×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جیالوں نے نانی یاد کرائی تو بلاول کو اماں یاد آئی
Dated: 21-Oct-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com جمہوریت وہ طرزِ حکومت ہے کہ جس میں لوگوں کو گِنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے۔ اگر اس ’’پرانے یونانی فلسفے‘‘ کو ہی پیمانہ مان لیا جائے تو ہمارے اوپر یہ حقیقت عیاںہوتی ہے کہ اکثریت کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔ گذشتہ سال جنوری اور رواں سال 65دن تک مسلسل دھرنے دے کر نہ صرف عالمی ریکارڈ قائم کیا گیابلکہ پاکستان کی ایک خاموش اکثریت کو اپنی رائے کے اظہار کی ترغیب بھی ملتی رہی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں ایسے کئی دانشور مل جائیں گے جو اب بھی بضد ہیں کہ عددی اکثریت ثابت کرنے کے لیے پارلیمنٹ ہی سب سے مقدم پلیٹ فارم ہے۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ پارلیمنٹیرین کو چننے کے لیے افراد کی ضرورت پڑتی ہے ۔ ایسے کئی سوالات کا جواب دیتے ہوئے مجھے یہ کہنا پڑتاہے کہ گزشتہ تین مہینوں میں ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان نے یہ ثابت کیا ہے کہ عوام کی ایک بھاری اکثریت ان کے ساتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ملک کے مختلف حصوں میں سیاسی جلسوں نے جو پذیرائی حاصل کی ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ وزیراعظم محترم نوازشریف صاحب نے چند روز پہلے اپنے ایک خطاب کے دوران فرمایا تھا کہ عمران خان ایک کروڑ تیس لاکھ سپوٹرز اکٹھے کر لیں تو وہ مستعفی ہونے کو تیار ہیں۔ میاں صاحب کی بات کو من و عن تسلیم بھی کر لیا جائے تو میاں صاحب کو پڑنے والے مذکورہ بالا ووٹ کسی ایک بیلٹ باکس سے برآمد نہیں ہوئے تھے۔ اسی طرح ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے لیے یہ مشکل عمل ہے کہ وہ ایک جگہ ڈیڑھ کروڑ عوام کو اکٹھا کرکے دکھا سکیں۔کراچی میں ہونے والے بلاول زرداری کے جلسے میں چاروں صوبوں بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے ایک مہینے تگ ودوکے بعد غیرجانبدارانہ تجزیئے اور سروے کے مطابق 80ہزار سے 90ہزار لوگوں کو اکٹھا کیا جا سکا اور اس مقصد کے لیے متعدد خصوصی ٹرینیں چلائیں گئیں۔ پورے سندھ سے پبلک ٹرانسپورٹ کو تحویل میں لے کر جلسہ سروس کے لیے مختص کر دیا گیا۔ جبکہ سکولوں اور سرکاری اداروں میں اس دن عام تعطیل کا اعلان کیا گیا۔ مگر 18تاریخ کو ہونے والے جلسے کے مثبت نتائج برآمد ہونے کی بجائے جلسہ کے اختتام کے چوبیس گھنٹوں کے اندر ایسے منفی اثرات برآمد ہوئے کہ سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کی اتحادی ایم کیو ایم نے ایک دفعہ پھر پی پی پی سے اپنے راستے جدا کر لیے ہیں۔ دراصل ایک تو بلاول زرداری کی چومکھی لڑائی سمجھ سے بالاتر ہے۔ بلاول کا باپ آصف علی زرداری سانحہ ماڈل ٹائون کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری سے تعزیت کرنے کی بجائے رائے ونڈ جا کر نوازشریف اور شہبازشریف کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں جبکہ بلاول زرداری اپنے تایا نوازشریف کو ایسا شیر قرار دیتا ہے جو نیویارک سے واپسی پر بھیگی بلی بن گیا اور بلاول اپنے چاچا شہبازشریف کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ درجنوں انسانوں کا قاتل ہے جبکہ بلاول کا ایک اور انکل رحمان ملک ہر وقت معافیاں مانگنے اور صلح کروانے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔ پچھلے 7سال میں رحمان ملک کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ایم کیو ایم کے بوتل سے باہر نکلے ہوئے جن کو بار بار بوتل میں واپس بند کرنے میں کامیاب ہوئے۔میرے ایک دوست بیرسٹر فیصل حمید کہہ رہے تھے کہ پچھلے سات سال تو آصف علی زرداری اور بلاول سمیت پوری پیپلزپارٹی کو یوم سانحہ کارساز منانے کا خیال نہ آیا۔ سات سال مسلسل اقتدار کے ثمرات سمیٹتے ہوئے اپنی تجوریاں بھرتے رہے اور جب عوام اور کارکنوں نے ان کو مستر دکرنااور نانی یاددلانی شروع کر دی تو ان کو ’’اماں‘‘ یاد آ گئی ۔ پیپلزپارٹی کے جیالے اس بات پر بھی کنفیوز ہیں کہ پیپلزپارٹی پنجاب کو تقسیم کرکے متعدد نئے صوبے بنانے کے لیے تو بے چین ہے اور خیبرپختونخواہ جیسے پہلے ہی مختصر صوبہ کو مزید تقسیم کرنے کے بھی حق میں ہے اور جب سندھ کی بات آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ’’مرسوں مرسوں سندھ نہ ڈیسوں‘‘ پیپلزپارٹی کو گذشتہ الیکشن میں عبرت ناک شکست اس بات کی غماز ہے کہ پنجاب کے غیور عوام کو یہ ادراک ہو گیا ہے کہ پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت انہیں ’’ٹشوپیپر‘‘ سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی جبکہ اربن سندھ کے اردو سپیکنگ عوام نے کھل کر اپنے عزائم کا اظہار کر دیا ہے ۔ کراچی جیسا معاشی ہب سندھ سے علیحدہ صوبہ بنا دیا گیا تو سندھی وڈیرے اور جاگیردار کے پاس پھر سے اپنا آبائی پیشہ اختیار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہے گا۔ جھورا جہاز کہہ رہا تھا کہ کراچی کے الگ صوبہ بننے سے سندھی قوم پرست اور جاگیردار پھر سے چوروں لٹیروں اور ڈاکوئوں کی سرپرستی شروع کر دیں گے اور یہ واحد انڈسٹری ہے جس کی اندرون سندھ بہت ڈیمانڈ ہے۔ کراچی کے جلسے میں سینیٹر اعتزاز احسن نے تجویز پیش کی کہ عمر رسیدہ قائدین کو اب آرام کی ضرورت ہے اور پارٹی میں نیا خون شامل کرنا چاہیے مگر کیا کیا جائے کہ پچھلے سات سالوں میں پیپلزپارٹی نے عوام کی رگوں میں خون تو چھوڑا ہی نہیں اور غربت اور فاقوں سے ہڈیوں پر لگا ماس بھی سوکھ چکا، اس لیے اب نئے خون اور نئے ولولے ناپید ہیں۔ قارئین! ملک کے معروضی حالات نے ایک چیز تو ثابت کر دی ہے کہ اب چہرے نہیں نظام بدلنا ہوگا خاص طور پر ڈاکٹر طاہر القادری کے فیصل آباد اور لاہور کے عظیم الشان عوامی اجتماعات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آنے والی ملکی سیاست میں عوامی تحریک اور تحریک انصاف کا کلیدی کردار ہوگا جبکہ موجودہ حکمران پارٹی مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کو نئی منتخب ہونے والی پارلیمنٹ میں مشکل سے ہی تلاش کیا جا سکے گا ۔اگر عددی تعداد ہی جمہوریت کی فتح ٹھہری تو یہ چیلنج ڈاکٹر طاہر القادری نے قبول کر لیا ہے۔ میری اپنی اطلاع کے مطابق گذشتہ چند دنوں سے درجنوں سیاسی خانوادے، سینکڑوں امیدواران پاکستان عوامی تحریک کو جوائن کرنا چاہتے ہیں مگر ڈاکٹر طاہر القادری بہت ہی محتاط انداز میں اننگز کھیلنے کے قائل ہیں جبکہ موجودہ حکمران بھی اب لگتا ہے کہ ڈیلی ویجز پر کام کر رہے ہیں۔ کچھ بھی ہو اس بات سے ہر اہل نظر مجھ سے اتفاق کرے گا کہ 2015ء کا سورج ایک نئی صبح لے کر طلوع ہوگا جس میں موجودہ اقتدار زدہ طبقات کا نشان تک نہ ہوگا۔ آئندہ چند رو زمیں ہونے والے جلسے اس نظام کو تیزی سے منطقی انجام کی طرف لے جائیں گے۔ 21اکتوبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus