×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
انقلاب اور آزادی کو فتح مبارک
Dated: 02-Sep-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com گذشتہ روز پاکستان کی تاریخ کے بدترین سیاہ دنوں میں سے ایک دن تھا۔ سسکتی انسانی چیخیں، بلبلاتے بچے اور آنسو بہاتی ہماری مائیں بہنیں اور بیٹیاں ظلم کے آگے سینہ سپر تھیں۔ شاہراہ دستور سرخ خون بہنے سے ایک نئے پاکستان کا دستور لکھ چکی ہے۔ کیا یہ مسلمانوں کا مقدر ہے کہ کبھی کوئی سانحہ کربلا، فال آف ہسپانیہ، سانحہ فلسطین، جلیانوالہ باغ، سقوطِ ڈھاکہ، سانحہ ماڈل ٹائون اور اب پھر سانحہ اسلام آباد برپا کرکے شاید ہمیں بتایا جاتا ہے ’’اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد‘‘قارئین! پچھلے چند روز سے پاکستان کے اندرونی حالات کچھ اس تیزی سے بدلے کہ دانشور اور تجزیہ نگار چکرا کر رہ گئے۔ کچھ دیدہ اور نادیدہ قوتیں جن کا تعلق اندرون و بیرون ممالک سے ہے ان کو ایک نیوکلیئر پاکستان ایک آنکھ نہیں بھاتا اور ایسی خارجی طاقتیں یقینی طو رپر یہ سمجھتی ہیں کہ پاکستان آرمی پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کی محافظ ہے اور جب تک آئی ایس آئی اور پاک فوج کو اندرونی اور بیرونی محاذوں پر پسپا نہ کریں اس وقت تک پاکستان سے نیوکلیئر پاور کا اعزاز لیناناممکن ہے اور اس سلسلے میں متعدد کوششیں ماضی قریب میں کی گئیں اور تازہ ترین کاوش گذشتہ روز پارلیمنٹ سے وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس وقت کی، جب انہوں نے چیف آف آرمی سٹاف کی کریڈیبلٹی کو چیلنج کیا۔ قارئین! آج ہم مختلف موضوعات پر بات کریں گے۔ جاوید ہاشمی کی مثال اس طرح ہے کہ ایک دفعہ ایک میراثی بھانڈ’’ودھائی‘‘ لینے ایک فوجی افسر کے گھر پہنچ گیا۔ آفیسر نے اسے کہا کہ مانگنا چھوڑ کر کام شروع کرے ۔بھانڈ نے کہا کہ مجھے ملازمت کون دے گا۔ آفیسر نے کہا میں تمہیں فوج میں بھرتی کرتا ہوں۔ بھانڈ نے کہا مگر میری کچھ شرائط ہیں کہ مجھے لوہے کا یونیفارم تیار کرکے دیا جائے اور تنخواہ بھی عام فوجی سے دُگنی ہونی چاہیے۔ آفیسر نے کہا ہمیں منظور ہے۔ بھانڈ بولا مگر میری ایک ا ور شرط بھی ہے کہ جنگ شروع ہو تو مجھے 2ماہ کی چھٹیاں دے دی جائیں۔ یہی حال کچھ جاوید ہاشمی صاحب کا ہے۔ لاہور سے اسلام آباد کے لیے ریلی روانگی کے آخری مراحل میں تھی تو موصوف روٹھ کر ملتان چلے گئے۔ جو لوگ ریلی کے انتظامات میں مصروف تھے وہ جناب کو منانے ملتان چلے گئے۔ ہاشمی صاحب مان کر واپس آئے اور دھرنے کا 17دنوں کے دوران 20مختلف اوقات میں کھلم کھلا ناراضگی کا اظہار کرکے پی ٹی آئی کی پالیسیوں کو سبوتاژ کرتے رہے۔ یہاں مجھے شیخ رشید کے اس مکالمے سے اتفاق ہے کہ جاوید ہاشمی، سعد رفیق اور حامد خان تینوں کو ایک سازش کے ذریعے پی ٹی آئی میں داخل کیا جا رہا تھا مگر سعد رفیق اپنے بھائیوں اور فیملی کے ٹکٹوں کے مسئلے پر اختلاف کرکے ن لیگ کا ہی حصہ بنے رہے۔ مجھے اس موقع پر پاکستان کے ایک بہت بڑے میڈیا گروپ کی بزنس (چالوں) کے واقعات یاد آ رہے ہیں جب بھی کبھی کسی نئے میڈیا گروپ نے مارکیٹ میں آنے کا پلان بنایا تو اس میڈیا گروپ کے 5 ،6سینئر افراد فوری طور پر نئے میڈیا گروپ میں شامل ہو جاتے اور پھر اس میڈیا گروپ کی پالیسیوں پر اثرانداز ہو کر چند مہینوں میں ہی اس میڈیا گروپ کو دیوالیہ کرکے واپس آ جاتے۔ یقین جانیے کہ ایسی مشق متعدد بار دہرائی گئی ہے۔ کچھ بھی ہو ایک سیاسی طالب علم ہونے کے ناطے مجھے جاوید ہاشمی کے سیاسی کیریئر کے ختم ہونے کے واقعہ سے خوشی نہیں ہوئی۔ دوسری طرف پاک فوج کی کورکمانڈر میٹنگ سوموار کو شیڈول تھی مگر اسلام آباد اور ملک کے بدلتے ہوئے سیاسی رنگ دیکھ کر یہ کانفرنس ایک دن پہلے ہنگامی طور پر بلا لی گئی۔ ہر درد دل رکھنے والے پاکستانی کی طرح پاک فوج کو بھی تشویش تھی۔ اسلام آباد میں موجود سارے ہوٹلوں میں مقیم لوگوں کی مجموعی تعداد سے زیادہ اسلام آباد کے ہسپتالوں میں ریاستی بربریت کے شکار زخمی سسک رہے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی اور مصدقہ ذرائع کے مطابق دو درجن شہداء کی لاشیں ابھی تک غائب ہیں۔ صرف تین شہداء کی لاشیں سامنے لائی گئی ہیں۔ میرے سمیت 20کروڑ پاکستانی اس بات پر حیرت زدہ ہیں کہ جب حکومت نے پاکستانی آئین کے آرٹیکل 245کے تحت ریڈ زون کی عمارتوں کا کنٹرول فوج کے حوالے کر دیا تھا توپھر کیا حکومت وقت کو فوج کی کریڈیبلٹی پر کوئی شک تھا کہ حکومت نے دھرنے کے شرکاء پر ایکسپائرڈ آنسو گیس کے اتنے شیل برسائے کہ اسلام آباد کی سڑکیں ان شیلز اور ربڑ کی گولیوں کے خولوں سے بھر گئیں۔ اس وقت اسلام آباد میں 14000پولیس کی نفری پنجاب سے 3000، ریلوے سے 5000 ہزار آزاد کشمیر سے اور ایف سی اور رینجرز کے 5000 نوجوان اس کے علاوہ ہیں جب کہ 11000 اسلام آباد کی نفری بھی ہر قسم کی بربریت کرنے کے لیے موجود ہے جبکہ ان گھمبیر حالات میں بھی ایک ہزار کے قریب پولیس کے جوانوں نے اپنی ہی عوام پرتشدد نہ کرنے کی بنا پر استعفے دے دیئے ہیں جبکہ وزارت داخلہ کے ایک سینئر آفیسر اور تین ایس ایس پی عہدے اور ایک ڈی ایس پی خاتون آفیسر نے ریاستی تشدد کا حصہ بننے سے انکار کرکے انقلاب کی بنیادوں میں اپنا حصہ ڈال دیا۔ دراصل حکومت وقت نے اپنے فانی اقتدارکو دوام بخشنے کے لیے نہ صرف ریاستی مشینری کا بے دریغانہ استعمال کیا بلکہ ایف سی کی نفری اور کشمیر سے بھاری پولیس نفری منگوا کر وفاق کی اساس اور کشمیر کاز کو کمزور کیا ہے۔ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد نریندر مودی نے تھوڑے ہی دنوں میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا اور ان حالات میں جبکہ کشمیریوں کو پاکستان کے عوام سے یک جہتی کی انتہائی ضرورت تھی۔ موجودہ حکومت نے اس کاز کو سبوتاژ کیا ہے اور وزیراعظم اور آزادکشمیر چوہدری عبدالمجید جو میرے دوست بھی ہیں وہ میاں برادران کے ساتھ جرم میں شریک ہیں۔ دوستی کی بات چلی تو چوہدری نثار اور عمران خان کی دوستی کی بات ہو جائے۔ حضرت علیؓ کا قول ہے کہ اگر تمہیں تمہاری تمام جائیداد کے بدلے مخلص دوست مل جائے تو سمجھو یہ سودا آپ نے سستا خرید لیا ہے مگر چوہدری نثار جیسے دوستوں کے متعلق شیخ الاسلام علامہ ڈاکٹر طاہر القادری فرماتے ہیں کہ اگر آپ کو اپنی تمام جائیداد کے بدلے ایک ایسے برے دوست سے نجات مل جائے تو سمجھو یہ سودا آپ نے سستا خرید لیا۔ قارئین آج انقلاب مارچ اور دھرنے کا اٹھارواں دن ہے۔ ظلم اپنے ترکش کے سہارے تیر چلا چکا مگر وہ آزادی اور سبز انقلاب کے عزم کو پھر ایک انچ بھی پیچھے نہ دھکیل سکا۔اب 20کروڑ عوام کی نظریں پاکستان کی بہادر افواج کی طرف اٹھی ہوئی ہیں۔یقینا پاک فوج کے کمانڈرز موجودہ صورت حال سے باخبر ہیں یقینا انہیںمجھ سے زیادہ وطن کی فکر ہے۔ 2ستمبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus