×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیالکوٹ تو زندہ رہے گا!
Dated: 23-Sep-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com قدیم تاریخی اہمیت رکھنے والے شہر سیالکوٹ کو راجہ رسالو نے آباد کیا اور رفتہ رفتہ اس کا نام سیالکوٹ پڑ گیا۔ یہی وہ شہر ہے جس کی سرزمین پہ علامہ محمداقبال، فیض احمد فیض، مولانا ظفر علی خان پیدا ہوئے۔ اس علاقے کی زمین ہی زرخیز نہیں بلکہ ذہنی زرخیزی کے لیے بھی یہ خطہ مشہور ہے ۔میں سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے ایک بڑے قصبے میترانوالی میں پیدا ہوا ۔مترانوالی ایک تاریخی قصبہ ہے جو محمود غزنوی کے زمانے میں ضلعی صدر مقام کی حیثیت رکھتا تھا مگر قیام پاکستان کے بعد سالکوٹ جو مملکت عزیز کے لیے دفاعی حصار کی حیثیت رکھتا ہے، وہیں بھارت کی طرف سے کی جانے والی آبی جارحیت میں بھی سیالکوٹ کو فرنٹ لائن پر ہونے کی وجہ سے تختہ مشق بننا پڑتا ہے۔گذشتہ دنوں اس صدی کے بدترین سیلاب نے ضلع سیالکوٹ کے تقریباً 90فیصد دیہات اور قصبات کو شدید نقصان پہنچایا۔ انگریز دور سے اس علاقے میں ایک عمدہ نہری نظام ہونے کی وجہ سے اس علاقے کی زرعی زمینوں کو باقی ماندہ پاکستان پر ایک مخصوص حیثیت حاصل ہے۔ شاید میرے کالم کے اس حصے سے اس مسلمہ حقیقت کو نہ جاننے والے اختلاف رکھیں مگر یہ حقیقت ہے کہ کراچی نہیں بلکہ سیالکوٹ پاکستان کو سب سے زیادہ ریونیو دینے والا ضلع ہے۔ دراصل ایوب دور میں اسلام آباد جب کیپٹل سٹی بنایا گیا تو تمام وفاقی محکموں سمیت بینکوں اور ریونیوجمع کرنے والے دفاتر اسلام آباد شفٹ نہ ہوئے اور اس لیے آج ایم کیو ایم کی قیادت یہ کلیم کرتی ہے کہ کراچی 70فیصد ریونیو کما کر دینے والا شہر ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ سیالکوٹ ضلع میں سرجیکل، سپورٹس اور لیدر گڈز انڈسٹری کا جال بچھا ہوا ہے۔ ڈسکہ سے سیالکوٹ 25کلومیٹر سڑک کے دونوں اطراف بڑی بڑی اور خوبصورت فیکٹریاں اور انڈسٹریز سیالکوٹ کی مضبوط معیشت کی گواہی دیتی ہیں اور سیالکوٹ کا ایک شہری ہونے کے ناطے میری اطلاع کے مطابق ضلع میں بے روزگاری کی شرح صفر فیصد ہے جبکہ پوٹھوہار، جنوبی پنجاب اور خیبرپی کے سمیت ملک بھر کی مین پاور حصول روزگار کے لیے سیالکوٹ کو اپنا مسکن بناتے ہیں۔ 2005ء میں اے آر ڈی اور میثاقِ جموریت کی بنا پر مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر ادریس باجوہ ،پیپلزپارٹی کے ضلعی صدر ملک نصیر احمد اور جماعت اسلامی کی مقامی قیاد ت نے متفقہ طور پر مجھے ضلعی ناظم کے لیے مشترکہ امیدوار نامزد کیا تھا۔تب مجھے سیالکوٹ اور سیالکوٹیوں کو قریب سے دیکھنے کا اور سمجھنے کا موقع ملا۔ یہ سیالکوٹ کے انڈسٹریلسٹ و چیمبر آف کامرس کے لیے اعزاز ہے کہ ایشیا میں پہلا ایئرپورٹ جو غیرسرکاری خرچے پر تیار کیا گیا وہ سیالکوٹ میں موجود ہے اور سیالکوٹ کے ممبران چیمبر آف کامرس نے کبھی بھی صوبے یا وفاق کی طرف نہیں دیکھااور نہ ہی مدد کے لیے ہاتھ پھیلائے ہیں مگر گذشتہ روز مجھے ڈسکہ، سیالکوٹ اور سمبڑیال سے دوستوں نے یہ پیغام بھجوائے کہ ضلع سیالکوٹ کا 90فیصد کاشتکاری رقبہ تباہ ہو چکا ہے ۔ چھوٹے بڑے غریب کسانوں کے 80فیصد تک مال مویشی سیلاب برد ہو چکے ہیں۔ سکول، ہسپتال اور فیکٹریوں کے اندر پانی بھر آنے سے تعفن اور موذی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں جبکہ ضلع سیالکوٹ کے عوام کا کھربوں روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ وہ ہاتھ جو دوسروں کی مدد کے لیے ہر وقت کمربستہ رہتے تھے وہ اس وقت اپنی سروائیول کے لیے رستے ڈھونڈھ رہے ہیں۔ اس لیے سیالکوٹ کے سمال انڈسٹریز مالکان اور کاشتکاروں کی معقول امداد نہ کی گئی تو سیالکوٹ میں آنے والا معاشی بحران وطن عزیز میں معاشی عدم استحکام پیدا کرے گا۔ میں نے مختلف انجمنوں اور ٹریڈ یونین و کسان کمیٹیوں کے معظم شفیع مغل، ناصر حسین علوی، شکراللہ گھمان ایڈووکیٹ، سہیل وڑائچ ایڈووکیٹ، سیف اللہ چیمہ، حافظ عمار سمیت دیگر عہدیداروں سے کہا ہے کہ وہ مشترکہ پروگرام یا پیکیج بنا کر اربابِ اختیار کے سپرد کریں۔ ضلع بھر کی اور خصوصاً مترانوالی اور ڈسکہ کو جانے والی تمام سڑکیں بہہ چکی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پنجاب اور وفاق میںحکمران اپنی ڈوبتی کشتی اور اقتدار کو بچانے کے لیے دیگر مختلف مشغولات میں مصروف ہیں۔ شاید ان کا ذہن نئے اجڑنے والوں کو درپیش مشکلات کی طرف نہ جائے مگر رعایا جب خوش نہ ہو گی تو کھرب پتی حکمران اپنے اثاثوں کے ساتھ بھی خوش نہ ہوں گے۔ گذشتہ روز میری قائدانقلاب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے دیگر موضوعات کے علاوہ سیالکوٹ میں تباہی کے موضوع پر بھی گفتگو ہوئی تو ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے بہت ہی مشفقانہ طریقے سے وضاحت کی کہ حکمران وقت پاکستان کے آئین کی دفعہ 1سے لے کر 40تک کو یکسر فراموش کر چکے ہیں اگر اس ملک میں ایک مضبوط بلدیاتی نظام اور سٹی گورنمنٹ کا نظام رائج ہوتا تو آج پاکستان کے 20کروڑ عوام کے حالات بہت بہتر ہوتے۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ حکمران صرف اپنے ایم این ایز ،ایم پی ایز اور سینیٹرز کو سیاسی بنیادوں پر فنڈز جاری کرکے ان کو بھاری کمیشن کھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید کہا کہ وڑائچ صاحب آپ خود بھی تو عمر کا بڑا حصہ یورپ میں گزار چکے ہیں تو کیا یہ سچ نہیں کہ آج مستحکم معیشت اور سپرپاور یورپ ایک مربوط بلدیاتی نظام اور لوکل گورنمنٹ سسٹم کی وجہ سے کامیاب ہیں۔ مثلاً سیکینڈایوین ممالک ناروے، ڈنمارک، سویڈن نے سمندر کے آگے بند باندھ کر ہمیشہ کے لیے خود کو محفوظ کر لیا ہے جبکہ انڈیا اور بنگلہ دیش نے مثبت پالیسیوں کی وجہ سے خود کو ہر سال ڈوبنے سے بچا لیا ہے جبکہ پاکستان اپنے کرپٹ حکمرانوں کی وجہ سے عوامی مسائل سے غافل ہے اسی لیے ایک سبز انقلاب کی ملک کو اشد ضرورت ہے۔ 23ستمبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus