×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اب بھی حکومت نہیں ریاست بچائی جا سکتی ہے!
Dated: 12-Aug-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ٹی وی پہ ٹاک شو چل رہا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما سعد رفیق اینکر پرسن سے الجھ رہے تھے۔ میں نے چینل تبدیل کیا تو ایک دوسرے چینل پر احسن اقبال اینکرز پینل کا سامنا کر رہے تھے اور جھنجھلاہٹ کے عالم میں کسی بھی سوال کا مناسب جواب نہیں دے پا رہے تھے۔ دراصل تھوڑی ہی دیر قبل ڈاکٹر طاہر القادری نے انقلاب اور آزادی مارچ کا اعلان کیا تھا۔ حکومتی حلقوں کے لیے یہ اعلان سرپرائز تو نہیں تھا مگر بجلیاں گرا گیا۔ میں نے اس دوران متعدد چینلز تبدیلی کیے اور مجھے یہ رائے قائم کرنے میں ذیر دیر نہ لگی کہ آج مسلم لیگ ن کی فارورڈ ٹیم کا رویہ ہارے ہوئے جواریوں کی طرح تھا۔ یہ وہی مصاحب ہیں جنہوں نے ایک ایسی پارٹی کو جس نے صرف 14ماہ پہلے دوتہائی سے بھی زیادہ اکثریت حاصل کرکے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچی تھی کو آج پھر 12اکتوبر1999ء کی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ 11مئی2013ء کو رات گیارہ بجے مسلم لیگی قیادت نے خود سے ہی الیکشن جیتنے کا اعلان کر دیا تھا جس پہ مجھے حیرت ہوئی اور یہ حیرت مزید چنداں اس وقت ہو گئی جب الیکشن کمیشن نے اعلان کیا کہ مسلم لیگ نے 2008ء کے الیکشن میں حاصل کردہ ووٹوں سے تقریباً دو گنے ووٹ حاصل کیے ہیں۔ میری زندگی میں حیرانگیوں اور حیرتوں کے اور بھی کئی مواقع آئے ہیں خاص طور پر محترمہ بے نظیر بھٹوکی شہادت کے بعد جیسے ’’وصیت‘‘ کا اچانک برآمد ہو جانااور پھر شہید محترمہ کے قریبی ساتھیوں کو ایک ایک کرکے ’’کارنر‘‘ کیا جانا، مجھے حیرت اس وقت بھی ہوئی جب پیپلزپارٹی 2008ء کے الیکشن میں سادہ اکثریت سے جیت چکی تھی اور پنجاب میں بھی حکومت تشکیل دینے کی پوزیشن میں تھی۔ میں اس وقت شاہ محمود قریشی، صفدر عباسی، محترمہ ناہید خاں اور عبدالقادر شاہین کے ساتھ اس مہم پہ متفق تھے اور ہم نے شاہ محمود قریشی کو آمادہ اور تیار بھی کر لیا تھا مگر انتہائی چالاک زرداری یہ نہیں چاہتا تھا کہ پارٹی کے اندر کوئی اور فرد بھی اتنا مضبوط ہو کہ کل کو اس کے لیے مسائل کھڑے کر دے۔ پھر میں نے حیرتوں کے سمندر میں غرق مفاہمت کی سیاست اور جمہوریت سب سے بڑا انتقام جیسے سلوگنز معرض وجود میں آتے دیکھے، مجھے بہت کچھ جانتے ہوئے محترمہ ناہید خاں کا چپ کا روزہ نہ توڑنا بھی عجیب لگتا ہے۔ ایک سیاسی طالب علم ہونے کے ناطے میں اس خیال سے متفق ہوں کہ شریف برادران وفاق میں گذشتہ 2ادوار میں جن مسائل سے نبردآزما ہو چکے ہیں ان سے تیسری دفعہ بھی وہی غلطیاں دہرائے جانے کی توقع نہیں تھی۔ ایسے لگتا ہے جیسے نوازشریف اور ان کی پوری ٹیم کو کوئی ایسی جلدی ہے اور وہ سب کچھ بہت تیزی میں کرنا چاہتے ہیں۔ میں پچھلے کچھ روز سے متعدد سینئرز کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کے ماضی میں لکھے مضامین کا بطور خاص مطالعہ کر رہا ہوں کہ وہ کونسی وجوہات ہیں کہ جن کی بنا پر آج کے ایک دانشور کو یہ کہنا پڑا ’’کہ اگر نوازشریف کو برطانیہ کا پرائم منسٹر بھی بنوا دیا جائے تو وہ وہاں بھی چند ہی مہینوں میں مارشل لاء لگوا دیں گے‘‘ تاریخ گواہ ہے کہ نوازشریف کو تینوں بار بھاری اکثریت والا مینڈیٹ ملا اور ہر دفعہ ان کا حال بگڑے ہوئے اس بچے کی طرح ہی ہوا جس کو کم سنی میں ہیوی ڈیوٹی گاڑی ڈرائیونگ کے لیے دے دی جائے جس کو خود ہی اردگرد ٹکریں مار کر تباہ کر دے۔ میرے ذاتی تجربے کے مطابق سب سے پہلے تو شریف برادران ابھی تک جاتی عمرہ (بھارت) سے ابھی تک پاکستان ہی نہیں پہنچ سکے اور پھر وہ کاروبارِ مملکت کو بھی اتفاق فائونڈری سے زیادہ اہمت دینے کو تیار نہیں وہ جس طرح اپنے ذاتی کمرشل اداروں میں ملازم رکھتے ہیں اسی طرح حکومتی عہدوں پر بھی ان کی حتی الوسع کوشش ہوتی ہے کہ اپنے عزیز و اقارب اور خاندان کے افراد کو تعینات کیا جائے اگر پھر بھی کچھ عہدے بچ جائیں تو ان کو خاندان کے اندر ہی تقسیم کر دیا جائے۔ بار بار وہی غلطیاں دہرانا دراصل اس بات کا غماز ہے کہ وزیراعظم اور ان کے رفقاء کی سوچ کا محور آج بھی وہی بادشاہت جیسا ہے۔ عملی زندگی میں ہم نے یہ دیکھا ہے کہ ایک ہی وقت میں آپ درزی، حجام، ڈاکٹر، وکیل، انجینئر، مذہب سکالر اور سیاست دان نہیں ہو سکتے۔ اگر آپ کوئی ادارہ ایسا چلا رہے ہی تو آپ کو ہر ایک پوسٹ پر متعلقہ پروفیشنل ہی چاہیے ۔مجھے بزرگوں کے کہے ہوئے یہ الفاظ آج بھی یاد ہیں کہ ’’جو سب کچھ جانتے ہیں وہ کچھ نہیں جانتے‘‘ میں نے اپنے گذشتہ کالموں میں بھی حکومت کی دانستہ اور نادانستہ غلطیوں کی نشاندھیاں کی تھیں مگر جب آپ کے دربار میں ملا دو پیادہ اور بیربل جیسے مصاحب موجود ہوں گے تو آپ ان کی ’’جے جے کار‘‘ سے باہر کیسے نکلیں گے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پارلیمنٹ میں موجود ہر سیاسی پارٹی نے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات عائد کیے تھے کچھ نے تو اسے باری کی سیاست سمجھ کے قبول کر لیا جبکہ عمران خان جیسا سیاسی ہتھکنڈوں سے نابلد سیاست دان وقتاً فوقتاً اس امر کا اظہار کرتا رہا کہ وہ الیکشن اور اس کے نتائج کو اس شرط پر قبول کرنے کو تیار ہے کہ آئندہ الیکشن میں انتخابی اصلاحات کرکے اور صرف چار موجودہ حلقوں کو ری چیک کرکے الیکشن 2013ء کا کچھ نہ کچھ ازالہ کیا جائے۔ میرے ذاتی خیال میں یہ وہ کم از کم ڈیمانڈ تھی جس کو پورا کرنے کے لیے کوئی اے پی سی یا قومی سلامتی کانفرنس بلانے کی ضرورت نہیں تھی۔ نوازشریف اگر تھوڑا سا دل بڑا کر لیتے اور ان چار حلقوں کے متاثرہ ممبران اور وزراء کو کہیں ایڈجسٹ کر سکتے تھے ۔ میں اب بھی یہ سمجھتا ہوں کہ ایگو کا ٹوٹنا حکومت کے ٹوٹنے سے بہتر ہے اور پھر پچھلے 14ماہ میں وزیراعظم صاحب نے غیر ملکی دوروں کے ریکارڈ قائم کیے اور ملکی معاملات جیسے پانی، بجلی، خزانہ، دفاع اور داخلہ سمیت سبھی محکموں کو سمدھیوں،بھانجے، بھتیجے کے حوالے کرکے غیر ملکی سرمایہ کار تلاش کرتے رہے لیکن وہ یہ بھول گئے کہ جن ممالک میں وہ جا کر سرمایہ کاری کی بھیک مانگتے ہیں ان ممالک کے سرمایہ کار کیا یہ نہیں سوچتے کہ شریف برادران کی 90فیصد سے زیادہ جائیداد اور انویسٹمنٹ خود تو ملک سے باہر ہے تو وہ ان کے تندور میں اپنی روٹی کیوں جلائیں۔ خاص طور پر میاں صاحبان کی کچن کیبنٹ کے وزراء احسن اقبال، سعد رفیق، خواجہ آصف، چوہدری نثار اور اسحاق ڈار نے کوئی کسر نہ چھوڑی کہ عوام، فوج، ریاست اور حکومت کو آپس میں لڑوا دیا۔ میاں صاحب جن کو فوج کے ساتھ باہمی اعتماد کی اشد ضرورت تھی آج پھر اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاں پہلے سے کچھ بھی مختلف نہیں۔ گذشتہ روز اسلام آباد میں ہونے والی قومی سلامتی کانفرنس کے نام پر سیاست دانوں کے بیچ ملک کے سپہ سالار کو ’’شوپیس‘‘ کے طور پر پیش کیا گیا اور کروڑوں عوام نے دیکھا کہ یونیفارم میں ملبوس جرنیل اس صورت حال میں کمفرٹ محسوس نہیں کر رہے تھے۔ کون نہیں جانتا کہ سانحہ ماڈل ٹائون کی تاریخ اگست کے دوسرے ہفتے میں پھر دہرائی گئی حکومت کی جبری پالیسیوں کے باوجود ماڈل ٹائون میں اب بھی بیریئر موجود ہیں۔ حکومت کے نہ چاہتے ہوئے بھی ڈاکٹر طاہر القادری اسلام آباد نہ سہی لاہور پہنچ گئے۔ یوم شہداء جبراً بھی نہ روکا جا سکا اور خود حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے دریا کے دو پاٹوں کو آپس میں مل جانے کا موقع مل گیا ہے اور اب 14اگست کو وہ سب کچھ بھی ہو گا جس کا ملک ان نازک حالات میں متحمل نہیں ہو سکتا تھا۔یومِ شہداء کے شرکاء کے تیور اور عزم دیکھ کر یہ اندازہ لگانا اب کوئی مشکل نہیں رہا کہ حکومت کے پاس کچھ زیادہ آپشنز موجود نہیں رہے مگر اب بھی دانشمندی کا مظاہرہ کرکے اپنی ایگو کو پسِ پشت ڈال کر حکومت نہیں تو ریاست بچائی جا سکتی ہے۔ 12اگست2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus