×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
منزل سے چند قدم دور!
Dated: 09-Sep-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بیس کروڑپاکستانیوں کی طرح اورسیز میں بسنے والے کروڑوں پاکستانی بھی اپنے وطن میں اندرونی سیاسی خلفشار سے پریشان ہیں۔ مادرِ وطن کی دھرتی پر ٹپکنے والا ہر انسانی خون کا قطرہ دیارِ غیر میں بسنے والوں کو بھی لہولہان کر جاتا ہے۔ میں ان دنوں بغرض علاج چونکہ نارتھ امریکہ آیا ہوا ہوں اور آہستہ آہستہ دوستوں احباب کے ذریعے میرے جاننے والے اور اردو ادب سے شغف رکھنے والوں کو خبر ہو گئی ہے کہ میں یہاں موجود ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر روز بیسیوں دوست احباب اپنے جاب اور بزنس سے وقت نکال کر ملنے چلے آ جاتے ہیں۔ موضوع سخن پاکستان کی سیاست اور معیشت ہوتی ہے جس پر تمام احباب دل کھول کر رائے زنی کرتے ہیں۔ مجھے اکثر دوستوں کے فون بھی آتے ہیں جو پاکستان کے معروضی حالات سے پریشان ہیں اور آجکل تو ہر ایک پوچھتا ہے کہ آگے کیا ہوگا؟ ایک ایسے ملک میں جہاں آئین و قانون ،روایات اور اصولوں کی کوئی قدر نہ ہو، جہاں سسکتی انسانیت کا سڑکوں پر خون بہایا جائے، جہاں انصاف تو دور کی بات وقوع کی ایف آئی آر تک نہ کاٹی جائے، جہاں14لوگوں کو دن دیہاڑے سڑکوں پر گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے، جہاں 100لوگوں کو سیدھے فائر مار کر شدید زخمی کر دیا جائے اور پھر ان مقتولین اور زخمیوں کو انصاف دلانے کے لیے ایک درجن لوگ اور جان کی بازی ہار جائیں۔جہاں لاکھوں لوگ پچھلے ایک ماہ سے ملک کے سب سے مقدم ادارہ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دے کر بیٹھے ہوں اور موسمی شدت اور حدت کا مردانہ وار مقابلہ کریں۔ بارش اور شدید ژالہ باری بھی جن کے عزم کو ڈگمگانہ سکا ، پھر وہ لوگ بارشوں سے بھیگے کپڑے اتار کر دیوار پر لٹکا دیں سوکھنے کے لیے تو ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت ان بھوکے ننگے پریشان حال کیڑے مکوڑوں کے خلاف حکم جاری کر دیں کہ یہ اپنی بھیگی شلواریں ہماری شان و شوکت سے اور قیمتی پتھروں سے مزین دیواروں پر نہ لٹکائیں۔ ہمارے انصاف، ہماری عدلیہ، ہماری جو ڈیشری کا دھیان ان بھوکے ننگے انصاف مانگنے والوں پر ان کے حالات کے پیچھے محرکات پر کیوں نہیں پڑتا۔گندے میلے بھیگے کپڑے ان کے تاج محل کی دیواروں کی خوبصورتی پر داغ ہیں تو ان مفلوک الحال انسانوں سے کہہ دیا جائے کہ تمہاری وضع قطع ،تمہارا وقار، تمہارا رہن سہن، ہمارے معیار کے مطابق نہیں ہے اس لیے یہ ملک چھوڑ دو یا یہاں سے کہیں اور چلے جائو۔ ان کی بیٹی کسی بیکری پر ایک سموسہ مقررہ قیمت سے ایک روپیہ مہنگا خریدے تو اس ملک کے اقتدار کے ایوانوں میں ہل چل سی مچ جاتی ہے اور سوموٹو ایکشن لے لیا جاتا ہے۔ ان ججوں اور پارلیمنٹیرین کی لاکھوں کی تنخواہیں اور لاکھوں کی ماہانہ مراعات کے باوجود سوموٹو ایکشن لیا جاتا ہے مگر غریب ،ہاری کسان، مزدور، کلرک، ریڑھ بان، رکشے والا اور ڈیلی ویجز پر کام کرنے والے اس ملک کے 19کروڑ عوام کو صبح روٹی کا ٹکڑا ملتا ہے تو دوپہر کو وہ لسی میں پانی ڈال کر گزارہ کر لیتا ہے اور شام کی خبر نہیں ہوتی کہ کچھ ملے گا یا بھوکا سونا پڑے گا۔ یہاں ایک لوئر مڈل کلاس کا ایک آدمی ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت کا انچارج بن کر اربوں روپوں کے اثاثے بناتا ہے۔ ایک آرمی چیف جب ریٹائرڈ ہوتا ہے تو وہ اور اس کے بزنس میں بھائیوں کے اثاثے کھربوں روپوں تک پہنچے ہیں۔ ان کے بیٹے بیٹیاں ’’مونٹے کارلو‘‘ کے ہوٹلوں اور جوئے خانوں میں ایک ہی دن میں کروڑوں کا جواء کھیلتے ہیں۔ ان کے ایک غیرملکی سفر کے اخراجات ایک اوسطً پاکستانی کی 65سالہ کمائی اور پنشن سے بھی تجاوز کرتے نظر آتے ہیں۔ اس ملک کے تجارت پیشہ سیاست دانوں نے اپنے گرد موجود ان طبقات کے منہ کو کرپشن کا ’’لہو‘‘ لگا دیا ہے۔ ایسے لگتا ہے اب میرے وطن میں ہر شخص، ہر چیز قابل فروخت ہے ہر کسی کی ایک قیمت ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ آپ اس کی صحیح قیمت، صحیح وقت پر لگا دیں۔ شاید یہی وجہ تھی ۔ دامادِ رسول خلیفتہ المسلمین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ایک قول ہے کہ ’’کبھی بھی کسی کاروباری شخص کو اپنا بادشاہ یا امیر نہ چنو‘‘ آج حالات یہ ہیں کہ اگر بغور دیکھیں تو 80ء کے بعد ہماری ثقافت، ہمارا کلچر، ہماری تہذیب ،ہماری روایات یکسر تبدیل کر دی گئیں ۔ جس ملک کا بانی حضرت قائداعظم سرکاری خزانے سے چائے کی ایک پیالی پینے کو اپنے اوپر حرام گردانتے تھے اس ملک کے بعد میں آنے والے حکمران آج اربوں ڈالرز کے کیش اور اثاثوں کے مالک ہیں۔ آپ 70ء کے بعد کسی ایک حکمران کا نام لیں اور ذرا سا ’’گوگل‘‘ کریں تو حیران رہ جائیں گے کہ تعلیم ، ترقی، علم، سائنس، ایجادات، میڈیکل، زراعت، ٹیکنالوجی میں دنیا بھر میں آخری نمبر پر آنے والی قوم کے سربراہان کے غیرملکی بنکوں میں کھربوں ڈالرز پڑے ہیں۔ موجودہ حکمران بھائیوں کے لندن میں موجود ایک رہائش گاہ کی قیمت لندن کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کے مطابق 8ارب روپے سے زیادہ ہے جبکہ ملک کے سابق صدر جو کبھی سینما میں ٹکٹیںبلیک کرتے تھے اور جن کے والد محترم ٹھیکے پر زمین داری کرتے تھے۔ آج وہ ایک محتاط اندازے کے مطابق 70ارب ڈالرز یعنی ’’بل گیٹ‘‘ کے ہم پلہ ہیں۔ اسی لیے تو پارلیمنٹ کے فلور پھر کہا جاتا ہے کہ یہ ننگے بھیگ مانگے لوگ خانہ بدوش بستیاں پارلیمنٹ کے لان میں بسا کر ہم ایلیٹ کلب کا استحقاق مجروح کر رہے ہیں۔ یہ قطعاً نہیں جانتے کہ ان خانہ بدوشوں میں 2300پی ایچ ڈی خواتین شامل ہیں، قومی اور انٹرنیشنل اداروں کے اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کی تعداد ہزاروں تک پہنچتی ہے۔ میں ذاتی طور پر درجنوں ایسے اصحاب کو جانتا ہوں جن کی یورپ ،امریکہ ،نارتھ امریکہ میں کروڑوں ڈالر کے اثاثے ہیں، محل نما مکانات ہیں مگر وہ پورے کا پورا کنبہ لے کر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے سب کچھ چھوڑ کر اپنے 20کروڑ بھائیوں کے اچھے مستقبل کی خاطر اس دھرنے اور مارچ کا حصہ ہیں۔ دھرنے میں موجودہ ایک ایسے شخص کو ذاتی طور پر جانتا ہوں جس کے روزانہ کھانے کا بل سو ڈالر سے کم نہیں۔ چند دن پہلے میری فون پر اس سے بات ہوئی تو اس نے بتایا وڑائچ صاحب ابھی ابھی 50گھنٹوں کے بعد میں سوکھے نان اور چائے کی پیالی سے ناشتہ کیا ہے اور اللہ کا شکر ہے کہ وقت کے یزیدوں نے کھانے پینے کے سامان کو ریڈزون میں داخلہ کی اجازت دی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے دنیا کے 90ممالک میں منہاج القرآن سنٹرز موجود ہیں جن کے ساتھ سٹاف کی رہائش گاہیں، دفاتر اور کھیل کے میدان بھی موجود ہیں مگر ڈاکٹر صاحب ہفتوں غسل کے بغیر شاہراہ دستور پر بیٹ ہاتھ میں پکڑ کر انقلابی ساتھیوں کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ میں چونکہ شہید بی بی بے نظیر بھٹو کے لیے غیر ملکی یونیورسٹیوں میں لیکچرز کے انتظامات کرتا اور آرگنائز کرتا تھا۔ امریکہ،کینیڈا، یورپ اور آسٹریلیا کی چند یونیورسٹیوں کی طرف سے مجھے آفر ملی کہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کو انٹرفیتھ کے موضوع پر قائل کروں کہ وہ ماہانہ کم از کم فی یونیورسٹی دو، دو لیکچرز دے سکیں؟میں نے ڈاکٹر طاہر القادری سے بات کی تو انہوں نے کمال شفقت سے عالمی یونیورسٹیوں کی آفرز کو یہ کہہ کر قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ مطلوب وڑائچ میرے ملک کے بیس کروڑ عوام کو میری ضرورت ہے، مجھے ان بیس کروڑ لوگوں کو ایجوکیٹ کرنا ہے، مجھے اس پاکستان کو ان یورپی ممالک کے مقابلے پر لانا ہے اور پھر دیکھنا یہ لوگ میرے ملک کی یونیورسٹیوں میں لیکچرز دینے آئیں گے۔ میں نے کہا ڈاکٹر صاحب صرف ایک لیکچر کا 45000ہزار ڈالر ملے گا بمعہ طعام و قیام اور سفری اخراجات تو ڈاکٹر صاحب کہنے لگے مجھے ان ڈالروں کی ضرورت نہیں میرے ملک کو درس گاہوں کی ضرورت ہے۔ قارئین! جب میں ایسے مصمم ارادے اور ٹائی ٹانک عزم والے اس ادھیڑ عمر شخص کو دیکھتا ہوں تو مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ شخص ضرور اس بیس کروڑ عوام کے لیے مسیحا ثابت ہوگا۔ 9 ستمبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus