×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
انقلاب اور آزادی مارچ اپنے مقاصد حاصل کر چکا!
Dated: 16-Aug-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بات اس حد تک بگڑ جائے گی یہ تو سوچا جا سکتا تھا مگر بات اتنی جلدی بگڑ جائے گی یہ وطن عزیز کے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کے لیے کسی سرپرائز سے کم نہیں۔ میں نے اپنے گذشتہ کالم میں بھی لکھا تھا کہ حکومت کو ایک عجیب سی جلدی ہے اس سارے نظام کی بساط لپیٹنے کی۔ مسلم لیگ ن کے وزراء اقتدار کی جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو بے دردی سے کاٹ رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ اس طرح شاید وہ شریف برادران کی مدد کر رہے ہیں۔ اسی لیے کہتے ہیں کہ ’’عقلمند دشمن بے وقوف دوست سے بہتر ہے‘‘ گذشتہ 30سالوں میں 5بار شہبازشریف کو اقتدار سے ہٹایا گیا ،2بار نوازشریف کو وزیراعظم کے عہدے سے سبکدوش کیا گیا۔ 7سال تک ان کا خاندان جلاوطن رہا۔ میاں شریف کی دوران جلاوطنی رحلت بھی ہوئی، شریف فیملی کے جوان بچے بچیوں کی تعلیم بھی متاثر ہوئی مگر ان بڑھکیں ہانکنے والے وزراء کی ذات پر کیا اثر پڑا۔ سول ملٹری تعلقات پر لکھنے والے اور رائے زنی کرنے والے دانشوروں پر یہ الزام بہت جلد لگ جاتا ہے کہ فلاں بندہ آئی ایس آئی کا ایجنٹ ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس ایشو پر طالع آزمائی کرنے والے ہر لکھاری نے میاں نوازشریف کے گرد ہجوم کو دیکھ کر ہمیشہ یہ پیش گوئی کی کہ اب کی بار بھی میاں برادران اس سوراخ سے ڈسے جائیں گے، جس سے وہ متعدد بار پہلے بھی ڈسے جا چکے ہیں۔ سیاست ،صحافت اور تاریخ کا ایک ادنیٰ طالب علم ہونے کے ناطے مجھے خبر ہے کہ میاں برادران کوئی موروثی بادشاہ حسب نسب سے تعلق نہیں رکھتے بلکہ ایک محنت کش باپ کی اولاد ہیں مگر پاکستان کی گذشتہ 30سالہ تاریخ میں انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ یہ اموی، عباسی یا مغلیہ شہزادے ہیں ہر دو صورتوں میں میاں برادران کے مصاحب ان کو خلیفتہ المسلمین ثابت کرنے کے چکر میں رہے ہیں۔ ایک مخصوص تربیت کا حامل صحافتی طبقہ اور شوبزنس کے چند فنکار اپنی ذاتی تنخواہ داری کے لیے شریف برادران کے ایڈوائزروں کی لسٹ میں شامل ہیں۔ میں نے اپنے گذشتہ کالم میں یہ لکھا تھا کہ بھٹو کی ضد اسے پھانسی تک لے گئی اور اب کی بار ان کی ضد نامعلوم انہیں کہاں لے جائے؟آزادی اور انقلاب کی مارچ کال سے بہت پہلے ان کے رفقاء کی نہ صرف گردنوں بلکہ زبان میں بھی سریا فٹ ہو گیا تھا۔ ان رفقاء کے تدبر کا یہ حال ہے کہ وہ یہ اندازہ نہیں کر پائے کہ یہ 2014ء کا دور ہے۔ مفروضوں اور منافقتوںاور جھوٹ کو اب زیادہ دیر چھپایا نہیں جا سکتا۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا ذرا بھی ادراک رکھنے والا شخص اب کسی کی بات کو بس اتنا ہی عرصہ برداشت کرتا ہے جتنا عرصہ اسے ’’گوگل‘‘ آن کرنے میں لگتا ہے۔ اب سے چند ماہ پیشتر جب میری ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے ملاقاتیں شروع ہوئیں تو ایک بات میں نے جو ان میں خصوصی طور پر نوٹ کی کہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کودلائل سے قائل کیا جا سکتا ہے وہ ہٹ دھرم قسم کے انسان نہیں بلکہ کسی دوسرے کے نقطہ نظر کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ جب میرے جیسا سیاست کا طالب علم یہ جان سکتا ہے تو پھر وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے پاس تو وزراء مشیروں کی فوج ظفر موج ہے کیا کوئی انہیں یہ بتانے والا نہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان صاحب کے ساتھ مذاکرات کرکے کچھ لینے اور کچھ دینے کے اصول پر بات کی جا سکتی ہے۔ دراصل قلمی مراثیوں کی صحبت میں آپ کو اس بات کا ادراک ہی نہیں ہوتا یہ سیاسی بیربل اور مُلادوپیادے تو بس دربار اقتدار سے اپنی منتھلی کے لیے فکرمند ہوتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ سانحہ ماڈل ٹائون کے رونما ہو جانے کے باوجود مذاکرات کے دروازے بند نہیں ہوئے تھے اگر میاں برادران واقعی قصور وار نہیں تھے توانہیں چنددوستوں کو درمیان میں شامل کرکے اپنا نقطہ نظر اور صفائی پیش کرنی چاہیے تھی نہ کہ ان کے نااہل وزراء عدالتوں پر سماعت کے دوران فخریہ وکٹری کے نشان بنا کر زخم خوردہ لواحقین کے زخموں پر نمک پاشی کریں۔ اقتدار کا ہما کون سا میاں برادران سے پہلی دفعہ چھن رہا تھا یا انہیں پہلی بار ایسا کرنا پڑ رہا تھا مگر نااہل دوستوں، مفادپرست رشتے داروں اور لالچی ساتھیوں نے میاں برادران کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت شاید مقید کر دی تھی۔ عمران خان جیسے مخلص انسان کے ساتھ بھی مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر کچھ مانا اور منوایا جا سکتا تھا مگر ان عاقبت نااندیشوں کی وجہ سے آج حالات یہ ہے کہیں 13اور 14اگست کی درمیانی رات کو میرے سمیت بہت سے لوگ یہ سمجھ رہے تھے کہ شاید اگلے ہی لمحے ایک دستہ کہیں سے نمودار ہوگا اور عین پارلیمنٹ میں جاری تقریب کے دوران ہی کچھ ہونہ جائے؟ پہلے دس دن سے ماڈل ٹائون اور اسلام آباد سمیت پورے ملک کو خندقیں کھود کر اور کنٹینرز لگا کر غزہ بنا دیا گیا ہے، ناتواں ملکی معیشت کو پچھلے دس دنوں میں ایک ارب ڈالر کا معاشی دھچکا اور جھٹکا لگا ہے۔ پچھلے چودہ ماہ میں بھی قرضوں اور غیر ملکی قرضوں کا حجم57ارب ڈالر سے بڑھ گیا ہے، ہر منصوبے کے پیچھے کرپشن کی رام کہانیاں منظر عام پر آ رہی ہیں۔ خاص طور پر نندی پور پراجیکٹ کے فیل منصوبے سے حکومت کی معاشی ڈرامے بازیاں کا پردہ چاک ہوا ۔ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو بیٹی یا بیٹے کا گھر بسانے کے لیے ریاست پاکستان کی قربانی تو نہ دینی چاہیے پھر ہم ملک کو مسلکی لڑائیوں کا متحمل نہیں بنا سکتے۔صرف چند سال پہلے تک سعودی عرب کا نام پاکستان میں احترام سے لیا جاتا تھا مگر ہمارے اندرونی مسائل اور سیاست میں دراندازی کی وجہ سے آج پاکستان کے عوام امریکہ سے زیادہ نفرت سعودی عرب سے کرتے ہیں۔ پاکستانی عوام اب بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ملک انگاروں کی لپیٹ میں تھا اور وزیراعظم اپنے سعودی آقائوں سے مشاورت کے لیے دس دن بیرون ملک چلے گئے۔حکومتی عاقبت نااندیشوں کی وجہ سے آج عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری آج لاکھوں لوگوں کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے ہیں اور حکومتی جبروستم کے باوجود لاکھوں عوام کا سڑکوں پر آنا اس بات کا غماز ہے کہ انقلابی اور آزادی قیادت اپنے مقاصد تقریباً حاصل کر چکی ہے۔ 20کروڑ عوام یہ دیکھ رہے ہیں اور ثابت ہو چکا ہے کہ ہر وہ بات جس پر حکومت ضد اور اصرار کرتی ہے چند دنوں بعد اپنے اسی موقف سے انہیں پیچھے ہٹنا پڑتا ہے اور ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے۔ اور اب عوام یہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کو سوکلو پیاز اور سو چھتر بھی کھانے پڑ رہے ہیں۔ اگر حکومت جبروستم اور غیراعلانیہ سول مارشل لاء نہ لگاتی تو واپسی کا راستہ شاید کھلا رہتا مگر انہوں نے تو کنٹینروں میں مٹی ڈال کر اتنا وزنی بنا دیا کہ حکومت کے پاس انہیں ہٹانے کے سوا چارہ نہ رہا ۔خود وزیراعظم نے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں سوال کیا تھا کہ کیا وجہ ہے کہ صرف 14ماہ بعد ہی ہمارے خلاف عوام سڑکوں پر آ گئے ہیں تو وزیراعظم کو پتہ ہونا چاہیے کہ وہ پہلی دفعہ وزیراعظم نہیں بنے بلکہ یہ ان کی تاریخی تیسری ٹرم ہے مگر گلوبٹوں پر انحصار کرنے کی وجہ سے حکومت اپنی کریڈبیلٹی کھو بیٹھی۔ حکمران سانحہ ماڈل ٹائون اور سانحہ 10اگست کے حادثات سے سبق سیکھتی نظر نہیں آتی بلکہ اپنے اعلیٰ مشیروں کے مشورے پر عین موقع پر گلو بٹ کی ضمانت مفاہمت کی سیاست کے منہ پر زبردست طمانچہ ہے۔ اور پھر لاہور ہائی کورٹ کا آرڈر کہ سیاسی جماعتیں ریلیاں اور دھرنے نہیں دے سکتی۔ میرے خیال میں حکومت اپنی رٹ عدلیہ اپنی توقیر اور پولیس اپنی ذمہ داری کھو چکے ہیں ۔ اسلام آباد کی سڑکوں پر آئندہ چند یوم میں فیصلہ ہو جائے گا میری اطلاع کے مطابق 20اگست تک ساری صفائیاں مکمل ہو جائیں گی اور ایک عبوری قومی حکومت کی تشکیل اب دروازوں پر دستک دے رہی ہے۔ موجودہ حکمرانوں کی باڈی لینگوئج سیاسی موسم کی تبدیلی کی خبر خود دے رہی ہے۔ 16اگست2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus