×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
Dated: 20-Sep-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com حضرت قائداعظم، علامہ محمد اقبال اور ان کے ہزاروں ساتھیوں کی محنت ،کاوش اور احسان کا بدلہ ہمیں مملکت عزیز پاکستان اس صلے میں ملا پھر 20سال تک درجنوں رہنما آتے اور جاتے رہے اس نوزائیدہ قوم اور مملکت کو کوئی رہنمائی دینے والا نہ ملا۔ عوام کو دکھوں اور تکلیفوں میں گِھرا دیکھ کر ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب کابینہ سے استعفیٰ دے کر عوام کے لیے کچھ کرنے کی ٹھان لی۔ بھٹو کے دورِ اقتدار میں ایک چیز جس پر سب متفق ہیں یعنی قوم کو بولنا سکھایا گیا۔ مزدور کو مالک کے سامنے ،کسان اور ہاری کو جاگیرداری کے سامنے غرضیکہ تمام طبقہ ہائے فکر کو اپنے حقوق سے روشناس کرایا گیا۔ یہ بھٹو کا اس قوم پہ پہلا احسان تھا مگر طبقاتی جنگ میں سرمایہ دار،جاگیردار اور تاجر نے اپنے مفادات کے تحفظات کے لیے یک مشت ہو کر قوم کو اپنے شکنجے میں جکڑے رکھا اور تب ڈاکٹر طاہر القادری جو کہ اس قوم کی رہبری کے لیے آئے تھے۔ پارلیمنٹ سے مستعفی ہو کر اور مایوس ہو کر ملک سے چلے گئے اور اسی دوران عمران خان جو سترہ سال سے قوم کو ایک قوم بنانے کے لیے اور پاکستان کو اقبال کے خواب کے مطابق ایک نیا پاکستان بنانے کے لیے بے تاب تھے۔ جب ان کی 31اکتوبر2011ء کی کاوش کے نتیجے میں عوامی امنگوں کا رسپانس ملا تو انہوں نے محسوس کیا کہ یہی وہ وقت ہے جب آگے بڑھ کر قوم کی رہنمائی کی جا سکتی ہے اور ڈاکٹر طاہر القادری جو 35سالوں سے قوم کی ذہنی آبیاری کر رہے تھے کو بھی اب احساس ہوا کہ اب ہی وہ وقت ہے کہ اس بھلائی اور ٹھکرائی جانے والی قوم کو ایک انقلابی قائد کی ضرورت ہے تو انہوں نے اس قوم کا پہلا امتحان جنوری 2013ء میں اسلام آباد میں دھرنے کی کال دے کر لیا۔ قوم اور قائد دونوں اس ٹیسٹ میں پاس ہو گئے مگر خون نچوڑنے والے ڈریکولاز کے خونیں پنجوں سے قوم کی گردن چھڑانا بہت مشکل تھا۔ دراصل ملک کے استحصالی طبقات نے قوم کو یرغمال بنا کر اور غلامی کا طوق پہنا کر رکھا ہوا تھا۔ ایک ہی ملک میں مختلف درجات کے نظام رائج ہیں۔ غریب کے بچے کو اس کی پہلی کلاس سے ہی احساس دلا دیا جاتاہے کہ اسے بغیر چھت اور چاردیواری کے بکریوں اور گدھوں کے ساتھ مل کر پڑھنا ہوگا اور اس کی حدِ پرواز کلرک بھرتی ہو کر ہیڈکلرک ریٹائرڈ ہونا ہے جبکہ پبلک سکولوں کے نصاب اور امراء کے تدریسی اداروں میں اتنا ہی فرق ہے جتنا لاہور سے لندن ۔ اس ملک کے سیاست دانوں نے جن میں بیشتر لوئرمڈل کلاس سے بھی آگے بڑھے مگر جیسے ان کے بینک اکائونٹ کا حجم بڑھا ان کے دماغوں سے نکل گیا کہ وہ بھی کبھی غریب تھے اور غریبوں کے حقوق حاصل کرنے کے نام پر بلندو بانگ دعوے کرتے تھے مگر ایلیٹ کلاس کا ممبر بنتے ہی ان لوگوں کے ذہنوں سے ان کا ماضی ڈیلیٹ ہو جاتا ہے مگر قوم کو جب قوم ہونے کا احساس ہو چلے تو وہ غلامی کے اسی بھاری طوق کو اپنے غاصب کے گلے میں ڈال دیتے ہیں۔ فلپائن کا سابق صدر مارکوس اور اس کی بیوی امیلڈا اسی عوامی غضب کا شکار ہوئے۔ اسی طرح شاہ ایران رضاشاہ پہلوی اور اس کا خاندان جان بچا کر بھاگنے میں تو کامیاب ہوئے مگر عبرت کا نشان بنے۔ رومانیہ کے ڈکٹیٹر چائوسسکو اور ان کی بیگم کو رومانیو کی کچلی ہوئی عوام نے سرِ عام پھانسی دی۔ جبکہ عراق کے صدام حسین کا انجام بھی عبرت ناک تھا اور قذافی کو بیچ چوراہے پر ’’ٹھڈے‘‘ مار کر مارا گیاجبکہ اس کی کھربوں ڈالر کی وارث اولاد آج پانی کی ایک بوتل کے لیے ترس رہی ہے۔ حسنی مبارک نے 3دہائیوں تک عوام کے حقوق غضب کیے اور پھر اسے یومِ حساب آنے پر سٹریچر پر باندھ کر کورٹ میں پیش کیاجاتا رہا۔ ایوب خاں کو لوگوں نے بالآخر گالیاں دیں اور جب یہ اطلاع اس تک پہنچی تووہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گوشہ نشین ہو گیا۔گذشتہ روز یوکرائن کے ایک حکومتی ممبر پارلیمنٹ کو عوام نے کوڑے دان میں پھینک دیا۔ قارئین کرام! مندرجہ بالا ریفرنس اس لیے دیئے گئے تاکہ احساس ہو سکے کہ جب جب قوموں کو لیڈرز ملتے چلے گئے قوموں نے ترقی کی منازل بڑی تیزی سے حاصل کیں۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ یزید کی غاصب حاکمیت کو حضرت امام حسینؓ نے اپنے اور اپنے خاندان کے خون کی قربانی دے کر چیلنج کیا۔ نیلسن منڈیلا نے 3دہائیوں تک قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرکے سائوتھ افریقہ کو فرنگی تسلط سے آزاد کروایا۔ ملک کو نیوکلیئر قوت بنانے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو اور اس کے خاندان نے عظیم قربانیاں دیں اور اب پاکستان کے عوام کو حقیقی روٹی، کپڑا اور مکان وہ تمام ضروریات زندگی جو کسی بھی معاشرے کے افراد کو بنیادی طور پر ملنی چاہئیں دینے کے لیے ڈاکٹر طاہر القادری نے علم بغاوت بلند کیا تو ان کے چودہ رفقا کو شہید اور 100کو شدید مضروب کر دیا گیا مگر استحصالی طبقے سے جان چھڑانے کے لیے اب طاہر القادری میدان میں اکیلے نہیں تھے، نوجوانوں کی نمائندگی کرنے والے عمران خان ان کے ہمقدم تھے اور آج 37دنوں کے بعد اس مارچ اور دھرنے کے ثمرات کِھلنے لگے ہیں۔ہم بچپن میں دیکھا کرتے تھے کہ غیرملکی سربراہان کے پاکستان آنے کے موقع پر تپتی دھوپ میں جھنڈیاں پکڑا کر کھڑا کر دیا جاتا تھا، کسی مشیر، وزیر، وزیراعلیٰ، گورنر، وزیراعظم، صدر کے کارواں کی تو شان ہی کیا ایک مقامی ایس ایچ او اور ضلعی کمشنر کی سواری کی آمد کسی شہنشاہ سے کم نہیں ہوتی مگر اے قائدانقلاب تیرا احسان ہے کہ آج 20کروڑ عوام کو شعور اور آگاہی حاصل ہو چکی ہے۔ بھٹو نے قوم کو جس طرح دیکھنا چاہا علامہ طاہر القادری نے اب اس قوم کو پالش کر دیا ہے اور اس سلسلے میں گذشتہ دنوں ہمیں متعدد اور واضح اشارے دیکھنے کو ملے۔ سیاسی جرگے کی قیادت کرتے کرتے رحمان ملک اپنی سیاسی اوقات بھول بیٹھے تھے مگر سچ کہا گیاہے کہ عزت اور ذلت اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے(القرآن)رحمان ملک اور ن لیگی ایم این اے رمیش کمار کے ساتھ جو کچھ ہوا اور پھر مریم نوازشریف اور اس خادمہ کے ساتھ پی آئی اے کی فلائیٹ میں جو کچھ ہوا اور پھر وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کو سکھر سے جو جان بچا کر بھاگنا پڑا اور سیلاب متاثرین کے ہاتھوں شہبازشریف اور نوازشریف کی گو گو کے نعروں سے جو تواضع ہورہی ہے یہ نظارہ بھی چشم فلک نے دیکھا اور گذشتہ روز پارلیمنٹ کے فلور پر مسلم لیگ کے انفارمیشن سیکرٹری اور سینیٹر مشاہداللہ جو گورنمنٹ کے ایماء پر جیو کے سومنات کا سپہ سالار بنا بیٹھا ہے نے پاکستان کے قومی اداروں کے دشمن میڈیا گروپ کے ساتھ جو وابستگی ظاہر کی اور موصوف ’’دردِ جیو‘‘ میں جس طرح ہلکان ہوئے جا رہے تھے اور چند روز پہلے محترم وزیراعظم جس طرح چوہدری نثار کو جیو کی بات ان کے منہ میں ڈال رہے تھے اس سے ایک بات تو واضح ہوتی ہے کہ یا تو حکمرانوں نے ماضی سے کچھ بھی نہیں سیکھا یا پھر بھارت کے ساتھ ان کے ذاتی تجارتی مفادات اس قدر بھاری نوعیت کے ہیں کہ جن کے لیے نوازشریف گورنمنٹ کچھ بھی قیمت ادا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہے۔ جیو کو غدار قرار دے کر اس کی پیمرا نے نشریات بند کیں،کیا کوئی جزوی غدار بھی ہوتا ہے؟قوم اب جاگ چکی ہے اور طاہر القادری اور قوم کی جیت ہے۔ یہی انقلاب ہے اور وہ اللہ ہی ہے جو عزت اور ذلت دینے والا ہے ۔وی آئی پی اور وی وی آئی پی کلچر اب اپنی موت مرنے کے قریب ہے عوام کے مقدر کا موسم اب بدل رہا ہے۔ انشاء اللہ۔ 20ستمبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus