×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
رب دلاں وچ رہندا
Dated: 09-Aug-2009
پاکستان سے میرے دوست موجودہ سٹیٹ منسٹر مخدوم شہاب الدین اور دوسرے دوست میرے پاس سوئٹزرلینڈ آئے ہوئے تھے تو میں ان کو سینٹ گالن کے مشہور زمانہ چرچ کو دکھانے لے گیا۔ اس پرشکوہ چرچ کے ایک کونے میں پڑے جائے نماز تسبیح اور شیلف میں رکھے قرآنِ پاک کو دیکھ کر میں نے اس عالمی شہرت یافتہ چرچ کے ہیڈ پادری سے اس بابت پوچھا تو ان کا جواب تھاکہ صدیوں قدیم اس چرچ کی مذہبی ہی نہیں تاریخی اہمیت بھی ہے جہاں عبادت کے لیے عیسائی اور اسے دیکھنے والوں میں سے مسلمان اور دیگر مذاہب کے سیاح بھی شامل ہیں۔اس دوران اگر نماز کا وقت ہو جائے تو مسلمان اس کارنر کو مسجد کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ بات شاید کسی انتہا پسند کی سمجھ میں تو نہ آئے مگر اعتدال پسند معاشرے کی شاید اس سے بہتر مثال بھی نہ دی جا سکے۔ مسلمان ہوں یا عیسائی یا دیگر مذاہب کے لوگ نفرت کے شعلے انتہا پسند لوگوں نے بھڑکا رکھے ہیں۔ جبکہ مذاہب رواداری برداشت اور اعتدال کا سبق دیتے ہیں۔ میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے تعلقات پر غور کرتا ہوں تو حبشہ کے بادشاہ نجاشی کا کردار سامنے آ جاتا ہے۔ عیسائی بادشاہ نے ہجرت کرنے والے مسلمانوں سے اچھا برتائو کیا اور ان کو کفارِ مکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔اور جب مسلمانوں کے وفد نے نجاشی بادشاہ کو سورہ مریم پڑھ کر سنائی تو وہ بے اختیار پکار اٹھا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ محمدؐ اللہ کے آخری نبی ہیںاور یہ ہماری مقدس کتاب ’’انجیل‘‘ میں لکھا ہے۔6ہجری میں نجاشی نے آنحضورؐ کے ساتھ امِ حبیبہ کے نکاح کا اہتمام کیا اور اپنی جیب سے 4ہزار درہم بطور مہر ادا کیا۔ عیسائی اہل کتاب میں شامل ہیں جن کے ساتھ بیٹھ کر کھانا پینا جائز ہے۔ ان کے ساتھ اہل کتاب ہونے کی صورت میں رشتہ کرنے کی بھی اجازت ہے۔ 11اگست 1947ء میں قائداعظم کا پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا اعلان،اقلیتوں کے ساتھ روداری کی عظیم مثال ہے۔ عیسائیوں میں رواداری کی مثالیں بھی کم نہیں ہیں یورپی ممالک میں عیدین پر مسلم سرکاری ملازمین کو تنخواہ سمیت چھٹیاں دی جاتی ہیں۔ میں 26سال سوئٹزرلینڈ اور سینٹرل یورپ میں گزار کر اب جزوی طور پر پاکستان شفٹ ہو گیا ہوں آج تک وہاں موجود میرے کرسچین دوست عیدین پر تہنیتی پیغام بھیجنا کبھی نہیں بھولتے۔ جس طرح کہ میں بھی انہیں 25دسمبر کرسمس کارڈ لکھنا کبھی نہیں بھولا۔ اسلام تو روداری اور برداشت کا مذہب ہے۔ پھر گوجرہ میں عیسائیوں کی بستی کیوں جلا دی گئی۔ وہ تو عیسائی تھے مرید کے میں اسی الزام میں قتل کر دیئے جانے والے نجیب ظفر جو فیکٹر ی مالک تھے وہ تو مسلمان تھے مگر انہیں قتل کرنے والوں نے بالکل اسی طریقے سے جس طرح گوجرے میں وحشت کا ریکارڈ قائم کیا انہیں بھی تشدد سے ہلاک کر دیا۔گوجرہ اور مرید کے میں قتل و غارت کا بازار گرم کرنے والے ایک ہی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔ آج گوجرہ کے ان مناظر کو پور ی دنیا میں الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا سے جس طرح اچھالا جا رہا ہے اور دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب عیسائی جو کہ اس دنیا کی معیشت پر چھائے ہوئے ہیں نے ہم پاکستانیوں کی طرف نفرت کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔اوردنیا میں اگلے چند مہینے یا شاید سال ان مسلمانوں کے اور خصوصی طور پر ان پاکستانیوں کے لیے جو یورپ کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھے ہوئے ہیں کے لیے خاصے سخت اور مشکل ہوں گے کیونکہ گوجرہ کے عیسائیوں کی جلی ہوئی لاشیں یقینا ان کی نگاہوں میں گھومتی رہیں گی اور اس وہ شرپسند دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی ہو گئے ہیں جو پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ہماری بہادر اور جری افواج نے آپریشن راہ راست شروع کیا تو کچھ شرپسند مارے گئے۔ اور باقی جو بچ گئے ہیں وہ پورے ملک میں وبا کی طرح پھیل گئے ہیں۔یہ بالکل اسی طرح ہے جب 70 ء اور 80ء کی دہائی میں اس وقت آمر وقت نے شاہی قلعہ کے قریب رنگ و محفل کے ایک بازار پر پابندی لگائی تو وہاں کے مکینوں نے لاہور کے دیگر پوش علاقوں میں اپنے مسکن تلاش کر لیے اور وہ کام جو ایک خاص محلے میں ایک خاص جگہ ہوتا تھا اب گھر گھر ہونے لگا اب کسی کو کوئی پتہ نہیں کہ ہمارے پڑوس کون بستا ہے۔سوات،مالاکنڈ،دیر اور وزیرستان سے بچ جانے والے اور پھیل جانے والے شرپسندوں کو جہاں جہاں موقع ملتا ہے فساد برپا کر دیتے ہیں۔ شرپسندوں کی نظر میں میرے وطن کا امن کھٹکتا ہے وہ ہمارے وطن کی جڑیں کھوکھلا کرنا چاہتے ہیں ان کو اندر اور باہر سے دشمن کی آشیر باد حاصل ہے۔ ان کے سامنے مذہب کی نہیں اپنے مذموم مقاصد کی ہی اہمیت ہے۔ اس کے لیے وہ مسلمان، ہندو، عیسائی یا سکھ کسی کو بھی نشانہ بنا سکتے ہیں۔ جس طرح گولی کی آنکھ نہیں ہوتی اسی طرح شرپسند اور دہشت گرد کا بھی کوئی ضمیر نہیں ہوتا۔ ہمارے سبزہلالی پرچم میں سفید رنگ امن اور اخوت کا ترجمان ہے جو اس ملک کی اقلیتوں کے لیے مخصوص ہے۔ پاکستان مسلمانوں اور اقلیتوں پر مشتمل خوبصورت پھولوں کاوہ گلدستہ ہے جس میں ہر پھول اپنی جگہ اہم اور خوبصورتی کی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم سب کو اپنے اندر چھپے ہوئے شرپسندوں اور شرارتی لوگوں کی سازشوں کو نہ صرف ناکام بنانا ہے بلکہ ان کو بے نقاب بھی کرنا ہے۔ جہاں مسلمانوں پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر افواہ پر یقین کرکے جذباتی نہ ہوں، پہلے تحقیق کریں اگر کوئی دل آزاری کی بات کرتا ہے تو قانون موجود ہے، قانون کے محافظ موجود ہیں، ان سے کوئی نہیں بچ سکتا اسی طرح اقلیتیں اپنی صفوں میں نظر رکھیں کون ہے جو شرارت کرتا ہے جو سب کو بدنام کرتا ہے۔ مسلمان اور اقلیتیں اپنے ملک کے امن کی خاطر، معاشرے میں بھائی چارے کی خاطر شرپسندوں کو خود پکڑ کر قانون کے حوالے کریں۔ یہی ہم سب کے لیے اور ملک و قوم کے مفاد میں ہے۔میرا اس ملک کی کرسچین کمیونٹی کے ساتھ انتہائی قریبی تعلق ہے اور میں وہ شاید واحد سیاست دان ہوں جو سال میں کم از کم دو درجن کرسچین اجتماع اور تقریبات میں شریک ہوتا ہوں۔لاہور اور گردونواح کے کرسچین کمیونٹی مجھے میری اس سروس کی وجہ سے مجھے عزت اور توقیر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ابھی فسادات کے ابتدائی دنوں میں لاہور میں ہونے والی مسلم کرسچین فرینڈ شپ سیمینارمیں میں نے تمام مندوبین کو اپنی بُک ’’مشرق اور مغرب کا ملاپ‘‘ پیش کی جو کہ انٹرفیتھ ڈائیلاگ پر مبنی تھی۔میں سمجھتا ہوں کہ آج بھی پاکستان کو جس چیز سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ اتحاد،تنظیم اوریقین محکم کی ہے۔ورنہ سرحدوں کے اس پار ہمارے ازلی دشمن بھیڑیوں کی صورت للچائی نظروں میں ہماری طرف دیکھ رہے ہیں کہ کب ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی قومیت اور پہچان کو زخمی کریں اور کب وہ ہم پر جھپٹ کر ہمارا نشان تک مٹا دیں۔آج ہمیں گرجوں، مندروں،گردواروں اور مساجد کو یکساں تکریم دینی ہو گی اور انسانیت کے پرچار کے لیے اپنا حصہ ڈالنا ہوگا جیسا کہ ایک صوفی شاعرنے کیا خوب کہا ہے: ڈھا دے مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے جو کچھ ڈھیندا پر اک بندے دا دل نہ ڈھاویں،رب دلاں وچ رہندا
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus