ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری انقلاب کی جدوجہد کر رہے ہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ انہیں گرفتار کیا گیا تو حکومت کو ختم ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔ ڈاکٹر طاہر القادری کہتے ہیں کہ ان کی جدوجہد سے انقلاب دنوں میں برپا ہو جائے گا۔ شیخ رشید نے آج ہی کہا ہے کہ حکومت پندرہ دن کی مہمان ہے۔ مسلم لیگ ن کی حکومت نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے کیے ہوئے وعدے پورے کیے ہوتے تو عوام حکومت کے خلاف اٹھ نہ کھڑے ہوتے۔ ڈاکٹر طاہر القادری، عمران خان، شیخ رشیداور چوہدری شجاعت اور پرویز الٰہی کو اپوزیشن کہا جائے تو عوام اپوزیشن کے اس لیے ساتھ ہیں کہ وہ حکومت کی کارکردگی سے مایوس ہو چکے ہیں۔ مہنگائی کا طوفان بڑھتا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف منافع خوروں کو عبرت کا نشان بنانے کی بڑھکیں مارتے ہیں عملی طور پر کچھ بھی نہیں ہوتا۔ عوام چھ سال سے مسلسل ان کی بڑھکیں سن رہے ہیں۔ لاقانونیت نے پورے ملک کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ بدستور جاری ہے۔ شدید گرمیوں میں گیس کی قلت کا حکومت کے پاس کوئی جواز نہیں ہے۔ شاید ایل این جی کی مہنگی درآمد کے لیے گیس کی قلت کا عذاب نازل کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف گیس اور بجلی کی شدید قلت دوسری طرف اس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے سوہان روح ہے۔ ایسے میں عوام میاں نوازشریف کو دعائیں تو نہیں دیں گے۔ ڈوبتے کو تنکے کا سہارا۔ ڈاکٹر طاہر القادری انقلاب کی صورت میں عوام کی امیدوں کا مرکز بن چکے ہیں۔ ہو سکتا ہے عوام کو رمضان المبارک کے دوران ہی انقلاب کی نوید سننے کو مل جائے۔ حکمران اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرکے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے عمران خان کے لانگ مارچ کے اعلان اور ڈاکٹر طاہر القادری کی انقلابی سرگرمیوں سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ فوج دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں مصروف ہے۔ یہ وقت فوج کا ساتھ دینے کا ہے لانگ مارچ اور جلسے جلوس کا نہیں۔ دہشتگردوں کے خاتمے کی جنگ تو 16اور 17جون کو بھی ہو رہی تھی جب پنجاب حکومت نے ماڈل ٹائون میں خون کی ہولی کھیلی اور الٹا مقدمہ بھی عوامی تحریک کے رہنمائوں اور کارکنوں پر درج کرا دیا۔ خود حکومت دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کتنی سنجیدہ ہے اس کا اندازہ نوازشریف، چودھری نثار جھگڑے سے لگ جاتا ہے۔ چودھری نثار کے جو بھی تحفظات ہیں ان کا اثر قومی معاملات پر نہیں پڑنا چاہیے تھا۔ وزارت داخلہ چودھری نثار کی نوازشریف کی ناراضگی سے ایک ماہ تک لاوارث رہی۔ اس وزارت کا ضرب عضب میں اہم ترین کردار ہے۔ میاں نوازشریف کی چودھری نثار سے ذاتی دوستی ہو سکتی۔ پاکستان ان کی ذاتی جاگیر نہیں۔ قوم کو کسی لاڈلے کے نخروں کی بھینٹ نہیں چڑھایا جا سکتا۔ ان کے تحفظات آپ دور کریں یا نہ کریں ایک وزیر نازک حالات میں روٹھ کر ایک ماہ تک گھر کیوں بیٹھے۔ وزیراعظم کو دوسرے ہی روز نیا وزیر داخلہ مقرر کر دینا چاہیے تھا۔ چودھری نثار کو تحفظات تھے، ان کی بات نہیں مانی جا رہی تھی تو وہ استعفیٰ دے کر گھر بیٹھ جاتے۔ نوازشریف اور چودھری نثار نے اپنی ناراضگی کا بدلہ ملک وقوم سے لیا۔ جب اب دہشتگردوں کے خاتمے کی جنگ لڑ رہے ہیں تو کیا ملک ایسی غیرذمہ داری کا متحمل ہو سکتا ہے؟ دوسروں کو دہشتگردوں کے خاتمے کی جنگ کا احساس دلا رہے ہیں اپنا کردارزیر غور نہیں ہے۔ ضربِ عضب کو حکومت نے اون تو کیا لیکن حقیقت میں وہ اس جنگ میں سنجیدہ نہیں ہے۔ فوج دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کر رہی۔فوج اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ہے۔ یہ سلسلہ کئی سال سے جاری ہے۔ سات ہزار سپوت دہشتگردوں کے ساتھ لڑتے قربانی دے چکے ہیں۔ اب جبکہ ایک باقاعدہ جنگ ہو رہی تو حکومت نے بدستور پانچ سو دہشتگردوں کو جیلوں میں مہمان بنا کیے رکھا ہوا ہے، جن کو عدالتوں نے سزائے موت سنا رکھی ہے۔ ان کی سپریم کورٹ اور صدر کی طرف سے اپیلیں مسترد ہو چکی ہیں۔ ایسے دہشتگردوں کی سزائے موت پر عمل کا یہی بہترین موقع ہے۔ دہشتگردوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔ ان کے ساتھی سزا ئے موت کے احکامات کے باوجود جیلوں میں محفوظ بیٹھے رہیں تو یہ دہشتگردوں کے حوصلے بڑھانے کے مترادف ہے۔کیا حکومت ان کو فرار کے راستے دکھانا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ ن پر الزام ہے کہ اس کے دہشتگردوں سے رابطے ہیں۔ پانچ سو دہشتگردوں کو بچا کر رکھنے سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ جب حکومت ہی سنجیدہ نہیں ہو گی تو پھر دہشتگردوں کا خاتمہ کیسے ہو سکتا ہے۔ حکومت کی اس معاملے میں خاموشی بھی اس کے انجام کو قریب تر لا رہی ہے۔ حکومت ذاتی جاگیر کی طرز پر نہیں چلائی جا سکتی۔ مرکز اور پنجاب کے علاوہ بلوچستان میں بھی حکومت کو ذاتی جاگیر سمجھ لیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں سونامی کی گنجائش ہے نہ طاہر القادری کی سیاست چل سکتی ہے۔ وہ غیر جمہوری انداز میں مرکز اور پنجاب والوں کی طرح فیصلے کریں گے تو بلوچستان میں سونامی آئے گا اور انقلاب بھی آئے گا۔ ان کا بیان ملاحظہ فرمایئے جو جمہوریت اور سیاست کے لیے شرمناک ہے۔ ارسلان افتخار کو عہدہ بغیر کسی میرٹ کے دے دیا گیا۔ اس پر کہتے ہیں۔ ’’ چیف جسٹس افتخار چودھری کے بیٹے ارسلان افتخار کی تعیناتی معمول کی بات تھی، کوئی سیاسی ڈیل نہ تھی، اس میں وفاقی حکومت سمیت کسی نے کوئی ایڈوائس نہیں دی۔ یہ میرا صوابدیدی اختیار اور ذاتی فیصلہ تھا۔ اب جب میں نے دیکھا کہ یہ فیصلہ غلط ہے تو اسے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے ارسلان سے استعفیٰ لیا۔ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری سے میرے اس وقت سے ذاتی مراسم ہیں جب وہ کوئٹہ میں وکالت کرتے تھے، ان سے پرانے تعلق کو برقرار رکھنے کیلئے ارسلان افتخار کو عہدہ دیا، یہ رشتہ مضبوط کرنا چاہتا تھا، میرے فیصلے میں بدنیتی نہیں تھی۔‘‘ چودھری افتخار سے تعلق مضبوط بنانا ہے اپنی جائیداد سے ان کا حصہ دیدیںقومی اثاثوں ہی کا ذاتی تعلقات مضبوط کرنے کے لئے بیڑہ کیوں غرق کیا جارہا ہے۔ حکمران ہوش کے ناخن لینے پر تیار نہیں تو پھر انجام کے لیے تیار رہیں۔ 8جولائی2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus