×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جاگ اُٹھا ہے سارا وطن!
Dated: 18-Oct-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com دو دوستوں کی عرصہ دراز کے بعد ملاقات ہوئی۔ ایک کا آدھا کٹا ہوا بازو دیکھ کر دوسرے نے پوچھا ۔دوست یہ کیا ہوا۔ پہلے نے کہا، میں ٹوکے پہ چارہ کاٹ رہا تھا کہ میرا دیاں بازو ٹوکے میں آ کر کٹنے ہی والا تھا کہ میں نے کمال ہوشیاری سے دایاں بازو نکال کر بایاں بازو ٹوکے میں دے دیا،ورنہ آج میرا دایاں بازو سلامت نہ ہوتا۔بالکل اسی طرح حکومت اور اتحادیوں نے دھرنوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کو دھرنے چھوڑ کر جلسے کرنے کی ترغیب دی اور اسی چالاکی میں حکومت اور اپوزیشن اپنے دونوں بازو ٹوکے میں دے بیٹھے ہیں۔ عمران خان کے کراچی سے لے کر سرگودھا کے جلسے تک تمام شوز ہائوس فل رہے جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری کے جلسۂ فیصل آباد نے کامیابیوں کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور قرین قیاس یہ ہے کہ کل 19تاریخ کو لاہور میں ہونے والا سیاسی دنگل بھی عوامی تحریک نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے جیت لے گی اور خاص طور پر سیلاب زدگان کے گھروں میں جا کر ان سے ملاقاتیں کرکے اور ان کی ڈھارس بندھا کر ڈاکٹر طاہر القادری نے سیلاب سے متاثرہ افراد کو امید کی کرن دکھائی ہے۔ اس کی روشنی جلد ہی پورے ملک کو بقعۂ نور بنا دے گی۔ سیانے کہتے ہیں کہ ہمسائے کا منہ لال ہو تو اپنا منہ تھپڑ مار کر لال نہیں کر لیناچاہیے۔ عوامی تحریک اور تحریک انصاف کی دیکھا دیکھی پیپلزپارٹی کو بھی سیاسی خارش نے مجبور کر دیا کہ وہ بھاگتے چور کی لنگوٹی بچانے کے چکر میں ملتان کے ضمنی انتخابی دنگل میں اپنی رہی سہی عزت بھی گنوا بیٹھی ہے ۔ جہاں پر پیپلزپارٹی کے امیدوار نے صرف 6000ہزار ووٹ حاصل کرکے نہ صرف اپنی ضمانت ضبط کروائی بلکہ مرکزی حمایتوں کی عزت سادات کو بھی لٹا بیٹھے۔ حالانکہ اس سے پہلے پیپلزپارٹی کے کوچیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری قریباً دو ہفتوں کی لاہور یاترا کے دوران جیالے کارکنوں کا غصہ ٹھنڈا کرنے میں ناکام رہے اور ان کی ہر کوشش ’’پانی میں مدھانی‘‘ کے مصداق ثابت ہوئی۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی چونکہ پچھلے سات سال سے حکومت ہے اس لیے پی پی پی کی قیادت اس زعم میں مبتلا ہے کہ ان کا نوزائیدہ چیئرمین اپنی شہید ماں اور شہید نانا کے نام پر شو کرنے میں کامیاب رہے گا۔ قارئین! یہاں مجھے عمران خان کی اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی برسرِاقتدار حکومت اندرونِ اور بیرون سندھ سے غریب ہاریوں، مزارعین اور غریب مزدوروں اور دیگر کو ڈیلی ویجز پر اکٹھا کرکے جلسہ گاہ کی کرسیوں پر زندہ لاشوں کی طرح لا بٹھائے گی۔مگر پان گٹکا کھانے والی فرعونِ مصر کے دربار کی ان ’’ممیوں‘‘ کے ہاتھ صرف تالی بجائیں گے اور منہ سے زندہ بھاگ کے نعرے بلند ہوں گے۔ قارئین!گذشتہ تین چار ہفتوں کے سیاسی حالات و واقعات سیاسی ارتقائی تبدیلیاں اور بین الاقوامی گٹھ جوڑ اور سازشوں نے ہمیں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سعودی عرب سمیت عرب ریاستیں ہمیں داعش اور آئی ایس آئی ایس کا ایندھن بنا کر جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں اور ایران اپنے حصے کی جنگ سرزمین پاکستان پر لڑنا چاہتا ہے جبکہ بھارت اور اسرائیل ہر قیمت پر ہمارے وجود کو برقرار نہیں دیکھنا چاہتے۔اندرون ملک حالات یہ ہیں کہ حکمران اور نام نہاد اپوزیشن 20کروڑ ڈھانچوں سے نوچا ہوا ماس اور مال بچانے کے لیے ایکا کئے بیٹھے ہیں اور ان معروضی حالات میں جب چور اور سپاہی آپس میں مل جائیں تو مریض مملکت کو دعا کی نہیں دوا کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام کوئی وطن سے محبت رکھنے والے قومی جنونی ہی کر سکتے ہیں۔ڈاکٹر طاہر القادری جو بیڑا اورعزم لے کر چلے تھے آج اس کے ثمرات کھِل کر غنچے سے پھول بن چکے ہیں۔ آج اس محنت کے شراروں ہی کی وجہ ہے کہ پچھلے چالیس سال سے پاکستان کے طول و عرض سے چار مختلف مقامات سے بیک وقت بھی منتخب ہونے والے مخدوم جاوید ہاشمی ایک کاز سے دھوکا اور فریب کرنے کی بنا پر اپنے ہی شہر میں چاروں شانے چت پڑے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے عالمی رائے عامہ اور پاکستان کے اقتدار زدہ طبقے کو صرف یہ باور کرانے کے لیے کہ ان کے چاہنے والوں میں صرف مدرسوں کے طالب علم اور معتقدین ہی شامل نہیں بلکہ پاکستان کے باشعور لوگوں کی ایک بڑی تعداد طالب علم، کسان، مزدور، ہاری، کارخانے دار اور محنت کش سبھی اس قافلے کے شرکاء میں شامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ بدلتے ہوئے سیاسی رنگ کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی سے سیاسی مینڈکوں کی ایک بڑی تعداد عوامی تحریک اور تحریک انصاف میں جمپ لگانے کے لیے تیار بیٹھی ہے چونکہ تحریک انصاف کا تنظیمی اور انتخابی انفراسٹرکچر تقریباً مکمل ہے اس لیے وہ صرف حسب ضرورت چند قلابازوں کو اپنے اندر داخل ہونے کی اجازت دے گی مگر عوامی تحریک کو یہاں ان دنوں ان حالات میں سیاسی بزرگی کا مظاہرہ اور مدبرانہ فیصلے کرنے ہوں گے۔ یقینا مسلم لیگ ن او رپیپلزپارٹی چھوڑنے والوں کو اس بات کا ادراک ہے کہ عوامی تحریک کے پاس ووٹر تو کروڑوں کی تعداد میں ہیں مگر مستند آزمائے ہوئے انتخابی امیدواروں کی ابھی بہت گنجائش باقی ہے، اس لیے عوامی تحریک ان کا مطمح نظر ہو گی، مگرڈاکٹر طاہر القادری صاحب کو یہاں پہ بردباری کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا اور عوامی تحریک کے پلیٹ فارم کو ان بھگوڑوں کا ’’سیاسی چھپڑ‘‘ بننے سے بچانا ہوگا۔ عوامی تحریک کو ایک ایسا سیاسی فلٹریشن سسٹم قائم کرنا ہوگا کہ جس سے گزر کر آنے والا کوئی بھی سیاسی کارکن آئین کی شق 62اور 63پر پورا اترتا ہو، وگرنہ عوامی تحریک موقع پرستوں کا ایک ہجوم تو اکٹھا کر لے گی مگر راہِ انقلاب کے سینکڑوں شہیدوں کے خون سے نہ صرف یہ غداری ہو گی بلکہ قوم آئندہ کسی انقلاب کی قیادت کرنے والے پر یقین نہیں کرے گی۔ میری گذشتہ روز ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے اس موضوع پر بات ہوئی اور میں نے انہیں اپنے تحفظات سے آگاہ کیا تو ڈاکٹر صاحب نے پرعزم اور آہنی لہجے میں جواب دیا کہ ہماری تحریک کرپشن زدہ سیاست دانوں کا سیاسی گٹر نہیں بنے گی۔ ہم نے انتخابات کے ذریعے انقلاب کی منزل تک پہنچنے کا جو راستہ بنایا ہے اسے ’’فول پروف‘‘بھی بنا دیا گیا ہے تاکہ انقلاب کے ثمرات کو چوری نہ کیا جا سکے! عوامی تحریک اور تحریکِ انصاف کے کامیاب دھرنے ،ان کے تاریخی جلسے،تحریکِ انصاف کی ملتان میں حکومتی امیدوارکو عبرت ناک شکست اور شہر شہر ڈاکٹر طاہرالقادری کا دھرنے سے جلسہ گاہ تک والہانہ استقبال سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ جاگ اُٹھا ہے سارا وطن! 18اکتوبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus