×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مائنس ون۔تاریخ کے آئینے میں
Dated: 16-Aug-2009
ذوالفقار علی بھٹو کی ملک و قوم کے لیے خدمات کا ذکر ہوگا تو بکھرے ہوئے پاکستان کی شیرازہ بندی سے لے کر پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کی بنیاد رکھنے تک کی بات کرناہو گی۔93ہزار جنگی قیدی واپس لانا کوئی معمولی بات نہیں۔ قوم کو متفقہ آئین تفویض کرنا یقینا بہت بڑا کارنامہ ہے۔ قادیانیت کا سلگتا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل کر دیا۔ اسلامی بنک کی ابتداہو جاتی توبھی یقینا اسلامی بم سے کم نہ ہوتا۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کے انعقاد کے باعث لاکھوں پاکستانی روزگار کے لیے سمندر پار گئے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری آئی۔ بھٹو نے غریب کسان، مزدور اور طالب علم کو جگایا اور ان کو اپنا حق مانگنے اور حاصل کرنے کا طریقہ سکھایا۔ پاکستان کو اسلام کی پہلی ایٹمی قوت بنانے کی بنیاد رکھی۔ جو امریکہ جیسے عالمی تھانیداروں کے لیے قابل قبول نہ تھا۔ وزیرخارجہ ہنری کسنجر نے دھمکی آمیز خط لکھا کہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کی کوشش ترک نہ کی تو نشانِ عبرت بنا دیں گے۔ بھٹو نے یہ خط راولپنڈی کے راجہ بازار میں عوام کے سامنے جا رکھا اور عزم ظاہر کیا جو قدم بڑھا دیا ہے واپس نہ ہوگا۔ پھر واقعی امریکہ نے ذوالفقار علی بھٹو اور اس کی اولاد کو نشانِ عبرت بنا دیا۔ 1977ء میں الیکشن ہوئے جن کو متنازعہ بنا کر حکومت مخالف تحریک شروع ہوئی ایک طالع آزما نے شب خون مارا ایک جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا۔ پی این اے اورجنرل ضیاء الحق دونوں نے پیپلز پارٹی کے قابل قبول ہونے کی بات کی بشرطیکہ پیپلز پارٹی مائنس ذوالفقار علی بھٹو ہو۔ پھر وہ موقع آیا کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی لگا دیا گیا۔ پیپلز پارٹی مائنس بھٹو ہو گئی لیکن اس کے باوجود کارکنوں کو پھانسیوں،کوڑوں کی سزائیں اور قلعوں کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ اور یہ محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد سیاسی کارکنوں کو ذہنی اپاہج بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی گئی اور یہ وہ نرسری تھی جو آگے چل کر اچھے سیاستدان بنتے اور ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالنے میں آج اپنا کردار ادا کر رہے ہوتے۔ یہ عذاب ان پر مسلسل ساڑھے 11سال تک نازل ہوتا رہا۔ 17اگست 1988ء کے حادثے کے بعد انتخابات میں پیپلز پارٹی کو اقتدار میں آنے کا موقع ملا تو پہلے دن سے سازشوں کا آغاز ہو گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کو دو مرتبہ عدم اعتماد کی تحریکوں کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر ڈیڑھ سال کے قلیل عرصے بعد اقتدار سے محروم کر دیا گیا۔ سیاسی اور معاشی حالات دگرگوں ہوئے تو انتخابات کے ذریعے محترمہ کو پھر اقتدار میں لایا گیا۔ 93ء سے 96ء تک آصف علی زرداری کو مسلسل ہدف بنایا گیا۔ ان کو مسٹرٹن پرسنٹ قرار دیا گیا۔ قلم فروش لکھاریوں کے ذریعے ان کو ’’میکاولی‘‘ کی صورت میں پیش کیا گیا۔ اور آصف علی زرداری کو ذوالفقار علی بھٹو کا داماد ہونیکی پاداش میں اتنی ذہنی اور جسمانی سزائیں دی گئیں کہ کوئی عام انسان ہوتا تو ٹوٹ کر بکھر جاتا مگر آصف زردار کے پایۂ استقلال میں ذرا بھی لرزش نہ آئی اور وہ ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتا رہا۔پھر ان طاقتوں نے جو بھٹوز کو سبق سکھانا چاہتی تھیں محترمہ کے اس دور میں ان کے بھائی کو گھر کی دہلیز پر قتل کرا کے ایک تیر سے تین شکار کیے۔ ایک طرف محترمہ کو اقتدار سے الگ کر دیا گیا دوسری طرف الزام آصف علی زرداری کے سر پر لگا کر آصف علی زرداری کے کردار کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی اور تیسرا وہ قوتیں جو بھٹوز کو نشانِ عبرت بنانا چاہتی تھیں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔اس کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کے لیے ابتلائوں کا ایک اور دور شروع ہوا۔ مجھ سمیت کئی دیگر قائدین پر ’’احتساب الرحمن‘‘ فیم کیس بنائے گئے۔ سانحہ 12اکتوبر99ء کے بعد مشرف رجیم جو احتساب کا علم ہاتھوں میں اٹھا کر آئی تھی جلد کرپشن زدہ لوگوں کی دستبرد میں تھی مشرف کے پورے ساڑھے آٹھ سالہ دور میں خصوصی طور پر 2002ء کے الیکشن میں مائنس بینظیر بھٹو کا نعرہ بلند ہوتا رہا۔ جو ان کی شہادت تک محترمہ کے تعاقب میں رہا۔ 2002ء کے الیکشن کے بعد مائنس بے نظیر سوچ کو کامیاب کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کے اندر توڑ پھوڑ کی سازش چلائی گئی اور پیٹریارٹ کے نام سے اس کے دودرجن سے زائد نو منتخب اراکین قومی اسمبلی کو لوٹا بنا کر اس ملک کی جمہوریت کے ساتھ سنگین مذاق کیا گیا اور مشرف آمریت کے آٹھ سالہ دور میں پیپلز پارٹی کے کارکنان کے ساتھ جو زیادتیوں اور ابتلائوں کا دور شروع ہوا وہ اب بھی جیالوں کے سینوں پر رقم ہے۔پھر 2008ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کو انتخابات حالتِ سوگ اور مائنس بینظیر بھٹو لڑنا پڑے۔ جس کے نتائج پھر بھی جزوی طور پر پیپلزپارٹی کے حق میں رہے۔ وزیراعظم کی نامزدگی اور سپیکر کی توثیق تک تو مائنس ون کی رسیا قوتوں کے لیے معاملات قابلِ قبول رہے۔ اور جیسے ہی آصف علی زرداری کا صدارتی امیدوار کے طور پر نام سامنے آیاتو پرانے کھلاڑیوں کی دم پر جیسے پائوں آ گیا۔ حالانکہ آصف زرداری کی استقامت،جرات اور بے گناہی کی بنا پر مشاقِ جمہوریت اور عظمت صحافت جناب مجید نظامی نے انہیں مردِ حُر اور مردِ راہوار قرار دیا تھا۔ مجھے ایک دفعہ جناب مجید نظامی صاحب نے شرف ملاقات بخشا اور ان سے بیٹھ کر ڈھیروں باتیں ہوئیں اور جب میں ان سے پوچھا آپ نے انہیں مردِ حُر اور مردراہوار کا خطاب کیوں دیا ہے حالانکہ نظریاتی طور پر آپ پیپلز پارٹی سے قریب نہیں ہیں تو انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری کی ہمت، وفااور عزم نے اور پھر اس کے مسلسل آٹھ سال جیل میں رہنے اور گناہگار ثابت نہ ہونے اور سب سے بڑی بات کہ آمریت سے سمجھوتہ نہ کرنے کی ادا نے مجھے مجبور کیا کہ میں اسے مردِ حُر اور مردِ راہوار کہوں۔پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو کوئی حرف ایسا نہیں تھا جس کے نام سے بحران شروع نہ ہوتا ہو۔ تمام بحرانوں سے نبردآزما ہونے کے بعد عوام اور پاک فوج کے تعاون سے سوات آپریشن میں کامیابی حاصل کرکے آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پرٹی نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔ نادیدہ قوتوں کے لیے یہ صورتحال ناقابل برداشت ہو گی۔ وہ پھر میدان میں کودے، صدر اور وزیراعظم کے درمیان اختلافات کی خلیج بنانے کی کوششیں ناکام ہوئیں تو مائنس ون کا ورد شروع کر دیا۔ عاقبت نااندیشوں کا ٹولہ کیوں بھول جاتا ہے کہ وہ جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں۔ وفاق کی علامت بینظیر بھٹو کو تو ہم پہلے ہی شہیدکر چکے ہیں اب ان کے سیاسی اور خاندانی وارث آصف زرداری کے بھی پیچھے پڑ گئے ہیں۔ اب پاکستان پیپلز پارٹی اور بھٹو کے پاس کھونے کو کچھ نہیں بچا،اب جو بھی وار ہوگا وہ پاکستان کے سینے پر لگے گا۔ تاریخ کے آئینے میں جھانکا جائے اور اگر تاریخ سے سبق حاصل کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں جتوئی،کھر، عبدالحفیظ پیرزادہ،کوثر نیازی، حنیف رامے،ڈاکٹر مبشر حسن، ڈاکٹر غلام حسین، معراج خالد،معراج محمد خاں، رائو سکندر، فیصل صالح حیات اور فاروق لغاری جیسے سینکڑوں قائدین جو کبھی عوام کے دلوں پر راج کرتے تھے آج گم گشتہ تاریخ کا حصہ بن کر کہیں کھو گئے ہیں اور ان کا ذکر اب کتابوں تک میں نہیں ملتا۔ ان حالات میں وہ کوئی ذہنی ناپختہ شخص ہی ہوگا جو پیپلز پارٹی سے دغا کرکے اپنی دنیا اور آخرت بچانا چاہتا ہو۔کیونکہ یہ تو درویشوں،ولیوں اور جیالوں کی پارٹی ہے اس سے بے وفائی کرنے والا پھر کبھی عوام کی دعائوں کا حقدار نہیں بن سکا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus