×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
آصف علی زرداری کی سالگرہ پر خصوصی تحفہ!
Dated: 26-Jul-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یہ اُن دنوں کی بات ہے جب سینیٹر آصف علی زرداری اڈیالہ جیل میں قید تھے اور انہیں سینٹ کے اجلاس میں شرکت یا احتساب عدالت میںپیشی کے لیے جیل لایا جاتا تھا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی ہدایت پر مجھے سوئٹزرلینڈ سے طلب کرکے ، ایک انتہائی پُرخطر مشن میرے سپرد کیا گیا اور سینیٹ میں قائدحزب اختلاف کے دفتر میں آصف علی زرداری صاحب مجھ سے ملاقات کے لیے پہنچے ہوئے تھے۔ میرے اندر داخل ہوتے ہی وہ اپنی سیٹ سے اٹھے اور مجھے گلے لگاتے ہوئے بولے ’’مطلوب خدا نے آپ کو میرے لیے فرشتہ بنا کر بھیجا ہے اب یہ تمہارے ہاتھ میں ہے کہ مجھے کتنا عرصہ اور قیدوبند برداشت کرنا پڑے ‘‘ اس موقع پر سینیٹر جہانگیر بدر محترمہ فہمیدہ مرزا اور اظہار امروہوی بھی موجود تھے۔ اس واقعہ کے ٹھیک ایک سال بعد تک آصف علی زرداری رہائی کے سلسلے مِیں مَیں نے یورپ اور امریکہ میں عوامی سوشل اور سفارتی محاذ پر بہت کام کیا اور پھر ایک عالمی سراغ رساں ادارے کو سوئٹزرلینڈ سے ساتھ لے کر پاکستان آیا، تبھی اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف اور ان کی پوری مشینری کو خبر ہو گئی۔اس پر مجھے اور ادارے کے ساتھیوں کو ڈرانا دھمکانا شروع کیا گیا۔پھر جب سراغ رساں ادارے نے اپنی تحقیقات میں ایک بڑی پریس بریفنگ میں آصف علی زرداری کو بے قصور قرار دیا تو اسی رات کو مجھے ہوٹل سے گرفتار کر لیا گیا کیونکہ ٹیم کے باقی ممبران سوئس شہری تھے اور ایمبیسی آف سوئٹزرلینڈ کی مداخلت کی وجہ سے ان کو گرفتار نہ کیا جا سکا۔ مجھے بے شمار صعوبتوں سے گزار کر کافی دنوں بعد اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا، جہاں جیل کے اندر گیٹ پر ہی راجہ پرویز اشرف اور تاجی کھوکھر میرے استقبال کے لیے موجود تھے۔ آصف زرداری نے ان دونوں اصحاب کو خصوصی طور پر ہدایت کی تھی کہ جیسے ہی میں پہنچوں مجھے سیدھا ان کے پاس لے جایا جائے۔ جیل میں جیسے ہی میں آصف علی زرداری کے کوارٹر جسے اے کلاس کہا جاتا تھا لے جایا گیا۔ مجھے دیکھتے ہی آصف علی زرداری نے مجھے گلے سے لگایا اور بولے آج سے آپ میرے بھائی ہو۔ پہلے میں اکیلا تھا آج سے ہم دو بھائی ہیں۔ جیل میں آصف صاحب نے میرے لیے تمام تر آسائشیں مہیا کیں۔ روزانہ کی بنیاد پر میری سیاسی تربیت کے نام پر مجھے سیاسی اسراررموز سے آگاہ کیا ،مجھے ڈاکٹر بابر اعوان جیسے وکیل مہیا کیے گئے، کافی عرصہ بعد میری ضمانت ہوئی اس دوران شہید محترمہ بھی جلاوطنی اختیار کر چکی تھیں۔ میں نے یورپ جا کر ان کو رپورٹ کی ، محترمہ نے مجھے پارٹی کی فیڈرل کونسل کا ممبر مقرر کیا اور اپنا خصوصی ایلچی بھی۔ ایک طویل جدوجہد کے بعد آصف صاحب کو رہائی نصیب ہوئی جس میں میرا کلیدی کردار تھا۔ آصف صاحب کی ضمانت ہو جانے کے بعد بھی ان کے دیگر مسائل میں بھرپور مدد کی، پھر آصف صاحب اور بی بی شہید کے درمیان اندرونی چپقلش شروع ہو گئی۔ آصف صاحب کو اس بات کا دُکھ تھا کہ میں ان کی بجائے بی بی کی طرف کیوں کھڑا ہوں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ میں غیر جانبداری سے دونوں طرف تھا کہ یہ ان کا ذاتی مسئلہ تھا، پھر بی بی نے آصف صاحب کو میثاق جمہوریت اور مشرف کے ساتھ ڈیل میں مکمل اعتماد میں نہیں لیا تھا کیونکہ بی بی سمجھتی تھیں کہ آصف صاحب کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ روابط موجود ہیں۔اسی دوران بی بی کا وطن واپسی کا پروگرام بنا اور پھر شہادت کا سانحہ رونما ہوا۔ چالیس روزہ سوگ کے دوران وصیت حاصل کی گئی اور بی بی شہید کے چیدہ چیدہ ساتھیوں کو ’’کارنر‘‘ کرنے کا عمل شروع ہوا۔ الیکشن 2008ء کے دو دن بعد سی ای سی کے اجلاس میں میری افتتاحی تقریر نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور یوں میرا پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے دوریوں کا آغاز ہوا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے ’’ڈرو اس شخص کے شر سے جس پہ آپ نے کبھی کوئی احسان کیا ہو۔‘‘ میں نے دونوں بھٹوز اور زرداری کے لیے خدمات سرانجام دیں، اپنی زندگی کو موت کے منہ میں دھکیلا۔ شہید بی بی کو تو اس کا ادراک بھی تھا ان کے پرائیویٹ سیکرٹری بریگیڈیئر امان آج بھی زندہ ہیں وہ جانتے ہیں کہ بی بی شہید میری کس قدر ممنون تھیں۔ خود آصف علی زرداری نے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد جب لاہور گورنر ہائوس میں قیام کیا میں بھی مدعو تھا۔ گورنرسلیمان تاثیر نے مجھے صدر صاحب کے ساتھ کھانے کی میز پر بٹھایا۔ جس پر میرے علاوہ مشہو راینکر مبشر لقمان ،جوابدہ والے افتخار احمد ،ڈاکٹر اجمل نیازی، سرور میر، منو بھائی بھی موجود تھے۔ جہاں صدر آصف علی زرداری صاحب نے میرے متعلق تمہید کے ساتھ گفتگو کی اور سب دوستوں کو بتایا کہ آج وہ جس کرسی پر بیٹھے ہیں اس میں مطلوب وڑائچ کا کردار فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ مگر دوستو! آپ نے مثال سنی ہو گی عقاب اور چوہے والی۔ یعنی احسان کرنے سے پہلے دیکھ لو کہ جس پر تم احسان کر رہے ہو اس کی نسل کیسی ہے؟پھر پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی مشترکہ حکومت میں میرے اور میری فیملی کے لیے آلام و مصائب کا دور شروع ہوا۔ میرے بچوں کو نشانہ بنایا گیا خود مجھ پر دو مرتبہ قاتلانہ حملے ہوئے دونوں ایف آئی آر اور دیگر ایف آئی آر لاہور کے تھانوں میں درج ہیں۔ مجھے معاشی، سیاسی اور سوشل طور پر کمزور کرنے کے واقعات کروائے گئے پھر مجھے برین اسٹروک ہوا، احباب کی دعائوں سے بچ تو گیا مگر علاج کے لیے مسلسل یورپ اور نارتھ امریکہ میں مقیم ہوں۔ میری فیملی سکیورٹی کے خطرات کی وجہ سے پہلے ہی نارتھ امریکہ منتقل ہو چکی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں اور شہید محترمہ امریکہ کے دورے کے دوران سفر میں تھے،یہ 26جولائی کا دن تھا ۔محترمہ نے سفر میں بھی گاڑی رکوا کر آصف صاحب کی سالگرہ کا کیک کاٹا ۔ خیر یہ تو بھلے دنوں کی باتیں ہیں۔ آصف علی زرداری صاحب کی سوئس کیسوں میں مدد کرنے والے چند یورپی دوست آج بھی مجھ سے پوچھتے ہیں کہ ’’مطلوب آپ تو کہتے تھے آصف زرداری یاروں کا یار ہے وہ کسی کا احسان لے کر جینے کا عادی نہیں ہے۔ آصف زرداری کی سوئس کیسوں میں مدد کرنے والے یورپی دوستوں کو اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ دھونا پڑے۔آصف زرداری نے اپنی گیارہ سالہ قید کے دوران یہ میڈیا کے ذریعے مشہور کر دیا تھا کہ وہ یاروں کے یار ہیں مگر نتائج اور مقاصد حاصل کرنے کے بعد ثابت ہوا کہ یہ سب غلط اورلغو باتیں تھیں۔ آصف زرداری صاحب آج زندگی کی 58بہاریں دیکھ چکے ہماری دعائیں ان کے ساتھ تھیں۔ متعدد دفعہ جنرل پرویز مشرف کی وفاقی وزیر بنانے کی آفرز کو ٹھکرا دیا کہ پنجاب کے جاٹ یار مار نہیں ہوتے۔ مگر آصف علی زرداری آئندہ بھی جئیں گے میری اور میری اولاد کے مقروض بن کر رہیں گے اور میں سب کچھ کھو کر بھی جیت گیا مگر آصف زرداری سب کچھ پا کر بھی شکست خوردہ انسانوں کی طرح جئیں گے۔ قارئین اب آتے ہیں آج کے اصل موضوع کی طرف آج آصف صاحب کی سالگرہ ہے ان کو کوئی تحفہ بھی دینا چاہیے تو میں اس موقع پر یہ اعلان کرتا ہوں کہ 27دسمبر 2014ء آٹھویں یومِ شہادت بے نظیر پر شام 5بجے میں محترمہ کے قاتلوں کا پردہ چاک کروں گا ۔میرے سینے میں بے شمار راز پنہاں ہیں جن کو میں نے اپنے وکلاء کے سپرد کر دیا ہے۔ میری طبعی یا حادثاتی موت کی صورت میں وہ تمام دستاویزات شائع کر دی جائیں گی۔ زندہ رہا تو 27دسمبر 2014ء کو قائدانقلاب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے لیے ہوئے اور دیئے ہوئے حلف کے مطابق بے نظیر بھٹو شہید کے قاتلوں کو عوام کے سامنے بے نقاب کروں گا۔ قاتل کتنا بھی ذہین کیوں نہ ہو کہیں نہ کہیں جرم کانشان چھوڑ جاتا ہے اور میں اس راز کو قومی راز ،قومی امانت سمجھ کر قوم کے حوالے کروں گا۔ جیالو! کائونٹ ڈائون شروع ہو چکا ہے دیکھنا صرف یہ ہے کہ کتنا زور بازوئے قاتل میں ہے۔ آج 26جولائی ہے اور 27دسمبر تک 155دن باقی ہیں۔ علامہ طاہر القادری صاحب اور عمران خان یقینا تبدیلی اور نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں، مڈٹرم انتخابات سے پھر وہی لوگ ہم پر مسلط کر دیئے جائیں گے۔ عمران خان بتائیں موجودہ پارلیمنٹ اور سابقہ حکمران جو ہزاروں ارب لے کر چھپائے بیٹھے ہیں کیا وہ کسی مڈٹرم الیکشن میں دولت کے بل بوتے پر اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو جائیں گے؟ عمران خان کو ڈاکٹر طاہر القادری کی بات ماننی ہوگی ہمیں چہرے نہیں نظام بدلنا ہوگا اور نظام بدلنے کا بس ایک ہی راستہ ہے وہ ہے انقلاب اور بے رحمانہ احتساب کا۔ 26جولائی2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus