×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
امریکی جاسوسی پر پیپلزپارٹی کا واویلا اور تلخ حقائق!
Dated: 12-Jul-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پاکستان کے ہر ذی شعور شہری اور خصوصاً آج کی نوجوان نسل یقینا اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ آج کے دور میں عالمی مالیاتی اداروں ، بنکوں ،انشورنس کمپنیوں،فیکٹریوں ،کارسازکارخانوں ،جہاز بنانے والے کارخانوں میں انٹرنل سکیورٹی یا ڈیپارٹمنٹ تعلقات عامہ کے نقاب کے پیچھے دراصل خصوصی خفیہ سیل کام کر رہے ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ان اداروں میں جہاں ہزاروں ،لاکھوں افراد جاب کرتے ہیں وہ ان اداروں کے اندرونی اور بیرونی سازشوں کو کائونٹر کرنے کے لیے خفیہ جاسوسی کا سہارا لیتے ہیں۔ دنیا میں جب سے سرحدوں کا قیام اور جنگوں کا رواج پڑا ہے تب سے جاسوسی اور مخبری کا نظام بھی ساتھ ساتھ چلتا آ رہا ہے حتیٰ کہ آج کل دنیا بھر کی پولیس اور عسکری ادارے جاسوسی کے مربوط نظام کے بغیر بیکار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں عالمی طاقتیں اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے سفارتی محاذوں پر فتح و شکست کے کھیل کھیلتی ہیں۔ پہلی جنگ عظیم اور دوسری جنگ عظیم کے دوران اتحادی افواج اپنی موثر سراغ رسانی سے مضبوط ہٹلر کو شکست دینے میں کامیاب ہوئے۔ پچھلی چند دہائیوں سے امریکہ اور روس اپنے اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے معاشی اور عسکری جاسوسی کا کھیل ’’سرد جنگ‘‘ کے نام پر کھیلتے چلے آ رہے ہیں، خاص طور پر نائن الیون کے بعد امریکی سرکار نے ہوم لینڈ سکیورٹی کے نام پر اندرون اور بیرون ملک اپنے سراغ رساں اداروںکو نہ صرف مضبوط کیا بلکہ اپنے مغربی اتحادیوں جرمن، فرانس، برطانیہ کے سربراہان کی جاسوسی کرواتا رہا ہے۔ قارئین نوائے وقت بخوبی واقف ہیں کہ راقم ایک عالمی سراغ رساں ادارے میں دو دہائیوں تک ایگزیکٹو عہدے پر فائز رہا ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے 1998ء میں مجھ سے رجوع کیا اور مجھے ایک ٹاسک دیا جسے میں نے بخوبی ادا کیا۔ خود سابق صدر آصف علی زرداری بھی میری اور میرے ادارے کی صلاحیتوں سے مستفید ہوئے۔ لندن میں ہونے والے سی ای سی اور ایف سی کے ایک اجلاس میں محترمہ نے میرا تعارف کرواتے ہوئے اراکین کو بتایا تھا کہ مطلوب وڑائچ ’’کسی بھی آنکھ سے کاجل اڑا لیتا ہے اور پتہ بھی نہیں چلتا‘‘اور بعد میں متعدد دفعہ بحث و تکرار کے بعد میری تجویز پر فیصلہ کیا گیا کہ پیپلزپارٹی کے اندر ایک خفیہ سیل تشکیل دیا جائے جو اندرونی و بیرونی سازشوں اور خطرات کی بروقت اطلاع دے۔خاص طور پر 2002ء کے الیکشن کے بعد پیٹریاٹ کے وجود میں آنے کے بعد اس امر کی ضرورت بڑھ گئی تھی۔ اس لیے شہید محترمہ نے مجھے اس کا انچارج بنا کر سیل تشکیل دینے کی ڈیوٹی سونپی۔ کیوں کہ آج بھی دنیا بھر کے جدید اور مہذب ممالک اور جمہوری چیمپئن بھی سیاسی پارٹیوں میں جاسوسی کے لیے خفیہ سیاسی سیل بناتے ہیں۔ محترمہ کی شہادت کے بعد پارٹی کی باقی ماندہ قابض قیادت مجھ سے خوفزدہ تھی۔ گذشتہ دنوں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ ایک خودساختہ انفرمیشن لیک ہونے یا کراونے کی وجہ سے حدف تنقید بنا ہوا ہے کہ وہ پی پی پی اور بھارتی بی جے پی ،مسلم لیگ ن اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جاسوسی میں ملوث ہے۔ قارئین میں اپنی پروفیشنل معلومات کی بناء پر کہتا ہوں کہ امریکہ یا روس کو جب کسی حکمران کو ’’فیور‘‘ دینا مقصود ہوتا ہے تو وہ ملاقات پر اپنے دوستوں کے ہاتھوں میں ان کے مخالفین کی ٹیلی فونک گفتگو کی سی ڈی جو کہ سٹیلائٹ یا دیگر ذرائع سے حاصل ہوتی ہیں تھما دیتی ہے۔ اس طرح اس ملک کے حکمران اپنے اپوزیشن کو دبانے کے لیے وہ حاصل کردہ مواد استعمال کرتے ہیں۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ امریکن وزارت دفاع پینٹاگون اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے وزٹ کے بعد ان کی خواہش پر یکے بعد دیگرے راجہ پرویز اشرف اور مخدوم امین فہیم کو بھی امریکی اداروں سے ملوانے کے لیے امریکہ لے کر گیا۔ اسی سلسلہ میں ہونے والی ایک ملاقات میں پیپلزپارٹی کے اعلیٰ عہدے دار نے مدمقابل امریکی عہدے دار کو یہ آفر کر دی کہ وہ باقاعدہ امریکہ کے لیے کام کرنے کو تیار ہیں۔ بعدازاں متعلقہ امریکی عہدے دار نے مجھے کہا کہ مطلوب یہ تمہارے سیاست دان ہر وقت ’’بکنے‘‘ کے لیے تیار رہتے ہیں۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ مجھے راجہ پرویز اشرف کو لے کر امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ جانا تھا مگر موصوف کے پاس ویزا نہ تھا۔میں نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے باقاعدہ دعوت نامہ منگوایا اور راجہ صاحب کے لیے ویزا حاصل کیا۔ تو راجہ صاحب مجھے کہنے لگے ’’مطلوب ہماری بھی لائن فٹ کروا دو امریکنو کے ساتھ‘‘آج وہی سابق وزیراعظم امریکی محکمہ خارجہ کو پیپلزپارٹی کی جاسوسی کرنے پر احتجاجی مراسلہ ارسال کر رہے ہیں یہ ایسے ہی ہے ’’چور مچائے شور‘‘۔ دراصل گذشتہ الیکشن مئی 2013ء میں پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت عوام کا اعتماد کھو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب امریکی جاسوسی کو وجہ بنا کر اپنے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنا چاہتے ہیں۔ میری اس موضوع پرگذشتہ روز امریکی ڈیپارٹمنٹ آف سائوتھ ایشیا فارن ریلیشن کے ایک اعلیٰ عہدے دار سے تفصیلی بات ہوئی تو انہوں نے مجھے بتلایا کہ پی پی پی ، بی جے پی، بی ایم ایل این یا کسی بھی سیاسی جماعت کی جاسوسی کرنا مقصود نہیں۔ ہم دراصل انفرمیشن حاصل کرتے ہیں کرپٹ سیاست دانوں کی کہ وہ ملکی خزانے سے ہتھیائے گئے اثاثے کہاں کہاں منتقل کرتے ہیں۔ ایک عام سیاسی کارکن یا لیڈر سے ہمیں کوئی سروکار نہیں۔ میرا اپنا خیال ہے کہ پیپلزپارٹی و مسلم لیگ ن کے کرپٹ قیادت کی فائلیں تیار ہو چکی ہیں اور متوقع تبدیلی کے بعد وہ فائلیں امریکہ کے نئے دوستوں کو تحفتاً پیش کر دی جائیں گی تاکہ وہ احتساب کے عمل کو موثر بنا سکیں۔آج کرپٹ سیاست دان رُو رُو کر واویلا کر رہے ہیں کہ ان کی رنگے ہاتھوں پکڑی گئی کئی چوریوں ،ڈاکے اور لوٹ مار کی داستانیں بس اب عوام کے ہاتھ آنے ہی والی ہیں۔ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایسے تمام دستاویزات متعلقہ ہاتھوں میں پہنچ بھی چکی ہوں؟ اور آزادی مارچ اور سبز انقلاب ان واویلا کرنے والوں کے دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ حکمرانوں کے سانحہ ماڈل ٹائون لاہور کے لیے تیار کروائے کچھ تابوت بچ گئے ہیں جو عوام ان حکمرانوں کے لیے استعمال کریں گے۔ اگلے چند دنوں میں بہت کچھ متوقع ہے۔ جبکہ ایک اطلاع کے مطابق حکومت ارسلان افتخار کارڈ فیل ہو جانے کی صورت میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو 14اگست سے قبل امریکہ سے رہا کروا کر لا سکتے ہیں تاکہ سبزانقلاب اور آزادی مارچ کو سیٹ بیک دیا جا سکے! 12جولائی2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus