×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
حکومت اپوزیشن الزامات کا مقابلہ
Dated: 06-Sep-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پاکستان بھر میں سیلاب سے جانی نقصان کی اطلاعات کے ساتھ ساتھ ایک یہ بھی خبر موصول ہوئی ہے کہ چینی صدر نے پاکستان کیلئے اپنا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ قطعہ نظر اسکے کہ شاہی دربار کے وزراء اس خبر کو اپنے حق میں کیش کروانے کیلئے میدان میں کود پڑے ہیں۔ بے چارے احسن اقبال تو بہت پریشان نظر آ رہے تھے اور لگ رہا تھا کہ چینی صدر کے دورہ پاکستان کے منسوخ ہونے سے احسن اقبال کے امریکہ میں پڑھنے والے بیٹے کی کروڑوں روپے کی فیسیں اب کون ادا کریگا۔ آج ہم 2014ء میں رہ رہے ہیں۔ چین ہمارا آزمایا ہوا دوست اور ہمسایہ ہے۔ چینی سرمایہ کار اور حکومت پاکستان میں 35ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں لیکن کیا چینی حکام پاکستان کی اندرونی سیاسی خلفشار اور موجودہ سول نافرمانی کی تحریک کے دور میں ایسا قدم اٹھانے سے پہلے سو دفعہ سوچیں گے۔ قارئین! محمود اچکزئی،مولانا فضل الرحمن، آفتاب شیرپائو، خورشید شاہ کے موجودہ حکومت سے جو مفادات ہیں ان کو لگنے والی ضرب ضربِ عضب سے شدید تر ہے جبکہ میر حاصل بزنجو جو ساری عمر حصول مفادات میں ناکامی کے بعد اور اساس پاکستان سے نفرت کی بنیاد پر جنگ کرتے رہے ہیں، آج انکے دل میں جمہوریت کا ٹھاٹھے مارتا سمندر موجزن ہیں جبکہ محمود اچکزئی کے افغانستان کے انٹیلی جنس محکمے کے نائب سربراہ رزاق سے تعلقات زبان زدِ عام پر ہیں۔ پاکستان کو ماضی میں کسی نہ کسی طریقے سے زک پہنچانے اور سازشیں کرنیوالے عناصر کا یکدم ضمیر جاگ اٹھا ہے اور وہ پاکستان اور جمہوریت کی محبت میں ہلکان ہو رہے ہیں۔ محترم قارئین آیئے آج اس مسئلے پہ تھوڑی سی قلم کشائی کرتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں انسانوں کا ضمیر ہمیشہ مفادات کا ریلہ گزر جانے کے بعد ہی کیوں جاگتا ہے؟ گذشتہ چند ہفتوںسے ملکی معاملات کسی بدمست ہاتھی کی طرح قابو سے باہر ہو رہے ہیں تو قومی اسمبلی جو مفاد پرستوں کا ایلیٹ کلب بن چکی ہے اور صرف پچھلے دو ہفتوں میں ضمیر جگانے والی فیکٹری کی شکل اختیار کر چکی ہے جب میں ایسے ایسے چہروں کو جمہوریت، انصاف اور پاکستان کیلئے بے قرار دیکھتا ہوں تو مجھے اپنی آنکھوں کی بصیرت اور کانوں میں پڑی سماعت پر یقین نہیں آتا کہ مخدوموں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں، مفاد پرستوں، نوابوں، قریشیوں ،دولتانے، ٹوانے، لغاری، مزاری، خواجے، اور دیگر کے ضمیر یکدم جاگ اٹھے ہیں۔ ایک دوسری بات جو سمجھ سے باہر ہے کہ ملک کے تمام بیوروکریٹس، عسکری قیادت، ججز اور صوبائی و وفاقی سیکرٹریوں کے ضمیر یاتو ریٹائرمنٹ سے چند ہفتے پیشتر یا پھر ملازمت میں توسیع نہ ملنے کے چند ہفتوں کے بعد ہی کیوں جاگتے ہیں۔ اسی طرح اسلام آباد میں ہونیوالی سیاسی کشمکش کے دوران بھی کچھ ضمیروں کے جاگنے کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں اور صاحب اقتدار لوگوں نے ضمیر کو اپنے گھر کی ’’داسی‘‘ سمجھ رکھاہے۔ سیاستدانوں کی اس کلب میں 1947ء سے اقتدار پر قابض لوگوں کے پوتے پوتیاں، سمدھیوں، برادرانِ نسبتی کی صورت میں وہی لوگ آج بھی موجود ہیں اور ان کا ضمیر منجمد ہو چکا ہے۔ایک اور بات جو سمجھ سے بالاتر ہے کہ ہمارے ملک میں ضمیر ہمیشہ 65سال سے کم عمر کے لوگوں کے کیوں نہیں جاگتے۔ ساری مراعات، سہولیات اور اپنے حصے کا کمیشن وصول کرکے غیر ملکی اکائونٹس میں منتقل ہو جانے کے بعد یہ ضمیر کیوں جاگ اٹھتا ہے مگر ایک دلچسپ مشاہدہ چشم فلک نے ضرور دیکھا ہوگا کہ سیاست دان چونکہ کبھی بھی ریٹائرڈ نہیں ہوتا۔ سیاست میں مدتِ ملازمت کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ لہٰذا سیاست دانوں کے ضمیر خواب خرگوش کے مزے لیتے رہتے ہیں۔ ان میں سے چند ایک ضمیر کی خلش سے بچنے کیلئے زندگی کے آخری ایام میں ’’اعترافات‘‘ جیسی خودنوشت لکھ کر گناہوں کا بوجھ ہلکا کرنے کی ہلکی سی کوشش کرتے ہیں مگر بہت سے چالاک سیاستدان مرنے سے پہلے ایسے اعتراضات کو قبول کرنا تو دور کی بات ان کا ذکر بھی نہیں کرتے ،مبادا کہ انکی سیاسی وراثت انکے پوتے پوتیوں کو منتقل ہونے میں کوئی حرج نہ حائل ہو جائے۔ لگتا یوں ہے کہ ہمارے وزیروں، مشیروں اور اقتدار زدہ طبقے نے بھنگ پی کر ضمیروں کو خلش سے مجبور ہو کر سلاد یا ہے۔ قارئین! اسلام آباد میں ہونیوالے واقعات کے تسلسل سے ایک بات واضح ہوئی ہے کہ عمران خان جھوٹ اور فریب کی سیاست سے عاری ہے اور وہ سیاست کے مشکل ترین خار دار کو سائنس سمجھنے کی بجائے کھیل ہی سمجھتے ہیں۔ سیاست شتر بے مہار ہوتی ہے جبکہ کھیل کے کچھ اصول اور ضابطے ہوتے ہیں۔ میکاولی نے کہا تھا کہ اقتدار لاشوں پر سے گزر کے حاصل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فلسفے کو میاں برادران نے تو کما حقہ اپنا لیا اور سانحہ ماڈل ٹائون ہی کیا کم تھا کہ وہ سانحات کی سنچریاں بنانے کے چکر میں ہیں۔ میں قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید کو بھی سیاست دان نہیں سمجھتا اگر وہ سیاست دان ہوتے تو سمجھوتہ کرتے اور یوں تخت دار پر نہ کھینچ دیئے جاتے۔ آج چند سو مفاد پرست پاکستان کے وسائل پر قابض ہیں جنہوں نے ریاستی جبر کرکے عوامی سبز انقلاب کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہے مگر اب 20کروڑ عوام کے ضمیر جاگ چکے ہیں اور منزل ہم سے کچھ ہی دوری پر ہے کیا کوئی آج سے 20سال قبل یہ سوچ سکتا تھا کہ اتنے لوگ شدید موسمی بارشوں میں بھی اسلام آباد کی سڑکوں پر انقلاب کیلئے موجود ہوں گے۔ قدرتی آفات اور ریاستی جبر بھی ان متوالوں کے عزم کو ڈگمگا نہ سکا اور یہ ڈاکٹر طاہر القادری کی نہیں عوام اور انقلاب کی جیت ہے۔یہ جیت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران حکومت اور اپوزیشن کی سر پھٹول سے مزید قریب ہوگئی ہے۔ خورشید شاہ نے نثار کو پورس کا ہاتھی اور سازشی تک کہا۔ بات جہاں تک پہنچ گئی ہے یہ مزید آگے بڑھے گی۔ فائدہ کس کو ہو گا یہ کوئی مشکل سوال نہیں ہے۔ 6ستمبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus