×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ثالثی،غُلیل اور دمادم مست قلندر
Dated: 30-Aug-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com جھورا جہاز آج بہت ’’تپہ‘‘ ہوا تھا چہرے پہ جیسے ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں اور میں نے دور سے اسے آتے ہوئے دیکھ کر یہ اندازہ لگا لیا کہ آج آتش فشاں پھر پھٹ پڑے گا۔ آفس میں داخل ہوتے ہی بولا یہ ایسے کیوں ہوتا ہے؟ کہ ہم عوام جس کسی سے بھی توقعات وابستہ کرتے ہیں وہی ہمارے خوابوں کو چکنا چور کر دیتا ہے۔ گذشتہ 67سالوں میں سیاست دان تو کیا رہنمائی کرتے ہمارے ڈکٹیٹر بھی اپنے کاز سے مخلص نہ ملے۔ دھاندلی اور اوورکاسٹک کو ایک طرف رکھ دیں۔ ایک کروڑ بتالیس لاکھ ووٹرز نہ سہی 80یا نوے لاکھ ووٹرز نے میاں نوازشریف کے ’’شیر‘‘ پر ٹھپہ لگایا تھا۔ میاں نوازشریف نے اچھا بھلا الیکشن 2013ء کا معرکہ جیت لیا ہوا تھا مگر کچھ عاقبت نہ اندیش دوستوں کی مجرمانہ مشاورت سے جیت کے کنویں کے پانی کو چند قطرے حرام کے ڈال کر پراگندہ کر لیا اور پھر ذوالفقار علی بھٹو کی طرح مارچ 1977ء کے بعد کے سے حالات آج جولائی 1977سے مختلف نہیں۔ اگر میاں نوازشریف عمران خان کی ڈیمانڈ پر چار حلقوں میں دوبارہ گنتی کی بجائے ری الیکشن کا اعلان کر دیتے تو ان 4سیٹوں میں سے دو تو دوبارہ جیت ہی جاتے اور عمران خان کی آواز اس کی اپنی سیاسی سوچ تلے دب جاتی۔ رہا علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کا مسئلہ تو وہ ایک دفعہ پہلے بھی انہی شاہراہوں سے انہی اتحادیوں کے لگائے زخم ابھی تک نہیں بھر پائے، لاکھوں لوگوں کو ڈی چوک اکٹھا کرکے بالآخر انہیں یہ سمجھنے میں دیر نہ لگی کہ اس وقت کے آرمی چیف پرویز کیانی اور اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور سابقہ صدر آصف علی زرداری اور ان کی پارٹی ایک ہی پچ پر کھیل رہے تھے۔ جب عوام بھی ساتھ ہوں حوصلے بھی جواں ہوں تو منزل کوئی مشکل کام نہیں ہوتا اور جب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے دوبارہ وطن واپس آنے کا پلان بنایا تو نوازحکومت اور اس کو تدبر اور بردباری سے ہینڈل کر سکتی تھی مگر فطرت میں چونکہ بادشاہت گھوٹ گھوٹ کر بھری ہوئی ہے اور مطلق العنانی کے زعم میں مبتلا میاں صاحب یہ بھول گئے کہ سو سے زائد افراد کو بلاوجہ گولیاں مار کر آج کے اس جدید دور میں کیسے ہضم کر پائیں گے۔ میاں صاحب آج ایک لمحہ ذرا اس فکر اور سوچ کے ساتھ غور کریں کہ آج جو اقتدار کا قالین ان کے پائوں کے نیچے سے کھنچتا چلا جا رہا ہے اس میں قصور وار کون کون سے لوگ ہیں۔ یقینا میاں صاحب کی حالت اس فقیر کے مصداق ہو گئی کہ ’’تیر کھا کے دیکھا کمیں گاہ کی طرف اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی‘‘ میاں صاحب اور ان کے خاندان نے یقینا جمہوریت کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں جبکہ نظریاتی اختلافات ہونے کے باوجود میں بھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی ہدایت پر میثاق جمہوریت کے ہراول دستے میں شامل رہا اور پھر میاں صاحب کے 2008ء میں پنجاب میں اقتدار میں آنے کے بعد میرے اوپر متعدد قاتلانہ حملے کروائے گئے اور آج بھی مجھ پر بے بنیاد مقدمات قائم ہیں۔ مجھے یہاں یہ ایک دینی اور دنیاوی مثال یاد آ رہی ہے ۔ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ ’’ڈرو اس شخص کے شر سے کہ جس پہ تم نے کبھی کوئی احسان کیا ہو‘‘ اور مجھے وہ قصہ بھی یاد آ رہا ہے کہ ایک بیٹا اپنی دیہاتی ماں سے کہنے لگا کہ اماں اماں میں پائلٹ بنوں گا۔ اماں نے کہا مگر مجھے کیسے پتہ چلا گا کہ تم جہاز اڑا رہے ہو۔ بیٹے نے جواب دیا۔ اماں جب جہاز اڑتا ہوا اپنے گھر کے اوپر سے گزروں گا تو نیچے بم پھینک دوں گا، سمجھ لینا کہ میں ہی گزرا ہوں۔ این آر او کی کرامات اور 58ٹو بی کے خاتمے کے بعد موجودہ حکمرانوں کو طیب اردگان جیسی 3چوتھائی اکثریت والی حکومت تو مل گئی مگر میاں برادران کا ڈائجسٹ لیول ترک رہنما جیسا نہیں، جیسا بھی اقتدار ملا اس کو صبر اور مل بانٹ کر کھانے سے وہ زمینی اور آسمانی آفات کا شکار نہ ہوتے جن کے چنگل میں وہ آج پھر پھنس چکے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ میاں صاحبان نے تاریخ سے کوئی سبق سیکھے بغیر پھر وہی حرکات شروع کر دیں اور خاص طور پر ان کے رفقاء سعد رفیق ،احسن اقبال، خواجہ آصف، چوہدری نثار، اسحاق ڈار، عابد شیر علی اور خرم دستگیر ہر ایک نے شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ثابت ہونے کے لیے اس شاخ کو ہی کاٹنا شروع کر دیا جس پر ان کا بسیرا تھا۔ مذکورہ تمام رفقاء خود کو ہیرو ثابت کرنے کے لیے شہد کی مکھیوں کے چھتے کو نہ صرف چھیڑ بیٹھے بلکہ آج پورا چھتہ ان پر گِرا ہوا ہے۔ خاص طو رپر پرویز رشید صاحب کے یہ الفاظ کہ آج ہم غلیل والوں کے نہیں دلیل والوں کے ساتھ ہیں۔ اس بات کا مظہر تھا کہ ساتھیوں کے اس نالائق ٹولے میں بڑے بڑے عاقبت نااندیش دوست موجود ہیں۔ دوسری طرف علامہ طاہر القادری جنہوں نے ایک عالمگیر اور لافانی سوچ اور فکر کو اپنے طالب علموں تک پہنچایا۔ جو چھوٹے بڑے متعدد ٹیسٹ ماضی میں دے چکے تھے۔ 35سال کی ریاضت، محنت اور عزم کا آج یہ صلہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے بعد منہاج القرآن اور عوامی تحریک اس وقت قومی سیاسی جماعت بن چکی ہے کہ جس کے قائد کے ایک اشارے پرلاکھوں لوگ کفن پوش ہو کر موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لبیک کہتے ہیں۔ ان ولولہ انگیز جانثاروں کا یہ عالم ہے کہ راولپنڈی، اسلام آباد کے مضافات میں تادمِ تحریر سفید لٹھا ناپید ہو چکا ہے۔ دوسری طرف عمران خان کے متوالے بھی ولولوں سے سرشار ہیں اور وہ رات کو بقۂ نور اور جنگل میں منگل بنا دیتے ہیں۔ سانحہ ماڈل ٹائون کے 14شہداء 85زخمیوں اور 10اگست کے 9شہداء اور سینکڑوں زخمیوں کا خون اتنا ارزاں کیسے سمجھ لیا گیا۔ آج اس کے دور میں ایک ناحق جانور مار کر آپ نہیں بچ سکتے۔ رانا ثناء اللہ آج شریف برادران کی کشتی ڈبو کر اب کسی نئی کشتی کی تلاش میں ہیں اور فوج کو شجر ممنوعہ اور امپائر قرار دینے والے آج فوج سے ثالثی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہیں کہ ’’یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے ہمیں‘‘ آج جس وقت یہ خبر ٹی وی سکرینوں پر چلنے لگی کہ میاں صاحب نے فوج سے مدد مانگ لی ہے تو مجھے شدت سے یاد آیا کہ آپ بکری کو شیر کی کھال پہنا کر یا کوّے کو سفید رنگ کرکے وہ مقاصد حاصل نہیں کر سکتے جو فطرت کا تقاضہ ہوتے ہیں اور آج اس مشکل وقت میں جنرل راحیل شریف کے کندھوں پر یہ ذمہ داری ڈال دی گئی ہے کہ وہ ملک کے داخلی حالات میں مداخلت کرکے پاکستان کی سلامتی کو یقینی بنائیںـ۔اس نازک اور کڑے وقت میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری پر دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ ایک طرف انہیں اپنے رفقاء اور جانثاروں سے کیے ہوئے وعدوں کے مطابق آزادی اور انقلاب کا طلوع ہوتا سورج دکھانا ہے اور دوسری طرف وطن عزیز کی سالمیت پہ منڈلاتے اندرونی و بیرونی خطرات اس بات کے متقاضی ہیں کہ جوش میں ہوش کا دامن نہ چھوڑا جائے۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے آج راقم کو بتایا کہ وہ اپنے اتحادویوں اور جانثاروں سمیت 20کروڑ پاکستانیوں کے فرائض سے غفلت یا پہلوتہی نہیں برتیں گے اور یہ کہ وہ ہر فیصلے کی توسیع عوامی عدالت سے لیتے ہیں اور ان کا مشن صرف اور صرف عاشقان رسولؐ کو منزل مقصود پر پہنچاتا ہے۔ جبکہ میاں برادران نے اپنی سیاسی غلطیوں کی وجہ سے آج خود بند گلی میں دور تک لے گئے ہیں جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری کے پاس ابھی بہت سے آپشن کھلے ہیں۔آج حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ وقت کے حکمران گلوبٹ کے ساتھ قتل کی ایف آئی آر میں ملزم نامزد ہیں۔ یہ ہوتا ہے قدرت کا انتقام۔ 30اگست2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus